کتابوں کا کمشنر - شکیل خان

چند روز قبل میٹروپول ہوٹل سے گزررہا تھا کہ کمشنر کراچی افتخار شلوانی صاحب کو بمعہ ہمارے دوست سلطان کے, سڑک کنارے کھڑے دیکھا، سردیوں کی گلابی دھوپ میں دیوار، زمین لکڑی، ناپنے کا فیتہ جو مستری، مزدور و ترکھان استعمال کرتے ہیں کمشنر صاحب, اپنے ہاتھ میں تھامے نہ جانے کیا ماپ رہے تھے، میں نے سوچا اللہ خیر کرے کمشنر صاحب کس کام میں لگ گئے۔ گزشتہ بیس سال سے تو کسی کمشنر کو اس طرح کراچی کی سڑکوں پر نہی دیکھا، سڑک پر کیا، کہیں بھی نہیں دیکھا، اتنی دیر میں سگنل کھل گیا اور میں آگے نکل گیا۔

آفس پہنچ کر بھائی سلطان کو فون کیا تو پتہ چلا کہ افتخار شلوانی صاحب کوئی لائبریری بنا رہے ہیں، ہم حیرت زدہ ہوئے کہ یہ کیسا کمشنر ہے کہ "مال" بنانے کے بجائے لائیبری بنا رہا ہے، اس شہر یتیم میں تو افسران مال کمانے آتے ہیں اپنا محل، اپنے بچوں کا مستقبل بناتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، یہ شہر کراچی کو بنانے اور سجانے والا کمشنر اس زمانے میں تو پہلی مرتبہ نظر آیا ہے۔ اس سے قبل شہر میں جگہ جگہ پھول لٹکے دیکھ چکا تھا اور حیران تھا کہ یہ کون ہے جو اس اجڑے ہوئے باغ میں پھول کھلا رہا ہے، دوستوں نے بتایا کہ یہ بھی افتخار شلوانی صاحب کا شوق ہے، تو کراچی والوں شکر کرو کہ طویل عرصہ بعد سہی ایک ایسا کمشنر ہم کو ملا جو کتابیں پڑھتا ہے، کتب خانے بناتا ہے، پھول سجاتا ہے، کراچی میں رنگ، خوشبو، کتابیں بکھیرنا چاہتا ہے۔کراچی کی 73 سالہ تاریخ میں، یہ تو پڑھا تھا کہ سید ھاشم رضا اور دربار علی شاہ جیسے کمشنر ہوتے تھے کہ جو لائبریری و باغات بناتے اور کھیل کے میدان آباد کرتے تھے، پرانے زمانے کی مشہور لیکن اب غالب خستہ کی حالت میں موجود ناظم آباد کی غالب لائبریری بھی انہی میں سے کسی ایک کمشنر کی بنائی ہوئی ہے،

یہ بھی پڑھیں:   چند لمحے - طاہرہ ثمرہ خان

ایم ایم عثمانی مرحوم بھی مشاعروں کے شائق نظر آئے تھے لیکن ہماری ان سے یاد اللہ انکی ریٹائرمنٹ کے بعد ہوئی تھی۔ افتخار شلوانی صاحب اس شہر نے بہت زخم کھائے ہیں، سب نے اسے بیسواء سمجھ کر نوچا ہے۔آپ کتابوں کی بات کرتے ہیں،لائبریری آباد کرنا چاہتے ہیں، پھول اس شہر میں لگانا چاہتے ہیں اس کے پھول جیسے بچوں کو لائبریری میں بھیجنا چاہتے ہیں، اس میں باغات اور کھیل کے میدان آباد کرنا چاہتے ہیں، آپ خود صاحب علم ہیں "چیک cheque book کی نہی" بک" books کی اہمیت سمجھتے ہیں آپ جانتے ہیں کہ جس شہر کی لائیبری اور کھیل کے میدان آباد ہوتے ہیں وہاں دہشت گردی ختم ہوجاتی ہے اور ہسپتال کم ہوجاتے ہیں ۔کمشنر افتخار شلوانی صاحب آپ لائبریریاں آباد کرتے رہیں، کھیل کے میدان سجاتے رہیں، کراچی کارنیوال چلاتے رہیں ،پھول لگاتے رہیں ہم سب آپ کے ساتھ ہیں، بس میرا لٹا، پٹا، تباہ حال شہر آباد کردیں، میرے کراچی کو مستقبل کے تیس سال کا نہی، ماضی کا، تیس سال پرانا کراچی بنا دیجئے۔ ہم کو ہمارا تیس سال پرانا کراچی لوٹادیجئے، کراچی کو پرانا کراچی بنانے کے لیے ہم سب کراچی والے آپ کے ساتھ ہیں ۔