ادھورے لوگ - افسانہ - محمد اویس حیدر

رات تین بجے اچانک احسن کی آنکھ کھل گئی۔ بیڈ پر پڑا وہ اپنی نظروں کو دائیں بائیں دیکھنے لگا، گہری خاموشی تھی اور خاموشی میں آئی سی یو میں پڑے مونیٹر سے کچھ کچھ وقفے کے ساتھ ایک بیپ (Beep) سنائی دیتی۔ احسن کے ہاتھ کی انگلی پر پلس اوکسیمیٹر لگا تھا اور بازو پر بلڈ پریشر مشین کی کف لگی ہوئی تھی۔ آپریشن کے ذریعے اس کے پاوں میں بنی بڑی سی گلِٹی کو ریموو (remove) کر دیا گیا تھا۔ دورانِ آپریشن وہ بے ہوش تھا، اسی بیہوشی کی حالت میں ہی اسے آئی سی یو میں شفٹ کیا گیا۔ جہاں جب اسے ہوش آیا تو اس کی بیوی اس کے پاس بیٹھی تھی۔

ہوش میں آتے ہی اسے زور کی قے آئی جس کی وجہ اینستھیزیہ تھا جو اسے بیہوش کرنے کی غرض سے دیا گیا تھا۔ نارمل ہونے کے بعد وہ کچھ دیر تک اپنی بیوی سے باتیں کرتا رہا۔ پھر نرس نے اس کی بیوی کو آئی سی یو سے باہر بھیج دیا۔ احسن بیڈ پر لیٹا کافی دیر چھت کو گھورتا رہا اور اسے پتہ نہ چلا کہ یونہی چھت کو گھورتے گھورتے کب اس کی دوبارہ آنکھ لگ گئی۔ رات کے تین بجے یوں ایک دم آنکھ کا کھل جانا احسن کے لیے کافی تکلیف دہ تھا۔ رات، گہری خاموشی، وقفے وقفے سے مونیٹر پر بجنے والی بیپ، بالکل مدھم سی روشنی۔ احسن نے سر اٹھا کر دیکھا تو اس کے سر کے اوپر ہی لگے مونیٹر پر مختلف ڈیجٹس چل رہے تھے۔ کمرے کی روشنی انتہائی مدھم ہونے کے باعث ان ڈیجیٹس کی روشنی کافی تیز لگ رہی تھی۔ جو اس کی نبض، بلڈ پریشر وغیرہ کی ریڈنگز بتا رہے تھے۔ احسن کے پاوں پر ٹانکے لگے تھے جن پر موٹی سی پٹی لپیٹی ہوئی تھی۔ احسن کے پاوں کے ساتھ ساتھ ٹانگ کا آدھا حصہ بھی مکمل طور پر سُن تھا۔ اچانک احسن کے کانوں میں سسکیاں بھرتی ایک نسوانی آواز پڑی۔ احسن نے غور سے دیکھا تو ایک نرس اس کے بیڈ کی پائینتی سے کچھ فاصلے پر بیٹھی تھی۔

جسکی کمر احسن کی جانب تھی۔ سسکیوں کی آواز نے احسن کو چونکا دیا تھا۔ آپ رو رہی ہو نرس ؟ احسن کی آواز سن کر نرس نے چونک کر پیچھے دیکھا۔ اسے مریض کے یوں جاگ جانے کی بالکل توقع نہ تھی۔ آپ ٹھیک ہیں سر ۔۔۔ پین تو نہیں ہو رہی آپ کو ۔۔۔ اتنی رات کو جاگ رہے ہیں آپ ؟ پیشنٹ کو جاگتا دیکھ کر نرس فوراََ اپنی ڈیوٹی پر جیسے الرٹ ہوگئی۔ نہیں نرس میں بالکل ٹھیک ہوں، کوئی تکلیف نہیں ہو رہی، آنکھ تو خوبخود کھل گئی اس لیے جاگ رہا تھا۔ اور ابھی ابھی مجھے لگا جیسے کوئی رو رہا ہو۔ آپ رو رہی تھی نا ؟ احسن نے دوبارہ پوچھا ..... نہیں تو، میں تو نہیں رو رہی ۔۔۔ شائد آپ کو وہم ہوا ہے۔ نرس نے نظریں چراتے ہوئے جواب دیا۔ روشنی چونکہ کافی مدھم تھی۔ دونوں کو ایک دوسرے کے چہرے واضح دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ نہیں مجھے بالکل وہم نہیں ہوا نرس، میں کافی دیر سے جاگ رہا ہوں، میرے کانوں نے آپ ہی کی آواز سنی ہے۔ کیا میں آپ کا نام پوچھ سکتا ہوں ؟ سسٹر۔ نرس نے کچھ کرخت سے لہجے میں جواب دیا : اوکے سسٹر، آپ اپنا نام شائد نہیں بتانا چاہتی، کوئی بات نہیں، لیکن اگر کوئی پریشانی ہے تو ضرور شیئر کر سکتی ہیں۔ آپ مجھے محض ایک پیشنٹ نہ سمجھیں، آخر میں ایک انسان بھی تو ہوں، شائد میں آپ کی کوئی مدد بھی کر سکوں ؟ احسن کی اس بات پر نرس نے اسے جیسے تعجب سے دیکھا۔

وہ کچھ دیر سر جھکائے خاموش بیٹھی رہی۔ پھر یک دم اس نے سر اٹھایا اور کہا : آپ ایک پیشنٹ ہیں اور آپریشن کے بعد آپ کو یہاں شفٹ کیا گیا ہے۔ آپ کا خیال رکھنا میری ڈیوٹی میں شامل ہے۔ اگر میری وجہ سے آپ کو کوئی پریشانی ہوئی ہے تو میں معذرت خواہ ہوں، آپ پلیز ریلیکس ہو کر سو جائیں۔ نہیں سسٹر، مجھے کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ میں تو بس یوں ہی جاگ رہا تھا، دراصل کبھی کبھی جاگنے کی کوئی وجہ نہیں ہوتی ۔۔۔ انسان صرف نیند کے انتظار میں جاگتا ہے کہ نیند آئے اور بالوں میں انگلیاں پھیرتی ہوئی اپنی آغوش میں سلا لے، لیکن اس وقت انسان کے اندر موجود تنہائی کا احساس اس کا تمسخر اڑانے لگتا ہے جب خودبخود چلی آنے والی نیند بھی ۔۔۔۔۔ نہیں آتی۔ اب بتائیں سسٹر، اس میں بھلا آپ کا کیا قصور۔ کیا کام کرتے ہیں آپ ؟ جو اتنی پیچیدہ باتیں آتی ہیں آپ کو۔ نرس احسن کی عجیب و غریب باتیں سن کر بولی
بس زندگی کے نشیب و فراز پڑھنے میں مگن رہتا ہوں، شائد اس لیے۔ ویسے میں ایک سافٹ ویئر انجینئر ہوں، پورا دن مشین کے آگے ہی گزر جاتا ہے۔ لیکن میں خود مشین بننا نہیں چاہتا، اس لیے خود میں زندگی کی رمق باقی رکھنے لے لیے مطالعہ شوق سے کرتا ہوں، اور بس۔

لیکن آپ تو اپنی پوری ڈیوٹی میں جانے کتنی زندگیاں دیکھتی ہوں گی۔ سسکتی ہوئی زندگی، پُرامید زندگی، کبھی درد سے کراہتی ہوئی زندگی، صحت یاب ہوتی زندگی۔ کتنے چہرے دیکھتی ہوں گی نا آپ ہر روز، اور پھر ہر چہرہ ۔۔۔ تکلیف کے نشان لیے ہوئے ۔۔۔ کرب سے گزرتا ہوا ... میں کسی کا کرب کیا دیکھوں گی، میں تو خود اذیت سے گزر رہی ہوں۔ نرس کو احسن کی باتیں سن کر شائد کچھ ڈھارس بندھی تھی جیسے وہ اس کی اذیت کو کم کر سکے۔ اسی لیے اس نے اپنی ذاتی بات کر دی ...کیوں پریشان ہیں آپ ؟ میں نے یہی تو پوچھا تھا آپ سے کہ آپ کیوں رو رہی تھیں۔ کیا بھلا کوئی لڑکی اپنی پسند سے چاہے گی کہ اپنا گھر چھوڑ کر ڈیوٹی کرتے ہوئے راتیں باہر گزارے ؟ جب جاب کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تو پھر انسان کو کیوں روز روز اپنی صفایاں دینی پڑتی ہیں ؟ نرس کی آواز بھرانے لگی تھی۔ اپنی جن سسکیوں کو اس نے چھپا لیا تھا اب ان پر پھر گرفت ڈھیلی پڑ گئی تھی۔اچھا۔۔۔۔۔تو اس لیے پریشان ہیں آپ۔ کیا آپ شادی شدہ ہیں ؟ احسن نے پوچھا ... جی شادی شدہ ہوں۔ ایک سال کی چھوٹی بچی ہے میری۔ گھر کا خرچ اچھے طریقے سے چلتا رہے اسی لیے تو جاب کرتی ہوں، خود میرے میاں نے کہا تھا کہ تم جاب بالکل مت چھوڑنا، اور اب کئی ماہ گزر گئے ہیں کہ ہر روز ہی جھگڑنے لگتے ہیں۔

کہتا ہے رات کی ڈیوٹی کیوں کرتی ہو، بچی گھر میں اکیلی اپنی دادی کے پاس پڑی رہتی ہے اور میں اکیلا پڑا دیواریں دیکھتا رہتا ہوں۔ بھلا اس میں میرا کیا قصور ہے ؟ ڈیوٹی تو ڈیوٹی انچارج لگاتا ہے اور رینڈم لی سب کی باری آتی ہے، سبھی کو تین تین ماہ نائٹ ڈیوٹی بھی کرنی ہی پڑتی ہے۔ لیکن وہ ناجانے کیوں سمجھتا ہی نہیں، اور ہر روز رات کو میسجز پر مجھ سے جھگڑا کرنے لگتا ہے اور پوری رات ڈیوٹی کرنے کے بعد تھکی ہاری صبح جب میں گھر جاتی ہوں تو ان کی امی علیحدہ سے میری خبر لینے لگتی ہیں۔ میں تو تنگ آ گئی ہوں ہر روز کی اس اذیت سے، کاش میری بچی ہی پیدا نہ ہوئی ہوتی ۔۔۔۔۔ پیچھا ہی چھڑا لیتی اس جاہل شخص سے تو میں۔ نرس کا دل بھرا ہوا تھا، اس نے یک دم ہی خود پر بیتتی ہوئی پوری روداد سنانی شروع کر دی۔ کبھی مجھے شک کی نظروں سے دیکھنے لگتا ہے تو کبھی اسے لگتا ہے میں اس کی شخصیت کو دبا رہی ہوں۔ بھلا جسے خدا نے برتری دی ہو میں اسے کیا دبا کر رکھوں گی، لیکن وہ برتر ہو کر کبھی اتنی بات سمجھے تو سہی۔ پہلے میں بس میں آتی تھی تو کہتا تھا کہ تمہیں تو شوق ہے مردوں کے ساتھ سفر کرنے کا۔ پھر میں نے رکشہ لگوا لیا آنے جانے کے لیے تو کہتا ہے رکشے والا دوست بن گیا ہوگا نا اسی لیے ایک ہی کے رکشے میں روز آتی جانتی ہو۔

سمجھ نہیں آتا کہ میں کروں تو کروں کیا ...ہمممممم ۔۔۔ تو یہ بات ہے۔ احسن نے گہری سانس لیتے ہوئے جواب دیا۔ اور اب اس وقت کیا کہا ہے آپ کے میاں نے آپ سے ؟ کہنے کو رہ ہی کیا گیا ہے اس کے پاس اب۔ کبھی مجھ پر اعتراض، کبھی جاب پر تو کبھی نائٹ ڈیوٹی پر ۔۔۔۔۔ اب پوچھ رہا ہے کہ مریضوں کے ساتھ کیسی رات گزر رہی ہے تمہاری ؟ ذرا شرم نہیں رہی اس میں تو۔ نرس کی آنکھ سے پانی کی بوند بہہ نکلی۔ یہ تو بہت ہی نامعقول بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا آپ کی ارینج میرج ہے ؟ احسن نے کچھ سوچ کر پوچھا .... ارے نہیں تو ۔۔۔۔ اسی بات کا تو اور بھی دکھ ہے مجھے، محبت کی شادی تھی ہماری تو۔ یہیں ہسپتال آیا تھا وہ ایک بار اپنی ماں کو لے کر، اور پھر مجھ پر مر مٹا۔ کہتا تھا شمائلہ جی نہیں سکوں گا اب تمہارے بغیر۔ تمہاری آنکھوں نے قید کر لیا ہے میری زندگی کو۔ اب چاہے تو میری زندگی بنا دو یا بگاڑ دو، میں تو اسیر ہو گیا ہوں تمہارا۔ جھوٹا کہیں کا۔ نرس کی آنکھوں سے پھر سے پانی چھلکنے لگا .... اچھا تو آپ کا نام شمائلہ ہے۔ دیکھیں سسٹر، دراصل انسان اپنے جذبات کا ہی اسیر ہوتا ہے۔ اس نے آپ کو دیکھا تو اس پر محبت کا جذبہ غالب آ گیا اور۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔اور اب بے شرمی کا جذبہ غالب آ گیا ۔۔۔۔۔ ہے نا ؟ شمائلہ نے بات کاٹتے ہوئے کہا۔

یہ سب مردوں کے ڈھکوسلے ہیں اور کچھ نہیں۔ پہلے لڑکیوں کو اپنی چکنی چپڑی باتوں میں پھانس لیتے ہیں اور پھر بتاتے ہیں کہ تب مجھ پر فلاں جذبہ غالب آ گیا تھا اور اب فلاں آ گیا ہے۔ کیا یہ کچھ مطالعہ کرتے ہیں آپ ؟ آپ بھی تو مرد ہی ہیں نا ۔۔۔ ظاہر ہے انہی کی حمایت میں بولیں گے۔ شمائلہ ایک ہی سانس میں بولتی گئی اسے لگا جیسے اس وقت اس کا میاں ہی سامنے بیٹھا ہو ... ارے نہیں نہیں ایسی بات نہیں ہے۔ آپ نے میری بات کا غلط مطلب لے لیا ہے۔ بات مرد و عورت کی تو نہیں، بات تو احساس کی ہے۔ عورت ہی تو مکان کو گھر اور گھر کو جائے سکون بناتی ہے، سکون تو ودیعت کر دیا ہے قدرت نے عورت کی ذات میں۔ ماں کے روپ میں ہو تو ممتا کی آغوش میں چھپا لیتی ہے، بہن ہو تو سارے لاڈ سمیٹ لیتی ہے اور بیوی بن کر آئے تو احساس کی چادر بن جاتی ہے۔ جبکہ مرد کی ذات کو ایک حصار کی مانند بنایا ہے خدا نے، جس کے سپرد ہو کر عورت خود کو محفوظ سمجھتی ہے، وہ رکھوالا بن جاتا ہے عورت کا، عورت کی عزت کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ میں تو کہوں گا کہ جو مرد ہوتا ہے وہ تو ہر عورت کی عزت کا محافظ ہوتا، اس کی عزت بناتا ہے، اچھالتا نہیں۔ اگر مرد رکھوالا ہوتا ہے تو پھر عورت کی عزت تار تار کون کرتا ہے ؟؟؟ کیا میرا شوہر میری یوں تذلیل کر کے میری عزت بڑھا رہا ہے ؟؟ کمال کی بات کرتے ہیں آپ تو لاجواب واہ ....

شمائلہ کی تیکھی باتوں کا احسن کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ خاموش ہو گیا، وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ شمائلہ کی پریشانی کا کیسے مداوا کرے ...
آپ شادی شدہ ہیں مسٹر احسن ؟ آپ کی فائل پر سے آپ کا نام پڑھا تھا۔ شمائلہ نے احسن کو خاموش دیکھ کر پوچھا۔ میں معافی چاہتی ہوں اگر میری کوئی بات بری لگی ہو، میں اتنا بھری ہوئی ہوں کہ بس پتہ نہیں کیوں بولتی چلی جا رہی ہوں بغیر خیال کیے کہ آپ تو ہمارے پیشنٹ ہیں، اپ کا خیال رکھنا میری ڈیوٹی ہے، آئی ایم سوری .... نہیں کوئی بات نہیں ۔۔۔ بلکہ یہ تو اچھی بات ہے۔ بات کرنے سے ہی تو دل ہلکا ہوتا ہے ورنہ انسان اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ہے جب اندر کا موسم ہی اچھا نہ ہو تو باہر کی بہار بھی من کو نہیں بھاتی۔ احسن خاموش ہو گیا پھر کچھ وقفے سے بولا۔ میں بھی شادی شدہ ہوں، تین سال ہوئے ہیں میری شادی کو، مگر ابھی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ بس یہی بات پریشان کر دیتی ہے مجھے۔ تو اس میں پریشانی کی کیا بات ہے ؟ کیا آپ نے کسی ڈاکٹر کو چیک کروایا اپنا اور اپنی مسزز کا ؟ شمائلہ نے احسن سے پوچھا : جی کروایا ہے چیک، اسی لیے تو پریشانی ہے، ڈاکٹر نے کہا ہے کہ مریم بانجھ ہے، خدا نے اسے ماں بننے کی اہلیت سے محروم رکھا ہے، مگر مجھے اس سے محبت ہے ۔۔۔ میں اسے چھوڑنا نہیں چاہتا ...

تو کس نے کہا ہے آپ سے اپنی بیوی کو چھوڑنے کا ؟ شمائلہ نے حیرت سے پوچھا : میری ماں نے ۔۔۔۔۔ احسن بولا۔ وہ کہتی ہے عورت تو کھیتی کی مانند ہے، اور جو فصل پھل دینے کے قابل نہ ہو اسے تو ڈنگر کھاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کوئی کسان اس پر محنت کرتا ہے بھلا ... ؟؟ واہ ۔۔۔ دیکھ لیا نا آپ نے اب تو ۔۔۔۔۔ بس اتنی ہی اوقات ہے عورت کی ہر گھر میں۔ شمائلہ چیخی .... لیکن مجھے تو محبت ہے اپنی بیوی سے، میں تو اسے چھوڑنا نہیں چاہتا۔ یہ باتیں تو میری ماں کہتی ہے ۔۔۔۔۔ اور وہ بھی تو آخر ایک عورت ہی ہے۔ میں تو بس دو عورتوں کے درمیان پھنس کر رہ گیا ہوں۔ سمجھ نہیں آتا کس کو راضی رکھوں اور کسے نہیں۔ جب میرے بچپن میں ابو میری امی کو کچھ برا بھلا کہتے تھے تو میری ماں مجھ سے دکھ سکھ پھولتی تھی کہتی تھی کہ بیوی بھی تو انسان ہوتی ہے، اس کے بھی جذبات ہوتے ہیں اسے بھی کچھ صحیح غلط لگتا ہے وہ کوئی مشین تو نہیں ہوتی۔ اور اب کہتی ہے بیویوں کو زیادہ سر پر نہیں چڑھانا چاہیے ورنہ توڑ دیتی ہیں گھر کو۔ ہمارے بچے پر تو صرف ہمارا حق ہے یہ کون ہوتی ہے اس پر حق جتانے والی، بھیج دے اسے وہیں پر جہاں سے آئی ہے۔

مجھے سمجھ نہیں آتا جب میں چھوٹا تھا تب صحیح کہتی تھی یا اب ۔۔۔۔۔ اسی لیے تو لگتا ہے کہ دو عورتوں میں پھنسا ہوا ہوں میں تو ..... شمائلہ کے پاس بھی شائد اس بات کا کوئی معقول جواب نہیں تھا۔ اس لیے وہ بھی اب خاموش ہو گئی۔ دونوں کچھ دیر اسی طرح خاموش بیٹھے رہے، احسن کے بازو پر بلڈ پریشر مشین کی کف وقفے وقفے کیساتھ ہوا کے بھرنے سے ٹائٹ ہوتی اور پھر نرم ہو جاتی اس کے بلڈ پریشر کی ریڈنگ احسن کے سر کے اوپر لگے مونیٹر پر ڈسپلے ہو جاتی۔ اسی طرح وقفے وقفے سے بیپ بھی سنائی دیتی جو چلنے والی نارمل نبض کی نشاندہی کرتی جسے احسن کی انگلی پر لگا پلس اوکسیمیٹر ریڈ کر رہا تھا۔ آپ نے بتایا کہ آپ کی لوّ میرج ہوئی تھی۔ کیا آپ کو بھی اپنے شوہر کو دیکھتے ہی محبت ہو گئی تھی ؟ بالآخر احسن نے خاموشی کو توڑا ..... نہیں تو ۔۔۔۔۔۔۔ پھر وہ کچھ توقف کے ساتھ بولی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ مجھے وہ دیکھتے ہی خوش شکل ضرور لگا تھا، مگر ایسا نہیں کہ مجھے اسے دیکھتے ہی محبت ہو گئی۔ پھر کیسے محبت ہوئی آپ کو ؟ وہ اپنی امی کو لے کر آتا تھا نا روزانہ، کوئی ایک ہفتہ آتا رہا تھا۔ میں کہیں بھی ہوتی تو بہانے سے میرے پاس آ جاتا پھر کہتا۔”

دیکھیں میری امی کو تو آپ ہی سے تسلی ہوتی ہے کہتی ہیں ڈاکٹر سے زیادہ تو یہ نرس اچھی ہے۔ اس کی تو صورت دیکھ کر ہی میں ٹھیک ہو جاتی ہوں۔ آپ آئیں نا ایک بار امی کے پاس “ ۔ پھر میں اس کی امی کے پاس چلی جاتی تو اپنی امی سے کہتا۔” دیکھو نا امی یہ نرس کتنا خیال رکھتی ہے آپ کا، آپ جب آتی ہیں تو سب مریضوں کو چھوڑ کر آپ کے پاس آتی ہے کتنا اچھا اخلاق ہے اس کا “۔ مجھے احساس ہونے لگا تھا کہ وہ مجھے پسند کر رہا ہے، میری تصویر بن گئی ہے اس کی آنکھوں میں۔ پھر ایک دن اس نے یہی بات مجھے کہہ بھی دی۔ کہنے لگا۔” آپ جانے کیسی نرس ہو ۔۔۔۔۔ لوگ یہاں شفا یاب ہونے آتے ہیں جبکہ میں اچھا بھلا تھا یہاں آ کر بیمار ہو گیا ہوں “۔ میں اس کی بات اور آنکھوں کی شرارت سمجھ تو رہی تھی پھر بھی میں نے پوچھا ۔۔۔ بیمار کیسے ہو گئے، کونسی بیماری لگ گئی ہے آپ کو ؟ تو کہنے لگا۔” آپ ۔۔۔۔ آپ کی بیماری لگ گئی ہے مجھے ۔۔۔۔۔ میں تو آپ کا مریض بن گیا ہوں۔ اب آپ ہی بتائیں مجھے شفا کیسے ملے گی “ اس کی یہ بات سن میری بے اختیار ہنسی نکل گئی۔ دراصل چاہے جانے کے احساس نے مجھے ہر طرف سے گھیر لیا، کتنا خوبصورت احساس تھا وہ ۔۔۔۔ کہ کوئی آپ کو صرف ایک نمائشی مجسمہ سمجھ کر دیکھ نہیں رہا، بلکہ انسان سمجھ کر چاہ رہا ہے، اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہے، بس اسی احساس نے مجھے اس کی طرف مائل کر دیا۔

یہ سب بتاتے وقت شمائلہ کی آنکھوں میں پھر سے شوخی کی پھوار اڑنے لگی تھی، جیسے وہ اسی منظر میں ایک بار پھر خود کو زندہ محسوس کر رہی ہو۔ اس کی آنکھیں مسکرانے لگی تھیں۔ پھر ہم ہسپتال سے باہر بھی ملنے لگے۔ میرے مل جانے کو وہ اپنی خوش قسمتی کہتا تھا، کہتا تھا کہ تمہاری زندگی کو میں خوشیوں سے بھر دوں گا، تمہارے چہرے کی مسکراہٹ کبھی ختم ہونے نہیں دوں گا ۔۔۔۔۔۔۔ اور دیکھو اب، کتنا مسکرا رہی ہوں نا میں، کتنا خیال ہے نا اسے میرا۔ شمائلہ پر پھر سنجیدگی اتر آئی، چہرے کے خدوخال سپاٹ ہو گئے۔ وہ ماضی کی رونق سے حال کی پریشانی میں دوبارہ لوٹ کر پریشان حال ہو گئی۔

میری بھی مریم سے پسند کی شادی تھی۔ احسن نے خاموشی کو توڑا۔ وہ میرے ساتھ ہی آفس میں کام کرتی تھی۔ ہمارا کام کرنا، کھانا پینا سب اکٹھا ہوتا تھا۔ بس میں جب بھی سگریٹ پیتا تو وہ مجھے ڈانٹنے لگتی۔ کہتی کہ اچھے انسان کو ایسی بری لت بالکل سوٹ نہیں کرتی ۔۔۔ اور میں ہنس کر کہہ دیتا کہ دوست بنو میری ماں مت بنو۔ پھر ایک دن اس نے مجھ سے کہہ دیا کہ کیا میں ابھی تک تمہیں صرف ایک دوست ہی لگتی ہوں اور کچھ نہیں۔ پتہ نہیں کیا تھا اس لمحے میں ۔۔۔۔۔ میں نے اسے پہلی مرتبہ نظر بھر کر دیکھا۔ پھر میں کئی دن اس کی بات پر غور کرتا رہا۔

مجھے اس سے محبت نہ کرنے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آئی، اس طرح ہمارا تعلق ۔۔۔ محبت کے رشتے میں بدل گیا۔ پھر وہ مکمل طور پر میری زندگی میں شامل ہو گئی اور میری زندگی کے ہر لمحے کو اس نے خوشگوار بنا دیا۔ لیکن پھر ۔۔۔۔۔۔۔ ایک دن پتہ چلا کہ مجھے ہر پل خوش رکھنے والی مریم تو بانجھ ہے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہمارے گھر کو خوشی نہیں دے سکتی۔ احسن کے چہرے پر بھی سنجیدگی اتر آئی۔ شائد ہم ادھورے لوگ ہیں، ہماری خوشیاں بھی ہماری طرح ادھوری ہیں۔ یہ کہہ کر احسن بھی خاموش ہو گیا خاموشی نے کمرے میں خود کو پھیلا دیا تھا۔ دونوں جانے کتنی دیر اپنے سنجیدہ چہرے لیے کسی بے ربط خیال کی سڑکوں پر آواہ گردی کرتے رہے۔

پانچ روز گزر گئے۔ اگرچہ آپریشن کے ٹانکے ابھی کھلنے تھے لیکن احسن اب اپنے پاوں پر معمولی وزن ڈالنے کے قابل ہو گیا تھا اسی لیے ڈاکٹر نے اسے ڈسچارج کرنے کا کہہ دیا۔ ہسپتال کی تمام کلیرنس کروانے کے بعد جب مریم اپنے شوہر احسن کو لینے اس کے کمرے میں داخل ہوئی تو اس نے حیرت سے دیکھا کہ احسن نے کوئی ایک سال کی ننھی بچی کو گود میں اٹھا رکھا ہے۔ یہ کس کی بچی ہے ؟؟؟ مریم نے حیرانگی سے بچی کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ” ہماری “ ”کیا؟؟؟ “ خدا نے ہمیں اولاد دے دی ہے۔ احسن نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ..

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */