بے شرم - محمد اویس حیدر

ننگے سر اجڑے بالوں اور پھٹے کپڑوں کے ساتھ زینب گھر میں عین اس وقت داخل ہوئی جب زینب کی ہونے والی ساس اپنی بہو کی خوشی اور رسم نبھانے کے لیے کے لیے شب برات کی ٹوکری تھامے اسی کے گھر میں بیٹھی زینب ہی کا پوچھ رہی تھی۔ بیٹی کو گھر داخل ہوتا دیکھ کر باپ شوکت اور پریشان حال ماں صابرہ کی آنکھیں خوشی سے بہنے ہی کو تھیں۔ مگر اس پانی کے آگے دونوں نے مضبوط بند باندھ لیے، کیونکہ زینب کی ہونے والی ساس اس سارے معاملے سے مکمل لاعلم تھی جو قیامت بن کر ان میاں بیوی کے گھر میں ٹوٹا تھا۔ زینب کی منگنی کو بھی ابھی بہت عرصہ نہیں گزرا تھا اور اس کی ہونے والی ساس کا اپنی بہو کے گھر یہ تیسرا چوتھا پھیرا تھا مگر آج اپنی ہونے والی بہو کو اس حال میں گھر داخل ہوتا دیکھ کر اس کی ساس فرط حیرت سے شوکت اور صابرہ کو دیکھنے لگی جن کے چہرے بیک وقت مسرت اور پریشانی کا نمونہ بنے ہوئے تھے۔

دراصل بیمار اذہان کے معاشرے میں خودداری اور عزت نفس صرف اُسی کے لیے مخصوص سمجھی جاتی ہے جس کے پاس دوسروں کو دبا کر رکھنے کی طاقت ہو۔ پھر اپنی اسی طاقت کے اظہار کو ایسے لوگ خودداری کا نام دے کر دوسروں کی عزت نفس پامال کرتے ہیں۔ زمینی خدا بنے ایسے لوگ خود کو دوسروں کے نصیب کا بھی مالک سمجھنے لگتے ہیں۔ جن کی خودداری ان زمینی خداوں کے نزدیک سوائے ڈھیٹ پن اور بیہودگی کے اور کچھ تصور نہیں کی جاتی۔ زینب کا باپ شوکت شاید اسی بات کو سمجھنے سے قاصر تھا، تبھی اس نے چودھری کرامت حسین کے بیٹے رفاقت حسین کو آنکھیں دکھا دیں، وہ آنکھیں جنہیں ہر حال میں صرف جھکائے رکھنے کا حکم تھا۔ کیونکہ ایک عام اور لاچار آدمی کو لاچار رکھنا ہی خود کو فرشی خدا سمجھنے والوں کا اصول ہے تاکہ ان کی خدائی سلامت رہے۔ مگر ایسے لوگ یہ نہیں جانتے کہ ظالم کی کامیابی ہی دراصل اس کی ہلاکت ہے۔ کیونکہ ظلم جب کامیاب ہو جاتا ہے تو کائنات کے خدائے حقیقی و لاشریک کے ہاں ایسے شخص کو ظالم لکھ دیا جاتا ہے۔ جس سے بڑھ کرکسی شخص کے لیے اور بھلا کیا ہلاکت ہو سکتی ہے۔

ایک روز جب شوکت، چودھری کرامت کی فصلوں میں کام کر رہا تھا اور اس کی بیٹی زینب اپنے باپ کے لیے حسبِ معمول گھر سے دوپہر کا کھانا لے کر پہنچی تو باپ بیٹی سائے میں بیٹھ کر کھانا کھانے لگے۔ زینب شوکت علی کی سب سے بڑی بیٹی تھی جس کی عمر قریب اٹھارہ انیس سال تھی۔ اپنی زمہ داری کو سمجھتے ہوئے شوکت کی بیوی نے زینب کی منگنی بھی اپنی بیوہ بھابھی کے ہاں اپنے بھتیجے سے کر دی تھی جن کا تعلق قصور کے قرب میں واقع ایک دوسرے گاوں سے تھا۔ زینب کے علاوہ شوکت کی دو اور بیٹیاں اور ایک سب سے چھوٹا تین سال کا بیٹا بھی تھا۔ جو اکثر پاجامے سے بے نیاز صرف قمیض پہنے گھر کے صحن میں دوڑتا پھرتا دکھائی دیتا۔ ضلع قصور سے کوئی پچاس کلومیٹر دور واقع گاوں میں بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح شوکت بھی چودھری کرامت حسین کی زمینوں پر کام کرتا تھا۔ جس کام کی اجرت ملنے پر ہی اس کے گھر کا چولہا جلتا، پیٹ کی آگ بجھتی اور تن کو کپڑے مل جاتے تھے۔ یوں وہ اللہ کا شکر ادا کرتا اور ساتھ چودھری صاحب کا بھی احسان مند رہتا۔

باپ کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتی زینب کے وہم میں بھی نہیں تھا کہ راستے میں ہونے والا ایک معمولی واقعہ کس طرح اب غیر معمولی نتیجے میں بدلنے والا ہے۔ ہوا یوں تھا کہ راستے میں جب چودھری کرامت حسین کا بیٹا رفاقت اپنی نئی لینڈ کروزر میں بیٹھا اس کی تیز رفتاری سے دیہات کی کچی سڑکوں پر دھول اڑانے میں مصروف تھا تو یہی اڑتی دھول اپنے باپ کے لیے کھانا لے جاتی زینب کے نصیب پر بھی جا پڑی۔ جب زینب کے قریب سے گزرتی ہوئی رفاقت کی گاڑی کے تیز ہوا کی لہر نے زینب کے سر پر رکھی چادر کو سرکایا تو بے اختیار اس کے منہ سے گاڑی میں بیٹھے بدمست انسان کے لیے لفظ بے شرم نکل گیا۔

بیہودا کہیں کے ۔۔۔۔۔ جو دیکھ کر بھی نہیں چلا سکتے۔ بے شرم لوگ!!! زینب نے اپنے چہرے پر سے دھول ہٹا کر چادر کو دوبارہ سر پر رکھتے ہوئے غصے میں کچھ اونچی آواز سے کہہ دیا۔

یک دم گاڑی کچھ فاصلے پر رکی، ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے رفاقت حسین نے سائیڈ مِرر میں سے زینب کو دیکھا۔ ماتھے پر تیوری ڈال کر اپنی پہلے سے تنی ہوئی مونچھوں کو بل دیا اور پھر وہیں سے گھورتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی۔
اب جب باپ بیٹی فصلوں میں بیٹھ کر کھانے میں مصروف تھے تو انہیں کچھ قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ سر اٹھا کر دیکھا تو اپنے چند حواریوں کے ساتھ رفاقت حسین کھڑا تھا۔

ارے چھوٹے چودھری صاحب ۔۔۔ قدمی ہتھ ہے جی۔ سنائیں مالک کیسے آنا ہوا ؟
یہ تیری بیٹی ہے ؟ رفاقت حسین نے تیکھی نظریں زینب پر ڈالتے ہوئے اپنی مخصوص بیٹھی ہوئی سی آواز میں پوچھا۔
جی جی چودھری صاحب، میری بیٹی ہے، میرے لیے گھر سے کھانا لے کر آتی ہے۔ شوکت مشفقانہ نظروں سے زینب کو دیکھتے ہوئے جواب دیا۔

کیوں رے چھوکری ۔۔۔ بہت شرم گھسی ہے تیرے اندر ؟ باپ نے ڈھنگ نہیں سکھایا تجھے ۔۔۔۔۔ چودھریوں کے آگے سر نیواں ۔۔۔۔۔ اور زبان خموش رکھنے کا ؟ رفاقت علی اپنی بیٹھی ہوئی آواز میں زینب پر چلّایا۔

کیا ہوا چھوٹے چودھری جی ؟ کیا کوئی بھول کی ہے اس نے ؟ شوکت علی نے پریشان ہوتے ہوئے رفاقت حسین سے پوچھا۔
ابا گاڑی ان کی دھول اڑاتے جا رہی تھی۔ پاس سے گزری تو اس کی ہوا سے چادر سرک گئی میری، منہ سے ایک دم بے شرم لوگ نکل گیا میرے ۔۔۔ مگر قسم سے ابا، مجھے نہیں پتہ تھا کہ گاڑی میں کون ہے۔ زینب نے ابا کو پریشان چہرے اور نادم آنکھوں سے دیکھتے ہوئے جواب دیا۔

اچھا ۔۔۔۔ تو ایک دم نکل گیا منہ سے تیرے ۔۔۔۔ چل اب خود اپنی چادر اتار کے میرے قدموں میں رکھ دے، تاکہ تجھے سمجھ لگے کہ تیری اوقات آخر ہے کتنی۔ چھوٹا چودھری مٹھیاں بھینجتے ہوئے گرجا
معاف کر دو چودھری صاحب، ناسمجھ بچی ہے ۔۔۔۔۔ پتہ نہیں چلا کیا کہہ بیٹھی۔ اور وہ تو شاید ٹھیک طرح پہچانتی بھی نہیں آپ کو۔ شوکت علی نے چھوٹے چودھری کے آگے ہاتھ جوڑے۔

رفاقت حسین کے چہرے پر تکبر اور آنکھوں میں ہوس پھیل چکی تھی۔ اس نے کرختگی کے ساتھ چیختے ہوئے شوکت علی سے کہا۔ اوئے چپ کر ۔۔۔۔ تیری چھوکری نے جو بولا ہے اب اس کا حساب تو اسے چکانا ہی پڑے گا، تاکہ تم لوگوں کی اوقات کہیں تمہیں بھول نہ جائے۔ اٹھا لو لڑکی کو۔
چودھری صااااااب ۔۔۔۔ شوکت کی آنکھوں میں سرخی ابل پڑی مگر ہاتھ اب بھی مجبوری میں بندھے تھے جو اٹھنا تو چاہتے تھے مگر نسل در نسل غلامی کی رسی نے انہیں باندھ رکھا تھا۔ اس رسی کی گرہیں کھولنے کے لیے بھی اب نسلیں چاہیے تھیں۔

اوئے خبیث!!! مجھے آنکھیں دکھاتا ہے ؟؟؟ چٹاخ!!! چھوٹے چودھری نے شوکت علی کے منہ پر تھپڑ جڑ دیا۔ یہ دیکھنا تھا کہ چھوٹے چودھری کے حواریوں نے شوکت کو پے در پے کئی گھونسے اور لاتیں ماریں۔ پھر اسے زمین پر گرا چھوڑ کر زینب کو اٹھایا اور چھوٹے چودھری کی گاڑی میں پھینکا جس کے بعد رفاقت حسین گاڑی بھگا کر لے گیا۔

کچھ وقت کے بعد شوکت کا بے بس چہرہ تھانے میں بیٹھا تھا۔ جس پر موجود طمانچوں کے نشان اس کی بے بسی کو مزید عیاں کر رہے تھے۔ دیکھا جائے تو تھانے میں آنے والا کوئی بھی چہرہ نارمل نہیں ہوتا۔ ہر چہرہ اپنی ایک داستان رکھتا ہے۔ کوئی مظلومیت کی تو کوئی جبر کی۔ کسی پر بےبسی تحریر ہے تو کسی پر بربریت۔ جبکہ کچھ چہروں نے وردی بھی پہن رکھی ہوتی ہے۔ وہ طاقتور وردی جو معاشرے میں موجود تخریب کار لوگوں کے شر کو روکنے کے لیے پولیس والوں کو دی جاتی ہے۔ لیکن اس وردی کو پہننے والے اکثر لوگ شاید خود اپنا باضمیر ہونا ضروری نہیں سمجھتے۔ تبھی ایسے بے ضمیر لوگ سرکار سے تنخواہیں بھی لیتے ہیں جبکہ ساتھ ہی ”منتھلی“ کے نام سے سرایت کر جانے والی بیماری یعنی ”ماہواری“ کے لاعلاج مرض میں بھی مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔ پھر بااثر لوگوں کے اثر میں رہ کر اس ماہواری کا مرض اتنا بڑھ جاتا ہے کہ اس پر کسی ایماندار حکیم کی دوا بھی اثر نہیں کر پاتی۔ اس طرح وردی کی یہ طاقت بجائے مظلوم کا سہارا بننے کے ظالم کی زر خرید باندی بن جاتی ہے۔ جس کا کام اپنے آقا کے جرائم کو دیکھنا نہیں بلکہ باادب باندی کی طرح سرہانے کھڑے رہ کر صرف پنکھی جھلنا رہ جاتا ہے تاکہ مجرم اور جرائم دونوں ہی کو ہوا ملتی رہے۔

کتنی عمر ہے تیری لڑکی کی ؟ تھانے میں بیٹھے سب انسپکٹر نے شوکت سے پوچھا
انیس سال کی ہے جی۔ شوکت علی کے بےبس چہرے پر لگے پھٹے ہونٹوں نے جواب دیا
کس کے خلاف پرچہ کروانا ہے تم نے ؟ سب انسپکٹر نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا
اپنے مالک چودھری کرامت حسین کے بیٹے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رف ف ۔۔۔ رفاقت حسین کے خلاف۔ مالک کا نام لیتے ہوئے شوکت علی کی زبان لڑکھڑانے لگی تھی۔

کیا ؟؟؟ اپنے مالک کے خلاف ؟؟ اپنے مالک کی نمک حرامی کرتے ہوئے۔۔۔ شرم نہیں آتی تمہیں بےشرم ؟ سب انسپکٹر شوکت پر یکدم برہم ہو گیا۔ شاید اس طرح وہ خود چودھری صاحب کے کھائے نمک کی قیمت چکانا چاہتا تھا لہذا نمک حرامی کے بارے میں وہ سوچ بھی کیسے لیتا۔

آخر نئی نئی جوان ہوئی ہے، عاشق تو کئی بنا رکھے ہوں گے اس نے اپنے۔ اب ساری باتیں وہ بھلا تجھے تھوڑے ہی بتاتی ہوگی۔ بس انہی میں سے بھاگ گئی ہو گی اپنے کسی عاشق کے ساتھ، اور تو یہاں ہمارا سر کھانے آ گیا ہے۔ جیسے تیری بیٹی کی زمہ داری پولیس نے اٹھا رکھی تھی۔ گھر جا کر انتظار کر آ جائے گی خود ہی کچھ دنوں تک۔ گھر سے بھگا کر بھی کوئی نہیں رکھتا اتنے دن کسی لڑکی کو اپنے پاس۔ نیا نیا خمار ہوتا ہے بس جب اتر جائے گا تو خود ہی چھوڑ جائے گا وہ جس کے ساتھ بھاگی ہے یا پھر وہ بھی ۔۔۔۔۔۔۔ جو اٹھا کر لے گیا ہے!!! میری بات کو سمجھ گیا نہ تو ؟؟؟ سب انسپکٹر نے معنی خیز نظروں سے شوکت کو دیکھتے ہوئے کہا۔

سب انسپکٹر کے الفاظ کیلوں کی مانند شوکت کو اپنے وجود میں چبھتے محسوس ہوئے۔ اسے لگا جیسے اسے میخیں ٹھونک کر صلیب پر لٹکا دیا گیا ہو۔ جہاں لٹکا وہ شاید سوچ رہا ہے کہ کیا بیٹی کی عصمت کو تار تار کر کے واپس لوٹانے والے کو ہی اب مسیحا بھی سمجھنا ہو گا ؟ شوکت علی کا بےبس اور طمانچوں سے سرخ چہرہ اب آہستہ آہستہ ذرد پڑنے لگا تھا۔ جسم پہ پڑی لاتوں کا درد اب کرب میں بدلنے لگا تھا۔ سب انسپکٹر کے الفاظ کی صورت چبھنے والی ان میخوں نے اس کی روح کو بھی چھلنی کر دیا تھا۔ اس کا وجود شرم میں اس قدر ڈوب گیا کہ پانی آنکھوں سے چھلکنے لگا اور وہ شرمندگی کے ساتھ اپنے مردہ جسم کو گھسیٹتا ہوا گھر کی طرف چل پڑا۔

خوشی ہو یا غم، پہلے احساس بن کر دل میں داخل ہوتا ہے۔ پھر دل کو لبریز کرنے لگتا ہے۔ دل کے لبریز ہو جانے کے بعد چھلکنے لگتا ہے۔ جب خوشی چھلکتی ہے تو انسان مست ہو کر ناچنے لگتا ہے۔ لیکن جب غم دل کی حد توڑ کر وجود سے باہر نکلتا ہے تو انسان ماتم کناں ہو جاتا ہے۔ شوکت کی بیوی بھی بیٹی کے غم میں نڈھال ہوتی اپنا سینہ پیٹ رہی تھی اور وہ خود بےبسی کا بت بنا یہ سوچ رہا تھا کہ اس نے کل کام پر بھی جانا ہے۔ اسی چودھری صاحب کی زمین پر آبیاری کرنے ۔۔۔۔۔ جس نے انکی زندگی کو بنجر بنا دیا ہے۔ کیونکہ اگر کام نہیں کریں گے تو کھائیں گے کہاں سے ؟ آخر دو مزید بیٹیاں اور بیٹا بھی تو گھر میں موجود ہیں۔ شوکت کی وحشت زدہ آنکھوں میں بہتا پانی اب سرخ ہونے لگا تھا۔

اگلے ہی دن شوکت علی کو کرامت حسین یعنی بڑے چودھری صاحب نے اپنے پاس بلا کر اچھی طرح سمجھا بھی دیا۔ دیکھ شوکت ۔۔۔ بچے کھڈونوں سے کھیلتے ہیں اور بچے سے کھڈونا اگر ٹوٹ جائے تو اس پر کھڈونا دینے والا برا نہیں مناتا۔ کیونکہ کھڈونوں نے آخر ٹوٹنا ہی ہوتا ہے۔ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ تم سارے لوگ ہمارے نسلی ملازم ہو۔ تمہاری زندگیاں رہن پڑی ہیں ہمارے پاس۔ دیکھ اور غور سے سمجھ اس بات کو!! ہمارا برتر اور تم لوگوں کا کمتر ہونا ۔۔۔۔۔ یہ سب اس اوپر والے کی تقسیم ہے اور اس مالک کے سامنے کسی کا کوئی بس نہیں۔ اس نے ہر بندے کو اس کی اوقات میں ہی پیدا کیا ہے اور تمہاری اوقات یہی ہے جو تجھے بھولنی نہیں چاہیے۔ مجھے تھانے سے فون آیا تھا کہ تو وہاں گیا تھا ان کے پاس ؟؟ دیکھ ۔۔۔ میں یہ تیری پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر معاف کر دیتا ہوں۔ لیکن اگلی بار غلطی کی معافی نہیں ملے گی۔ غلطیاں تو ناسمجھ بال کرتے ہیں جیسے تیری دھی نے کی ۔۔۔۔ مگر تُو تو سیانا بیانا ہے۔ اپنی اوقات یاد رکھ جو اوپر والے نے تمہیں دی ہے اور ہر حال میں اس کا شکر کیا کر بس۔ ورنہ اس کی لاٹھی تو بعد میں برسے گی پہلے میرے ان حواریوں کی بندوق چل جانی ہے تجھ پر ۔۔۔ آخر تیری دو ہور وی بچیاں ہیں کچھ سوچ ان کے بارے میں بھی۔ اور ہاں اس بات کو اپنے گھر سے اب باہر مت نکلنے دینا ورنہ دھی کے ساتھ ساتھ عزت بھی نہیں بچے گی تمہارے پاس!! میں کہوں گا اپنے بچے کو بھی، چھوڑ دے گا جلدی تیری دھی کو۔ چل جا اب اپنے کام پر دھیان دے۔

آری کے دندے تھے جو زینب پر روزانہ چلتے تھے۔ اس نے اب سسکنا بھی چھوڑ دیا تھا۔ یا شائد اس میں اب سسکنے کی بھی ہمت نہیں رہی تھی۔ وہ ایک بے جان وجود کی مانند ہی پڑی تھی جب رفاقت حسین اسے دیکھ کر بولا
تُو تو واقعی بڑی شرمیلی ہے، مگر ہماری بے شرمی تو اب کھل کر دیکھ لی نہ تو نے ؟ پر کیا کریں ۔۔۔ دل لگ گیا ہے ہمارا تیرے ساتھ، اسی لیے تو تجھے اتنے دنوں سے رکھا ہوا ہے یہاں اپنے پاس۔ اب دل بھرے ہمارا تو تجھے چھوڑیں گے نا!!! رفاقت بھیانک ہنسی ہنستے ہوئے زینب سے مخاطب تھا۔ زینب جو ایک زندہ لاش کی طرح چارپائی پر پڑی تھی، رفاقت کے الفاظ اسے اب سنائی نہیں دے رہے تھے بلکہ ایسے نشتر کی مانند چبھ رہے تھے جس کے ناخن میں کھب جانے پر تو تکلیف ضرور ہوتی ہے مگر اسے نکالتے ہوئے تکلیف اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

اس واقع کو پورا ایک مہینہ گزر چکا تھا۔ زینب کی ہونے والی ساس رسماََ پھیونیوں کی ٹوکری لیے شب برات کو ان کے گھر آ پہنچی جسے دیکھ کر شوکت اور اس کی بیوی کی پریشانی انتہا کو پہنچ گئی۔ پھر اچانک تڑاخ کی آواز سے دروازہ کھلا اور زینب ننگے سر اجڑے بالوں، پھٹے لباس اور ڈگمگاتے قدموں کے ساتھ گھر میں داخل ہوئی۔ بیٹی کو گھر میں داخل ہوتا دیکھ کر شوکت اور اس کی بیوی کی آنکھوں میں خوشی کی لہریں دوڑنے لگیں جبکہ زینب کی ہونے والی ساس نے اسے حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

یہ زینب کہاں سے آ رہی ہے۔۔۔۔۔ اور وہ بھی اس حالت میں ؟؟
ارے پابھی جی پاس والے گھر میں گئی تھی اپنی سہیلی سے ملنے ۔۔۔۔ جوان ہو رہی ہے پر بچپنا نہیں گیا ابھی تک اس کا۔ ارے بیٹی دیکھ تو لیا کر آخر بڑے بیٹھے ہیں گھر میں پلا سر پہ دوپٹہ تو رکھ کے آ ۔۔۔۔۔ جھلی بے شرم نہ ہو تو۔ زینب کی ماں نے اسے ہونے والی ساس کے سامنے ڈانٹا۔

"باجی جھلی بے شرم بے شرم" قمیص پہنے، پاجامے اور ماحول سے بے نیاز چھوٹا بھائی زینب کے گرد شور کرتا اچھل اچھل کر چکر کاٹنے لگا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */