بچوں کو چھوٹے چھوٹے اینکرز anchors کیسے دئیے جائیں؟ ہمایوں مجاہد تارڑ

آپ ایک روز باقاعدہ پلاننگ کے تحت گھر کے صدر دروازے کو تالا لگائیں۔ اب ساتھ والی مارکیٹ تک جا کر آٹھ دس اشیا خریدیں، انہیں چھوٹے بڑے سائز کے تھیلوں میں بھر کر واپس پلٹیں تو اپنی گلی کے کارنر پر وہ سب کچھ اپنے بچے کے ہاتھ میں پکڑا دیں۔ ساتھ میں اسے تالے کی چابی پکڑا کر کہیں "آپ جا کر گیٹ/ دروازہ کھولو۔"خود کو تھوڑے فاصلہ پر رکھیں، اور فون پر کسی کا نمبر ڈائل کرنے میں لگ جائیں۔ مصروف ہو جانے کی ایکٹنگ۔

اب بچے پر نظر رکھیں کہ وہ کیا کرتا ہے، بلکہ ذرا سے غیر محسوس انداز میں فون کیمرہ کے ذریعے ویڈیو بنا لیں۔ ظاہر ہے وہ کچھ غلط کرے گا۔ اب اسے بتائیں کہ درست طریقہ کیا ہے۔
1۔ بیٹا جی، دروازے سے قریب صاف یا کوئی اونچی جگہ دیکھ کر آپ کو نسبتاً بھاری والے بیگز نیچے رکھ دینے چاہئیں۔
2۔چھوٹے والے تھیلے/شاپنگ بیگز اس ہاتھ میں شفٹ کرلیں جس سے تالا نہیں کھولنا۔ایک آدھ ہلکے وزن والی شے دانتوں سے بھی پکڑی جا سکتی ہے۔
3۔ آپ کو چاہئیے میرے قریب آجانےکا انتظار کر لیں اور دو چار اشیا مجھے پکڑا کر اپنا وزن کم کرلیں۔
4۔ تالے کو ایک مخصوص زاویے تک لا کر چابی insert کرنے کے قابل ہونے کو یہ یہ کیا جا سکتا ہے۔۔۔وغیرہ۔
جونہی چیلنجنگ سیچوئیشن آتی ہے، انسانی ذہانت کسی نوع کی سٹریٹجی یعنی حکمتِ عملی پر شفٹ لیتی ہے۔ اِس ذہنی رویّے کو اگر اناؤنس کر دیا جائے، بچے کے دماغ کو لفظوں، اصطلاحات، اورanchors کیساتھ جوڑ دیا جائے تو بچہ شعوری طور پر train ہو جاتا ہے کہ ہر کام کامیابی سے انجام دینے کو ایک سٹریٹجی طے کرنا ضروری ہے۔ اس میں کلیریٹی آف مائنڈ میسّر آتی ہے، کام کی مقدار تقسیم ہو جانے کیصورت سہولت بھی، اور کامیابی بھی۔ اب ایک بچہ پڑھنے بیٹھا ہے، تو اس کے یاد کرنے، لکھنے وغیرہ کو بھی اسی طور تنقیدی انداز میں دیکھ کر اس سے بات کریں۔ "اچھا، یہ بتائیں کہ اور کس پوزیشن میں بیٹھا جا سکتا ہے تا کہ کتاب اور آپ کے چہرے کے بیچ فاصلہ کم ہو جائے؟ ۔۔۔

جیسے گاؤ تکیہ کا استعمال وغیرہ۔" "اچھا، رَٹا لگا کر یاد کرنے کی بجائے اگر پوائنٹس بنا کر خود سے باتیں کرنے والے انداز میں انہیں دو چار بار دوہرا لیا جائے تو کیسا ہے؟" "تین ٹیسٹس ملے ہیں تو اُن میں سے آسان والے دو ٹیسٹ پہلے تیار کر لئے جائیں، پھر 30 منٹ کی بریک، اور پھر اگلا۔" " دیکھیں، چیئر پر بیٹھنے کا درست انداز یہ ہے کہ پہلے آپ کے hips کرسی کی بیک سپورٹ کو ٹچ کریں۔ اب اس کے ساتھ کمر ٹکا کر straight ہو جائیں۔۔ ورنہ کچھ عرصہ بعد ریڑھ کی ہڈّی میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔" "آپ یہ کام کرنا چاہتے ہیں، ٹھیک ہے۔ لیکن اس کے لئے آپ کے پاس strategy کیا ہے؟ پہلے یہ بتائیں۔" یہ تو ہو گئی سٹریٹجی کی بات۔ یہ لفظ بچے کے دماغ میں گھسیڑ دیں: strategy۔ بچہ اپنے تعلیمی مہ و سال میں کوئی بڑے گریڈز نہ بھی لے سکے، اگر صرف اتنا جان لے کہ ہر کام انجام دینے کو پہلے اس کے steps ڈیفائن کرنا ہوتے ہیں، اس مقصد کے لئے مشاورت کرنا ہوتی ہے، تو یہ نفسیات بذاتِ خود ایک بہت بڑی ایجوکیشن ہے۔ اس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ بچے میں دانائی اور صبر آ گیا۔اور کیا چاہئیے، صاحب! ۔۔۔ کیا آپ جانتے ہیں اللہ کے رسولؐ نے مشاورت کو کس قدر اہمیت دی ہے؟ قائدِ اعظمؒ سے متعلق بھی یہی مشہور ہے کہ حتمی فیصلہ تک جانے سے پہلے بار بار مشورہ کرتے۔ پھر ڈٹ جایا کرتے! دوسری اہم بات، گذر ے وقوعہ کو رِی پلے کرنے کی نفسیات بھی ذہن نشین کرائیں۔ یہ الفاظ منہ سے بول کر ادا کریں: Let’s replay the situation.

"اگر میں آپ سے کہوں کہ یہی صورتحال دوبارہ پیدا ہو گئی ہے۔ آپ اپنے مائنڈ میں اس کو فلم کی طرح چلا کر دیکھیں اور فیصلہ کریں کہ اب سیکنڈ ٹائم آپ کیا کریں گے؟ ۔۔۔ کیا پہلے والے ردّ عمل میں غصّہ تو شامل نہیں ہو گیا تھا؟ اگر تھا تو اسے ڈیلیٹ کر دیں۔" یہی لفظ بولیں: delete ... کہنا کیا ہے؟ بچے کے ذہن کو چھوٹے چھوٹے hooks دینا ہوتے ہیں۔ یہ ہکس anchors کا کام کرتے ہیں۔ یعنی دماغ ان کیساتھ بندھ سا جاتا ہے۔ جیسے ایک hook یہ ہے کہ ایک چارٹ/ ٹیبل بنا رکھا ہے۔ یہ ہفتہ وار قسم کا ٹیبل ہے۔ اس میں دو خانے بنے ہیں۔ ایک خانے کی ٹاپ پر سبز درخت کی تصویر ہے۔ دوسرے خانے کی ٹاپ پر کانٹے دار جھاڑی کی تصویر۔ دائیں جانب نمبرز لگے ہیں، 1 سے 10 تک نمبرز۔ خود احتسابی کے لئے بچہ اس ٹیبل کو ہفتہ والے دن فِل کرے گا۔ ان نمبرز کے سامنے اور تصویروں کے نیچے ٹِک مارک لگائے گا۔ یہ سچ جھوٹ کا ٹیبل ہے۔ چیلنجنگ سیچوئیشنز میں کتنی بار سچ بولا، کتنی بار جھوٹ۔ سچ بولا تو سرسبز درخت کمائے۔ جھوٹ بولا تو کانٹے دار جھاڑیاں۔
اب یہ بات اس کی نفسیات میں بیٹھ گئی۔ زندگی بھر کے لئے اسے یہ چیز ہٹ کرتی رہے گی کہ جھوٹ بولنے کا مطلب اپنے حق میں کانٹے دار جھاڑیاں کمانا ہے۔۔۔ بات لمبی ہو گئی۔

Comments

ہمایوں مجاہد تارڑ

ہمایوں مجاہد تارڑ

ہمایوں مجاہد تارڑ شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ اولیول سسٹم آف ایجوکیشن میں انگریزی مضمون کے استاد ہیں۔ بیکن ہاؤس، سٹی سکول ایسے متعدّد پرائیویٹ اداروں سے منسلک رہ چکے۔ ان دنوں پاک ترک انٹرنیشنل سکول، اسلام آباد کے کیمبرج سیکشن میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.