پرویز مشرف ہیرو تھے - محمد طیب زاہر

ماضی بہت ظالم ہوتا ہے ۔گڑے مردے پھر سے باہر آجاتے ہیں ۔اپنے کئے ہوئے ہر عمل کا ذمہ دار انسان خود ہوتا ہے ۔سابق صدر جو کسی سے ڈرتے ورتے نہیں تھے آج ان کی حالت دِگر گوں ہیں گو کہ وہ اب بھی پُر عزم ہیں کہ انہوں نے ملک کی خدمت کی اور اس کی خاطر تین جنگیں لڑیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرف ایک قابل فوجی افسر تھے جو اپنی محنت اور صلاحیتوں کے باعث آرمی چیف کے عہدے پر براجمان ہوئے۔

کچھ لوگوں کے مطابق جب 20 نومبر 1979 کو مسلح گروپ نے خانہ کعبہ پر قبضہ کرنا چاہا اور سعودی حکومت کی تمام تدابیریں کارگر ثابت نہ ہوئیں تو ایسے میں پاکستان کی ایس ایس جی یعنی اسپیشل سروس گروپ کی خدمات حاصل کی گئیں اور بالآخر اس ارض مقدس پر مسلح افراد سے جان خلاصی کرادی گئی اُس وقت ایس ایس جی میں بطور میجر پرویز مشرف بھی اس جہاد کا حصہ تھے ۔ ( جبکہ اس کی بھی تردید آچکی ہے کیونکہ 1979 میں پرویز مشرف میجر نہیں بلکہ کرنل تھے ) لیکن اس کے ساتھ ساتھ جب سابق صدر نے ایک منتخب حکومت کا تختہ اُلٹا اور سیاہ سفید کے مالک بن بیٹھے ۔ اُس وقت 2002 کے انتخابات سے قبل کوئی منتخب اسمبلی نہ تھی ۔مطلق العنانیت کے منصب پر فائز تھے تو فقط پرویز مشرف۔سابق صدر نے اپنے آپ کو تخت پر برقرار رکھنے کے لئے سپریم کورٹ کی طرف دیکھا اور انہوں نے اپنے آپ کو لیگل کرنے کے لئے درخواست دی اُس وقت کی سپریم کورٹ نے اپنے بقول حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے مشرف کی بھرپور حمایت کردی اور یوں اِن کے مارشل لا کو آئینی حیثیت مل گئی ۔

یہی وہ وقت تھا جب مشرف متنازع ہونے لگے اور اپنے اقتدار کی آخری سانسوں سے لے کر اب تک وہ ایک متنازع شخصیت بن کر اُبھرے۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے نہ صرف اُس وقت مشرف کے مارشل لا کو جلا بخشی بلکہ ان کو یہ اختیار بھی دے دیا کہ وہ آئین میں اپنی مرضی سے ترمیم کرلیں۔ پھر کیا تھا مشرف کو وہ تمام اختیارات مل گئے جو ایک جمہوری حکومت کے پاس ہوتے ہیں لیکن فرق یہ تھا کہ وہ فردِ واحد تھے جن کے پاس اقتدار کی تمام قوت تھی اور اسی کے چلتے اگست 2002 میں انہوں نے لیگل فریم ورک آرڈر پاس کرایا ۔اس قانون کے تحت مشرف آزاد تھے کہ وہ آئین میں کسی بھی طرح کی ترمیم کرسکیں سو وہ اس راستے پر گامزن ہوگئے ۔مشرف کو با اختیار کرنےوالی اُس وقت کی عدالت عالیہ تھی ۔میں اُس وقت کی عدالت عالیہ کے الفاظ بار بار اس لئے استعمال کر رہا ہوں کیونکہ آج کی عدلیہ اور اُس وقت کی عدلیہ میں ایک بہت بڑا فرق تھا۔ آج کی عدلیہ مؤثر انداز میں اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہے اور بہت سے تاریخی فیصلے کر رہی ہے جو آج سے پہلے نہیں ہوئے۔ اُس وقت کی عدلیہ جس نے پرویز مشرف کو کھلی چھٹی دی اور اس پر مہر ثبت کرنے والے جو جج تھے وہ افتخار محمد چوہدری تھے جو بعد ازاں مشرف کی ایمرجنسی کو غیر قانونی قرار دیتے پائے گئے ۔مشرف کے اقتدار کو طول دینے میں اُس وقت کے جج افتخار محمد چوہدری بھی برابر کے مجرم ہیں ۔ان کا عمل مشکوک اورآئین سے متصادم ہیں۔آئین کی رکھوالی کرنے والے نے اس کو ایک آمر کے ہاتھ میں سونپ کر اس کے تقدس کو مجروح کر ڈالا۔

ان کے ساتھ ساتھ مشرف کی 2002 کے انتخابات میں بننے والی کابینہ بھی اس جرم میں برابر کی حصے دار ہے۔اب آجاتے ہیں مشرف کی 2007 میں لگنے والی ایمرجنسی پر .مسلم لیگ ن نے 2013 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور اس کے بعد انہوں نے مشرف کی ایمرجنسی کو سنگین غداری قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ۔اب ان کو اس میں کامیابی ملی ہے ان کو بہت بہت مبارک ہو لیکن یہ مسلم لیگ ن کی عوام کے سامنے محض فیس سیونگ کے سوا اور کچھ نہیں ۔ فیس سیونگ اس لئے نہیں کہ مشرف کو پھانسی کی سزا ملی بلکہ وہ اس لئے کہ انہوں نے موقع غنیمت جان کر تیر کو نشانے پر مارا تاکہ عوام ان سے یہ سوال نہ کرتی کہ آپ اقتدار میں آئے اور آپ نے ان کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہ کی ۔ظاہری سی بات ہے مسلم لیگ ن کی حکومت کا خاتمہ مشرف نے کیا اور دوبارہ اقتدار ملنے کی وجہ سے عوام سوال کرتی کہ آپ نے مشرف کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی تو انہوں نے مشرف کو ان کی ایمرجنسی والے اقدام پر دھرنے کا فیصلہ کیا بقول احمد فراز : سُنا ہے اُس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں - سو ہم بہار پر الزام دھر کے دیکھتے ہیں۔

مسلم لیگ ن نے بجائے اس کے کہ وہ مارشل لا کو لے کر مشرف پر کیس چلاتی اس نے محفوظ حکمت عملی اپناتے ہوئے موقع پر چھکا مارنے کو ہی غنیمت جانا ۔اب سوال یہ ہے کہ مسلم لیگ ن نے اپنی حکومت کے جانے پر پرویز مشرف کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی تو اس کا جواب سیدھا سا ہے کہ جس طرح مشرف کو ایل ایف او دینے والے ذمہ دار ہیں ٹھیک اسی طرح مشرف کے 12 اکتوبر 1999 کو لگنے والے مارشل لا کو خوش آمدید کہنے والے بھی برابر کے مجرم ہیں اور آج کل یہ سیاسی بٹیر کہیں مسلم لیگ ن میں ہیں کچھ ق لیگ میں ہیں اور کچھ حکومت میں تو ایسے میں اگر ن لیگ مارشل لا پر مشرف کے خلاف مقدمہ دائر کرتی تو اس کے اپنے بھی اس کی زد میں آجاتے اسی کے پیشِ نظر انہوں نے اس کے خلاف کارروائی سے دریغ کیا۔

مشرف کے ساتھ ساتھ وہ تمام لوگ بھی برابر کے مجرم ہیں جنہوں نے ان کے مارشل لا کو خوش آمدید کہا اور ان کو با اختیار بنایا۔اب مشرف کی ایمرجنسی کے پس منظر پر آتے ہیں ۔ قارئین کی یاد دہانی کے لئے عرض کئے دیتا ہوں کہ جب مشرف کے پانچ سال بطور صدر پورے ہوئے تو اپنے اقتدار کو مزید طول دینے کے لئے انہوں نے صدارتی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا اور ان کے مقابلے میں جو امیدوار مشرف کے خلاف الیکشن لڑ رہے تھے وہ جسٹس ریٹائرڈ وجہیہ الدین تھے۔انہوں نے الیکشن لڑنے کی بجائے سیدھا سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور عدالت سے اسدعا کی کہ مشرف سرکاری عہدے پر براجمان ہیں اور آئین کے مطابق جو شخص سرکاری عہدے پر قائم ہو وہ صدارت کے عہدے کا مستحق نہیں ہوسکتا اور وہ سرکاری عہدے کو چھوڑنے کے دو سال تک کسی بھی عہدے کے لئے الیکشن لڑ سکتا ہے ۔اس قانونی نقطے کو دیکھا جائے تو اس میں بہت وزن تھا کیونکہ مشرف ایک تو حاضر سروس جنرل تھے ۔اور اگر فرض کریں وہ اپنا یہ عہدہ اُس وقت چھوڑ بھی دیتے تو صدارت کا الیکشن لڑنے کے لئے انہیں دو سال انتظار کرنا پڑتا ۔

یہی وجہ تھی کہ سپریم کورٹ نے جسٹس ریٹائرڈ وجہیہ الدین کی بات کو تسلیم کیا ۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو یہ حکم دیا کہ آپ صدارتی انتخاب کروائیں لیکن اس کا نتیجہ روک لیں ۔الیکشن کمیشن نے اس پر من و عن عمل کیا ۔اس صدارتی انتخاب میں پرویز مشرف کو 98 فیصد ووٹ پڑے ۔مشرف نے دیکھا کہ سپریم کورٹ ان کے خلاف فیصلہ دے سکتی ہے اور اس صورت میں ان کو گھر جانا پڑ سکتا ہے تو ایسے میں انہوں نے 3 نومبر 2007 کو ایمرجنسی لگا دی جو 15 دسمبر 2007 تک نافذالعمل رہی۔اور اس ایمرجنسی کے دوران انہوں نے اُن ججز کو فارغ کرادیا جنہوں نے ان کے اقدام کی مخالفت کی اور اُن ججز کو اپنے سر کا تاج بنا لیا جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف لیا ۔

اب یہاں بھی ایک قانونی نقطہ اُجاگر ہوتا ہے بعض ناقدین یہ کہتے ہیں کہ مشرف کی ایمرجنسی میں ساتھ دینے والوں کو بھی سزا ملنی چاہئے بالکل ملنی چاہئے لیکن یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ جب مشرف نے ایمرجنسی بل جاری کیا تو اُس پر ان کے جو دستخط تھے وہ بطور آرمی چیف کے تھے بطور صدر کے نہیں تھے. یہ ان کا بلینڈر کہہ لیا جائے تو بے جاں نہ ہوگا اور یہ بھی ان کو لے ڈوبنے کا سبب بنا ۔ مشرف نے آئین معطل کیا اور اس کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کیا ۔بعض ماہرین قانون کی رائے میں 2010 میں آئین شکنی اور آئین معطل کرنے کی باقائدہ تعریف آئین میں اٹھارویں ترمیم کے ذریعے کی گئی اور چونکہ مشرف نے اس سے قبل ایمرجنسی لگائی لہذا آرٹیکل چھ کا اطلاق ان پر نہیں ہوتا۔یہ تو ماہر قانون بہتر بتا سکتے ہیں لیکن جس طرح 90 میں نواز شریف پر منی لانڈرنگ کے کیس بنائے گئے اور انہیں اب سزا دی گئی تو منی لانڈرنگ کا قانون بھی 90 میں نہیں تھا یہ بھی بعد میں بنایا گیا لیکن نواز شریف کے خلاف ٹرائل ہوا ٹھیک اسی طرح پھر یہاں مشرف کے معاملے میں بھی ٹرائل ہونا کوئی تعجب والی بات نہیں ۔جہاں تک جسٹس وقار سیٹھ کے ریمارکس کی بات ہے تو سسیلین مافیا کی ٹرم بھی سپریم کورٹ نے نکالی تھی ۔

اسی طرح جاوید اقبال جس نے 100 بچوں کا قتل کیا اور اس سفاک قاتل کو جب عدالت نے سزا سنائی تو یہ ریمارکس دئیے کہ تم ایک مجرم ہو جس نے 100 بچوں کا بہیمانہ قتل کیا اور جس طرح تم نے ان کو قتل کیا ان تمام بچوں کے والدین کے سامنے تمہیں بھی ویسے ہی مار کر تمہارے سو ٹکرے کرکے تیزاب میں پھینک دینے چاہئے۔اس طرح کے بیشتر ریمارکس دیگر معزز ججز نے دئیے۔ ہر ایک جج صاحبان کے مزاج اور کام کرنے کے اسٹائل میں فرق ہے ۔ہاں یہ ہوسکتا تھا کہ مشرف کے سابقہ فوجی ریکارڈ کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کو عمر قید کی سزا بھی دی جاسکتی تھی جیسا کہ جاسوسی کے الزام میں لیفٹینٹ (ر) جنرل جاوید اقبال کو 14سال کی قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ۔ابھی مشرف کو دی گئی سزا پر فوری عمل در آمد نظر نہیں آتا اور ان کے پاس اپیل کا حق بھی محفوظ ہے دیکھتے ہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔