بلوچوں کی جدوجہد -گہرام اسلم بلوچ

گہرام اسلم 1920 کی فکری و نظریاتی تحریک کو 2020 میں 100 سال پورے ہونے کو ہیں۔ اس پورے دورانیے میں انگریز سامراج سے لے کر جدید مظلوم بلوچستان تک کے سفر میں بلوچ اپنی بقا اور شناخت کی خاطر جدوجہد کے میدان میں برسرپیکار ہیں۔ اس طویل سیاسی و فکری جدوجہد میں بلوچ کے سیاسی اکابرین نے ہر دور میں ظلم و بربریت کے خلاف اپنے اصول، اپنی موقف پر ڈٹ کر سیاسی مزاحمت کے تسلسل کے ساتھ اسے جاری رکھا۔

بلوچ و بلوچستان میں روشن خیال اور ترقی پسند سیاست کی بنیاد رکھنے والوں میں سے میر یوسف عزیز مگسی اور عبدالعزیز کرد سے لے کر موجودہ دور تک اپنی اپنی بساط میں بلوچ اور بلوچستان کی خوش حالی کے لیے شریک جدوجہد کرنے والی سیاسی قیادت ہر دور میں طاقت ور اشرافیہ کے لیے ناقابل برداشت رہی ہے۔ اس وقت دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ بلوچوں کا ایک اہم مسئلہ ان کی شناخت کا ہے۔ اُن کے کلچر و زبان و تشخص کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ بلوچستان میں اظہار آزادی رائے پہ تو روز اول سے قدغن ہے۔ اب بلوچستان میں اپنی شناخت کو خطرہ محسوس کرنے اور اس کی بحالی کے لیے سوچنے اور بولنے والوں کے ساتھ بھی وہی حشر ہو گا جو باقیوں کے ساتھ ہوتا آ رہا ہے۔

آپ جس سرزمین پر آباد ہیں وہاں اگر کوئی بالادست آپ سے اقلیتوں والا رویہ اختیار کرے تو یہ وہاں کے باسیوں کے لیے بے حد تکلیف دہ بات ہو گی۔ بلوچستان جیسی سونا اُگلنے والی سرزمین کے باسی اگر دو وقت کی سوکھی روٹی اور صحت کی بنیادی سہولیات اور تعلیمی اداروں کی سہولیات سے محروم ہوں تو وہاں جنم لینے والے حقوق کی جدوجہد کو ملک کے ساتھ غداری تصور کرنے والے حکمران خود یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں بلوچ سے نہیں بلوچستان کی زمین سے غرض ہے۔

ساحل اور وسائل سے مالا مال بلوچستان کے عوام بے روزگاری غربت اور تنگ دستی کے باعث دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ اُن کو کہیں بھی ملکی سطح پر نہ ملازمت ملتی ہے اور نہ پرائیویٹ کمپنیوں میں ترجیح دی جاتی ہے۔ اس نا برابری اور ناروا سلوک کے خلاف بلوچستان میں وقتا فوقتا آوازیں اُٹھتی رہی ہیں۔ حقوق کے حصول کے لیے بولنے والوں کی صرف تصاویر ہی ماما قدیر کے ہاتھوں میں نظر آتی ہوں گی۔فیڈریشن کے اندر رہ کر جمہوری انداز میں سیاسی جدوجہد کے ذریعے بلوچستان کی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے فیڈرلزم کی بات کرنے والی ( نیشنل عوامی پارٹی- نیپ) کی قیادت کو ایک جمہوری دور میں پابند سلاسل رکھا اور اُن پر غداری کے مقدمات چلائے گئے۔ بلوچستان کے حوالے سے اسلام آباد کا روز اول سے یہی رویہ اور بیانیہ رہا ہے۔ اگر بلوچستان مرکز سے اپنے حقوق کے حوالے سے ناراض تھا تو اشرافیہ نے اُس کو مزید دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ستر برسوں سے بلوچستان میں بھی وہی ہو رہا ہے جو مشرقی پاکستان کے ساتھ کیا گیا تھا۔

پارٹیشن سے قبل بلوچوں نے اپنے وجود کی بقا کے لیے میر یوسف عزیز، عبدالعزیز کرد، محمد حسین عنقا و دیگر کی قیادت میں انجمن اتحاد بلوچاں کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کی بنیاد رکھی۔ آج تک بلوچ قوم پرستی کی جدوجہد اس طویل سفر میں مختلف نشیب و فراز سے گزر کر بے شمار قربانیوں کے نتیجے میں ہم تک پہنچی ہے۔ اس طویل سیاسی سفر میں 1920 سے لے کر 2020 تک بلوچ کے ہر فرزند اور ہر مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے، نوجوان و بزرگ، شاعر، ادیب، استاد، ڈاکٹرز، سیاسی رہنماؤں نے اپنے اپنے حصے کی جدوجہد میں بھر پور کردار ادا کیا ہے۔

ملکی سیاست کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں بلوچ نیشنلزم کی سیاست میں نوجوانوں کا ایک اہم اور کلیدی فکری کردار بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او ) کے پلیٹ فارم سے شروع ہوتا ہے اور تاحال اس پلیٹ فارم کے ہر نظریاتی کارکن نے بھی اپنے حصے کا قرض چکایا ہے۔ بی ایس او بلوچ نیشنلزم کی سیاست میں وہ واحد سیاسی فیکٹری ہے کہ جو مسلسل بلوچ سیاست کو سیاسی نظریاتی کیڈر مہیا کرتی آ رہی ہے۔ بلوچ سیاست سے بی ایس او کے کردار کو الگ کیا جائے تو شاید اس وقت بلوچستان کی سیاست میں بجائے سیاسی کارکن کے روایتی سردار اور سرمایہ دار ہی رہ جائیں گے۔ بی ایس او نے اپنے قیام سے لے کر آج تک مسلسل بلوچ سیاست کی قیادت کی ہے۔ بی ایس او اپنے عروج میں ایک طلبہ تنظیم کے ساتھ ساتھ بلوچ سیاست میں قائدانہ کردار ادا کرتی رہی ہے۔ ان کے بے شمار نظریاتی کارکنوں نے شہادتیں قبول کیں مگر اپنے اصولوں پہ کسی بھی صورت سمجھوتہ نہیں کیا۔ ہر آمر دور میں بی ایس او کی قیادت زندانوں میں یا ملک بدر رہی ہے۔

مگر جدوجہد کا دامن نہیں چھوڑا۔ پھانسی کے پھندے کو قبول کرنے والے اسی پلیٹ فارم سے تربیت حاصل کر چکے تھے۔نیشنل عوامی پارٹی میں شامل بلوچ قیادت اور دیگر بلوچ سیاسی جماعتیں بھی ہر دور میں غیرجمہوری قوتوں کے خلاف قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے اپنے کاز سے زندگی کے آخری لمحے تک جُڑی رہیں۔ میر غوث بخش بزنجو، نواب خیر بخش مری، سردار عطا مینگل, شہید نواب اکبر خان بگٹی تک۔ 2006 میں نواب صاحب کی شہادت کے بعد بلوچستان میں بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال کا دوسرا رُخ سامنے آتا ہے۔ اس میں بھی مختلف مکاتب فکر کے لوگ پروفیسر شہید صبا دشتیاری سے لے کر شاعر مبارک قاضی کے زندان تک اور صحافی ارشاد مستوئی ، عبدالرزاق اور دیگر سوچنے و لکھنے والے بزرگ اور جوان بھی امر ہو گئے۔

سیاسی قیادت نے کی قربانیاں بھی کسی صورت میں فراموش نہیں کی جا سکتیں۔ شہید مولا بخش سے لے کر شہید غلام محمد اور لالا منیر تک، شہید شفیع سے ، قمبر تک بے تحاشا نوجوان اس راہ میں امر ہو گئے۔
اب تک کا آخری طالب علم وہاب بلوچ ہے جو گوادر سے ہے۔ مزید کتنے فکری ساتھی رہتے ہیں جو اپنے بزرگوں کے کاز کو آگے لے جائیں گے۔ سو سالہ اس قافلے کا سفر یونہی جاری رہے گا۔