دانشور ادھر ادھر بھاگتے ہیں - محمودفیاض

سامنے کی بات مگر اگنور کرتے ہیں۔ چیف ایکسٹینشن کو جمہوریت کی بحالی سے ملانے والی پخ لگا کر اپنی طرف سے چی گویرا بننے بنانے والی حرکتیں بندر کے تماشے سے زیادہ کچھ نہیں تھیں۔ بغض اور عقل کا کہیں اور فوکس ہونا نہ ہوتا تو پہلے روز ہی نظر آ جاتا کہ نواز شریف کی ساری ووٹ کو عزت دو تحریک محض زاتی مفادات کے لیے ایک چال تھی۔

ترس آتا تھا انکی سوچ پر جو یہ سمجھتے تھے کہ انکا نام نہاد لیڈر (نواز شریف حقیقی معنوں میں عوامی لیڈر کبھی نہیں رہا) تیس سال اقتدار کی سازشوں میں اسٹیبلشمنٹ کے شانہ بشانہ رہ کر بالاخر اس وقت چی گویرا بن جائیگا جب اسکی ساری جائیداد اور سیاست خطرے میں پڑ جائے گی۔ اور اسکی کرپشن کے چرچے مقاملی اسٹیبلشمنٹ نہیں عالمی اداروں اور اخباروں میں ہو چکے ہونگےاور وہ باوجود ہر کوشش کے اپنی بے محابا بڑھی دولت کی ٹریل ثابت نہ کر پایا ہو۔تو نواز شریف کی یہی اوقات تھی، اس سے آگے کہانیاں ہیں۔ اس سے جمہوریت کی مزید بالادستی ایک خواب احمق سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔

زرداری کے بھاری پن کو سندھ کی کرپشن کی ٹھیکیداری ہی کافی نکلی۔ بدلے حالات میں زرداری کو سندھ کارڈ نے کافی سہارا دیا۔ اور لگتا یہی ہے کہ آنے والے سالوں میں یہی اسکی اولاد کا ترکہ بھی بنے گا، کراچی البتہ اردو اسپیکنگ اور تحریک انصاف کے درمیان فٹبال بن سکتا ہے۔ ایسے میں زرداری سے اینٹی اسٹیبلشمنٹ کسی نعرے کی امید چھوڑ دینا چاہیے۔ بھٹو اور فوج کی مخاصمت پرانی باتیں ہوگئیں، اس کرپشن اور نیب نے جس طرح تمام سیاسی کرداروں کو بغیر تولیے عرق بے شرمی کے ساؤنا باتھ میں گوڈے گوڈے بٹھایا ہے وہ ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ سیاست دانوں کی یہ لاٹ اسٹیبلشمںٹ کی حریم شاہ ہی ہے۔ انہی کی گود، انہی کے موبائل پر ٹک ٹوک دیکھتے ہوئے وہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ نعرہ صرف عوام کو چغد بنانے کو لگاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ہماری خواہش ہے پاکستان کورونا وائرس کے خلاف جلد از جلد کامیاب ہو: چین

رہ گئی بھیا عمران کی بات۔ تو الیکشن سے پہلے وہ عوام کی طرف اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف تھے۔ الیکشن کے دوران وہ اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کو تائید غیبی اور اسٹیبلشمنٹ کے گناہوں کا کفارہ سمجھ کر قبول کرتے گئے۔ حکومت بنانے کے بعد سے وہ اور اسٹیبلشمنٹ عوامی مفاد میں ایک پیج پر۔پائے گئے۔

البتہ گزرے ڈیڑھ پونے دو سال نے عوام کو اس پیج سے ہٹا دیا ہے، اور اب اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان ایک پیج پر ہیں۔ اس پیج پر ملکی مفاد کی خاطر وہی فیصلے ہو رہے ہیں جو ماضی میں ڈکٹیٹر مارشل لاء اپنے کمرے میں اکیکے بیٹھ کر کر لیا کرتے تھے۔ عوام تو گدھے ہیں، انکو کیا پتہ کہ حکومت اور ریاست کے کیا مسائل ہیں۔ اس لیے بہتر ہے انکو شریک "جرم" نہ کیا جائے، اور سی پیک، خارجہ، بھارت، داخلہ شورشوں، پراپرٹی ٹائیکونوں، اور ٹڈی دل سے نمٹنے کی باتیں اسٹیبلشمنٹ اور موجودہ نئی نئی اور مجہول۔حکومت کے حریم زدہ کابینہ ممبرز خاموشی سے کرتے جائیں۔ یہی عوام کے بہترین مفاد میں ہے۔

ایسے میں آرمی چیف کی ایکسٹینشن واقعی میں ریاست کی ضرورت بن جاتی ہے کہ آرمی ہی واحد ادارہ بچتا ہے جس کی کمانڈ اینڈ کنٹرول سے سیاسی طور پر بکھرتے اس ملک میں امن و امان اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

جہوریت، اصلی تی وڈی جمہوریت کا وہ خواب جو سول بالادستی کے اس خواب سے وابستہ تھا جو تحریک انصاف نے ہمیں دکھایا تھا، وہ کابینہ، عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے ایک پیج پر ہونے سے نہیں، ایک سیاسی حکومت کے اس قابل ہونے سے پورا ہوگا جو عوام کے لیے صرف خوش کن نعرے لگا کر ایسٹیشمنٹ کی حریم شاہ نہیں بنے گی، بلکہ اپنے فیصلے خود کریگی۔ابھی آپ آرمی چیف کو ایکسٹنشن کی مبارک دیں، کہ یہ وقت کہ ضرورت تھی۔ اور اپنی لڑائیاں جاری رکھیں