کم ازکم بھاشن دینا کم کردیں - وقاص احمد

حکومت کو پندرہ مہینے ہوگئےہیں اور بات یہ ہے کہ ملک کے غریب متوسط طبقات کی زندگی روز بروز تنگ سے تنگ اور مشکل سے مشکل ہوتی جارہی ہے۔ معاشی طور پر اس بے چین اور اضطرابی ماحول میں ۱گر حکومت یہ عذر پیش کرتی ہے ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر تھی اور ہم اس کو راہ راست پر لا رہے ہیں اور اس میں وقت لگ رہا ہے۔

تو بات پھر بھی سمجھ میں آتی ہے۔ جب آپ اقتدار میں آتے ہی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین کے دورے صرف اسلئے کریں کہ ملک بیرونی ادائیگیاں بروقت کرکے ڈیفالٹ سے بچ سکے تو صورتحال کی سنگینی بالکل سمجھ میں آتی ہے۔ اسکے بعد رہی سہی کسر آئی ایم ایف کی شرطوں نے پوری کردی ۔ پچھلی حکومتوں نے روپے کی قدر کو مصنوعی طورپر مستحکم کر رکھا تھا یہ فلسفہ بھی سمجھ میں آگیا ۔ لیکن اب تقریباً ڈیڑھ سال بعد حکومت کے ان بلند بانگ دعووں کے بعد کہ معیشت مستحکم ہورہی ہے، ادائیگیوں کا توازن بہت بہتر ہے اور ٹیکس جمع کرنے کا ہدف بہت حد تک قابو میں ہے تو پھر کیوں آئے دن بجلی اور گیس کیوں مہنگی ہو رہی ہے جس کا اثر بالاخر ہر چیز پر پڑ رہا ہے۔ حال ہی میں کابینہ اجلاس میں ایک وفاقی وزیر کے حوالے سے خبر آئی کہ وہ وزیر توانائی و بجلی پر برس پڑے کہ ان دعووں کے بعد کہ سرکلر قرض کم ہورہا ہے اور بجلی کی چوری بھی کم سے کم تر ہورہی ہے مگر بجلی کی قیمت کم ہونے کے بجائے بڑھائی جارہی ہے۔

اِدھر ایک طرف عمران خان صاحب خیالی دنیاؤں سے باہر آکر نہیں دے رہے اور دوسری طرف ان کےوزیر نوخیزلڑکو ں کی طرح بڑھکیں مارنے سے باز نہیں آرہے۔ لوگوں کے مسائل تقریروں ، بھاشنوں اور کاغذی منصوبوں سے نہیں ، عقل و ہوش سے فیصلے کرنے اور اس پر استقامت سے عمل کرنے سے حل ہونگے۔ لوگ مہنگائی سے جنگ ہار ہار کر سطح ِ غربت سے نیچے آرہے ہیں اور وزیرِ اعظم احساس پروگرام میں انکے معمولی وظیفے لگا لگا کر ریاست مدینہ کی مثالیں پیش کر رہے ہیں جیسے لوگوں کی عزت نفس کو بلندکرنا، ان کو بیساکھیو ں کے بجائے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کرنے کی کوئی اہمیت و وقعت نہیں؟۔

پی ٹی آئی کے ووٹرز بھی وزراء کے خیالی پلاؤ سے تنگ آگئے ہیں اور انکے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہے۔ یہ بات راقم بہت ذمہ داری سے بتا رہا ہے۔ حکومت کو لازماً خیراتی پروگراموں سے باہر آکر اپنی سوچ کو وسیع کرنا ہوگا۔ وزیر اعظم صاحب ملک کو کلی طور پر وزیر خزانہ اور گورنر سٹیٹ بینک کی منصوبہ بندیوں کے حوالے نہ کریں۔ ملک نئے سال میں اس شرح نمو کے ساتھ نہیں چل پائے گا ۔ آخر نیا پاکستان ہاوسنگ سکیم میں گھر بننا کب شروع ہونگے جس سے باون صنعتیں چلیں گی۔ ترقیاتی منصوبے بڑے پیمانے پر کب شروع ہونگے۔ معیشت کا پہیہ کب چلے گا؟ خان صاحب وقت بہت کم ہے۔ خدارا ! بچیس سے پچاس ہزار کمانے والوں کی کمر توڑ کر انہیں احساس ، پناہ گاہ پروگرام اور انکم سپورٹ میں لے آنے کا ’’کارنامہ‘‘ سر انجام نہ دیں۔ خیر معیشت کے حوالے سے تو وزیر اعظم کی باتوں میں پھربھی ابھی تھوڑا بہت اعتبار کیا جاسکتا ہے کہ سال 2020 میں ترقی اور کاروبار کی شرح بڑھائی جائے گی اور سرمایہ کاروں کو بینکوں سے پیسے نکال کر کاروبار میں لگانے کے عمل کو پر کشش بنایا جائے گا۔ دیکھ لیتے ہیں!

یہ بھی پڑھیں:   لال مسجد - شہزاد حسین بھٹی

لیکن جس شعبے میں اس حکومت کو رعایت دینے کی گنجائش تقریباً ختم ہوگئی ہے وہ ہے سماجی عدل و انصاف کا شعبہ۔ دعووں بلکہ بڑھکوں اور عملی اقدامات میں توازن ایک دم تباہ حال ہے۔ ’’دو نہیں ایک پاکستان ‘‘ میں تو وہ امور تھے جہاں نہ ریاض کے دورے کی مجبوری تھی اور نہ اس کے لیے آئی ایم ایف کے سامنے ماتھا ٹیکنا تھا۔ نہ چین کو مکھن لگانا تھا اور نہ ایف اے ٹی ایف کے سامنے ہاتھ باندھنے تھے۔ اس کے لیے تو خالصتاً قائدانہ، بے باک اور نڈر قیادت اور رہنمائی کی ضرورت تھی۔ لیکن صاحب! کوئی تخیلات کی بھول بھلیوں سے باہر تو آئے۔ صرف فی البدیہ تقریر کرنے کے جوہر دکھانے اور عظیم اقوال سناکر عمل میں جو ں کا توں رہنے والے کے لیے لغت میں کافی الفاظ موجود ہیں جو فی الحال ہمیں یاد نہیں آرہے۔

سانحہ ساہیوال کا کیس تو حکومت دیانت سے لڑ سکتی تھی۔ پولیس ریفارمز میں تو ہمت سے آگے بڑھ سکتی تھی۔ میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات تو کر سکتی تھی۔ وزیر اعظم پتا نہیں کس دنیا میں رہ رہے ہیں کہ آج بھی انکی تقریر کا غالب حصہ ان باتوں پر مشتمل ہوتا ہے جن پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں ۔ جن پر وہ آئے دن منہ کی کھاتے رہتے ہیں ۔ نیب گرفتار کرلے تو بولتے ہیں کہ دیکھا کہا تھا نا! اور اگر رہائی ہوجائے تو نیب اور عدالتیں تو آزاد ہیں حکومت کیا کر سکتی ہے۔ بس کردیں جناب ۔ جو آپ کرسکتے ہیں اس میں تو کم از کم صفر کے سکور سے اوپر جانے کی کوشش کریں۔

ایف آئی اے جو آپ کے ما تحت ہے اس کی تشکیل نو کرکے اس میں ایک نئی روح تو پھونکی جا سکتی تھی تاکہ وہ زبردست تحقیقات کر کے مختلف کیسز کے مضبوط چالان پیش کرے۔ نیب کے مقابلے میں تو ایف آئی اے دہائیوں پرانا ادارہ ہے اورحکومت کے ماتحت آتا ہے۔ آخر پشارو ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو ہی کہا نا کہ پشاور بی آر ٹی کی ٹحقیقات کرو۔ معصوم بچوں سے زیادتی کے واقعات ، قصور کے پہلے والے کیس جس میں سینکڑوں بچوں پر ظلم کیا گیا اس حوالے سے تو تیزی سے پیش رفت ہو سکتی تھی۔ پی آئی سی سانحہ میں وکلاء کی ضمانت کو پنجاب حکومت نے چیلنج کیا ؟ سانحہ ساہیوال کی اپیل پیروی کی کیا رپورٹ ہے ؟ جواب دیں وزیر اعظم صاحب۔ کوئی خوف ؟ کوئی ڈر؟ کوئی مصلحت ؟ ظالموں کے ساتھ کوئی این آر او؟ بتائیں سر!

یہ بھی پڑھیں:   ہم کو اعتبار آیا - حبیب الرحمن

کرنے کے بڑے کام تو یہ ہیں کہ پیمراکو بتایا جائے کہ فحاشی کی تعریف کیا ہے اور چینلز کو اس معاملے میں کھینچ کر رکھا جا ئے ۔ ٹی وی پر بڑھتی ہوئی فحاشی کو تو ایک حکم سے ختم کیا جاسکتا ہے ۔انسداد سود کے حوالے سے کوئی تو پیش رفت ہوسکتی ہے ۔ کم از کم حکومت حاجیوں کے پیسے پر سود کھانا ہی بند کردے۔ سود سے نفرت کی کوئی تو خبر دیں۔ انسانی حقوق کے حوالے سے کوئی ایک کیس تو ہو جس میں کوئی غریب ، لاچار حکومت کی مدد سے کسی طاقتور کے مقابلے میں فتح یاب ہو جائے ۔ پولیس کے ہاتھوں سڑک یا تھانے میں مرنے ، کسی طاقتور کے ہاتھوں کسی حوا کی بیٹی کےبے توقیر ہونے کا کوئی ایک کیس تو ہو جہاں کسی طاقتور کو سزا ہوجائے۔ وزیر اعظم صاحب اس حوالے سے اگر آپ صورتحال کا ادراک کرلیں تو کم از کم آپ ’’دو نہیں ایک پاکستان‘‘،ریاست مدینہ، میرٹ کا نظام ، عدل و انصاف کے الفاظ رضا کارانہ طور پر ادا کرنا تب تک کے لیے بند کردیں جب تک آپ کو کوئی قابل ذکر کایابی نہیں ملتی ۔

اس سے با شعور اور زیرک عوام اور تجزیہ کاروں کے سامنے آپ کے ہی قابل اعتبار، ہوشمند اور معاملہ فہم ہونے کا ثبوت ملے گا۔ ورنہ اگر تقاریر میں جوش و ولولہ اور اور اپنی حکومت کو کوئی الگ ہی انقلابی ، نابغہ روزگار قسم کی چیز سمجھنے کے مست دعوے اور منصوبے اسی طرح جاری رہے تو کسی اور طرف بھی نکل سکتی ہے ۔ زبان تو ظاہر ہے کوئی زبردستی بند نہیں کر سکتا ۔ کراچی کے حوالے سے آپ کے، آپ کے صدر ، گورنر اور وزراء کی فوج کےسبز باغات ایک الگ مضمون کا متقاضی ہے۔ پھر کبھی۔