پی جی 13 - فرح رضوان

پی جی 13 کی اصطلاح آپ نے بھی اکثر ٹی وی شوز پر بطور وارننگ لکھی دیکھی ہو گی جو والدین کو پیئرنٹل گائیڈ لائین کے طور پر دی جارہی ہوتی ہے کہ جو مواد دکھایا جا رہا ہے یہ 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے نا مناسب ہے پیرینٹس یا والدین کو ایکشن لے کر یہ بندوبست کرنا چاہیے کہ بچے ایسی ویسی چیزیں نہ دیکھ سکیں🔞 موجودہ دور میں باہر کھانا صرف فیشن یا ٹرینڈ نہیں بلکہ بہت سی جگہوں پر ضرورت بھی بن گیا ہے ۔۔۔بہت سے رسٹورینٹس۔۔آوٹ لیٹس اور فرنچائیز کھلنے سے لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی ملتے ہیں ۔۔پر ایک شرمناک اور حیران کن نظارہ جس سے فیملیز اور والدین کو اکثرگزرنا پڑتا ہے وہ کپلزیا جوڑوں کا ان کھانے پینے کی جگہوں کو بطور ڈیٹنگ پوائنٹ استعمال کرنا ہے۔۔جہاں وہ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ یہ ان کا بیڈ روم نہیں عوامی مقام ہے جہاں ماں باپ اپنے بچوں کے ساتھ کھانا کھانے آتے ہیں۔۔امریکہ کی ایک معروف کمپنی جس کی وجہ شہرت فرائیڈ چکن ہے اور جس نے سماعت سے محروم افراد کو اپنے کریو میں جاب دے کر پاکستان میں ایک مثال قائم کی ہے اسے ڈیٹنگ کپلز کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے .

خصوصا" ان مقامات پر جہاں گونگے بہرے لوگ کریو میں ویٹر کے طور پر موجود ہیں . گذشتہ دنوں میں آئی آئی چندریگر روڈ پر ایسی ہی اک آوٹ لیٹ پر موجود تھی اور لنچ کر رہی تھی ۔۔ کچھ فاصلے پر ایک لڑکا اور لڑکی ایک ٹیبل کے ایک ہی سائیڈ پر موجود تھے۔۔ان کی حرکتیں۔۔نازیبا تھیں۔۔ایک فیملی جو اپنے بچوں کے ساتھ وہاں موجود اس نے اس جوڑے کی شکایت کی۔۔جس پر منیجر نے بجائے کپل سے باز پرس کرنے کے۔۔اس فیملی کو وہاں سے دوسری ٹیبل پر منتقل کروا دیا۔۔جوڑا ہنوز آپے سے باہر تھا۔۔۔کہ ایک عورت اپنے بچوں کے ساتھ آئی وہ کھانا کھا رہے تھے کہ ماں نے اس جوڑے کی نازیبا حرکات کو محسوس کیا۔۔ماں انھیں گھورنے لگی۔۔پھر اس نے جا کر مینجمنٹ سے شکایت کی جس پر اس فرنچائیز کی جی آر او لڑکی نے کہا کہ مجھے خود شرم آرہی ہے عجیب بے غیرت کپل ہے میں چاہ کر بھی کچھ نہی کر سکتی کہ ہم اپنے کسٹمرز سے بد تمیزی نہیں کر سکتے ہم مجبور ہیں۔۔ ماں واپس آ گئی باہر جمعے کی نماز شروع ہوگئی تھی جماعت کی وجہ سے راستہ بلاک تھا۔وہ باہر بھی نہیں جاسکتی تھی ۔۔۔اور کوئی ٹیبل خالی نہیں تھی۔۔ماں چاہ کر بھی اپنے بچوں کو اس کپل کے بےہودہ نظاروں سے نہیں بچا پا رہی تھی۔۔

ماں نے عجب کام کیا اس نے اس کپل کی جانب سیل فون کر کے ان کی ویڈیو بنانی شروع کر دی ۔۔ جس پر اس کپل کو احساس ہوا اس کپل میں موجود لڑکی اس ریسٹورنٹ کی مینجمنٹ کے پاس گئی اور کہا اس بندی نے ہمیں شوٹ کیا ہے ہمیں اس کا سیل دیکھنا ہے اس کو کس نے حق دیا ہے؟؟ جی آر او اس ماں کے پاس آئی اور خاصے سخت لہجے میں کہاں آپ نے ان کی ویڈیو اور تصاویر لی ہیں۔۔ماں بولی۔۔ ہاں۔۔کیونکہ یہ پاکستان ہے یہ لاس ویگاس نہیں ہے۔۔ہم مسلمان ہیں ہم اور ہمارے بچے یہاں کھانا کھانے آئے ہیں ان کے گھٹیا نظارے دیکھنے نہیں آئے۔۔میں ان تصاویر کو وائرل کرونگی تاکہ اس لڑکے اور لڑکی کے ماں باپ کو بھی پتا چلے کہ ان کی اولاد کیا گل کھلا رہی ہے۔۔لڑکا اس نوجوان اور بظاہر ماڈرن نظر آنے والی ماں کو دھمکی دینے لگا کہ تم کوتو میں بتاتا ہوں ابھی۔۔ ہمارا حق ہے ہم جو چاہے کریں ۔۔تم ہوتی کون ہو ہمیں روکنے والی۔۔۔۔اس پر اس ماں نے کہا۔ اوکے۔۔ میں ابھی پولیس کو کال کرتی ہوں۔۔یہاں کے سی۔سی۔ٹی۔وی کیمرے میں بھی تمھارے کرتوت ریکارڈہیں۔۔اچانک کپل میں موجود لڑکی اس ماں کے قدموں میں بیٹھ گئی اور کہاں آپ کو آپ کی بچی کا واسطہ میری عزت رکھ لیں۔

ایسا نہ کریں۔میرے گھر والے مجھے مار دیں گے۔۔وہ روتی جا رہی تھی۔۔ اس ماں نے اس کو غصے سے دیکھا اورکہا۔۔میں چاہتی تھی میرے بچے یہ غلط حرکتیں نہ دیکھیں۔۔میں نے اپنے بچوں کو امریکہ سے پاکستان اس لیے شفٹ کیا تھا کہ یہ مسلم کنٹری ہے۔۔مجھے اپنے بچوں کو بے حیائی سے بچانا ہے۔۔اور تم ۔۔تم کو اپنے ماں باپ کا اپنی عزت کا ذرہ برابر بھی احساس نہیں۔۔اگر وہ یہ سب دیکھ لیں۔۔تو۔۔ وہ مر جائیں گے۔۔تماشہ بننا ایک لمحے کی کہانی ہے ساری عمر جس کا کفارہ ادا کرنا پڑتا ہے بے وقوف لڑکی۔۔ پھر اس ماں نے ویڈیو اور تصاویر ڈیلیٹ کر دیں۔۔ لڑکی روتی جاتی تھی اور شکریہ ادا کرتی جاتی تھی۔۔۔ ماں نے اس فرنچائیز کے مینجر سے کہاں آپ کو یہ سب روکنا چاہیے۔۔یہ ریڈ لائیٹ ایریا نہیں ہے جہاں یہ سب الاو ہو ۔۔یہ ہمارے اور آپ کے رزق کی جگہ ہے اسے ناپاک نہ ہونے دیں بہت مہربانی ہو گی آپ کی۔۔ اس ماں کی جرات دیکھ کر مجھے خیال آیا ۔۔۔ماوں کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔مضبوط، باعمل اور باکردار .

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.