مولانا سادہ بہت ہیں یا چالاک بہت؟ آصف محمود

قومی اسمبلی آرمی ایکٹ میں ترمیم کے معاملے کو کل دیکھے گی. حکومت ترمیم لا رہی ہے، ن لیگ نے غیر مشروط اور پی پی پی نے مشروط حمایت کا اعلان کر رکھا ہے. جماعت اسلامی نے مخالفت کا اعلان کیا ہے. یہ صف بندی تو واضح ہے. لیکن مولانا نے اس دفعہ کچھ زیادہ ہی مہارت کا ثبوت دینے کی کوشش کی ہے. اب معلوم نہیں وہ سادہ بہت ہیں یا چالاک خود. دوسروں کو دھوکہ دے رہے ہیں یا خود کو اور اپنے سادہ لوح وابستگان کو.

مولانا نے حمایت کی نہ مخالفت. معاملے کے میرٹ کو ہاتھ لگائے بغیر حیلہ کیا کہ چونکہ ہم اس جعلی اسمبلی کو تسلیم ہی نہیں کرتے اس لیے اتنے اہم معاملے میں ہم اس اسمبلی کو فیصلہ کرنے کے قابل ہی نہیں سمجھتے. سوال ہوا کیا آپ مخالفت میں ووٹ دیں گے؟ فرمایا یہ بھی اسمبلی کے حق کو ماننے والی بات ہو گی جب کہ ہم تو جعلی اسمبلی کے اس حق کو ہی نہیں مانتے کہ وہ اس اہم معاملے میں فیصلہ کرے.سوال وہی ہے مولانا سادہ بہت ہیں یا چالاک بہت.

یادش بخیر یہی جعلی اسمبلی تھی جس نے صدر منتخب کرنا تھا. مولانا اس وقت اپوزیشن کے امیدوار بن کر سامنے آئے اور عارف علوی کے مقابلے میں 184 ووٹ حاصل کیے. تب تو یہ نہیں کہا کہ یہ اسمبلی جعلی ہے اور اسے ہم اسے یہ حق نہیں دیتے کہ وہ افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر یعنی صدر پاکستان کا انتخاب کرے. آج یہ دلیل اور یہ منطق کہاں سے آگئی؟

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */