ایک پوری کھیپ تیار ہے - ہمایوں مجاہد تارڑ

اب تک ملے معلوماتی ایکسپوژر کی بنا پر جنید حفیظ قصوروار ہے، اور قانون میں اس کی سزا وہی ہے جو سنا دی گئی۔ میں ناچیز ملتان کے تعلیمی اداروں میں ایسے ماحول سے پوری طرح آگاہ ہوں۔ عینی شاہد ہوں کہ شہر ملتان کے اساتذہ میں ملحدین ایک تگڑی تعداد میں موجود ہیں۔ نیز، سیکولر/لبرل کے لبادہ میں ملبوس قادیانی حضرات و خواتین نے بھی خاصی انت مچا رکھی ہے۔ کالجز اور یونیورسٹی میں پورا پورا انگلش ڈیپارٹمنٹ ایسے ہی لوگوں سے لدا پڑا ملے گا جو لٹریچر پڑھاتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کی sensitivities پر پوری منصوبہ بندی سے حملہ آور ہوتے ہیں۔ ایک روز وہاں ایک نِیم قادیانی نِیم مسلمان کنفیوزڈ قسم کے دوست نے (دورہ پڑ جانے والی ایبنارمل سی کیفیت میں) بتایا تھا کہ وِیک اینڈز اور شام کے اوقات میں اِن دانشوروں کی میٹنگز ہوا کرتی ہیں جن میں باقاعدہ طے کیا جاتا ہے کہ فلاں ایشو پر فلاں فلاں نکات سے حملہ آور ہوا جائے۔۔۔۔

خیر، اپنی آنکھوں دیکھ رکھا ہے کہ یہ لوگ قائد اعظم اور حکیم الامت کا تمسخر اڑایا کرتے، بخاری شریف پر حملے کرتے، تمام مشاہیر اسلام کے "بت پاش پاش" کرتے نظر آئیں گے۔ طلبہ و طالبات اکثر ایسے اساتذہ سے الجھ پڑتے، اور بعض اوقات دو چار "لگا" بھی دیا کرتے ہیں۔ اس لئے مجھے یہ کہنا ہے کہ اصل قصور جنید کے دورہ امریکہ کا نہیں جہاں کچھ عرصہ اس نے سیکولر ماحول میں لٹریچر پڑھا، بلکہ خود ملتان شریف میں پائے جانے والے نابغوں کا ہے جو ہماری نسلیں اغوا کرنے میں لگے ہیں۔
قادیانیوں کا تذکرہ ضمناٌ آ گیا لیکن اہم ہے۔ اِن کے مبلّغین کی ایک ایپروچ یہ ہے کہ موجودہ نسل کو پہلے ملحد بنایا جائے تا کہ بندہ اپنے بنیادی اعتقادات سے ہٹ جائے۔ اگلے مرحلہ میں حسنِ سلوک اور مدد وغیرہ کے ذریعے "اَل اِحسانُ یقطع السان" فارمولہ پر قادیانی بنانا۔ ظاہر ہے اکثریت کو قادیانی بنانے کا موقع نہیں مل پاتا، تو کم از کم کسی کا سیکولر/ ملحد یا کنفیوزڈ ہو کر "نیوٹرل" ہو جانا ہی ان کے نزدیک کافی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بیشتر نوجوان مولوی اور مذہب مخالف ملیں گے۔ ان میں سے جنید ایسے بعض جوشیلے ہیرو ازم میں آ کر قدرے زیادہ آؤٹ سپوکن ہو جاتے ہیں ۔۔۔ بس یہ ہے کل کہانی۔

یہ ایک ماحول ہے۔ جنید حفیظ قصوروار ہے، لیکن جنید وہاں اکیلا نہیں! یہ ایک پوری کھیپ ہے۔ مجھ ناچیز کا مشورہ ہے کہ حکومت اس ڈیپارٹمنٹ کی خبر لے۔ اس ڈینگی وائرس کے بریڈنگ سینٹر کا قلع قمع کیا جائے۔ ورنہ ایسے افسوسناک واقعات یکے بعد دیگرے رونما ہوتے رہیں گے۔ کم از کم، یہ پابندی عائد کی جائے کہ لٹریچر پڑھانے کی آڑ میں فلاں فلاں sensitivities کو نہ چھیڑا جائے۔ اسی طرح، مولویوں اور داڑھی والوں کی تضحیک کئے بنا بھی آپ اپنا فلسفہ و پیغام کمیونیکیٹ کر سکتے ہیں۔ اکثر مولوی حضرات پر تنقید کی آڑ میں بنیادی اعتقادات اور حسّاس معاملات پر حملہ کیا جاتا ہے۔ باقی، اہلِ مذہب کی طرف سے تنگ نظری پر مبنی مظاہرے ایک الگ موضوع ہے۔۔۔ تحریکِ ختمِ نبوّت کے ہنگام بے شمار دلخراش واقعات ہوئے جب قادیانی کمیونٹی کو خوب ٹارچر کیا گیا۔ قانون تو پاس ہو گیا جو کہ ایک عمدہ ڈویلپمنٹ تھی، لیکن اس "زلزلہ" کے آفٹر شاکس میں بھی بہت سے افسوسناک واقعات ہیں۔ اس کمیونٹی کو پیار محبت سے اسلام کا پیغام دیئے جانا ہی درست راستہ تھا اور ہے۔ تاہم، ایک پہلو ایسے شرارتی لبرلز/سیکولرز کا اور قادیانی حضرات کا، ان کے مبلّغین کا، کبھی بھی باز نہ آنا ہے۔ یہ خود پہل کرتے، چھیڑتے، حملہ آور ہوتے ہیں۔

مقصد کیا ہوتا ہے؟ — کہ مخاطب مشتعل ہو کر اس موضوع پر اپنی معلومات/نکات کو reveal کرے۔ تب نکتہ در نکتہ "دلائل" کیساتھ انہیں توڑا جائے۔
اپنی آنکھوں دیکھ رکھا ہے کہ ملتان کے اداروں میں سیکولر/لبرل/ملحد اور رَل گدڑ یعنی ہائی برِڈ قسم کے قادیانی اساتذہ کسقدر غیر علمی اور ناشائستہ انداز میں حملہ آور ہوتے ہیں ــــ بجائے اس کے کہ وہ اپنی علمیت سے متاثر کریں، ریسرچ کے طریقہ کار پر بات کریں، رائٹنگ اور سپیکنگ سکِلز اِمپروو کرانے کی تکنیکس بتائیں، عمدہ فِیڈ بیک دیں جو اس سطح کی تدریس میں مشکل ترین کام ہے، گردوپیش میں شدّت پسند اہلِ مذہب کی موجودگی کا احساس دلا کر اس سماج کے مخصوص فیبرک کو مدّ نظر رکھتے ہوئے سوال کرنے کی تہذیب سکھائیں ۔۔۔ وہ خود کافی بُرے رول ماڈلز بنے ہیں۔ چند نوجوان لڑکے لڑکیاں، جن کی کامیابی اُن کی تدریس کی مرہون ہوتی ہے، اپنے روبرو پا کر نجانے وہ کِن ہواؤں میں اڑنے لگ جاتے ہیں۔ بہت دُکھ ہے کہ جنید ایسے باصلاحیت جوان نے اپنی زندگی خراب کر لی۔ اس سے کہیں درجہ زیادہ دُکھ اس بات کا ہے کہ وہ اساتذہ ناکام ہو گئے جو تعلیم و تہذیب دینے کے عہدہ پر مامور کئے گئے تھے۔ جیسا کہ عرض کیا، جنید حفیظ دیگ کا صرف ایک دانہ ہے۔ یہاں ایک پوری کھیپ تیار ہے جس کی ذہنی حالت بھی جنید کی سی ہے لیکن شومئی قسمت، بات کرنے کی تہذیب نہیں سکھائی گئی۔

خود کو آپریٹ کرنا نہیں سکھایا گیا۔ نتیجتاً، وہ جب بھی کچھ اگلیں گے، غیر سنجیدہ و غیر ذمہ دارانہ انداز اپنا کر شاطر دماغی والا شرارتی قسم کا تاثر پیدا کریں گے۔ تب ردّ عمل کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ آپ ذرا اندازہ کریں۔ میں اور میرے کچھ دوست ایک یونیورسٹی پروفیسر کی کلاس میں بیٹھے ہیں، اُس کے اپنے گھر میں۔ یہ نئی کلاس کا پہلا دن ہے۔ وہ صاحب ایک نظم پڑھانا شروع کرتے ہیں۔ اوّلین دو سطروں کی تشریح میں ہی قیامِ پاکستان، بانیِ پاکستان، اور علّامہ اقبالؒ کو مطعون کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ "آج اقبالؒ کا مردِ مومن اپنے ہاتھوں میں کلاشنکوف اٹھائے جہاد کے نام پر انسانوں کو قتل کرتا پھرتا ہے۔۔۔"یہ کون سی دانشمندی ہے، اور تدریس کا کیسا معیار ہے، صاحب! آپ کو کس نے بتایا کہ ایسے کسی نوجوان نے اقبال علیہ الرحمہ کا کلام پڑھ کر کلاشنکوف اٹھا لی؟ صاحب! اگلے روز وہ 15 منٹ لٹریچر پڑھانے کے بعد بخاری شریف کی ایک مستند حدیث کے الفاظ بگاڑ کر پیش کرتے اور اُس کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ جواباً فرنٹ پر بیٹھی دو باپردہ لڑکیاں ہمّت کر کے بول اٹھتی ہیں " سر، جھوٹ تو نہ بولیں!۔۔۔" پیچھے سے ایک باریش سٹوڈینٹ بھی پھڑک اٹھتا ہے اور خود پر قابو رکھتے ہوئے احتجاج کرتا ہے۔۔۔ اُس سے اگلے روز وہ بتائیں گے کہ قرآن man-made ہے۔ یہ کوئی وحی شحی نہیں ہے۔ مجھ ناچیز نے تو یہ کچھ دیکھا۔

کچھ سمجھدار، پڑھے لکھے بے ایمان یہ کارروائی خوب سسٹمیٹک انداز میں چلایا کرتے ہیں۔ ان مجاہدینِ الحاد و قادیانیت کی minimum accomplishment یہ ہوتی ہے کہ اذہان میں شکوک وشبہات پیدا ہو جائیں۔ "علم تو سوال کرنے سے ہے" کی لاجک کو اپنا ہتھیار بنایا جاتا ہے ۔۔۔۔ وہ علمیت والا خلوص کم ہی دیکھا۔ بد نیتی اور شرارت دیکھی۔ یقین جانیں، جب خلوص ہوتا ہے تو زیرِ آسماں ہر موضوع پر بات کی جا سکتی، سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں۔۔۔ بس اتنا ہی!
نوٹ: اس پوسٹ کا اصل مقصد آپ کی توجہ برادر M Aamir Hashim Khakwani کی ایک تازہ پوسٹ کی طرف مبذول کرانا ہے۔ انہی کی وال پر دیکھ لیں۔
ایک بات اور: مختلف پوسٹس پر کسی صاحب کا ایک کامنٹ شیئر کیا جا رہا ہے۔ اس میں بھی صورتحال کا واضح عکس موجود ہے:
"فروری 2013 میں قیصرہ شیراز صاحبہ جو کہ شیریں زبیر کی دعوت پر یونیورسٹی غالبااپنی کتاب کی تقریب رونمائی کے سلسلے میں تشریف لائیں تو IMS کے کانفرنس ہال میں ایک تقریب رکھی گئی . جس میں شیریں زبیر نے جنید حفیظ کو پروگرام شروع کرنے کا کہا تو جنید حفیظ طاقت اور خمار کے نشے میں دُھت مائیک کی جانب بڑھا اور تقریر کا آغاز ان الفاظ سے کیا جو میں پوری ایمانداری سے آپ تک پہنچا رہاہوں۔
In the name of Allah who is always absent without any leave and who's omnipotent absence is always taken as his omnipotent presence.
بسم اللہ کا ایسا مذاک اڑانے پر ساری کی ساری آڈئینس ششدر رہ گئی کہ یہ آدمی کر کیا رہا ہے۔کانفرنس ختم ہوگئی اور بعد میں طلباء نے اسکے خلاف احتجاج کیا اور شیریں زبیر سے جنید حفیظ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا جس پر شیریں زبیر ٹال مٹول کرنے لگی۔

اسکے بعد جنید حفیظ کے گروپ so called liberals of Pakistan میں ایک توہین آمیز پوسٹ آئی جس میں حضور صلی اللہ علیہہ وسلم کو نعوذباللہ peace be upon کی بجائے piss be upon لکھا گیا . جس پر طلباء نے جنید حفیظ کو پوسٹ ہٹانے کا کہا لیکن اُس نے پوسٹ نہ ہٹائی جس پر طلباء نے 12 مارچ کو ایک تحریری درخواست وی سی کو جمع کروادی جس میں کہا گیا کہ اگر جنید حفیظ کو نہ ہٹایا گیا تو کل طلباء پر امن احتجاج کریں گے۔ شیریں زبیر کو اس ساری کاروائی کا پتہ چلا تو اس نے جنید حفیظ کو یونیورسٹی کا قاسم ہال چھوڑ کےاپنے گھر میں ٹہرنے کا کہا جس پر جنید حفیظ شیریں زبیر کے گھر چلا گیا . کیونکہ شیریں نے پہلی ہے طلباء کو دھمکا رکھا تھا کہ احتجاج کرنے والوں کو نکال دیا جائے گا جس پر طلباء خائف بھی تھے اور شیریں زبیر نے یہ سوچا کہ معاملہ رفع دفع کرکے جنید حفیظ کو دوبارہ پھر واپس بلا لے گی۔ لیکن جنید حفیظ کی حرکتیں یونیورسٹی کے تمام ڈیپارٹمنٹس میں پھیل چُکی تھیں اور 13 مارچ کی صبح تقریبا پندرہ سو کا مجمعہ احتجاج کرتا ہوا وی سی آفس پہنچ گیا جس میں سب ڈیپارٹمنٹس کے طلباء شامل تھے۔ موقعہ پر ڈی سی او ملتان، سی پی اور ملتان،انٹیلی جنس اداروں کے اہلکار پہنچے جن کو جنید حفیظ سے متعلق تمام مواد فراہم کیا گیا۔ شیریں زبیر نے جنید حفیظ کو امریکن ایمبیسی کی راہ دکھائی اور اپنے گھر سے فرار ہونے کا کہہ دیا۔

جنید حفیظ کو راستے میں جاتے ہوئے ساہیوال سے گرفتار کر لیا گیا۔ جنید حفیظ نے اپنے اعترافی بیان میں پولیس کے آگے سب کُچھ قبول کر لیا۔ جنید حفیظ کو جب گرفتار کیا گیا ÷ تووہ لاہور والے امریکی کونسلیٹ سے رابطے میں تھا۔ جنید حفیظ پر مقدمہ چلا لگ بھگ بیس کے قریب گواہان پیش ہوئے جن میں سے ایم اے انگلش کے طالب علم اور پی ایچ ڈی پروفیسر بھی شامل تھے۔ جنید حفیظ کے اکاؤنٹ سے وہ سارا مواد ریکور کیا گیا اور اسکے لیپ ٹاپ سے وہ مواد نکالا گیا . جو وہ پوسٹ کرتا تھا اور یہ مواد آج بھی پولیس فائل کا حصہ ہے ۔ اگر کسی کو جنید حفیظ سے ذاتی دُشمنی ہوتی تو وہ موقعے کا بھرپور فائدہ اُٹھا سکتا تھا کیونکہ ان سارے واقعات کے رونما ہونے کے دوران جنید حفیظ یونیورسٹی آتا جاتا تھا۔ جہاں تک جنید حفیظ کے وکیل راشد رحمان کا تعلق ہے وہ این جی او کا وکیل تھا اور سب سے ذیادہ کیس اُسکے پاس گھر سے بھاگی ہوئی لڑکیوں کے ہوتے تھے . اب نجانے کون کمبخت اس سارے کھیل میں اپنی دشمنی نکال گیا کیونکہ جنید حفیظ مُلتان کچہری میں کوئی دس سے پندرہ دفعہ پیش ہُوا لیکن اس دوران کبھی کسی نے جنید حفیظ کیخلاف نہ تو کمرہ عدالت میں اور نہ کچہری کے احاطے میٓں نعرہ تک لگایا۔

یہ کیس بڑی خاموشی سے چل رہا تھا کہ اچانک راشد رحمان کا قتل ہوگیا جسکا نقصان اس کیس کو ہُوا کیونکہ اسکے بعد مدعی وکلاء پر پریشر مزید بڑھ گیا اور اُن پر جھوٹی ایف آئی آرز بھی ہوئیں جنکو بعد میں بے بُنیاد قرار دے کر خارج کردیا گیا۔ جُنید حفیظ کیخلاف کوئی ایک بھی ایسا گواہ نہیں جو ان پڑھ ہو بلکہ تمام گواہ پڑھے لکھے طلباء ہیں لہذا خامخواہ میں توہین رسالت کے مجرم کو ہیرو بناکر پیش کرنےکی کوشش کی جارہی ہے . ۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جنید حفیظ کو ایک خاص طبقہ کی حمایت حاصل ہے جو یہ جانتا ہے کہ یہ کیس درست ہے لہذا عدالت میں آ کر ثبوت پیش کرنے کی بجائے فیس بُک پر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے . ۔ جنید حفیظ کے وکلاء جان بوجھ کر کیس کو طول دے رہے ہیں۔ گواہ اپنے بیان قلمبند6 کرواچکے،گواہوں پر جرح بھی مکمل ہو چُکی۔ اب صرف دو ہے گواہان پر جرح رہتی لیکن جنید حفیظ کے وکیل پیش نہیں ہوتے۔ کیونکہ اس جرح کے بعد فیصلہ ہونا ہے۔ جنید حفیظ اپنے حق میں ایک بھی گواہ پیش نہ کر سکا یونیورسٹی کی اپنی تحقیقاتی کمیٹی نے بھی جنید حفیظ کو مجرم قراردیا اور شیریں کو اسکا ذمہ دارٹھہرایا لہذا شیریں یونیورسٹی کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد بیرون ملک فرار ہوگئی۔"

Comments

ہمایوں مجاہد تارڑ

ہمایوں مجاہد تارڑ

ہمایوں مجاہد تارڑ شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ اولیول سسٹم آف ایجوکیشن میں انگریزی مضمون کے استاد ہیں۔ بیکن ہاؤس، سٹی سکول ایسے متعدّد پرائیویٹ اداروں سے منسلک رہ چکے۔ ان دنوں پاک ترک انٹرنیشنل سکول، اسلام آباد کے کیمبرج سیکشن میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • اس ساری داستان کو لفظ " قادیانی" استعمال کئے بغیر بیان نہیں کیا جا سکتا تھا کیا؟؟
    کہیں کسی کو برا کہنا ہو، ، ،غدار ثابت کرنا ہو تو اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لئےقادیانی کارڈ سے مدد کیوں لی جاتی ہے؟؟