کیسا ہوگا میرا نیا سال - افشاں نوید

کل سال کے آخری دن مارننگ شوز سے لے کر رات کے آخری حصہ تک جن ٹاک شوز پر نظر پڑی اکثر پروگراموں میں ماھرین علوم نجوم کو بیٹھا پایا۔
خاتون آسٹرالوجسٹ نے صبح کی نشریات میں بارہ مہینوں کے ستاروں سے وابستہ سب لوگوں کو یوں خوشخبریاں سنائیں کہ کوئی سمجھے کہ آسمان دنیا کے کسی اھم منصب پر موصوفہ کی تعیناتی ہوگئی ہے جو اگلے برس کے راز ان پر منکشف کر دیے گئے ہیں۔ خیر،ان کا پیشہ ہے ہمیں تو حیرت ان لوگوں پر جو مسلسل ٹیلیفون پر رابطے کر رہے تھے اور ایک ہی بات جاننا چاہتے تھے کہ ٹوینٹی ٹوینٹی انکے حق میں کیسا ثابت ہوگا؟؟

دنیا اتنی ترقی کرگئی،علوم بھی کتنے مدارج طے کرچکے۔آج اکیسویں صدی کا انسان بھی کیا یہ سوچتا ہے کہ ستارے اور سیارے میری خوش بختی وبدبختی کا باعث ہوسکتے ہیں یا سال بدلنے سے سب کچھ بدل جائیگا!! خاتون ماہر علم نجوم تو گویا یہی کہ رہی تھیں کہ سب نحوستیں پچھلے برس کے ساتھ ہی دھل گئیں اب خوشیوں کی برکھا رت ہوگی,سرسوں پھولے گی۔سکھیاں دلربا گیت گائیں گی،چھاجوں مینہ برسے گا جو سب غم بہا لے جائے گا۔اور خوشحالی جھولیاں بھر بھر سمیٹتے ہی چلے جانا ہے۔۔ "امید" بلاشبہ ایمان کی علامت ہے"اچھا وقت آنے والا ہے"۔اس سادہ سے فلسفہ سے زندگی کی تلخیاں کم ہوجاتی ہیں۔ آج نئے برس کی پہلی صبح جب سورج نے رخ سے نقاب ہٹایا ہم"پیام صبح"کی بزم کے ناظرین میں شامل تھے جہاں برادر انیق احمد نے آج کی بزم کو قرآن کے نام کیا تھا۔قاری حضرات اپنے لحن سے فضامیں نور بکھیر رہے تھے اور مذہبی اسکالر بتا رہے تھے کہ گزرے برس کی ساری ناکامی کا سبب ہماری قرآن کریم سے دوری ہے۔اگلا برس اسی صورت میں مبارک ہوسکتا ہے جب ہم اپنا ٹوٹا ہوا رشتہ قرآن سے جوڑ لیں اور خلق کے لیے مہربان ثابت ہوں۔

قرآن پڑھنا،حفظ کرنا تو شائد کسی درجہ میں آسان ہو مگر خلق کے حق میں مہربان ہونا ہی اصل امتحان ہے۔ ہم اپنی آزمائشوں کا ذمہ دار ستاروں اور سیاروں کو نہ بھی ٹہرائیں تب بھی ہماری اکثریت یہی سمجھتی ہے کہ میری آزمائش کی وجہ دوسرے ہیں۔میرے سر درد کی وجہ کوئی اور ہے،میری بے آرامی فلاں کے روئیے کے سبب ہے۔ میرے اپنے ہی میرے حاسد رھے،میری ناکامیوں کا سہرا دوسروں کے سر بندھتا ہے۔ حتی کہ اگر کوئی بڑھاپے میں بیمار ہے تو سبب یہ نہیں کہ اس نے جوانی میں صحت کی قدر نہ کی بلکہ سپپ یہ بتایا جائیگا کہ جوانی میں اتنے دکھ ملے کہ بڑھاپا بھی خوار ہوگیا۔حالانکہ خواری کا سبب اقبال بتا گئے کہ
تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر۔
اس کے ماسوا ہم گھل رہے ہیں تو ہمارے ہی لیے امت کے حکیم نے فرمایا کہ ...العجب،ثم العجب،ثم العجب۔۔تعجب ہی کیا جاسکتا ہے تم پر کہ نسخۂ شفا ہوتے ہوئے عطار کے لونڈوں سے دواؤں کے لیے پھرتے ہو۔ قسمت سال کے بدلنے سے نہیں بدلتی مائنڈ سیٹ بدلنے سے بدلتی ہے۔سادہ سا فارمولا اپنا کر دوسروں کی زندگیوں میں رنگ بھر دیں کہ۔۔۔۔خوش رھیں اور خوش رکھیں۔۔۔ سال نو آپ کو خوشی وشادمانی سے ہمکنار کرے۔آمین

Comments

افشاں نوید

افشاں نوید

روزنامہ جسارت میں کالم لکھتی ہیں۔ نوید فکر کے نام سے کالموں کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے، اسی عنوان سے 5 ماہناموں میں تحاریر شائع ہوتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.