خوشگوار ازدواجی زندگی کے دعویدار - محمودفیاض

کوئی بندہ شادی کے بارے میں قطعیت کے ساتھ بات کرتا نظر آئے، یا کوئی ایسا نسخہ بتاتا نظر آئے جو سو فیصد قابل عمل اور نتیجہ خیز ہوگا، تو دو باتوں میں سے ایک ضرور ہوگی۔ یا وہ شخص پرلے درجے کا جھوٹا ہوگا، اور یا کنوارہ، جس نے ازدواجی مسائل کے کالم پڑھ پڑھ کر اپنا "علم" بڑھا لیا ہے۔

تیسری بات اگر کوئی ہو تو وہ موٹیویشنل اسپیکرز کی اس نسل سے ہوگا جو دنیا کے پر موضوع پر بے تکان بول سکتے ہیں، بغیر جانے کہ حقیقت کیا ہے۔شادی شدہ خواتین اگر ازدواجی معاملات پر رائے دے رہی ہوں تو آخر میں ایک جملہ بولنا نہیں بھولتیں، اور وہ یہ کہا دنیا کے طول و عرض میں وہ واحد خوش قسمت خاتون ہیں، جن کو مردوں کی اس دنیا میں ایک انسان کا بچہ نصیب ہوا ہے۔ "وہ ایسے نہیں ہیں، وہ ایسے ہیں"۔ جبکہ میرے نزدیک وہ یہ جملہ بول کر اپنا سارا تھیسس غلط کر ڈالتی ہیں۔

اس جملے کے سچ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پھر آپ نے تو زندگی میں کوئی چیلنج کبھی فیس ہی نہیں کیا۔ آپ کو کیا پتہ کہ ایک کڈھب، ناتراشیدہ، اور اکھڑ پدرسری معاشرے کے نیم خواندہ نیم وحشی شوہر کے ساتھ زندگی کے شب و روز کیسے گذرتے ہیں؟

دوسری جانب مرد حضرات اول تو اس موضوع کی طرف سنجیدگی سے آتے نہیں، اور اگر آئیں تو خود کو مظلوم ترین شوہر ثابت کرتے ہیں، جو اپنی بیوی کی مرضی کے بغیر سانس تک نہیں لیتے۔ کوئی اگر ہمت کر کے خواتین کے ازدواجی رویوں پر کچھ لکھ بھی ڈالے تو فوری تردید لکھی جاتی ہے کہ یہ سب میں اپنی بیگم کے بارے میں نہیں کہہ رہا، بلکہ عمومی مشاہدہ ہے کہ خواتین ایسا کرتی ہیں۔

سوشل میڈیا پر ازدواجی مسائل پر بحث زیادہ تر دیگر بحثوں کی طرح اپنا اپنا کتھارسس کر کے نمٹا دی جاتی ہے۔ خواتین جو باتیں اپنے شوہر سے برسوں سے نہیں کہہ پاتیں، وہ دوسروں کے شوہروں کو سنا کر دل ہلکا کر لیتی ہیں۔ اور مرد حضرات جگتوں اور لطیفوں کی آڑ میں وہ باتیں کہتے ہیں جو وہ اپنی بیگمات سے دوسرے جنم میں بھی کہنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ البتہ آخر میں دونوں اطراف اپنی اپنی خوشگوار ازدواجی زندگی کا اعلان کرنا نہیں بھولتے۔

یہ بھی پڑھیں:   کنواروں اور نو شادی شدہ کیلئے 5 اصول - عظیم عثمانی .

حقیقت کہیں اور ہوتی ہے لیکن۔ حقیقت سوشل میڈیا پر شور مچاتے بیانات کی بجائے ان رویوں میں ہوتی ہے جو گھروں کے بیڈرومز اور ڈرائینگ رومز کے درمیان میاں بیوی آپس میں طے کرتے ہیں۔ جو ہر جوڑے کے لیے مختلف ہوتی ہے۔ ازدواجی رشتہ آپسی لین دین کا ایک ایسا معاہدہ ہوتا ہے جس کی نہ کوئی عدالت ہے، نہ قانون۔ جو جتنی جلد اس حقیقت کو سمجھ لے ، اس کے لیے اچھے لمحات اتنی ہی جلد شروع ہو جاتے ہیں۔ اور جو ان "سمجھدار خؤاتین و حضرات" کے نسخوں پر عمل کر کے اپنے جیون ساتھی کو "درست کرنے" کے عمل کی طرف چل پڑے۔

اسکو صرف یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ جو بی بی تمہیں مرد پر کاٹھی ڈالنے کا مشورہ دے رہی تھی، وہ ابھی ابھی اپنے خاوند کی کمر پر مالش کر کے اٹھی ہے، اور جو بابا تمہیں عورت کو نتھ ڈالنے کی صلاح رہا تھا، وہ اس وقت بھی بیوی کے پاؤں داب رہا ہوگا۔