وہ ہورہا ہے جو نہیں لکھا کتاب میں - ماہین خان

گزشتہ روز ہونے والے واقعات پر نظر دوڑائی تو دیکھا وکلا جنہیں ۔ معاشرہ ایک پڑھے لکھے اور باوقار شخصیت کے خاکے میں دیکھتا ہے ۔ان کی ایک بڑی جماعت نے لاہور میں ایک دل کے ہسپتال پر حملہ کردیا۔۔۔خوب جنگ چھڑی اور ایسے میں کئی مریضوں کو مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا اور کچھ اموات بھی ہوئیں۔ ایسے میں، میں یہ کہنے پر مجبور ہوگئی جناب!

اس علم سے بے علم ہی رہتے تو تھا بھلا

وہ ہورہا ہے جو نہیں لکھا کتاب میں

مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ میں ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہوں جہاں عقل و شعور رکھنے والے افراد،جن کی بنیاد پر ایک معاشرے کو انصاف ملتا ہے ،ایک معاشرہ قانونی طور پر مستحکم ہوتا ہے ،وہ افراد ایسی جہالت کا لبادہ اوڑھتے ہیں کہ ان کے اندر انسانیت باقی نہیں رہتی ۔میں ایک ایسے معاشرے سے تعکق رکھتی ہوں جہاں طلبہ و طالبات اپنے علم کے خزانے پورے کرتے بکھیرتے ہوئے کمینزم،سوشلزم،انقلاب اور سرخ ایشیا سرخ ایشیا کے نعرے لگاتے پھرتے ہیں ۔

اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو دوسری مخلوقات میں ممتاز کرنے کے لیے اسے علم سکھایا تاکہ وہ صحیح غلط میں فرق کرسکے اسے وہ علم دیا جو وہ نہ جانتا تھا ،اور اسے اشرف المخلوقات بنایا ااے وہ زیور دیا جس کی بنیاد پر ایک معاشرہ مستحکم ہوتا ہے اور ایک انسان اپنا کردار بناتا ہے ۔

تعلیم حاصل کرنا ہر مذہب میں جائز ہے بلکہ ہمارے دینِ اسلام میں تو فرض ہے لیکن اس تعلیم کو اصل مقاصد میں صرف کرنا ہی کمال ہے۔ اس تعلیم کے ساتھ ساتھ اس اخلاقی تعلیم کی بھی اشد ضرورت ہے جس کی وجہ سے ایک پر امن ،صالح اور نیک طبع معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔

اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے وہ تعلیم و تربیت جو ایک مسلم کے کردار کا عکاس ہوتی ہے جو انسان کے اخلاق کے لئے ضروری ہے ، پاکر ہمیشہ دنیا میں ترقی اور سر بلندی حاصل کی لیکن جب جب مسلمانوں نے اپنے عادات و اقدار چھوڑے تب تب انہوں نے ہی منہ کی کھائی اور ناکامیوں کا سامنا کیا۔

یہ بھی پڑھیں:   فضیلت ِ علم - شیخ اشتیاق احمد

آج دنیا میں جو کچھ بھی فساد ہے انہیں مغرور و متکبر جاہلوں کا پیدا کردہ ہے جو تعلیم تو حصل کرتے ہیں لیکن کچھ حاصل حصول نہیں رکھتے۔ یہ سب اس تعلیم سے دوری کی وجہ سے ہے جو آج سے چودہ سو سال پہلے نازل ہوئی تھی اور ہم نے اس کو مذاق بنا ڈالا۔ غرض یہ کہ اب ہمیں اس تعلیم کا تماشہ نہیں بنانا اور اس کو صحیح معنوں میں استمعال کرنا ہے اور اپنے کردار کو سنوارنا ہے بقولِ جگر

جب تک انسان پاک طنیت ہی نہیں

علم و حکمت،علم و حکمت ہی نہیں