ماما وی آرگیٹنگ بورڈ - ایمن طارق

ماما کے دوسرے میم پر تشدید تھی اور ایک نخریلا سا غنّا تھا آواز میں ۔اچھا تو یہ تو اچھا ہے آپ جتنا بور ہوں گے اُتنا انٹیلیجنٹ ہوں گے ( بچوں کی خالا سے سنا فلسفہ فٹا فٹ دہرا دیا گیا) آپ سن ہی نہیں رہیں ہم کیا کریں کچھ بھی نہیں کرنے کو ۔چمگادڑ کیطرح صوفے پر ٹانگیں اوپر کیے سر نیچے کیے کسی مراقبہ میں کھڑے محترم ، کافی دیر سے اپنے ہاتھ میں پکڑے ربڑ بینڈ کو کھینچ کھینچ کر لمبا کرتی محترمہ اور کافی دیر سے فضا میں کسی غیر مرعی شے کو گھورتے تکیے پر لیٹے دوسرے محترم سب کی کی ہنہ ہنہ ساتھ شامل ہوگئ ۔

کیا مطلب ہے بھی ؟ ہر طرف کچھ نہ کچھ ہے کرنے کو ۔ یہ ٹیبل صاف کی جاسکتی ہے ، ہر طرف بکھرے Lego سمیٹے جا سکتے ہیں ۔ اسئ طرح زیادہ بوریت میں آجائیں مل کر گاڑی صاف کرتے ہیں یا اگر وہ بھی مزے دار کام نہ لگے تو مل کر hoover کر لیتے ہیں ۔ یہ تو سارے کام ہیں نا اینجواےمینٹ تو نہیں ۔ پھر غصیلی آوازیں اور روٹھے چہرے ۔۔ اماں جان نے ایک نظر ڈال کر دل ہی دل مین کچھ سوچا اور مظبوط لہجے میں طوطے کی طرح رٹا اور بہن سے سنا جملا “بوریت کو فیل نہ کریں اور imagine کریں کہ آپ اینجواے کر رہے ہیں “ دہرایا اور چپ چاپ منظر سے غائب ہو گئیں ۔ بچے اس تجاہل عارفانہ کے مظاہرے سے سمجھ چکے تھے کہ آج اماں سمجھ کر بھی نا سمجھ ہی رہیں گی اس لیے کافی دیر خوب جھنجھلانے ، بڑبڑانے اور پیچ و تاب کھانے کے بعد خود بخود ہی بوریت نے دماغ چلاے اور جب اماں جاں نے ایک گھنٹے بعد چپکے سے جھانک کر دیکھا تو محترمہ تھک ہار کر پرانے کیلینڈر سے پھول کاٹ کر اپنی درازوں میں لگا رہی تھیں ۔ ایک محترم باکسنگ اسٹارٹ کر چکے تھے ساتھ کچھ ترکش ڈائیلوگز کی ٹانگ توڑی جا رہی تھی ۔دوسرے بڑے میاں چھوٹے بھائی کو گود میں بڑھاۓ کوئی بورڈ گیم کھلانے یا شاید سکھانے کی سر توڑ کوشش کر رہے تھے ۔

یعنی بوریت کے نغمے کو کچھ دیر برداشت کیا جاۓ تو ٹی وی اور اسکرین گیمز کے علاوہ اور بھی کام ہیں دنیا میں کافی درست تجزیہ ہے ۔*سو سمجھ یہ آیا کہ بچوں کی بوریت سے panic میں آجانا یا گھبرا کر فورا کوئ ایکٹویٹی مہیا کرنا ضروری نہیں . *کچھ کیے بغیر اگر کچھ وقت اسی بوریت کے عالم میں گزرے تو دماغ imagination اور creative سائیڈ پر کام کرتا ہے جیسے اکثر سونے سے پہلے خالی لیٹے کئ دفعہ مختلف آئیڈیاز دماغ میں آتے ہیں ۔ *جیسے ہم بڑے کبھی کبھی day dreaming کرتے ہیں ایسے ہی بچوں کو بھی کچھ دیر اُن کی اسی کیفیت میں چھوڑ کر اُنہیں بھی تصورات کی دنیا میں جانے دینا اُن کا نقصان نہیں بلکہ اُن کی بھلائی ہے ۔*کبھی کبھی بوریت کے وقت بجاے کوئ بنی بنائ سرگرمی ، کھلونے ، وڈیو گیمز، ٹی وی پروگرامز مہیا کرنے کے اُن سے سوال پوچھے جاسکتے ہیں جن سے اُن کے دماغ میں مختلف آئیڈیاز آئیں ۔ جیسے ائک دفعہ بوریت کی شکایت پر بیٹی صاحبہ سے وجوہات دریافت کر رہی تھی کہ اچانک عالم قنوطیت سے چھلانگ مار کر زمین پر گریں اور یہ کہتی ہوئ روانہ ہو گئیڻ کہ مجھےآپ کی بات سے آئیڈیا آگیا کیا کرنا چاہیے ۔*ہاں اگر بوریت کا لفظ ناسمجھی اور کنفیوژن میں کہا جارہا ہے اور اصل وجہ اداسی یا اکیلاپن ہے تو یقیناً نوٹس لے کر توجہ بٹانے اور خوش کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے ۔

Comments

ایمن طارق

ایمن طارق

ایمن طارق جامعہ کراچی سے ماس کمیونی کیشنز میں ماسٹرز ہیں اور آجکل انگلینڈ میں مقیم ہیں جہاں وہ ایک اردو ٹیلی وژن چینل پر مختلف سماجی موضوعات پر مبنی ٹاک شو کی میزبانی کرتی ہیں۔ آپ اپنی شاعری ، تحریر و تقریر کے ذریعے لوگوں کے ذہن اور دل میں تبدیلی کی خواہش مند ہیں۔ برطانوی مسلم کمیونٹی کے ساتھ مل کر فلاحی اور دعوتی کاموں کے ذریعے سوسائٹی میں اسلام کا مثبت تصور اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.