ڈونلڈ ٹرمپ مواخذہ کاروائی سے بچ نکلےگا - قادر خان یوسف زئی

امریکی تاریخ کے 243برسوں میں ایک مرتبہ پھر طاقت ور ترین صدر ٹرمپ کو باضابطہ مواخذہ کا سامنا ہے۔ صدر جانسن کو 1868میں مواخذہ کا سامنا ہوا تاہم صرف ایک ووٹ کی برتری کی وجہ سے وہ بامشکل کامیاب ہوئے۔سابق صدر بل کلنٹن بھی مواخذہ کا سامنا کرچکے ہیں، سینیٹ نے دونوں صدور کو الزامات سے بری کردیا تھا۔

جبکہ صدر رچرڈ نکسن نے کاروائی سے قبل1974میں مخالفانہ عوامی رائے کی وجہ سے استعفیٰ دے دیا تھا، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کو دنیا بڑی دلچسپی کے ساتھ دیکھ رہی ہے اور اس حوالے سے عوامی رائے واضح منقسم ہے،دوسری جانب ایوان نمائندگان میں ڈیموکرٹیک اراکین کی تعداد ریپبلکن پارٹی اکثریت نہیں رکھتی جبکہ سینیٹ میں ڈیمو کرٹیکس کو اکثریت حاصل نہیں ہے اس لئے امریکی صدر اسے بغاوت سے تعبیر کرتے ہیں اور امریکا کے لئے تباہ کن عمل قرار دے رہے ہیں۔ سینیٹ میں صورتحال صدر ٹرمپ کے حق میں جا سکتی ہے اور توقع ہے کہ سینیٹ میں امریکی صدر اس بحران سے نکلنے میں کامیاب ہوجائیں گے تاہم انہیں نومبر کے انتخابات میں عوام کے سامنے بہرحال جوابدہ ہونا ہوگا، جو پہلے ہی امریکی صدر کی متنازع پالیسیوں پر حامی نظر نہیں آرہے ا و رمنقسم ہیں۔ صدر ٹرمپ اس وقت ایک ایسے امریکی صدر ہیں جو دنیا میں واحد سپر پاور کا استعارہ سمجھے جاتے ہیں۔ خود ان کے لئے مواخذے کی کاروائی غصے کا سبب بنی ہوئی ہے۔ صدر ٹرمپ ریاست مشی گن کی ایک ریلی میں اپنے خلاف کاروائی پر مذمت کی تھی اور اسپیکر پیلوسی کو اپنے خط میں مواخذے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔

صدر ٹرمپ کو اس وقت اختیارات کے غلط استعمال کے الزام کا سامنا ہے، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے یوکرین پر دباؤ ڈالا کہ وہ ان کے سیاسی حریف جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کا اعلان کرے جبکہ دوسرا الزام کانگریس کی تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا ہے کیونکہ صدر نے مبینہ طور پر مواخذے کی تحقیقات کے سلسلے میں تعاون سے انکار کیا، دستاویزی ثبوت روکے اور اپنے اہم ساتھیوں کو ثبوت دینے سے بھی منع کیا۔واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے مبینہ طور پر یوکرین کے صدر سے فون پر گفتگو میں کہا کہ وہ جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کے ایک یوکرینی گیس کمپنی میں کام کرنے کے دوران جو بائیڈن پر بدعنوانی کے امکانات کے حوالے سے تحقیقات کریں۔ اس خفیہ گفتگو کی تفصیلات ایک وسل بلوئر کے ذریعے سامنے آئیں جس کے بعد امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کے امکانات کے حوالے سے تحقیقات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔صدر ٹرمپ اس الزام کی سختی سے تردید کرتے ہیں کہ انھوں نے یوکرین کے صدر سے چار سو ملین امریکی ڈالر کی فوجی امداد کے عوض سابق امریکی نائب صدر جو بائڈن کے بیٹے کی کمپنی کے خلاف تحقیقات شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔وائٹ ہاؤس نے باقاعدہ کاروائی کو روکنے کی کوشش کی جبکہ ریپبلکن پارٹی اراکان نے اجلاس شروع ہونے سے ’رول کال‘ کا سہارا لینے کی بھی کوشش کی تاکہ اجلاس کو تکینکی بنیادوں پر روکنے کا حربہ استعمال کیا لیکن یموکرٹیکس اراکین نے اسے کامیا ب نہیں ہونے دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان کے ایوانِ بالا کے ما تھے کا جُھومر - محمد عبدالشکور

ریپبلکن پارٹی نے ڈیموکرٹیک کے قائدین کے خلاف مذمتی قرارداد بھی پیش کرکے موخذاے کے کاروائی کو روکنے کی کوشش کی۔ لیکن صدر ٹرمپ کی پارٹی کو کامیابی حاصل نہ ہونا، امریکی صدر کے لئے سبکی و پریشانی کا سبب بن رہا ہے۔ سینیٹ میں جنوری2020میں رائے لی جائے گی جس کے بعد امریکی سیاسی بحران کا حتمی فیصلہ انتخابات سے قبل ہوجائے گا۔امریکی سیاسی تاریخ کے تناظر میں صدر کے موخذاے کے اثرات سے دنیا بھی متاثر ہوگی۔امریکا کے سیاسی درجہ حرات میں تیزی کا سبب خود صدر ٹرمپ کو بھی قرار دیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے ٹویٹر بیانات میں اپنے مخالف امیدوار جوبائیڈن کو مسلسل تنقید بنایا۔ عوامی جائزوں میں صدر ٹرمپ کے جارحانہ بیانات کی وجہ سے ڈیموکرٹیک پارٹی کے امیدواروں کی مقبولیت میں کمی واقع ہونا شروع ہوگئی تھی جس کے ردعمل پر جوبائیڈن نے بھی جارحانہ طرز عمل اختیار کیا اور صدر ٹرمپ کو نازی دور کے وزیر جوزف گوئبلز سے تشبیہ دیتے ہوئے امریکی اقدار کو متاثر کرنے اور جھوٹ، دروغ گوئی کے فروغ دینے کے الزام عاید کرنے لگے۔بائیڈن کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکہ کے نائب صدر رہتے ہوئے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے اور صدر ٹرمپ کے الزامات جھوٹے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے جو بائیڈن کے اس بیان کے فوراً بعد ایک ٹویٹ میں جوزف بائیڈن کو ایک مرتبہ پھر ”خوابیدہ جو“ کے الفاظ سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو بائیڈن اور اُن کے بیٹے نے امریکہ کے ٹیکس دہندگان کو نقصان پہنچاتے ہوئے کم سے کم دو ممالک کو لاکھوں کروڑوں ڈالر سے محروم کر دیا ہے اور اب وہ میرے مواخذے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے اور جو بائیڈن کے پاس اپنی ناکام صدارتی مہم کے باعث مجھ پر بے جا تنقید کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ریپبلکن پارٹی کا واضح موقف ہے کہ صدر ٹرمپ نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ لیکن ڈیموکرٹیک صدارتی انتخابات سے قبل سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھانے کے لئے مسلسل سخت اقدامات کئے جارہی ہے۔لیکن سینیٹ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ڈیمو کرٹیک پارٹی کی کامیابی کے امکانات معدوم ہیں کیونکہ سینیٹ میں انہیں مواخذہ کی کاروائی کو کامیاب بنانے کے لئے ریپبلکن پارٹی کے20اراکین کو بھی ساتھ ملانا ہوگا، جس کے بعد ہی دوتہائی اکثریت حاصل ہوسکے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   صدر ٹرمپ کا مواخذہ آخری مراحل میں - مسعود ابدالی

مواخذہ کی کاروائی کے لئے ڈیمو کرٹیک پر انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کا دباؤ ہے کہ اگر وہ صدر ٹرمپ کے خلاف کاروائی نہیں کرتے تو ان کی مقبولیت میں مزید کمی ہوتی،کیونکہ ڈیمو کرٹیک اراکین اس عمل کو آئین کی بالادستی قرار دیتے ہیں کہ امریکی سینیٹرز امریکی اقدار کے تناظر میں مواخذہ کو کامیاب بنائیں۔انہوں نے اُن ریپبلکن اراکین کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو صدر ٹرمپ کی حمایت کررہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ریپبلکن اراکین کو سیاسی بنیادوں پر نہیں بلکہ امریکی ایوان کا حصہ ہونے کے باعث غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ جبکہ ری پبلکن پارٹی پورے عمل کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ و غلط قرار دینے پر بضد ہے کیونکہ مواخذے کے کاروائی سے صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم بُری طرح متاثر ہوگی۔صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذہ کی کاروائی سے سیاسی دباؤ و عوامی توجہ میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈیمو کرٹیکس موجودہ سیاسی صورتحال کو اپنے حق میں بدلنے اور عوامی رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ صدارتی انتخابات میں انہیں صدر ٹرمپ پر سبقت حاصل ہوجائے۔تاہم اس کے نقصانات بھی سامنے آنے کے خدشات ہیں اس طرح ڈیموکرٹیکس کو ری پبلکن کے ووٹ حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوگا اور سخت گیر موقف کی وجہ سے ڈیمو کرٹیکس کو سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکی صدر ٹرمپ اپنے متنازعہ بیانات و اقدامات کی وجہ سے پہلے ہی پوری دنیا کی توجہ کا مرکز رہتے ہیں اور کئی عالمی معاملات میں ایسی پالیسیاں بھی نافذ کیں جس سے امریکا اتحادی ممالک کے درمیان اختلافات نے جنم لیا۔ مواخذہ کا انجام جو بھی ہو، لیکن یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ صدر ٹرمپ تنقید کو سخت پسند کرتے ہیں، ان کے ساتھ جڑی کئی اہم اعلیٰ امریکی حکام، صدر ٹرمپ کے متلون مزاجی کے سبب اپنے عہدوں سے مستعفی بھی ہوچکے ہیں، حالیہ سیاسی مسئلہ انہیں صدارتی انتخابات میں مزید سخت گیر بناتے ہوئے مخالفین کے خلاف کڑے بیانات دینے پر مجبور کرے گا۔

گوکہ پہلے ہی ٹویٹر پر جس طرح صدر ٹرمپ اپنے حریفوں کو آڑے ہاتھوں لیتے رہے ہیں، مواخذہ کی کاروائی کسی بھی انجام تک پہنچنے سے قبل و بعد میں صدر ٹرمپ کی لفظی گولہ باری سے امریکا کے سیاسی میدان کو گرماتا رہے گا اور مخالفین پرذاتی حملے امریکی عوام محظوظ بھی ہوتے رہیں گے۔ آنے والے صدارتی انتخابات یقیناََ امریکی عوام و دنیا کے لئے دلچسپ اور ہنگامہ خیز ثابت ہونے کی توقع ہے۔