اپنی زبان اپنی تہذیب پہ فخر کیجیے - شاہد مشتاق

عربوں اور ترکوں کی ایک عادت مجھے ہمیشہ بڑی اچھی لگتی ہے کہ وہ اپنی ثقافت، تہذیب ، لباس اور زبان پر بڑا فخر کرتے ہیں ۔ کہنے کو ہماری قومی زبان اردو ہے ، ہماری زبان نے بڑے بڑے شعراء پیدا کئے ، لیکن افسوس تقسیم ہند کے بعد ہمارے ملک میں ہماری اپنی زبان کو وہ مقام نہیں مل سکا جس کی وہ مستحق تھی ۔

ہمارے حکمرانوں نے ہمیشہ انگریزی زبان کو اپنے اظہار بیان کا زریعہ بنائے رکھا ، ہماری دفتری زبان بھی انگریزی ہی ٹھہری ، یہی وجہ ہے کہ ہم نے فیض اور جالب تو بہت کم پیدا کئے لیکن کالے انگریزوں کی ہمارے ہاں ہمیشہ بہتات رہی جو منہ بگاڑ بگاڑ کر انگریزی میں بات کرنا فخر سمجھتے رہے ۔جدید نجی تعلیمی ادارے ناصرف ہماری زبان کو بھلانے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں بلکہ یہ ہماری نظریاتی سرحدوں میں بھی دراڑیں پیدا کررہے ہیں ، اکثر نجی تعلیمی ادارے نظریہ پاکستان اور اسلامی اقدار سے ناپختہ ذہن بچوں کو برگشتہ کررہے ہیں ، یہ ادارے ایک ایسی نسل تیار کرنے میں مصروف ہیں جو اردو بولتے ہوئے شرمندگی محسوس کرے اور غیروں کی بے حیاء اقدار اپنا کر فخر محسوس کرے گی ۔

اردو کا ستیاناس کرنے والوں میں کچھ نام ہمارے بڑے بڑے کالم نگاروں کے بھی آتے ہیں جن کے ہر کالم میں بلاضرورت بے شمار الفاظ انگریزی کے ہوتے ہیں حالانکہ اگر وہ تھوڑی سی محنت کرکے انہی الفاظ کا اردو میں متبادل تلاش کرکے لکھیں تو تحریر بھی مزید دلچسپ ہوجائے اور ہماری قومی زبان کی خدمت بھی ۔مشہور کالم نگار برادرم مدثر کلیم سبحانی ادبی حلقوں کی جانی پہچانی شخصیت ہیں ، گوناگوں مصروفیات کے باجود آئے روز یہ اور ان کے دوست کہیں نا کہیں ادبی تقریبات کا انعقاد کرتے رہتے ہیں ، اس طوفانی مہنگائی اور حد درجہ مصروف دور میں ایسے لوگ غنیمت ہیں ۔

چند ماہ قبل عزیزم مدثر کلیم اور ان کے دوستوں نے " پاسبان بزم قلم " نامی ایک ایسی ادبی تنظیم کی بنیاد رکھی جو بڑی تیزی سے سینکڑوں تنظیموں کے دریا میں سے ابھر کر سامنے آرہی ہے ، پورے ملک سے نامور ادیب ، شعراء، اور کالم نگاراس تنطیم میں جمع ہورہے ہیں،اگرچہ ناچیز کو اپنی کم علمی اور کج فہمی کا بخوبی اندازہ ہے اس کے باوجود احباب نے مجھے پاسبان بزم قلم کا سیکرٹری نشرو اشاعت مقرر کیا جو میرے لئے ایک اعزاز ہے ۔
پاسبان بزم قلم ابھی چونکہ اپنے بالکل ابتدائی مراحل میں ہے ، بہت سارے معاملات پہ روز مشاورت ہورہی ہے ، رکنیت سازی کا عمل پورے ملک میں جاری ہے ، ارکان کے نوٹیفیکیشنز اور کارڈز بنائے جارہے ہیں ، تمام شہروں میں ذمہ داران کا تعین کیا جارہا ہے اس کے باوجود ہم اب تک ایک بڑا تحریری مقابلہ اور کئی ادبی تقریبات منعقد کرواچکے ہیں ۔

ان شاءاللہ وسط جنوری میں لاہور کے اندر ایک بڑی تقریب ہوگی جس میں ملک بھر سے بڑے بڑے ادیب اور شاعر مدعو ہونگے نیز اسی تقریب میں تمام ارکان اور عہدیداران کو کارڈز بھی دئیے جائیں گے، بلاشبہ میرے یہ دوست تحسین اور مبارکباد کے مستحق ہیں کہ وہ اپنی قومی زبان کی ترویج و اشاعت کے لئے محدود وسائل رکھنے کے باوجود دن رات کوشاں ہیں ۔پنجابی ، سندھی ، بلوچی اور پشتو ہماری مادری زبانیں ہیں۔

ان سے محبت ہماری فطرت کا حصہ ہے، لیکن اردو وہ زبان ہے جو ناصرف ہمیں جمع کئے رکھے گی بلکہ ہمارے دلوں کے خوبصورت جزبات کی بہترین ترجمانی کی عمدہ صلاحیت بھی رکھتی ہے ۔دوسری زبانیں سیکھنے اور بولنے میں کوئی قباحت نہیں ، مگر اردو ہی ہماری پہلی محبت اور ہمارے لئےفخر کا باعث ہونا چاہئے ، اردو وسیع و بلیغ اور میٹھی زبان ہے اور اسے بولنے والے دنیا کے خوب صورت ترین لوگ ہیں ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */