غیر شادی شدہ لڑکیوں کی زندگی - شیراز علی مردانی

تنہا رہنے والی غیر شادی شدہ لڑکیوں کی. زندگی

کس کرب اور تکلیف میں گزرتی ہے ۔۔۔!

آئیے پڑھتے ہیں۔۔۔۔

اس وقت پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد لڑکیاں جن کی عمریں بیس سے پینتیس سال تک کی ہیں شادیوں کے انتظار میں بیٹھی ہیں۔ ان میں سے دس لاکھ کے قریب لڑکیوں کی شادی کی عمر گزر چکی ہے۔ تنہا رہنے والی بیوائیں جن کی عمریں 30 سے 45 سال کی ہیں تقریباً 60 لاکھ تک کی تعداد میں موجود ہیں۔ مطلب یہ کہ یہ وہ بیوائیں ہیں جن کی دوسری شادی ممکن ہے لیکن ہمارے معاشرے میں شادی کے لئے لڑکیوں کے انتخاب کا طریقہء کار کچھ اس قدر غیر انسانی اور غیر مہذب ہو چکا ہے کہ بیوائیں تو کیا تیس سال کی کنواری لڑکی بھی اس زمرے میں نہیں آتی۔ کل بیواؤں کی تعداد تقریباً چار ملین ہے جن کی کفالت کے لئے ملک میں کوئی سرکاری و غیر سرکاری مضبوط و مربوط نظام موجود نہیں۔

رشتوں میں تاخیر کی بڑی وجہ رشتے کے انتخاب کی حد سے ذیادہ بڑھتی مانگیں بھی ہیں اور اور وہ مفاد پرستی و مادہ پرستی بھی جس کے آگے اب شرافت، انسانیت، ادب آداب اور تہذیب جیسے خصائص بے وقعت ہو چکے ہیں۔ اس مسئلے کا سبب معاشی و سماجی ناہمواریاں بھی ہیں اور لڑکیوں کا تعلیم کی طرف بڑھتا رحجان بھی۔ لڑکی کے والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ تعلیم میں اس کے ہم پلہ رشتہ دستیاب ہو سکے اور دوسری طرف لڑکے کے گھر والے بھی ذیادہ تعلیم یافتہ لڑکی کے انتخاب میں حیل و حجت سے کام لیتے ہیں۔ کیونکہ ان کے خیال میں ذیادہ پڑھ لکھ جانے والی لڑکیاں عموماً بد دماغ اور بد مزاج ہو جاتی ہیں۔

اگر ایک پڑھی لکھی، ملازمت پیشہ خاتون اپنوں کی ستم ظریفیوں کو نہ سہارتے ہوئے اکیلے زندگی بسر کرنے لگے تو پھر تو گویا یہ ہمارا فرض بن چکتا ہے کہ ہم اس کا جینا اجیرن کر ڈالیں۔ہمارے معاشرے میں ایک تنہا عورت کا کردار ہمیشہ مشکوک ہی سمجھا جاتا ہے یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اسے تنہا کرنے والے بھی ہم ہی لوگ ہیں اورہمارے معاشرے کا غلاظتوں بھرا رویہ اور سوچ ہے۔رشتے بروقت طے نہ پانے کے بعض اسباب تو ایسے مضحکہ خیز بھی ہیں کہ انہیں جان کر ہنسی بھی آتی ہے اور اپنے بیٹے کو راجہ اندر سمجھنے والوں کی گھٹیا سوچ پر ماتم کرنے کو بھی جی چاہتا ہے۔ مثلاً لڑکی والوں کا گھر کرائے پر ہونا، یا ان کی طرف سے لڑکے کے گھر والوں کو خاطر خواہ پروٹوکول نہ دیا جانا، ان کا گھر یا گھر کو جانے والی گلی کا تنگ و تاریک ہونا۔

اکثر تو یہ بھی کہتے پائے جاتے ہیں کہ جس سڑک سے گزر کر لڑکی کے گھر کو جایا جاتا ہے اس سڑک کے کنارے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پائے جاتے ہیں یا شہر بھر کی غلاظتوں سے لتھڑا نالے کا ادھر سے گزر ہے۔ یہ اور ایسی لاتعداد وجوہات ہیں کہ جن کی بناء پر ہی ہمارے ہر پانچویں گھر میں لڑکیاں اور لڑکے شادی کے منتظر ہیں۔ اور اسی انتظار میں ان کی عمر ڈھل رہی ہے۔تنہا رہنے والی غیر شادی شدہ لڑکیوں یا بیواؤں کی زندگی جس کرب اور تکلیف میں گزرتی ہے اس کا اندازہ بھی کرنا مشکل ہے۔ بیوا ہو جانے پر تو اکثر خواتین کو سسرال والے جائیداد میں حصہ نہ دیتے ہوئے انہیں گھر سے ہی بے دخل کر دیتے ہیں۔ وہ اس بات کی انہیں زرا برابر بھی پروا نہیں ہوتی کہ ایک تنہا عورت اپنے بچوں کے ساتھ کس طور گزر بسر کا بندوبست کر پائے گی۔ یہ ایک نہایت تکلیف دہ پہلو ہے۔ ان کی تکالیف کو بڑھاوا اس وقت ملتا ہے جب یہ معاشرہ انہیں اچھوت کا درجہ دے دیتا ہے۔

الغرض ایک بیٹی کا ماں باپ ہونا ایسا جرم عظیم بن چکا ہے جس کا مداوا نا ممکن ہے۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ جب ایک ہی گھرانے کے افراد لڑکی کے لئے لڑکا دیکھنے نکلتے ہیں تو ان کی نفسیات کچھ اور ہوتی ہے اور جب اپنے بیٹے کا رشتہ تلاش کرتے ہیں تو یہ نفسیات یکسر بدل جاتی ہے۔ ہمارا معاشرہ ایک ایسے دوغلے پن کا شکار ہے جس میں شاید ہم سب ہی شامل ہیں۔ بیٹی سے ملازمت کروانا اسے معاشی مسائل سے نکلنے میں مدد کے مصداق سمجھا جاتا ہے۔ اور اکثر گھرانوں میں اسے ملازمت کی اجازت اس کے خواب پورے کرنے کے لئے بھی دی جاتی ہے لیکن جب اپنے بیٹے کے لئے لڑکی ڈھونڈی جاتی ہے تو ملازمت پیشہ لڑکیوں کے چال چلن پر بھروسہ نہ کرتے ہوئے انہیں مسترد کر دیا جاتا ہے۔ لڑکا اگر دو چار بچوں کا باپ بھی ہے تو بھی رشتہ کنواری اور کم عمر لڑکی کا ڈھونڈا جاتا ہے۔ یہاں تو ایسی ایسی بھی مثالیں ہیں کہ ستر سال کے آدمی کو اپنا بڑھاپا سنبھالنے یا پھر سنوارنے کے لئے تیس یا پینتیس سال ہی کی دوشیزہ چاہئے۔

کبھی محسوس کریں وہ درد جو بن بیاہی، عمر رسیدہ ہو جانے والی لڑکیوں کے والدین کے کلیجے میں اٹھتا ہو گا۔ شرم آنی چاہئے ایسے رزیل معاشرے کو جس کے بوڑھے اس قدر بے بس اور ناتواں بنا دئے گئے ہیں، جو راتوں میں اپنی آنکھوں کی بجھی بجھی سی لو اور اس کی گیلی کچھاروں کی اوٹ سے اپنی بیٹیوں کے بے تمنا، بے آرزو، بے بس جسموں پر نگاہ ڈالتے اور وقت نزاع کے لگ بھگ حلق سے نکلنے جیسی ہوک اپنے اندر کھینچتے ہیں۔ کیسی حسرت اور بے بسی کا درد پینا اور سہنا پڑتا ہے انہیں جب موت کی بھی تمنا اس ڈر سے نہیں کرتے کہ ان کے بعد ان کے آنگن میں پڑے گوشت پوست کے ان لوتھڑوں کو زمانے بھر کے بھوکے کرگس نوچ کھائیں گے۔ اور وہ ماں باپ جن کے آنگن میں ابھی ایک چھوڑ دو، دو، چار چار بن بیاہی بیٹیاں بیٹھی ہیں۔ وہ کس طور اپنے اس دکھ کو سہار پاتے ہیں۔ اس کا تو ہم اندازہ ہی نہیں کر سکتے۔

اس سے بھی تکلیف کی بات یہ ہے کہ ہم نے بن بیاہی لڑکیوں کا جینا اس قدر مشکل کر رکھا ہے کہ وہ محض زندہ لاشیں ہی رہ جاتی ہیں۔ ایک طرف تو اپنوں کے طعنے ہی ان کی برداشت سے باہر ہوتے ہیں اور دوسری طرف ان پر ترس کھانے والے لوگ انہیں لمحہ لمحہ ان کی محرومی کا احساس دلائے رکھتے ہیں۔ ایسے جیسے وہ خود ہی اپنی تقدیر کے لیکھے کی زمے دار ہیں۔اور اگر ایک پڑھی لکھی، ملازمت پیشہ خاتون اپنوں کی ستم ظریفیوں کو نہ سہارتے ہوئے اکیلے زندگی بسر کرنے لگے تو پھر تو گویا یہ ہمارا فرض بن چکتا ہے کہ ہم اس کا جینا اجیرن کر ڈالیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com