مسلم معاشرے اور سیکولرازم - عمیر محمود صدیقی

"مشکل کی اس گھڑی میں کون ہے جو بھارت کے مظلوم مسلمانوں کا ہاتھ تھام سکتا ہے؟ ہر سمت سے ایک ہی آواز ہے: ''سیکولرازم‘‘

1۔یہ کشمیر کے مسلمانوں کے لیے ایک اور لالی پاپ ہے۔حقوق انسانی کا عالمی منشور اور بین الاقوامی قانون انسانیت سیکولرازم پر مبنی ہیں۔جن کا بنیادی اصول آزادی ہے۔1946 سے تاحال انہی سیکولرازم کا نعرہ لگانے والوں نے ایک کروڑ معصوم مسلمانوں کا کشت و خون کیا ہے۔دراصل مسئلہ یہ ہے کہ مابعد جدیدیت کے اس عہد میں انسانیت پر یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ انہیں انسان پرستی، آزادی اور مذہب کے محض شخصی معاملہ ہونے پر دھوکہ دیا گیا ہے۔نہ وہ آزاد ہیں اور نہ ہی ان کے حقوق پورے کیے گئے۔

اس لئے سیکولرازم کے بعد یہ عہد ڈی سیکولرائزیشن کا ہے جس میں مذہب کو دوبارہ اپنی عملی زندگی میں داخل کیے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب مسلمانوں پر کشمیر،فلسطین،عراق،افغانستان،برما،پاکستان شام وغیرہ میں مسلمانوں کے قتل عام اور کیمیائی ہتھیار وں اور ام القنبلات مدر آف آل بامبس کے استعمال کے بعد یہ فکر مضبوط ہو چکی ہے کہ ہم کتنا ہی مغربی فکر و تہذیب اور لادینیت کو اختیار کیوں نہ کر لیں ہمیں اس ظلم سے نجات نہیں ملے گی۔اس میں نسل پرستی اور اسلامو فوبیا کے اسباب بھی شامل ہیں۔لہذا مسلمان اب اپنے دین کی طرف پلٹ رہے ہیں ۔ملائیشیا میں ۔مسلم یونائیٹڈ نیشنز کے نعرے نے مغرب کو مزید تشویش میں ڈال دیا ہے۔ہمارے کالم نگار کب تک سرخوں اور سرمایہ دارانہ نظام کے آلہ کار بن کر مسلمانوں کو بے وقوف بناتے رہیں گے۔خدارا دارا اس تماشے کو بند کریں اور مسلمانوں کو بتائیں کہ تمہاری دنیاوی اور اخروی نجات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے وفا کرنے میں ہے۔ یقین نہ آئے تو عہد خلافت راشدہ کو دیکھ لیا جائے۔ کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں - یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر کا قومی تماشا - شمس الرحمن تاجک

2. ہم سیکولرازم کا مطلب بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں۔شاید اس کے معانی معزز کالم نگار پر پوشیدہ ہیں۔سیکولراز م عین اسلام کی ضد ہے۔یہ کسی بھی صورت میں ہو۔اسے ہمہ جہتیت کہیں یا کسی رنگ میں پیش کریں اس کی تمام تعبیرات میں یہ امر ضرور شامل ہے کہ سیکولرازم میں مذہب محض ایک شخصی معاملہ ہے ریاستی امور کامدار کسی مذہب پر نہیں ہوگا۔یاد رہے سیکولر ازم میں مذہبی آزادی بھی محض ایک دھوکہ ہے۔آپ کو اس کا واضح ثبوت عالمی انسانی حقوق کے منشور کی دفعہ 29 اور 30 کو پڑھنے سے ہو جائے گا۔آپ کو مذہب پر عمل کرنے کی آزادی صرف اتنی ہے جتنی اقوام متحدہ کے مقاصد یا اصولوں سے اس کی تطبیق ممکن ہو۔تضاد کی صورت میں تحکم اقوام متحدہ کا ہے۔مثال کے طور پر ہندووں میں ستی کی رسم، مارمنز اور مسلمانوں میں دوسری شادی کا مسئلہ۔۔لہذا یہ درس مسلم دانشوروں کو نہ دیا جائے کہ وہ 100سال سے سیکولرازم کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔ از راہ کرم اسلام کی قسمیں بنانے سے اجتناب کریں۔۔۔اہم بات یہ ہے کہ سیکولرازم صرف کچھ مسلم طبقات میں پل بڑھ رہا ہے اسلام میں نہیں۔۔۔ جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی مذہب اور ریاست کو رو الگ کیا جاسکتا ہے۔۔۔۔مگر۔۔۔یاد رہے۔۔۔مسجد اور ریاست - قرآن اور ریاست - محمد رسول للہ صلی للہ علیہ والہ وسلم اورریاست میں تفریق نہیں ہوسکتی۔

3۔ قرآن و سنت کے مطابق انسانوں کے نقصان اور خسران کا سبب ایمان، اعمال صالحہ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا ترک اور صبر سے دوری ہے۔اس پر "العصر"انسانی تاریخ گواہ ہے ۔یو ایس ا یس آر، یو ایس اے اور اب چائنا ،معاشی ترقی کے تناظر میں جب پوری زندگی کی معاشی تعبیر کر دی جائے تو مذہب کی گنجائش واقعتا ختم ہو جاتی ہے مگر نتیجتا انسان جنسی اور معاشی حیوان ہی بنتا ہے۔۔۔ہم مسلم ہیں دنیا کو آخرت کے تناظر میں دیکھتے ہیں ۔اگر معاشی ترقی ہی اصل معیار و مقصد ہے تو تمام انبیاء علیہم السلام کی سیرت اور کربلا میں امام حسین کی شہادت کو نعوذ باللہ ناکامی ہی قرار دیا جائے گا۔۔۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سنت ہے کہ سب کچھ قربان کر دیا منافقین نے سفہاء کہا اور وہ فزت و رب الکعبہ فرماتے رہے۔۔۔حی علی الفلاح ۔۔۔کے پیغام کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔۔مسلمانوں کے دنیاوی زوال کا سبب بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے دوری ہے۔موصوف کا یہ مضمون پیغام پاکستان کے قومی بیانیئے کے سخت خلاف ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر کی روٹی - عالیہ زاہد بھٹی

ہم سیکولر شدت پسندوں اور مذہبی شدت پسندوں کے مابین پھنسے ہوئے ہیں۔۔۔دونوں ہی پاکستانی ریاست کو کافر بنانے پر تلے ہوئے ہیں ۔۔۔پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے یہ ہمارے آئین میں لکھا ہے۔سیکولر ریاست بھارت ہے جو کشمیر کے مسلمانوں اور سکھوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔۔۔پاکستان کے دفاع میں جان دینے والا پاک فوج کا جوان شہید اس لئے ہوتا ہے کہ یہ اسلامی ریاست ہے ۔ہمارے فوجی کسی سیکولر ریاست کے لیے جان نہیں دیتے ہیں۔۔۔سیکولرحضرات سے بھی پیغام پاکستان پر دستخط کروانے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے جدیدت پسند مفکرین ہی مذہبی شدت پسندوں کو پاکستانی اسلامی ریاست کی تکفیر کا مواد فراہم کرتے ہیں۔۔۔۔یاد رہے جب کبھی بھی پاکستان کی بھارت، اسرائیل یا امریکہ سے باقاعدہ جنگ ہو گی پاکستانی فوج اور 20 کروڑ عوام صرف اسلامی ریاست کے لیے ہی جان دیں گے اور لیں گے۔۔۔اس لیے اس بڑی جنگ سے قبل دو قومی نظریہ کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

مشرق و مغرب میں اندھیرا ہے - انسان کو اطمینان کی تلاش ہے۔مسلمانوں کے پاس انسانیت اور اپنی ذات کو خوف و حزن سے آزادی دلانے کا نسخہ موجود ہے ضرورت صرف عمل کی ہے۔دھر میں اسم محمد سے اجالا کر دے .. صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔