بس ایک بار ہی مار دو - قادر خان یوسف زئی

کئی ہفتوں سے بھارت میں بڑے ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ ایسا زبردست ہنگام کم ازکم میں نے بہت کم دیکھا ۔مجھے ایک ویڈیو بھیجی گئی کہ دیکھو، کتنے لوگ سڑکوں پر نکلے ہیں۔ میں نے بے پروائی سے کہہ دیا کہ پٹرول ختم ہوگیا ہوگا، اپنے کام پر جانے کے لئے پیدل جارہے ہونگے۔ پھر دھڑا دھڑ کئی شہروں میں ہونے والے احتجاج و مظاہروں کی ویڈیوز بھیجی کہ اب کیا خیال ہے؟۔

میں پہلے کھڑا تھا، پھر بیٹھااورفوراََ لیٹ کر ماتھے پر ہاتھ رکھے سوچنے لگا کہ بابائے قومؒ کی بات اگر مان لیتے تو آج انہیں یہ دن دیکھنا نہیں پڑتا اور ہمیں بھی شرمندگی نہ ہوتی کہ کچھ کر نہیں رہے۔خالی دماغ شیطا ن کا کارخانہ کہلایا جاتا ہے۔ لیکن میں نے ایسے شاطر شیطان کو بھی پہلی بار دیکھا کہ جیسے کسی قسم کی پروا ہی نہیں۔ پورا ملک احتجاجوں و مظاہروں و ریاستی جبر کے زیر اثر ہے لیکن ڈھٹائی اتنی، کہ کان پر جوں بھی نہیں رینگ رہی۔ میں نے بلا وجہ سوچا کہ اس طرح خدانخواستہ دوبارہ پاکستان میں ہوتا تو کب کی وہ اپنی افواج مشرقی پاکستان کی طرح اتار دیتے، سہولت کاروں سے سقوط کرانے کی کوشش کرتے، لیکن ہم سچے پاکستانی ایسا نہیں کرسکتے۔ اس کی وجہ جب میں خود سے پوچھتا ہوں تو جواب نہیں ملتا، گل خان سے پوچھوں تو کہتا ہے کہ پہلے یہ فیصلہ تو کرلو کہ تمھاری سمت کیا ہے؟۔ کیا کچھ تمھیں دکھایا، کیا پڑھایا جارہا ہے۔ میری چپ پر اُس نے جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے ٹھیکدار مت بنو، جو کام تمھارا ہے وہی کرلو تو بڑی بات ہے۔ میں نے غصے سے پوچھا کہ تو کیا یہ ہمارا کام نہیں ہے۔

علامہ ؒ تو صاف کہہ گئے تھے کہ”لیا جائے گا تم سے کام دنیا کی امامت کا“۔گل خان مجھ سے زیادہ مشتعل ہوکر کہنے لگا کہ میڈیا میں جاکر دیکھو کہ وہاں کیاچل رہا ہے۔ یہ غیر پارلیمانی لفظ تھا، اس لئے میں نے حذف کردیا۔ اسی طرح جیسا ہمارے پارلیمان میں ہوتا ہے کہ اسپیکر تو متنازعہ جملہ یا لفظ حذف کرادیتے ہیں لیکن ہمارا میڈیا اتنا وائرل کرتا ہے کہ جنہیں علم بھی نہیں ہوتا، وہ بھی پارلیمانی وقار کو سمجھ جاتا ہے۔آج شاید سرکاری یوم کشمیر ہے۔ مجھے کچھ کچھ یاد پڑتا ہے کہ قوم کو ہر جمعہ کے دن،کچھ مختصر وقت کے لئے کھڑا رہنے کی اپیل کی گئی تھی، بتایا گیا تھا کہ اس سے مقبوضہ کشمیر میں نہتوں مسلمانوں پر بندوق تھامے جابر ہمارے کھڑے رہنے کی وجہ سے ٹرکوں میں بیٹھ کر واپس دہلی چلے جائیں گے، لیکن اُن پر تو کوئی فرق پڑ ا نہیں۔ یہاں بھی لاعلم ہوں کہ اقوام متحدہ کے باہر وہ گاڑی اب بھی کھڑی ہے کہ نہیں جس پر ایک گھڑی بتاتی تھی کہ، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت و کرفیو لگے کتنے دن اور گھنٹے ہوگئے ہیں، اگر کسی نے وہ گاڑی وہاں کھڑی دیکھی ہو تو میرا سیلوٹ کردیئے گا اور فلک شگاف نعرہ ضرور لگایئے گا کہ میرے کشمیری بھائی بہنو و ماؤں ہم تمھیں نہیں بھولے۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ”بچت پالیسی“ کی وجہ سے اب وہ گاڑی وہاں سے ہٹا دی گئی ہو، اور دنیا کو کہا جاچکا ہو کہ اپنے اپنے وقت کے مطابق دیکھ لیں کہ احتجاج کا ہوا چاہتا ہے کہ نہیں۔

بھارت میں کئی پاکستان بننے کی بنیادیں رکھ دیں گئی ہیں، اس کا سہرا بھی یقینی طور پر مود ی سرکار کے سر جاتا ہے۔ اگر وہ ایسے اقدامات نہ کرتا تو یہ سب کچھ کبھی بھی نہیں ہوتا، مودی بھی وہی کچھ کررہا ہے جو اس کے اجداد قیام پاکستان سے قبل کرچکے تھے۔ انہی وجوہ کی وجہ سے پاکستان بنانا ناگزیر ہوگیا تھا۔ آج بھارت کا ہر شہر،کوچہ کوچہ مقبوضہ کشمیر بنا ہوا ہے۔ جہاں نظر دوڑائیں، کشمیری قوم کا عکس لئے، بھارتی عوام سراپا احتجاج نظر آتے ہیں۔ دنیا کی افرادی اعتبار سے دونمبربھارتی فورس،سیکورٹی سنبھالے یا اپنی جوتے، سمجھنے سے قاصر ہیں، کیونکہ انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ اب وہ کیا کریں، 20کروڑ سے زائدمسلمانوں کے ساتھ دلت ہندو بھی ہیں، سکھ و عیسائی بھی۔ لاکھوں کا مجمع ہے۔ ایک ہی نعرہ ہے کہ لے کر رہیں آزادی۔۔ لے کر رہیں گے آزادی۔ پولیس کو پھول پیش کئے جاتے ہیں تو وہ جواب میں پتھر اور گولی مارتے ہیں، ہر شہر جیلیانوالہ باغ بنتا جارہا ہے۔لگتا ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا نیا جنم ہوا ہو۔

یاد آیا کہ امریکا بہادر کی نظریں دور ہی نہیں بلکہ نزدیک کی بھی کمزور ہوگئی ہیں، بلکہ اندھا، بہرا اور گونگا ہوگیا ہے کہ اُسے سجھائی نہیں دیتا کہ بھارت میں ایک نقطہ برابر مذہبی کائیوں کو آزادی نہیں ہے، لیکن، اُسے ہر وقت پاکستان میں ہی مذہبی آزادی پر قدغن نظر آتی ہے۔ حالاں کہ یہاں تمام مذہبی اکائیاں اپنے رسوم کے لئے آزاد ہیں، تمام مسالک آزادی کے ساتھ اپنے جلسے جلوس نکالتے ہیں، انہیں مکمل سیکورٹی فراہم کی جاتی ہے، کسی تاریخی مندر، کلیسا کو مقفل یا توڑا نہیں جاتا، مذہبی و مسلکی اکائیوں کے لئے تین تین دن مارکیٹیں سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لئے سیل کردی جاتی ہیں۔ نیا برس کا عیسوی تہوار بھی بڑے جوش و خروش سے مسلمان بھی مل کر مناتے ہیں۔ دیوالی ہو یا کرسمس، مسلم کیمونٹی کے جدت پسند نوجوان گھل مل جاتے ہیں۔

لیکن بھارت، جہاں مذہبی اقلیت کو دیوار سے لگا کر کچلا جارہا ہے، گائے ذبیح سے روکنے کے لئے صرف افوہ یا شک پر انسان ذبیح کردیئے جاتے ہوں، مندروں میں خود ایسی تفریق ہو کہ دلت یا نچلی ذات قرار دیئے جانے والے ہندو ؤں کو بھی جانے کی اجازت نہیں، خواتین کے آنے پر مندر کو دھو کر ”پاک“ کیا جاتا ہو، مسلمانوں سے جبراََ مذہب تبدیل کرایا جارہا ہو۔ انہیں روہنگیائی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم سے ڈرایا جارہا ہو کہ اگر ہندو مذہب قبول نہیں کرتے تو تمھارا اس سے بھی بدتر حال ہوگا۔ کوئی ملک تمھیں پناہ نہیں دے، عصمتیں فروخت ہوں گی، کہیں کہ نہیں رہو گے، اس لئے بھارتی شہریت چاہیے تو ہندو مذہب قبول کرلو۔

امریکا کو مذہبی آزادی پر خدشات کے لئے پاکستان پر الزام تراشی کے بجائے، ہوش و حواس سے کام لیتے ہوئے بھارت کے خلاف اقدامات کرنے چاہیں، پابندیاں عاید کرتے ہوئے اسلحہ کی فروخت سمیت دیگر مراعات واپس لینی چاہیں، تاکہ وہ مذہبی اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو لگام دے۔ اگر یہ امریکا نہیں کرنا چاہتا تو مذہبی اقلیتوں پر ایک احسان کردے کہ ایک ایسا ایٹم بم بنائے جو صرف مسلمانوں کو ختم کرے اور ہندو انتہا پسند زندہ رہیں۔ بار بار کیوں مارتے ہو، بس ایک بار ہی مار دو۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com