یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے - قدسیہ مدثر

بیٹیوں کی عزت کتنی پیاری ہوتی ہے یہ درد صرف وہی سمجھ سکتے ہیں جس کی اپنی بیٹی ہو اور اس کے مستقبل کے لئے خوبصورت خواب دیکھے ہوں اگر وہی بیٹی بڑی ہو کر والدین کے لئے گالی بن جائے تو والدین کے منہ سے نکلی ہوئی بدعائیں عرش ہلا دیتی ہیں ۔ پچھلے کچھ عرصے سے حریم شاہ کے بارے میں سوشل میڈیا پر مختلف زاویوں سے بحث جاری ہے .

اس بحث کا آغاز باقاعدہ تب ہوا جب حریم شاہ کو وزارت داخلہ کے آفس سب سے حساس جگہ اور کرسی پر براجمان دیکھا جو نا صرف پاکستان بلکہ بیرونی ممالک کی نظر میں بھی اچھنبے کی بات تھی کہ ایک ٹک ٹاک گرل کس طرح ایسے حساس ادارے جہاں ملک کے فیصلے ہوا کرتے ہیں پر باآسانی رسائی ہو سکتی ہے اس کے پیچھے کون سے محفوظ ہاتھ ہیں اس پر بھی کافی بحث چلی لیکن نتیجہ خاطر خواہ نا نکل سکا ۔اور آپ نے ان گرلز کو مختلف ویڈیوز میں بیرونی ممالک کی سیر کرتے ہوئے پرتعیش رہائش اور جہازوں میں سفر کرتے ہوئے دیکھا جب کہ ان کے پیچھے والدین کی سپورٹ بھی نہی ۔یہ پرتعیش زندگی کس کی مرہون منت ہے اور آئے روز پی ٹی آئی راہنماؤں کے ساتھ ان کے اسکینڈلز اور پھر ان گرلز کی طرف سے حکومتی وزیروں کو ویڈیوز لیک کرنے کی دھمکیاں اور اس طرح کے بے شمار سوالات پوری عوام کے ذہنوں میں ہیں اور وقتاً فوقتاً سوشل میڈیا کی زینت بھی بنتے ہیں لیکن یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ ان کے دفاع کے لئے قوم یوتھ ہمہ وقت جدید اسلحے کے ساتھ تیار نظر آئی ۔ خیر بات ہو رہی تھی بیٹیوں کےتقدس پر ۔

اور اس بات کا شدت کے ساتھ احساس تب ہوا جب رات کو حریم شاہ کے والد کا انٹرویو سنا جو خبروں کی بھی زینت بنا . اور یقین جانئے اس باپ کے جھریوں زدہ چہرے اور نم آنکھوں کو دیکھا نا گیا اور آنکھیں بھر آئیں ۔کس قدر شرمندگی سے وہ قوم سے معافی مانگ رہے تھے اپنی تربیت پر بار بار بات کر رہے تھے کہ میں نے تو نامور اسلامی ادارے الہدی سے تعلیم دلائی تربیت میں کوئی کمی نہی چھوڑی ۔اور پھر یہ کہنا کہ اولاد تو حضرت نوح ع کی بھی نافرمان نکلی اور حضوت لوط ع کی بیوی بھی پیچھے رہ جانے وال ں میں سے تھی اور اپنی بیٹی کے لئے ہدایت کی دعا کی ۔ اور پھر بار بار شرمندگی کے آنسو ؛ یقین جانئے یہ بے بسی کے آنسو دیکھے نا گئے ۔ اور پھر یہ سوچنے پر مجبور ہوئی کہ آخر کیا وجہ ہوسکتی ہے جو ایک عالمہ فاضلہ فضا حسین سے حریم شاہ بن گئی ۔اسے اس فانی زندگی کا بھیانک چہرہ دکھایا کس نے اور کس نے اس عام سی لڑکی کے لئے راہیں ہموار کیں ۔۔ کیا ہمارا معاشرہ؟میڈیا ؟ دوستیاں؟یا وہ خفیہ ہاتھ جو قومی ایشوز سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے ایسوں کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   قصور بھی عورت کا نقصان بھی عورت کا - رقیہ اکبر چودھری

انہیں پیسے کی لالچ دے کر جو عوام کے خون پسینے کی کمائی سے دیئے ہوئے ٹیکسوں سے ان کی زندگیاں پرتعیش بناتے ہیں ۔کاش اتنی فکر ملک بنانے کی ہوتی تو یقیناً ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ۔۔ اورمیرا سوال ان این جی اوز کی طرف بھی ہے جنہوں نے حقوق نسواں اور عورت کی خودمختاری و آزادی کے خوبصورت نعرے لگا کر غیر ملکی ایجنڈوں پر عمل کرتے ہوئے عورت کو دین اور گھر سے باغی کر دیا ہے ۔اور انہیں ایسے ہاتھوں میں پہنچا دیا جو کبھی ملک کے خیر خواہ نہی رہے ۔اسلام نے اتنا خوبصورت مقام جو عورت کو دیا اسے چادر اور چار دیواری کا تحفظ دیا کیا اتنے خوبصورت اور پاکیزہ نظام بھی کوئی نظام رہ جاتا ہے ۔ میری ان تمام بیٹیوں ۔بہنوں سے گزارش ہے کہ خدارا کوئی بھی کام کریں لیکن اپنے والدین کی عزت و آبرو پر کوئی حرف نا آنے دیں ۔نام کمانا چاہتی ہیں تو ملک کے لئے اچھے معنوں میں تعلمیی میدان ۔ تحقیقی میدان ٹیکنالوجی ۔اور بہترین ماں ۔بہن ۔بیوی بن کر نام کمائیں تا کہ آنے والی نسلیں آپ سے عبرت حاصل کرنے کی بجائے سبق حاصل کر سکیں ۔