گوردوارہ جنم استھان کے باہر ہنگامہ آرائی کیوں؟ محمد عامر خاکوانی

ننکانہ میں گوردوارہ جنم استھان کے باہر جو ہنگامہ آرائی ہوئی، اس سے پاکستان کی بہت بدنامی ہوئی۔ سوشل میڈیا پر مظاہرین ، حملہ آوروں کی ویڈیوز پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں، بھارتی سوشل میڈیا خوفناک پروپیگنڈہ کر رہا ہے، ایک دو ویڈیوز ہیں ہی ایسی کہ انہیں دیکھنے والا ہر شخص دم بخود رہ جائے، طارق فتح جیسے اینٹی پاکستان زور شور سے انہیں وائرل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ واقعہ مگر کیا ہے، اس پر بات کرتے ہیں۔

جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق ایک سکھ لڑکی نے اسلام قبول کر کے ایک مسلمان شخص سے نکاح کر لیا۔ جیسا کہ عام طور پر محبت کے ایسے کراس ریلجن کیسز میں ہوتا ہے۔ اس کا اسلامی نام عائشہ رکھا گیا۔ سکھ کمیونٹی جوننکانہ میں خاصی بااثر ہے ، اس نے لڑکی واپس لینے کی کوششیں کیں، مگر کامیابی نہیں ہوئی۔ وہ لڑکی اس وقت دارالامان مین ہے۔ وہ شخص جس کے ساتھ نومسلم سکھ لڑکی کی شادی ہوئی، وہی اس سارے ہنگامے کا مرکز ہے، اس نے اپنے نجی جھگڑے کواسلام اور سکھ مت، مسلمانوں اور سکھوں کی لڑائی بنا دیا۔ اس نے مقامی لوگوں میں اشتعال پھیلایا اور کچھ لڑکوں کو اکٹھا کر لیا۔ اس کی ویڈیوز نہایت جذباتی اور فضول نعروں سے بھرپور ہیں۔ ایک ویڈیو میں اس نے ایک مقامی پولیس افسر کا نام لے کر کہا کہ تم نے مجھے ڈی پی او کے کہنے پر پٹوایا ، گورنر کے کہنے پر پٹوایا، بریگیڈئر اعجاز شاہ وزیرداخلہ کے کہنے پر پٹوایا، مجھ پر دبائو ڈالا کہ لڑکی کو طلاق دوں اور وہ واپس چلی جائے، مگر میں لتر کھاتا رہا، پیچھے نہیں ہٹا وغیرہ وغیرہ۔

اسی شخص نے سکھوں کے خلاف نعرہ بازی کی، جنونی انداز میں ڈی پی او، ڈپٹی کمشنر کو دھمکیاں دیں اور سکھوں کو للکارا کہ سکھو میں آ رہا ہوں۔ پھر اسی نے بڑا چوڑا ہو کر سکندر اعظم والے پوز میں ویڈیو بنوائی کہ ہم اس شہر میں ایک بھی سکھ نہیں رہنے دیں گے، اس گوردوارے کی ایک اینٹ بھی نہیں رہنے دیں گے، شہر کا نام ننکانہ صاحب سے بدل کر غلام مصطفیٰ رکھیں گے وغیرہ وغیرہ۔ اس نے ہر ایک سے اپیل کی کہ ویڈیوز بناؤ اور شیئر کرو اور گوردوارے کے باہر جمع ہو جاؤ۔ لوگ جمع ہوئے اگرچہ سو ڈیڑھ سو ہی لگ رہے تھے، مگر اتنے اہم ہائی پروفائل گوردوارہ کے باہر اتنے لوگ جمع ہو کر پرجوش نعرے لگائیں تو وہ کم واقعہ نہیں۔

یہی ویڈیوز بار بار ٹوئٹر پر شیئر ہو رہی ہیں۔ بھارتی سیاستدان، بی جے پی کے کارکن، میڈیا کے لوگ اور پروبی جے پی سکھ زور شور سے شیئر کر ہے ہیں جبکہ معتدل سکھ بھی گورداوارہ پر حملہ کا سن کر فطری طور پر پریشان ہوئے ہیں، اوورسیز سکھ بار بار ٹوئٹر پر پوچھ رہے ہیں کہ کیا ہوا ، خطرہ ٹل گیا یانہیں؟

سوال یہ ہے کہ مقامی انتظامیہ کہاں سوئی ہوئی تھی ؟ ڈپٹی کمشنر، ڈی پی او کی ذمہ داری تھی کہ ایسے کسی بھی واقعہ کو رونما ہونے سے پہلے کنٹرول کریں۔ ان کا لگتا ہے کوئی کنٹرول نہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ سکھ رہنمائوں نے انہیں فوری نہ بتایا ہو۔ ویسے تو یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ اعجاز شاہ ، حتیٰ کہ گورنر صاحب تک اس ایشو کے پس منظر سے واقف ہیں۔ پھر اسے نااہلی سے کیوں نمٹا گیا۔؟ کیا ہر معاملے کو غیر ذمہ داری اور نااہلی سے نمٹانا وتیرہ بنا لیا ہے۔

مقامی پولیس نے ریسپانس دیا اور گورداورہ کے گرد حصٓار تو بنا لیا، مگر اس جنونی شخص کو جس نے اپنے نجی معاملے کی وجہ سے پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی کرائی، جس نے کرتار پور معاملے پر جو کچھ بھی حاصل ہوا، وہ سب ایک ہی گھنٹے میں برباد کرا دیا، ایسے احمق شخص کو پہلے ہی کیوں نہیں گرفتار کر لیا گیا؟ اس قسم کے حساس معاملات کو فوری ہینڈل کیا جاتا ہے۔ اس اہم ترین معاملے میں یہ مس ہینڈل کیوں ہوا؟

یاد رہے کہ پانچ جنوری کو سکھوں کے اہم ترین گرو گوبند سنگھ کی سالانہ تقریبات کرتار پور میں شروع ہونی تھیں، اس حوالے سے بہت اہم بڑا ایونٹ بھی ہونا تھا۔ اس سے صرف دو تین پہلے یہ واقعہ ہونا کیا محض اتفاق ہے ؟ اس بظاہر معمولی مگر تباہ کن واقعے سے بھارتی حکومت کو زبردست ریلیف ملا۔ سوشل میڈیا پر بی جے پی حامی برملا یہ کہہ رہے ہیں کہ ایسے جنونی مسلمان ہیں اس لئے اچھا ہی ہوا کہ ان کے ابھی چند دن پہلے منظور ہونے والے قانون سے مسلمانوں کو باہر رکھا گیا۔

جو نقصان ہونا تھا وہ تو ہو چکا۔ اس معاملے کو سرعت سے نمٹایا جائے۔ حملہ آوروں کو گرفتار کر کے سخت ترین فوری سزائیں دینی چاہیئں۔ وزیراعظم پاکستان کو خود اس کی وضاحت کرتے ہوئے ملزموں کی گرفتاری کی فوٹیج دکھانی چاہیے۔ سکھ رہنمائوں کا اعتماد بحال ہونا چاہیے ، ننکانہ صاحب یا کسی بھی دوسرے ایسے مقام پر مستعد افسران لگانے چاہئیں۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com