آئیں! سب نئے سال کو منائیں۔ مفتی سیف اللہ

اے سالِ نو!
ہم سب کی زندگی میں تو ایک مہمان بن کر آیا۔
ترے آنے پہ دنیا میں خوشیاں منائی گئیں۔
شادیانے بجاۓ گئے۔
آتش بازیاں،ہلڑبازیاں اور اس کی مقابلہ بازیاں کی گئیں۔
اوروں نے تیرے آنے پہ خوشیاں منائیں۔
ہم خوشیوں کیلئے تجھے منا رہے ہیں۔

اے سالِ نو!
مانا کہ ترے ایام میں صبح وشام آئیں گے۔
لیل و نہار آئیں گے، اور بار بار آئیں گے۔
سورج بھی طلوع و غروب ہوا کرے گا۔
کبھی اجالا اور کبھی اندھیرا ہوگا۔
سورج کی چمک اور گرمی بھی ہوگی۔
چاند کی چاندنی اور ٹھنڈک بھی ہوگی۔
تاروں کے جھرمٹ اور ان کی دمک بھی ہوگی۔
موسم بھی بدلیں گے۔
برسات بھی ہوگی،ساون بھی برسے گا۔
بہار بھی آۓ گی،خزاں بھی ہوگا۔
پیڑ بھی اگیں گے،ان پہ پھل بھی ہوں گے۔
پھول بھی کھلیں گے،ان کی مہک بھی ہوگی۔

مگر اے سالِ نو!
یہ تو ہمیشہ ہوتا آرہا ہے،ہر سال ہوتا ہے۔
ہم چاہتے ہیں تجھ میں ہماری خوشی و راحت کی ایسی صبح آۓ جس کی کبھی شام نہ ہو۔
ہمارے اقبال و بخت کا ایساسورج طلوع ہو جس پہ کبھی زوال نہ آۓ۔
پیار و محبت کی ایسی بہار آۓ جس کا کبھی خزاں نہ ہو۔
امن وسکون کے ایسے پھول کھلیں جو کبھی مرجھا نہ سکیں۔
ہدایت کا ایسا اجالا آۓ کہ جس کے بعد گمراہی کی ظلمت نہ ہو۔
علم و شعور کے ایسے چشمے پھوٹیں جو کبھی خشک نہ ہوں۔
خوشحالی و آسودگی کے ایسے شجر لگیں جن پہ کبھی پت جھڑ نہ ہو۔

اے سالِ نو!
ترا ہر دن بلکہ ہر لمحہ،
پیارو خلوص کا پیامبر بن جاۓ۔
محبت کا مشک و عنبر بن جاۓ۔
چاہت کا اتھاہ سمندر بن جاۓ۔
ملک و قوم کی ترقی کا زینہ بن جاۓ۔
علم و عرفان کا خزینہ بن جاۓ۔
ہمدردی وخیرخواہی کا سفینہ بن جاۓ۔
صدق و صفا کی برسات بن جاۓ۔
خوشیوں کی کائنات بن جاۓ۔
یوں ہماری ہر بات بن جاۓ۔
اے سالِ نو!
ہماری زندگی میں ترے آنے سے،
محض کیلنڈر کا ایک سال نہ بدلے،
بلکہ ہمارا حال بدل جاۓ۔