کپیٹل ٹاک - زارا مظہر

کوئی بھی ادارہ بغیر ڈسپلن کے نہیں چل سکتا ۔ ڈسپلن بریک کرنے پر ادارہ ادارہ نہیں بلکہ مچھلی بازار بن جاتا ہے ۔ آپ بچے کو کسی ادارے یا انسٹیٹیوٹ میں کیوں بھیجتے ہیں جبکہ ابتدائی درجے کی کتابوں میں جو کچھ لکھا ہوتا ہے اسے باآسانی گھر میں پڑھا سکتے ہیں ۔ بچوں کو سکول میں انکو ڈسپلن سکھانے کے لئیے ہلکی پھلکی سزائیں دینے پر لوگوں کا جیسا ردعمل سامنے آ یا ہے سخت حیران کن ہے ۔

مختلف ساتھی لکھاریوں کی جانب سے کی گئی پوسٹ پر کمنٹس سے یہ سمجھ میں آ یا ہے کہ ماں باپ نے بچہ پیدا کر کے ایک انوکھا کام کیا ہے ۔اب ماں باپ کو چاہیے کہ تین چار سال بچے کو لاڈ پیار سے پالیں پوسیں ۔ بنا اف کئیے راتوں کو جاگیں آ لائیشوں سے صاف ستھرا کریں ۔ سو سو جتن کر کے اسے کھلانا پلانا ، چلنا ، بولنا سکھائیں اور پھر خود ایک سکول میں داخل ہو جائیں تاکہ بچے کی تربیت کے طریقے سیکھ سکیں ۔۔۔ بلکہ اساتذہ کی ایک ٹیم کو بھی اپنے ساتھ داخل کر لیا جائے جنہوں نے آ گے چل کر انکے بچے کو پڑھانا ہے ۔

میرے خیال میں اس طرح آ پ بچے کو معاشرے کے لئیے ایک پھوڑا یا تلی چھالہ بنا رہے ہیں ۔ بہت ممکن ہے متاثرہ بچہ وہ سب کچھ بھول بھال کر اپنی کھیل کود کی دنیا میں مگن ہو اور ادھر بچے کی وہ تکلیف سوشل میڈیا کا کپیٹل ٹاک بنی ہوئی ہے ۔ مدارس میں مار نہیں پیار کا نعرہ رائج ہے ۔ اور استاد حتی الامکان گریز بھی کرتے ہیں ۔ اچھے سکولوں میں جونئیر ماڈل کے بچوں کو تو بہت ہی کم کوئی سزا دی جاتی ہے ۔۔۔ لیکن جہاں ضروری ہو ہلکی پھلکی سزا بھی ضروری ہے ۔ اور عام طور پر چھوٹی موٹی سزائیں (ڈیسک پر کھڑا کر دینا یا تحریری طور پر کچھ لکھوانا ) روز کا معمول ہوتی ہیں .

تو بچے کو معلوم ہوتا ہے کہ ڈسپلن بریک کرنے پر سزا ملتی رہتی ہے تب باقی کلاس فیلوز کے سامنے کیسی شرمندگی ۔۔بچوں کو پھولوں سے تشبیہ دی جاتی ہے ۔ پھول کیاری میں ترتیب سے اگے ہوں تو ہی اچھے لگتے ہیں ۔ میں ایک باقاعدہ باغبان بھی ہوں ۔ پھولوں کے ساتھ بہت سا جھاڑ جھنکاڑ بھی اگ آ تا ہے اسکی صفائی نہ کی جائے تو پودا ہی خراب ہوجاتا ہے ۔ اور بعض دفعہ تو پودا پھولوں سے لدا ہوتا لیکن اس کو تراشنا بے حد ضروری ہو تا ہے ورنہ پودا اگلے موسم میں پھول نہیں اٹھاتا ۔۔ پھولوں کے تختے نفاست سے ترشے ہوئے ہی بھلے معلوم ہوتے ہیں ۔

اس کہانی کو چھوڑیے ۔ ایسا بچہ جب عملی زندگی کے میدانِ کارزار میں آ تا ہے تو اس رنگ برنگے ، جھوٹے سچے معاشرے میں اپاہج ہو جاتا ہے ۔ بچے کو تھوڑا بہت عادی بننے دیجئے بلکہ شکر گزار ہوئیے کہ جو کام آ پ سے نہیں ہو سکا استاد نے کر دیا ۔ سکول میں استاد کا دیا ہوا سبق ساری زندگی نہیں بھولتا ۔۔ اور بچے کے لئیے مشعل راہ کا کام کرتا ہے ۔ چار بچوں کو پروان چڑھایا تو سرزنش کے متعدد مواقع آ ئے ۔۔ ایک ہی بات تین چار دفعہ نرمی سے کہی بچے کو سمجھ نہیں آ ئی چوتھی بار سختی سے یا تھپڑ کے ساتھ کہی اور بچہ کبھی وہ بات بھولا نہیں ، نہ ہی اسکی انا مجروح ہوئی ۔

اب یہاں بہت سے احباب ہمیں جہالت کا تمغہ دینے پر ذہن بنا بیٹھے ہیں کہ شاید ہم تشدد پسند ہیں اور بچے سے اپنے پر روا رکھے گئے مظالم کا بدلہ چکا رہے ہیں لہذا ہمیں تربیت کی ضرورت ہے ۔ یاد رہے یہ وہی بچہ ہے جس کے لئیے ہم( والدین ) نے پیدا کرنے سے لیکر راتوں کو جاگنے تک والی تکالیف برداشت کر رکھی ہیں ۔ ہمارا سوال ہے کیا ہم نے بچہ اس لئیے پیدا کیا تھا کہ اسکی مار کٹائی کریں ؟ بچے کو اچھے برے کاموں کے درمیان تمیز اپنے لہجے سے کروائیں ۔اچھے کام کے لئیے نرم اور میٹھا لہجہ ، غلط کام کے لئیے سخت لہجہ ۔

ورنہ بچہ برے بھلے میں تمیز کیسے کرے گا ۔ ؟ پھر یاد رہے بچے کو بڑا ہوکر گھر سے باہر نکلنا ہے اور کچھ لوگوں کو کمانڈ کرنا ہے تو کچھ لوگوں کی ماتحتی میں رہنا ہے ۔ اب یہ ضروری نہیں کہ بچے کے مقابل معاشرے کی تربیت بھی اسی بچے کی ماں نے کر رکھی ہے ۔ جو والدین استاد کا حق تسلیم کر رہے ہیں ان کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ انہوں نے بچہ استاد کے حوالے کر کے یہ کہہ رکھا ہے کہ ہڈیاں ہماری گوشت تمہارا ۔۔۔ میں ذاتی طور پر بچوں کے اسکول اور اساتذہ سے ہمیشہ رابطے میں رہی ۔ لاوارثوں کی طرح نہیں پھینک دیا ۔ بہت بار بچے کی نفسیات اسکے استاد سے ڈسکس کی ۔

اسطرح استاد کو کئی طرح کی آ سانیاں ہو جاتی ہیں جو بچے کی کریکٹر بلڈنگ میں معاون ثابت ہوتی ہیں ۔ لیکن بچے پر استاد کا روحانی باپ والا حق بھی تسلیم کیا جانا چاہیے اور ایک استاد کو مجرم بنا کر کٹہرے میں کھڑا نہیں کر دینا چاہئے ۔ ماں باپ کا یہی لاڈلا اور مجرمانہ رویہ آ ج بچوں کو اس سطح پر لے آیا ہے کہ وہ ذرا ذرا سی بات پر پوچھتے پھرتے ہیں ہمیں پیدا کیوں کیا تھا ۔۔ بلکہ ایک ڈیڑھ برس قبل انڈیا میں ایک بچے نے والدین پر مقدمہ دائر کر رکھا تھا کہ مجھے میری مرضی کے بغیر پیدا کیوں کیا گیا ۔( یونہی ایک سوال ذہن میں آ گیا تو ایڈشنلی پوچھ رہی ہوں کہ ..

1 ۔۔۔۔۔ فوج میں بھرتی ہونے والے کیڈٹس کو قدم قدم پر سینئیرز کی جانب سے سخت سزائیں دی جاتی ہیں ۔۔ انکی سیلف ریسپکٹ کہاں تیل لینے گئی ہوتی ہے ۔

2 ۔۔۔ ہر ماں اس سیلف ریسپکٹ نکلے جوان کے ساتھ کیوں بیٹی بیاہنا چایتی ہے ۔۔۔ یا بیٹے کو فوج میں بھیجنے کی آ رزو رکھتی ہے ۔

3 ۔۔۔۔ وہ کیسے اتنے پراعتماد ہو جاتے ہیں کہ جب چاہے عوامی حکومت پر شبِ خون مار کر قابض ہو جاتے ہیں ۔ )

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com