چار دن گر زندگانی اور ہے - حبیب الرحمن

یہ بھی مان لیتے ہیں کہ 2020 ترقی کا سال ہوگا۔ یہ بھی مان لیتے ہیں کہ عسکری ایکٹ میں ترمیم بھی ہو جائے گی۔ یہ بھی مان لیتے ہیں کہ عزت مآب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت مزید 3 سال بڑھ جائے گی۔ یہ بھی مان لیتے ہیں کہ نیب کی ترامیم بھی کورٹ سے پاس ہو جائیں گی۔ یہ مان لیتے ہیں کہ موجودہ حکومت 2023 سے قبل ختم نہیں ہو سکے گی بلکہ 2023 میں ہونے والے انتخابات میں یہی حکومت اپنی "شاندار" کارکردگی کی وجہ سے مزید پانچ سال کیلئے حکومت بنانے کی حق دار بن جائے گی۔

یہ بھی مان لیتے ہیں کہ اس وقت گیس، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کا جو بحران ہے وہ بھی سابقہ حکومتوں کی وجہ سے ہے اور اگر یہ بحران آئندہ مزید 20 برس تک بر قرار رہا تو بھی اس بحران کے نہ ٹلنے کا سارا کا سارا قصور سابقہ حکومتوں ہی کا ہوگا۔ تسلیم کہ سارے مقصورات اور کوتاہیوں کی ذمہ دار کسی بھی طور موجودہ حکومت نہیں لیکن اس کا کیا جائے کہ جو اس وعدے اور دعوے کے ساتھ آئے تھے کہ وہ عوام پر ہونے والی ساری زیادتیوں، دکھوں اور آلام کا مداوا کریں گے۔ مہنگائی کے آگے بند باندھیں گے۔ پٹرولیم مصنوعات کی "مصنوعی" مہنگائی کے بت کو توڑ کر قیمتوں کو 46 روپوں تک لے آئیں گے۔ ہر قسم کے بیجا ٹیکسوں اور سرچارجز کو ختم کریں گے۔ اشیائے ضرورت کو سستا کریں گے۔ نوکریوں کی بڑے بڑے صدر دروازے وا کر دیں گے۔ بے چھتوں کو چھت دیں گے۔ پاکستان کو فلاحی ریاست بنائیں گے۔ توانائی کے بحران کو جنم ہی نہیں لینے دیں گے۔ سمندر سے تیل کا ذخیرہ برآمد کریں گے۔ چین سے وہ بجلی لیں گے جو فی گھر صرف 3 سو روپے میں ترسیل کی جا سکے گی۔

پاکستان کو دنیا بھر میں تجارت کا مر کز بنا دیں گے۔ سارے کشکول توڑ دیں گے اور اگر قرضہ لینا پڑجائے تو اس لعنت پر موت کو ترجیح دیں گے۔ کہاں چلے گئے وہ سارے دعویٰ کرنے والے اور کہاں جاکر ڈوب گئے وہ غیرت مند جو کہا کرتے تھے کہ ہم مر تو سکتے ہیں لیکن در در ہاتھ کسی صورت نہیں پھیلا سکتے۔سنا ہے کہ اربابِ حکومت نے کہا ہے کہ 2020 ترقی کا سال ہوگا۔ خوشحالی کا سال ہوگا۔ درست ہی کہا ہے۔ ترقی ہوگی اور ضرور ہوگی۔ مہنگائی میں ہوگی، بجلی کے نرخوں میں ہوگی، پٹرولیم مصنوعات میں ہوگی، گیس کی قیمتوں میں ہوگی، ڈالر کی قدر میں ہوگی، سبزی کے بھاؤ میں ہوگی، آٹے کے داموں میں ہوگی، تاجروں کی چھوٹ میں ہوگی، دولت کی لوٹ میں ہوگی، مکر میں ہوگی، خوش شکل نعروں میں ہوگی، رنگ برنگی دعوں میں ہوگی۔ فریب میں ہوگی، دھوکا دہی میں ہوگی، سبزباغات دکھانے میں ہوگی، خیالی پلاؤ پکانے میں ہوگی، خوابوں خیالوں کے سجانے میں ہوگی اور ہر اس چیز میں ہوگی جس کا تعلق غربا کی زندگی سے ہوگا۔

خوشحالی بھی دیکھنے کو ملے گی لیکن ترینوں کو، امیروں کو، وڈیروں کو، چوہدریوں کو، ملکوں کو، سرداروں، مل مالکان کو، ملک کا خزانہ لوٹنے والوں کو، چوروں کو، ڈاکوؤں کو، لٹیروں کو، ایکٹنشن پر ایکسٹنشن لینے والوں کو، بڑے بڑے مٹکا سے پیٹ والوں کو، زمیں داروں کو، پاکستان کے ٹھیکیداروں، نوابوں اور جاگیر داروں کو۔ ان کے چہرے مثل آفتاب و ماہتاب چکمک رہے ہونگے اور ان کے چہروں پر لالیاں رقص کر رہی ہونگی۔حکومت نے اب تک جو جو دعوے بھی کئے ان میں ذرا بھی کھوٹ نہیں۔ نہ جھوٹ اور نہ ہی کوئی فریب ان میں نظر آیا۔ اب یہ ہم بیوقوف، کم عقل اور جاہل عوام کی بد عقلی ہے کہ وہ حکومت کے دعوے اور وعدوں کو فریب کا نام دے رہے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ مہنگائی ترقی و خوشحالی کی علامت ہوتی ہے۔ لوگ رو رہے ہیں کی ڈالر 94 روپے سے 160 کے قریب پہنچ گیا یہ کوئی نہیں سمجھ رہا کہ لوگ باہر کے ملکوں سے اپنے عزیزوں اور رشتے داروں کو جو رقم ڈالروں میں بھیجا کرتے تھے تو ان کو ایک ڈالر کے عوض صرف 94 روپے ملا کرتے تھے اور اب 160 روپے ملتے ہیں۔ ذرا سوچیں کہ کہاں صرف 94 روپے اور کہاں 160 روپے۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت کے تہلکا خیز انکشافات - حبیب الرحمن

مگر یہ فرق کسی کو دکھائی ہی نہیں دے رہا۔ پٹرول، بجلی اور گیس سستی تھی تو لوگ خوامخواہ بد احتیاطی سے جلا دیا کرتے تھے اب عالم یہ ہے کہ جس کمرے سے نکلتے ہیں اس کی لائٹیں بند کردیا کرتے ہیں، ہانڈی روٹی پکاتے ہی گیس کا چولہا آف کر دیا جاتا ہے اور پٹرول مہنگا ہونے کی وجہ سے غیر ضروری سفر، تفریحوں اور اپنے عزیز و اقارب سے ملنے سے گریز کرتے ہیں اس طرح پٹرول کی بچت بھی ہو جاتی ہے اور بار بار کی ملاقاتوں سے گریز کی وجہ سے گھریلو تعلقات کی کشیدگیاں بھی جنم لینے سے رہ جاتی ہیں۔ مہنگائی کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک پیاز، آلو، ٹماٹر بیچنے والا منوں اور ٹنوں بیچ کر جتنا نہیں کما پاتا، چند کلو بیچ کر کما لیتا ہے اور صارفین بھی کلوؤں کے حساب سے خریدنے کی بجائے پاؤ اور چھٹانک بھر میں اپنا پیٹ بھر لیتے ہیں بس ہانڈی میں پانی کی مقدار ضرور بڑھانی پڑ جاتی ہے۔

سوچئے کہ اگر اشیائے صرف اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ نہ کیا جائے تو ایک کارخانے دار، ایک تاجر، ایک مل اونر اور ایک کاروباری اپنے کاریگروں، مزدوروں، ہنرمندوں، ہاکروں، سیلز مینوں اور اپنے شراکت داروں کی تنخواہوں اور اجرتوں میں کیسے اضافہ کر سکے گا۔ لیکن یہ ساری باتیں عقل سے کورے عوام کی سمجھ میں کیسے آ سکتی ہیں۔پاکستان کا ہر فرد موجودہ حکومت سے خوامخواہ ہی شاکی ہے۔ جس حکومت کو دوسروں کے چڑھائے ہوئے قرضے اتارنے ہوں، ملک کی دولت لوٹنے والوں کو چھوٹ پر چھوٹ دینی ہو، احتساب کے عمل کو محض اس لئے روکنا ہو تاکہ ہر بدعنوان بے فکری کے ساتھ چاروں جانب ہاتھ پاؤں مار سکے اور ہر کرپٹ سیاستدان، لٹیرا، چور اور ڈاکو اطمنان کے ساتھ اپنے مذموم مقاصد حاصل کر سکے، وہ اگر کرے بھی تو کیا کرے۔ ایک صبر ہے جو ایسے حالات میں کیا جاسکتا تھا لیکن بد قسمتی سے وہ موجودہ حکومت کی قسمت میں ہے ہی نہیں جس کی وجہ سے وہ "یہ" کروں یا "وہ" کروں کے ادھیڑبن میں یو ٹرن پر یو ٹرن لینے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ ایک جانب حکومت کے صبر کا یہ برا عالم ہے اور اس پر مصیبت یہ ہے کہ عوام ہیں کہ وہ بھی بے صبرے ہوئے جا رہے ہیں۔ اب کوئی بتائے کہ ملک اگر ترقی کرے تو کس طرح کرے۔

سوال یہ نہیں کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ہوسکتی ہے یا نہیں، سوال یہ نہیں کہ اقوام متحدہ کی تقریر نے پوری دنیا کو مسحور کر کے رکھ دیا تھا یا نہیں، سوال یہ نہیں کہ خان زبانی تقریر کرتا ہے، پرچیاں نہیں پڑھا کرتا، سوال یہ نہیں کہ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 3 گنا یا 4 گنا اضافہ ہوا یا نہیں، سوال یہ نہیں کہ خان کی موجودہ حکومت کو 2023 تک کوئی بھی نہیں ہلا سکتا، سوال یہ نہیں کہ ہم سعودی عرب کے کتنے محتاج یا غلام ہیں، سوال یہ نہیں کہ ہم جنگ کی صورت میں جنگ جیت جائیں گے یا ہار جائیں گے، سوال یہ نہیں کہ پارلیمنٹ آرمی چیف کی توسیع مدت کا بل منظور کر لیگی یا نہیں، سوال یہ نہیں کہ نیب کا ترمیمی بل عدالت سے بھی پاس ہو جائے گا یا نہیں، سوال یہ نہیں کہ ڈالر مہنگا ہو گیا یا سستا، سوال یہ نہیں کہ کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کی بلندی کو چھو رہی ہیں یا تحت الثریٰ تک گر گئی ہیں اور سوال یہ نہیں بھی نہیں کہ 2020 انیس بیس کے فرق کا سال ہے یا پورے سولہ آنے خوشحالی کا سال۔ ان سارے سوالات کا کوئی بھی تعلق عام عوام سے نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   پھر وہی تیرِ نیم کش کی خلشِ جاں کاہ - حبیب الرحمن

اگر عوام حکومت سے کچھ چاہے ہیں تو صرف اور صرف یہ کہ ان کے زخموں پر مرہم بھی کوئی رکھے گا یا نہیں۔ ان کے دکھوں کا مداوا بھی کوئی کریگا یا نہیں، ان کی زندگی کو بھی کوئی آسان بنائے گا یا نہیں، ان کیلئے بھی نوکریوں کا کوئی انتظام کریگا گا یا نہیں، ان کے سر پر کوئی چھت کا سایہ کریگا یا نہیں اور ان کو بھی کوئی زندہ رہنے کا سامان فراہم کر سکے گا یا نہیں یا پھر ہر آنے والا سارے پچھلوں کو برا بھلا کہہ کر پچھلوں سے بھی کہیں زیادہ قرضوں کا بوچھ لاد کر، ٹیکس لگا کر، سرچارجز میں اضافہ کرکے، مہنگائی کے تیر کو آسمان کی جانب مزید سیدھا کرکے اور عام عوام کی زندگی کو مزید عذاب میں مبتلا کرنے کے بعد اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا چلا جائے گا۔یہ ہے وہ سوال جو ہر فرد جس طرح ہر حکومت سے کرتا چلا آیا ہے، موجودہ حکومت سے بھی کر رہا ہے اور وہ بھی اس لئے کہ پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہونے سے پہلے ہر فرد نے پی ٹی آئی کو ووٹ اسی امید و آس پر دیا تھا کہ سب کو آزمایا ہے بلکہ بار بار آزمایا ہے اب پی ٹی آئی کو لایا جائے تاکہ وہ سب مرنے سے پہلے خوشحالی کا ایک سانس ہی سہی، لے سکیں۔

پی ٹی آئی کے ارباب حکومت اور ارباب اختیار پر یہ بات واضح ہونا چاہیے کہ ہر برداشت کی ایک حد ہوا کرتی اور ہر پیمانے کا ایک آخری کنارہ۔ جب برداشت اپنی حد توڑ دے اور صبر کا پیمانہ اپنے آخری کناروں تک لبریز ہو جائے تو پھر وہ دریا کے اس سیلاب کی صورت اختیار کر لیتا ہے جس کا بند اچانک ٹوٹ جائے۔ بکھرا ہوا ریلا خواہ وہ پانی کا ہو یا عوام کے سروں کا، وہ پاگلوں سے بھی زیادہ پاگل ہوا کرتا ہے اور پھر وہ ہر نیک و بد کی تمیز کو بھول چکا ہوتا ہے۔ لہٰذا اس سے قبل کہ ہر چہرہ یہ چیخ اٹھے کہ

چار دن گر زندگانی اور ہے

اپنے دل میں ہم نے ٹھانی اور ہے

کچھ ایسا کر گزریں جو عوام کے دکھو کا مداوا بن جائے ورنہ بندوں کے ٹوٹنے اور پیمانوں کے چھلکنے میں ایک انگشت کی دوری بھی نہیں رہ گئی ہے۔