میں عورت ہوں - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دیکھو میں عورت ہوں .. اور تم دونوں جو کبھی دوست تھے آج ایک دوسرے کے دشمن بنے بیٹھے ہو .. .میں تم دونوں کے گھر کی عورت ہوں . تم میں سے کسی کی ماں کسی کی بہن کسی کی بیٹی اور کسی کی بیوی. .تم ایک دوسرے پر جب غیظ و غضب سے چلاتے ہو تو میرے کردار کی دھجیاں کیوں بکھیرتے ہو ..

مجھ پر تہمت کیوں لگاتے ہو .. میرے نام سے دوسرے کو گالی کیوں دیتے ہو .. زید جب تم بکر کو اس کی ماں کے نام سے گالی دیتے ہو تو زید تمہاری بہن کا نام اچھالتا ہے .. کیا تمہارے دوست کی ماں اور بہن یا تمہارے دشمن کی ماں اور بہن تمہارے گھر کی عورت سے مختلف ہیں .. کیا سبھی مائیں بہنیں بیٹیاں بیویاں عورت نہیں ..
آج تم ایک کو میرے نام سے گالی دو .. کل وہ تمہیں میرے نام سے گالی دے گا .. رنجش تم دو مردوں کی ہے .. ایک غریب عورت کو کیوں برا کہتے ہو .. غیرت کے نام پر مجھ غریب کو کیوں کاری کرتے ہو بھائی میں نے تو ابھی جینا شروع بھی نہیں کیا . مجھے تمہارے ہاتھ میں پکڑی کلہاڑی سے ڈر لگتا ہے بھیا .. یہ اتنی سفاک قاتل جیسی سنگدل نظریں کس کی ہیں .. یہ چہرہ میرے بھائی کا ہے لیکن اس کی آنکھوں میں ناچتی وحشت اور ماتھے کی شکنوں میں بسی نفرت تو میری جانی پہچانی نہیں .. آ ااااہ ہ ہ ہ... خون میرے سر کے زخم سے بہتا خون .. میری آنکھوں میں پھیلتے اندھیرے میں آخری چہرہ میرے بھائی کا ہے. .

خدایا میرے ویر کو لمبی حیاتی دینا .اسے زمانے کی تتی (گرم)ہوا سے بچانا ..جرگے میں مجھے ایک بےزبان بکری کی طرح کیوں پیش کر رہے ہیں .. قاتل میرا بھائی تھا .. کاری ہونے والی میری بہن تھی .. مجھے خون بہا میں کیوں دیا جا رہا ہے .. میرا نکاح کیوں پڑھا رہے ہو .. میں تو ابھی کمسن ہوں .. بچی ہوں ..ابھی صرف سات سال تو ہوئے ہیں مجھے اس زمیں پر آئے .. میں تو ابھی گڑیوں سے کھیلتی ہوں. .میری گڑیا کی شادی ہوئی تھی میری ہمجولی کے گڈے کے ساتھ لیکن کھیل کھیل میں .. کھیل ختم ہوا تو میری گڑیا میرے ساتھ گھر گئی تھی .. مجھے بھی اپنی ماں کے ساتھ گھر جانا ہے. .. یہ بڑی بڑی مونچھوں والا مرد جو میرے دادا کی عمر کا ہے ..اسے لوگ میرا شوہر کیوں کہہ رہے ہیں. . نہیں نہیں یہ تو بالکل بھی اچھا نہیں .. گڈے جیسا تو بالکل بھی نہیں .. مجھے اس کے ساتھ نہیں جانا .. ماں .. بابا مجھے اپنے ساتھ لے جاو .. ماں ں ں .. باباااااا....عورت گالی ہے ، عورت کاری ہے ، عورت خون بہا ہے ،عورت انسان ہے یا نہیں. . گندم چاول عورت کپاس جوار .. یہ تمام اجناس ہیں بس محض. .

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com