روزگار میں مدد - سہیل بلخی

"وہ عورت میرے پاس مدد مانگنے آئی تھی بچوں کو پالنے اور تعلیم دینے کے لیے خود کچھ کرنا چاہتی تھی... عجیب مانگنی والی تھی کہ اپنی شرائط پر مدد چاہتی تھی - نہ کپڑے نہ خوراک نہ کچھ اور اسے بس قرض حسنہ درکار تھا، سود کو حرام سمجھتی تھی-" اخوت فاونڈیشن کے ڈاکٹر امجد ثاقب یہ کہانی سنارہے تھے کہ انہوں نے یہ کام کیسے شروع کیا...." دس ھزار قرض حسنہ یہ کہ کر لے گئ کہ اس سے کوئی کام شروع کرے گی اور حالات بہتر ہونے پر خود آکر واپس کرے گی....

چھ مہینے بعد اسے دفتر میں دوبارہ دیکھ کر حیران ہوا، اس نے دس ہزار روپے شکریہ کے ساتھ واپس کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ رقم کسی اور ضرورت مند کو دیدیں جو اس کی مدد سے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہتا ہو.... میں نے خوب محنت کی اپنا کام کیا، میرے بچے اسکولوں میں پڑھ رہے ہیں اور اب میں اپنے پیسوں سے اپنی بیٹی کی شادی بھی کرونگی"- ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ وہ عورت ہمیں سکھا گئ کہ اس ملک میں غربت کم کرنے اور غریبوں کی مدد کرنے کا اصل راستہ کیا ہے... ہم کچھ دوستوں نے کچھ فنڈز جمع کیے اور ایک بستی میں دروازوں پر جاکر آوازیں لگایئں کہ جو لوگ سود کے بغیر کوئی کام کرنے کو قرضہ لینا چاہیں وہ ہم سے ملیں.... 15 لوگوں کو قرضے دییے اور اخوت کا سفر شروع ہوگیا... آج نناوے فیصد لوگ قرضے واپس کردیتے ہیں.... بیانوے ارب روپے پندرہ لاکھ لوگوں کو دے چکے ہیں " میری سوچ اخوت کے ڈاکٹر ثاقب اور براک کے مرحوم عابدی صاحب سے بہت قریب ہے اس لیے کہ میں نے اپنی زندگی میں دیکھا کہ نیچے کے لوگوں کو کوئی پانچ ھزار روپے بھی قرضہ نہیں دیتا اور ان لوگوں سے زیادہ کسی اور کو کیا ضرورت ہوسکتی ہے؟ نیچے کے پسے ہوئے مجبور لوگ روزانہ جو کماتے ہیں اسی دن خرچ ہوجاتا ہے .

پانچ ھزار، دس ہزار اور بیس ھزار روپے اگر انھیں مل جائیں تو وہ اپنی دنیا بدل سکتے ہیں.. جب میں پیدل بسوں میں لٹک کر کالج یونیورسٹی اور جگہ جگہ ٹیوشن پڑھانے جاتا تھا تو چاہتا تھا کہ کوئی مجھے پانچ ھزار قرضہ دیدے تاکہ پرانی بائیک لے کر زیادہ ٹیوشن پڑھا سکوں اور یونیورسٹی بھی پہنچ سکوں مگر ہمیں ہماری زندگی میں کوئی عابدی صاحب اور ڈاکٹر ثاقب امجد نہیں ٹکرائے... نہ کوئی سیلانی ملا.... آج ہم بڑی این جی اوز کے پاس جاکر انھیں اپنے مشاہدے کی بنیاد پر غریب نوجوانوں کے لیے فری لانسنگ ٹریننگ، بڑے پیمانے پر چھوٹے قرضے اور ووکیشنل ٹریننگ پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ہمیں اپنے بلند و بالا اور جدید آفس کی سیر کرانےلگتے ہیں، بتاتے ہیں کہ ہمارے آفس میں یہ دیکھیں ہمارے اسٹاف کے لیے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی طرز پر فٹنس سینٹر اور جم ہے، بیڈمنٹن کھیلنے کی جگہ ہے، ہمارا بہترین فرنیچر دیکھیں... گورنر ہاوس اور قصر صدارت میں ہمارے چائے پینے کی تصاویر دیکھیں.... ہم انھیں اورنگی ٹاون،لیاری اور ریڑھی گوٹھ میں "ماڈل ہنر مند بستی" کے قیام کی تجاویز دینا چاہتے ہیں تو وہ ہمیں یہ سنانا شروع کردیتے ہیں کہ وہ ترکی جب گئے تو انہوں نے ترکوں کو کیا سمجھایا اور ملائیشیا کے دورے پر مہاتیر کو کیا سکھایا...بھائیوں نیچے کے لوگوں کی مدد کرنی ہے تو نیچے اتر کر آنا ہوگا... مغلوں کی طرز پر بڑی بڑی عمارتوں کی ضرورت نہیں اسمارٹ آفسوں کا اور آفس لیس زمانہ ہے...

دنیا کی بڑی کمپنی ریلاینس کے مالک اور امیر ترین آدمی مکیش امبانی جس کے ایک وقت میں سینکڑوں پروجکٹ اور سینکڑوں بزنس چل رہے ہوتے ہیں اسکا کوئی آفس ہی نہیں ہے.. وہ جس پروجکٹ پر جاتا ہے وہیں بیٹھکر کام کرتا ہے...بات دوسری طرف نہ نکل جائے، گذارش یہ ہے کہ اپنے اسی فیصد لوگوں کا سوچیں، ہسپتال، اسکول ، ٹرانسپورٹ سرکار کا کام ہے اور اس کے لیے سرکاری بجٹ موجود ہے انکو کرنے دیں یا عوام سے کہیں کہ اپنے عوامی نمایندوں کا پیچھا کریں سکھر والے خورشید شاہ کو اور ملتان والے شاہ محمود کا گھیراو کریں... آپ خورشید شاہ اور شاہ محمود کو بچانے کا کام نہ کریں.....آپ بے روزگار لوگوں کو ٹھیلے لگانے، چائے بیچنے، ٹیکسی چلانے کے قابل بنائیں.. وہ کھڑا ہوگیا تو پورے خاندان کو بھی چلائے گا اور خوب ترقی کرے گا... اسے پھر آپکے اجتماعی شادی، آپکے ہسپتال اور اسکولوں کی ضرورت نہیں ہوگی وہ خود مینج کرلے گا....بدلتے زمانے میں، آج کی سوچ، آج کے مسائل اور انکے اسمارٹ سلوشن کے لیے اپنی فیصلہ سازی میں نیچے کے لوگوں اور نوجوانوں کو بھی شامل کیجیے... انیس سو پچاس اور ساٹھ کی کامیاب گاڑیاں بہت قیمتی ہیں انھیں موٹر شو میں شوکیس کرکے لوگوں کو سکھانے اور بتانے کے لیے استعمال کیجیے... آج کے ایم تھری اور ایم فاییو موٹروے پر تو جدید ھایبرڈ، تیز رفتار اور فیچرڈ کاریں ہی دوڑ رہی ہیں..

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com