عزیز ہم وطنو ، مر جاؤ-آصف محمود

ہمارے ہاں بنیادی انسانی حقوق کے اقوال زریں اکثر سنائے جاتے ہیں لیکن اگر میں آپ سے کہوں پاکستان کے آئین میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق کی فہرست میں صحت موجود ہی نہیں اور تعلیم کا ادھورا سا ذکر ہے تو آپ کا رد عمل کیا ہو گا ؟آئین کی بالا دستی کی بات آپ یقینا کرتے ہوں گے لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس آئین کے مطابق نہ مکمل تعلیم آپ کا بنیادی انسانی حق ہے نہ ہی صحت ۔ کیا کبھی ہم نے سوچا کہ جدید ریاست اور اس کے عوام کے درمیان تعلق کی اساس کیا ہے اور ہماری سیاسی قیادت اس اساس کے حوالے سے اتنی ر بے حس اور عوام اس باب میں اتنے بے نیاز کیوں ہیں؟کبھی اپنے ارد گرد نظر دوڑائیے ، صحت مند اور آسودہ لوگ یہ خوف اوڑھے پھر رہے ہوتے ہیں کہ کبھی وہ بیمار ہو گئے تو علاج کے لیے اخراجات کہاں سے لائیںگے۔ یہ خوف انہیں دیمک کی طرح کھا جاتا ہے اور وہ اندر سے کھوکھلے ہو جاتے ہیں ۔

کبھی آپ نے غور کیا ہنستے مسکراتے لوگ نظر آنا اب کم کیوں ہو گئے ہیں ۔ ہر آدمی پریشان کیوں پھر رہا ہے ، چہروں پر ہر وقت تنائو کی کیفیت کیوں ہے؟ شاید اسی لیے کہ یہ زندہ وجود چلتے پھرتے حساب کر رہا ہوتا ہے کہ ادویات کے پیسے کہاں سے آئیں گے اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے۔ ہمیں تو سیاست لا حق ہو چکی ہے ورنہ سماج کا مطالعہ ہو تو معلوم ہو تعلیم اور صحت کے اندیشوں اور پریشانیوں نے اس قوم کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔ ہمارے ہاں بنیادی انسانی حقوق جب بھی زیر بحث آئے اس کا مرکزی نکتہ آزادی رائے ٹھہرا ۔ رائے کی آزادی بلاشبہ ایک نعمت ہے لیکن کیا محض رائے کی آزادی ہی بنیادی انسانی حق ہے ؟ کیا ایک بیمار انسان کو کہا جا سکتا ہے کہ تمہارے علاج معالجے کے لیے تو یہاں کچھ نہیں البتہ تمہیں آزادی رائے کا پورا حق حاصل ہے اس لیے تم چاہو تو گھر جا کر فیس بک پر تین چار سٹیٹس ہمارے خلاف لگا لینا ۔ تمہیں کچھ نہیں کہا جائے گا ۔ بلکہ تمہیں آئین پاکستان کے تحت اس بات کی بھی آزادی ہے کہ چاہو تو ہسپتال انتظامیہ کے رویے یا جعلی ادویات کے خلاف ایک عد د ’ فیس بک لائیو‘ بھی کر سکتے ہو۔ میڈیا کی آزادی رائے کا البتہ پورا پورا بندو بست کر دیا گیا اور اب وہ ہسپتال میں داخل نہیں ہو سکتا ۔ کسی اور نے ایسی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو یاد رکھیے وہاں ینگ ڈاکٹرز بھی پائے جاتے ہیں جنہیں غصہ بہت آتا ہے اور جب انہیں غصہ آتا ہے تو انہیں شعر بھی یاد آ جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   با اختیار اور بے اختیار - ایم سرورصدیقی

دنیا کے 120 ممالک میں صحت کو آئینی حق تسلیم کیا گیا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں بے نیازی کا عالم یہ ہے کہ آئین مین دیے گئے بنیادی انسانی حقوق میں صحت اور علاج معالجے کا حق شامل ہی نہیں۔ تعلیم کا معاملہ بھی یہ ہے کہ آرٹیکل 25 اے میں ادھوری سی بات کی گئی کہ پانچ سال سے سولہ سال تک کے بچوں کو ریاست مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے گی۔ یعنی جیسے ہی بچے کی عمر سولہ سال سے زیادہ ہو جائے گی ، تعلیم اس کا بنیادی انسانی حق نہیں رہے گا ۔ اب یہ ایک آسائش یا عیاشی تصور ہو گی اور جس کے پاس پیسے ہیں وہ اسے حاصل کر لے۔ جو اس کا متحمل نہیں ہو سکتا وہ کسی عظیم سیاسی رہنما کے حصے کا بے وقوف بن کر ان کی برسیوں اور سالگرہوں میں تالیاں بجا لے ، وہاں بریانی کا انتظام موجود ہو گا ۔ جب تعلیم بنیادی انسانی حق نہیں ہے تو سرکاری ملازمتوں کے لیے تعلیم کی شرط عائد کرنے کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟ غور فرمائیے نہ تعلیم آپ کا بنیادی انسانی حق ہے نہ صحت اور علاج معالجہ۔ حکمران طبقے کو تو چھینک آ جائے تو دنیا کے بہترین ہسپتالوں سے ان کا علاج ہو جاتا ہے اور وہ سزا پا کر جیل میں پڑے ہوں تو ان کے لیے خصوصی میڈیکل یونٹ جیل میں تعینات کر دیا جاتا ہے لیکن عوام کا یہ حال ہے کہ دل کے امراض میں مبتلا ہو کر ہسپتال جائیں تو سٹنٹ ڈالنے کے لیے آٹھ آٹھ ماہ کی تاریخ ملتی ہے۔معصوم بچوں کی کمر پر بھاری بستے لاد دیے گئے اور والدین کی کمر بھاری فیسوں سے دہری ہو گئی لیکن دستور پاکستان میں تعلیم اور صحت لوگوں کے ؤبنیادی انسانی حقوق قرار نہ پا سکے۔

ان کے عظیم الشان جلسوں میں ان کے تاریخی خطاب سننے والے باشعور عوام نے آج تک سوال نہیں پوچھا کہ تعلیم اور صحت ہمارا بنیادی انسانی حق کیوں نہیں ہے؟ یہی عالم پارلیمان کا ہے۔ وہاں لمبی لمبی لا یعنی تقریروں کے دیوان لکھے جاتے ہیں لیکن کسی کو آج تک یہ توفیق نہیں ہو سکی کہ وہ وہاں ایک بل ہی پیش کر دے کہ آئیے سب مل کر آئین میں ترمیم کریں اور صحت اور تعلیم کو بنیادی انسانی حق میں شامل کر لیں ۔ پارلیمان نے آئین میں یہ تولکھ دیا کہ لوگوں سے ان کی زمین ہائوسنگ کالونیاں بنانے کے لیے بھی حاصل کی جا سکتی ہے ( اور دل چسپ بات یہ ہے کہ یہ بات بنیادی انسانی حقوق کے باب میں آرٹیکل 24 میں لکھی گئی ) لیکن یہ نہ لکھ سکے کہ تعلیم اور صحت ان کا حق ہے۔ حقوق انسانی کمیشن نے صحت کے حق کے لیے آرٹیکل 19 اے کا مجوزہ ڈرافٹ بھی تیار کر کے پارلیمان کو دیا لیکن کسی نے اس پر بات کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ بے نیازی دیکھیے آئین میں بنیادی انسانی حقوق کے باب کے ساتھ ہی ’ پالیسی کے اصول‘ بیان کیے گئے ہیں جن میں اسلامی طرز زندگی ، اقلیتوں کے تحفظ ، عورتوں کے حقوق ، سماجی انصاف ، عوام کی فلاح اور مقامی حکومتوں کی بات کی گئی ہے لیکن اسی باب میں آرٹیکل 30 کی ذیلی دفعہ دو میں لکھا گیا ہے کہ اگر حکومت ان پر عمل نہ کرے تو حکومتی اقدام پر کسی اتھارٹی ، ادارے یا فرد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو سکے گی ۔ یعنی اقوال زریں تو موجود ہیں لیکن کوئی عمل نہ کرے تو اسے مکمل امان دی جاتی ہے۔ تو عزیز ہم وطنو ، جب صحت آپ کا بنیادی انسانی حق ہی نہیں تو آپ کتے کے کاٹے سے مریں یا تھر میں بھوک کے ہاتھوں مر جائیں ، کسی کو کیا پرواہ ہے؟
مناسب یہ ہو گا کہ تہتر کے آئین کے تحت آپ خود ہی مر جاو.

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.