بن پیا کی سہاگن - بشارت حمید

پہلا رخ : پیسہ زندگی کی بہت اہم ضرورت ہے اور ہم اپنے روزوشب کا جائزہ لیں تو ہماری زیادہ تر جدوجہد اسی پیسے کو کمانے اور اپنی آمدنی میں اضافہ کرنے میں صرف ہو جاتی ہے۔ پیسہ کمانے کی کوئی حد نہیں کیونکہ جیسے جیسے ہم اس میں آگے بڑھتے جاتے ہیں ویسے ویسے ہماری کلاس ہمارا لائف سٹائل اور سٹینڈرڈ تبدیل ہوتا جاتا ہے اور ھل من مزید کا چکر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ انسان کی زندگی بہت محدود ہے اگر ہم صرف کماتے اور جمع ہی کرتے رہیں اور اپنی ذات پر اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے میں کنجوسی سے کام لیتے رہیں تو ایسی دولت کسی کام کی نہیں۔ انسان کی اصل دولت وہی ہے جو اس نے کھانے پینے پہننے اور اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے میں صرف کر دی باقی سارا مال ورثاء کا ہے جو اس کمانے والے کے حصے میں نہیں آتا۔

ایک دوسرے کے دیکھا دیکھی ہم اپنی ضروریات کا لیول اوپر سے اوپر کرتے چلے جاتے ہیں رہی کسر مہنگائی نے نکال دی ہے۔ ہمارے ملک میں نوجوانوں کو ہنر سکھانے اور روزگار کے بارے رہنمائی کا سلسلہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ روایتی طرز تعلیم صرف کاغذ کی ڈگری دے کر سائیڈ پر ہو جاتا ہے لیکن اس ماسٹر ڈگری ہولڈر کو سرے سے کسی کام کا نہ ہی علم ہو پاتا ہے اور نہ ہی کوئی عملی تجربہ۔ اس وجہ سے بے روزگار افراد کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ہمارے ہاں ہاتھ سے کام کرنے والے ہنر مند طبقے کو نیچ تصور کیا جاتا ہے اور ہماری اکثریت یہاں فارغ بیٹھ رہنا زیادہ پسند کرتی ہے بنسبت اس کے کہ ڈگری مکمل کرنے کے بعد کوئی چھوٹا موٹا کاروبار یا ٹھیلہ لگا کر روزگار کا بندوبست کر لے۔ اس ساری صورتحال میں بیرون ملک جانے کا کریز سر پہ سوار ہو جاتا ہے چاہے وہاں جا کر وہ کام بھی کرنا پڑیں جن کے لئے یہاں ملازم رکھے ہوئے ہوں۔ ہماری فیملی کا ایک بندہ جو یہاں پنڈ کا چوہدری ہے خلیجی ملک میں بلڈوزر پر ڈرائیور کی جاب کر رہا ہے۔ لیکن یہاں اپنے ملک میں یہ کام کرنا توہین سمجھے گا جو وہاں بڑی خوشی سے کر رہا ہے۔
دوسرا رخ : جب کسی لڑکی کی شادی ہو جاتی ہے اور وہ سسرال کے گھر میں آ جاتی ہے تو یہاں آنے کا بڑا مقصد اپنے جیون ساتھی کے ساتھ رہنا۔۔ مستقبل کی پلاننگ کرنا۔۔

یہ بھی پڑھیں:   عالمی یوم خواتین ،عورت کو تعلیم دو- فریحہ مبارک

اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کی خواہش کرنا (جبکہ والدین ان خوابوں کے تذکرے پر کہتے رہتے ہیں کہ جب اگلے گھر جاو گی تب پورے کر لینا) اور زندگی بھر شوہر کا ساتھ نبہانا ہوتا ہے۔ لیکن اگر شوہر شادی کے ایک دو ماہ بعد بیرون ملک چلا جائے اور دو سال سے پہلے واپس نہ آئے کہ چھٹی نہیں ملتی ۔۔ تو اس بیچاری پر جو بیتتا ہے اسے ہم کبھی جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ اگر تو ہم یہ سوچیں کہ کیا کمی ہے اچھا کھانے پینے پہننے کو مل رہا ہے گھر میں نوکر چاکر ہیں تو مسئلہ کیا ہے۔۔ تو جناب کھانے پینے کو شاید اس گھر سے پہلے والدین کے گھر میں ہو سکتا ہے اس سے بھی اچھا اور بہتر ملتا رہا ہو ۔۔ لیکن اس گھر میں وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنے اور زندگی بسر کرنے آئی ہے۔ ہر انسان خواہ مرد ہو یا عورت اسکی جسمانی اور نفسانی خواہشات اللہ نے اس کے اندر رکھی ہوئی ہیں اور شادی انکی تکمیل و تسکین کا ایک جائز راستہ ہے۔ اگر کوئی خود کو نیک پاک اور ان سے مبرا سمجھے تو اور مسئلہ ہے۔ میں کسی کو الزام نہیں دے رہا لیکن میرے ذاتی مشاہدے میں ایسے کیسز آئے ہیں جن میں مرد نے طویل عرصہ باہر رہتے ہوئے حرام راستہ اختیار کیا۔ دوسری طرف عورت کو بھی صرف پیسہ نہیں چاہیئے۔ پیسہ اہم ضرور ہے لیکن ہر چیز کا متبادل نہیں ہوتا۔

عام طور پر ہمارے معاشرتی جبر کی وجہ سے عورتیں کھلم کھلا اظہار نہیں کرتیں کہ پھر لوگ رشتہ دار باتیں بنانے لگتے ہیں لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ انکے دل میں کوئی خواہش جنم ہی نہیں لیتی۔ یہ عورت کے ساتھ صریح ظلم ہے کہ شادی کے بعد شوہر اسے طویل عرصہ کے لئے چھوڑ جائے صرف پیسہ کمانے کی خاطر۔۔ اور وہ پیچھے سسرال کے رحم و کرم پر زندگی بسر کرے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جہاد فی سبیل اللہ پر گئے مجاہدین پر لازم کیا تھا کہ چار ماہ بعد گھر چھٹی پر چکر ضرور لگائیں۔ ادھر ہم پیسہ کمانے جاتے ہیں اور سال ہا سال پلٹ کر نہیں آتے اور پھر سمجھتے ہیں کہ ہم تو بیوی بچوں کے لئے قربانی دے رہے ہیں۔ یہ قربانی نہیں بلکہ ظلم ہے جو ہم اپنے آپ اور بیوی بچوں کے ساتھ کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں بیوی اندر ہی اندر گھٹ کر مرتی رہے اور بچے والد کے ہوتے ہوئے بھی اس کے سائے اور موجودگی سے محروم رہیں تو اس قربانی کا کیا فائدہ۔۔ صرف فون پر بات کرنا یا ویڈیو کال کرنا بندے کی physical presence کا متبادل کسی صورت نہیں ہو سکتا۔ ایسا بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ جب طویل عرصہ دور رہ کر میاں مستقل گھر پہ آ جائے تو بیوی جو اکیلی رہنے کی عادی ہو چکی ہوتی ہے اسے میاں کی موجودگی اور معاملات میں مداخلت برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور پھر اختلافات جنم لینے لگتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   میں عورت ہوں - سیدہ خدیجہ گیلانی

ہاں اگر باہر کوئی اچھی جاب ہے بزنس ہے تو ضرور جائیں اور بیوی بچوں کو ساتھ لے کر جائیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یا کوئی ایسا سلسلہ ہو جس میں بندہ تین چار ماہ بعد چکر لگا لے تو پھر بھی مناسب ہے۔ جس تنخواہ پر لیبر کرنے لوگ بیوی بچوں کو چھوڑ کر باہر جاتے ہیں اگر یہاں اتنی جان ماری والی محنت کر لیں تو اتنے ہی یہاں بھی کما سکتے ہیں مسئلہ یہ ہے کہ پردیس کو ہمارے ہاں گلیمرائز کرکے پیش کیا جاتا ہے اور ہر دوسرا بندہ باہر جانا چاہتا ہے چاہے یہاں کے چوہدری کو وہاں جا کر جھاڑو ہی پھیرنا پڑ جائے۔ جس طرح اپنی انا کو مار کر وہاں کام کرتے ہیں یہاں اسی جوش و جذبے سے کام کریں تو شاید اس سے بہتر کما لیں اور اپنے ملک کا بھی کچھ فائدہ ہو جائے۔ کوئی اللہ کی بندی اظہار نہیں کرتی یا پیسہ آتے دیکھ کر یا لوگوں کی باتوں کے ڈر سے چپ کرکے بیٹھی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم نے آنکھیں کان بند کرکے رہنا ہے تو الگ بات ہے۔ یہ کسی پر الزام تراشی ہرگز نہیں یہ ایک حقیقت ہے اور عملی طور پر معاشرے میں پائی جاتی ہے البتہ استثنائی صورتحال ہر معاملے میں موجود رہتی ہے لیکن اسے سب پر لاگو کرنا درست نہیں ہے۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.