درد میں‌ڈوبی التجا - شمائل غازی

رضیہ سلطانہ ، رابعہ بصری ، فاطمہ جناح ، آپا نثار فاطمہ ، بے نظیر بھٹو اور بے شمار عالی مرتبت خواتین جو اپنے والدین خاندان اور دین ووطن کے لیے کہشکشاں کی مانند تاابد جگمگاتی رہیں گی ۔یہ اس دور کی باتیں ہیں جب تربیت زبان کی نہی عمل کی محتاج تھی اور تربیت محض ماں یا باپ کی ذمہ داری نہی سمجھی جاتی تھی بلکہ پورا معاشرہ ہی اس کا ذمہ دار سمجھا جاتا تھا۔

ماضی کی ان خواتین کو موجودہ نام نہاد آزادی حاصل نہی تھی کہ منہ اٹھاۓ جس جانب سرپٹ بھاگنا شروع کردیں اپنے حقوق کے نام پہ کوئی انہیں روکنے والا نہ ہو۔وہ اپنی خواہشات کی راہ میں آنے والی ہر خاندانی اور معاشرتی رکاوٹ کو واویلا کرکے ہٹادیں۔اس دور میں یہ نامور خواتین اپنا مقام بنانے والوں میں شامل تھیں۔پھردجالی تہذیب ہمارے گھروں میں چمکتی سکرینوں کی رنگینیاں لیکر آٸی ہمارے گھروں میں جو خیال ذہن میں لانا بھی گناہ سمجھا جاتا تھا اسے ایسا سجا سنوار کر دکھایا گیا کہ بڑی سی چادر میں لپٹی حیا سے سمٹی بچیاں نگاہ چرا کر دیکھتے دیکھتے دیدہ دلیری سے دیکھنے کی عادی ہوگٸیں۔کچھ مزید آگے چلے تو ٹی وی کچھ پرانا اور وی سی آر اپنی دھوم گلی گلی لیکر آدھمکا۔پڑوسی ملک کی ننگی تہذیب ہمارے بچوں نے گھروں میں گروپ بنا کر انجواۓ کی۔۔۔۔۔۔۔کیا ہوتا ہے جی حیا تو دل میں ہونا چاہیےجی جناب دل تو حیا میں ہی لپٹا ہوتاہے وہ تو ہر خرابی پہ اپنی رفتار تیز کرکے متنبہ کرتا ہے کہ سنبھل جاٶ لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔وی سی آر کا دور پرانا اور کیبل آگٸی گھر مرکزی کمرے سے ٹی وی فیشن اور پرائیویسی کے نام پہ ہر فرد کے کمرے میں منتقل ہوگیا ٹی وی ٹرالی کے ساتھ کمپیوٹر ٹیبل بھی اپنی رونقیں جماۓ سجی ہونا اونچے خاندان کی اونچی ناک بن گٸی۔۔۔۔۔۔۔

پہیہ بس ایک بار زور لگاکر گھمانا پڑتا ہے پھر وہ اپنی رفتار پکڑ لیتا ہےکمپیوٹر سے لیپ ٹاپ ٹیب اور اب پچھلے پانچ سات سالوں سے تعلیم کے نام پہ ہر پندرہ سال سے بھی کم عمر بچے کے ہاتھ میں ذاتی موباٸل۔اس معاشرے کی فاطمہ جناح اور محمد علی جوہر تو نہ جانے کہاں جاسوۓ لیکن قندیل بلوچیں ، ریحام خان اور حریم شاہ پیدا ہوچکیں۔آج حریم شاہ کے والد کی ویڈیو دیکھی دکھ اور پریشانی میں ڈوبا بے بس باپ کیسے الفاظ کو ضبط کے داٸرے میں لانے کی کوشش کررہاتھا افففف سوجی ہوٸی آنکھیں بہتے آنسو اپنی خاندانی عزت ووقار کو سہمے لہجے میں یاد کرتا ایک مسلمان باپ جسکی بیٹی اس معاشرے نے فضہ حسین سے حریم شاہ بناڈالی۔محترم والد کس کرب سے گزر رہے ہیں انکا لہجہ سب بتارہا ہے۔جس باپ نے اسے بہترین دینی اداروں میں بھی تعلیم دلواٸی آج اس تماش بین معاشرے کے سامنے معافیاں مانگتا ہے۔اس معاشرے کے ناسور شیخ رشید جیسے لاتعداد رزیلوں نے اس قوم کے بچے بچیاں اخلاق باختہ بنادیے۔اگر اس ملک میں کچھ اخلاقی قوانین پورے معاشرے اور انفرادی طور پہ بھی لاگو ہوتے تو کسی گھر کا بچہ یا بچی اس بدی کے گڑھے میں نہ گرتا ان سب نے مل ملاکر اس سوساٸٹی کا ڈھانچہ کھڑا کیا ہے جس میں بےشمار سیدوں کی فضّاٸیں چوراہے کا مال بن کر رہ گٸی ہیں۔

لاتعداد عالی نصب خاندانوں کے بیٹے مرد مجاہد بننے کی بجاۓ ہیجڑے نما بن کر سکرینوں پہ مادر پدر آزاد معاشرے کے بھاشن دیتے ہیں کوٸی پوچھنے والا نہی۔کوٸی حکمران کوٸی ادارہ بے بس والدین کو تسلی دینے کو نہی کہ ہم آپکے بچوں کی تربیت میں آپکے معاون بنیں گے بلکہ ہر روز نٸی خبر یہ سننے کو ملتی ہے کہ فلاں شہر میں فور جی اور فلاں میں فاٸیو جی کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔آگ لگے تمھاری ان سہولتوں کو بند کردو یہ سب سہولتیں ہمیں آج سے ستر اسی سال پرانے معاشرے میں جینے دو جہاں اگر کوٸی بیٹی ضرورت کے تحت باہر نکلتی تھی تو وہ سب کی بیٹی ہوتی تھی اسکے سر پہ ہاتھ رکھنے کو پورا علاقہ ہوتا تھا۔تمھارے فاٸیو جی کے تیز ترین رابطوں نے باپوں کی معافیاں پوری دنیا میں نشر کردی ہیں ۔اس معزز باپ کی ایک کراہ شام سے میرے کانوں میں گونج رہی ہے اے اللہ اگر میرا کوٸی گناہ ہے تو معاف کردے حریم شاہ کو فضہ حسین بنادے میرے رب۔یاللہ ہم سب کو ہی معاف فرمادے ہم نے اس نیک سیرت باپ کی بھٹکی بیٹی کو سوشل میڈیا پہ طواٸف اور نہ جانے کیا کیا کہا۔۔۔۔۔۔یااللہ ہم سب کو معاف کردے ہماری قوم کی بچیوں کو والدین خاندان دین ومعاشرے کے لیے آزماٸش نہ بننے دے۔یارب ہمیں معاف کردے