درد مشترک - اسریٰ غوری

ہر ایک کی زندگی میں دکھ ہوتے جو اس کے اپنے ذاتی ہوتے مگر کچھ دکھ اجتماعی ہوتے جن کا درد مشترکہ ہوتا اور جن کی شدت بیک وقت سب کے لیے ایک سی ہوتی ہے۔ ایسا ہی ایک دکھ پانچ اور چھ جنوری کی رات ہم سب نے سہا، اور وہ دکھ تھا قاضی بابا کی جدائی کا۔

آہ !آسمان نے دیکھا کہ کیسے دنیا کے ہر کونے میں بسنے والے بلاتفریق رنگ و نسل و زبان، سب ہی قاضی بابا کی جدائی کی خبر سن کر تڑپ اٹھے، کیسے لاکھوں لوگ غم سے نڈھال تھے، بڑا چھوٹا جسے دیکھو، لگتا تھا کہ اس غم سے ٹوٹ چکا ہے۔ آج حرم میں ان کے لیے رب سے دعائیں کرتی سوچتی ہوں ہر روز لاکھوں لوگ اس دنیا سے اٹھا لیے جاتے جن میں بہت اپنے رشتے دار اور دوست احباب بھی ہوتے ہیں، اپنوں سے جدائی تو سب کو رلاتی ہے، اپنوں کے لیے تو سب کو روتے دیکھا مگر جس کے لیے مخالفین بھی ایسے روئیں کہ اپنے بیگانے کی تمیز نہ رہے۔ جو بندوں کو اتنا پیارا ہو، وہ رب کا کیسا پیارا ہوگا۔ قاضی بابا جو زندگی بھر دشمنوں کو اپنا بنانے کا سبق سکھانے میں لگاتے رہے، وہ زندگی کے اس آخری سفر پر جاتے بھی ہم سب کے لیے ایک سبق چھوڑ گئے کہ دیکھو دشمن کے لیے بھی ایسے رہو کہ وہ بھی تمہارے جانے پر روئے۔ آج قاضی بابا تو نہیں مگر ان کی اولاد ان کے اسی سبق کو دہرا رہی ہے، بالخصوص ہماری راحیل باجی جس طرح اس کا حق ادا کررہی ہیں، وہ قابل تقلید ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ ان کو سلامت رکھے اور ہمیں بھی اپنے ظرف میں وسعت پیدا کرنے کی ہمت دے کہ ہم اپنوں اور غیروں دونوں کو اپنا بنائے رکھنے کی سعی کرتے رہیں۔

اس رات غم کی شدت میں لکھی گئی میری اک نظم ۔۔

Comments

اسری غوری

اسری غوری

اسری غوری معروف بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں، نوک قلم بلاگ کی مدیرہ ہیں، حرمین کی زیارت ترجیح اول ہے، اسلام اور مسلمانوں کا درد رکھتی ہیں اور اپنی تحاریر کے ذریعے ترجمانی کرتی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.