ہر عروج کو زوال ہے - شاہد مشتاق

حکومت مکمل طور پہ ناکام ہوچکی ہے آپ دیکھ لیجئے مہنگائی کی شرح کہاں پہنچ گئی ہے تیل گیس بجلی اور عام روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں ، تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق ہوگیا ہے سرکاری دفاتر میں کوئی بات سننے کے لئے تیار نہیں ، رشوت کا لین دین پہلے سے بڑھ گیا ہے ، بغیر پیسے دیئے کسی سرکاری دفتر میں کوئی کام نہیں ہوتا ۔

کشمیر کاز کا ستیا ناس کردیا گیا ہے صرف تقریروں سے کشمیر کے درد کی دوا کیسے ہوگی ؟ کشمیری پہلی بار پوری طرح پاکستان سے مایوس ہورہے ہیں ۔ کشمیریوں کے لئے بڑے بڑے دعوے کرنے والی حکومت عملی اقدامات اٹھانےسے گریزاں ہی رہی ، آزاد کشمیر حکومت خود اپنے متعلق پاکستان کی پالیسیوں کی وجہ سے شکوک وشبہات کا شکار ہے ۔ بھارت سے تجارت بند کرنے کا اعلان کرنے کے باوجود چوری چھپے بھارت کے ساتھ تجارت ہورہی ہے ۔ امن وامان کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے ، ڈاکٹرز ، وکلاء اور طلباء سب بدمعاشی پہ اترے ہوئےہیں ، جس کے پاس جتنی طاقت ہے وہ اتنا ہی خطرناک بنتا جارہا ہے ۔

عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کو سزائے موت دینے کا حکم دیتے ہوئے کافی سخت ریمارکس دیئے ، جس پہ کافی لوگ تنقید کررہے ہیں اور کچھ اس فیصلے کو ایک اچھی شروعات کہہ رہے ہیں ۔ ایک وقت تھا جب مشرف کی گردن میں تکبر کا سریا فٹ تھا وہ اپنوں کو مکے دکھانے اور لاپتہ کردینے میں بڑے ماہر تھے ، ایک امریکی کال پہ پورا ملک امریکیوں کے آگے پھینک دینے والے مشرف آج ایک طرف بیماری سے لڑ رہے ہیں تو دوسری طرف انہیں اس فیصلے کی شکل میں شرمندگی اور ذلت کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے ۔

مشرف کے حامیوں کےپاس اسے چاہنے کی سو وجوہات ہونگی ، مگر اس شخص نے محسن پاکستان کے ساتھ جو کیا کم ازکم میرے جیسا شخص اس کا یہ جرم کبھی معاف نہیں کرسکتا ۔
نومبر 2004ء میں جب سابق آرمی چیف عروج پر تھے اور ان کو گمان بھی نہیں تھا کہ ایک دن ان سے بھی اقتدار چھنے گا انہوں نے مغربی دباؤ میں آکر پاکستانی قوم کے محسن ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پی ٹی وی پہ ذلیل کیا تو کروڑوں پاکستانیوں کا دل خون کے آنسو رویا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   ظالم مومن اچھے یا ہمدرد کافر - حبیب الرحمن

میں ان دنوں طالب علم تھا جب محسن پاکستان کو ایٹمی راز بلیک مارکیٹ میں بیچنے کے الزام میں ٹی وی پر لایا گیا کوئی عدالتی کارروائی نہیں ہوئی انہوں نے آبدیدہ انداز میں اعتراف جرم کیا اور عام معافی کی اپیل کردی، وہ ایک لکھی ہوئی تقریر پڑھ رہے تھے جس کے بعد انکو غدار ڈکلیئر کر کے نظر بند کردیا گیاتھا ، گھر قریب ہونے کے باوجود انہیں ان کی بیٹی سے مہینوں ملنے نہیں دیا جاتا تھا ، مجھے وہ منظر نہیں بولتا جب وہ سہیل وڑائچ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہتے ہیں " بس یہی شکوہ ہے کہ کس قوم کے لئے میں نے یہ سب کیا؟" ۔

" گزر تو گئی ہے تیری حیات قدیر

ستم ظریف مگر کوفیوں میں گزری"

ان کے درد اور تکلیف کا اندازہ ان کے اس شعر سے لگائیے اور پھر اپنے دل سے پوچھئے مشرف مجرم ہے یا نہیں؟ اسے سزا ملنی چاہئے یا نہیں؟ ۔جو لوگ آج کہہ رہے ہیں سابق صدر قوم کا محسن ہے غدار نہیں ہو سکتا انکو بتانا چاہتا ہوں کے اسی نام نہاد بہادر جنرل نے ہماری قوم کےحقیقی محسن کو پوری دنیا کے سامنے ذلیل و رسوا کیاتھا، طالبان کے سفیر اور عافیہ صدیقی سمیت ہزاروں پاکستانیوں کو ڈالروں کے عوض امریکہ کو بیچ دیا تھا جس کا بعد میں خود انہوں نےاپنی کتاب میں بھی اعتراف کیا ۔مجھے ان پر لگنے والے غداری کے دھبے سے کوئی خوشی نہیں مگر اللّٰہ کے انصاف اور ظالم کو رسوا ہوتے دیکھ کر اطمینان ضرور ہوا ہے ۔ اور یہ سبق زمین پر موجود ان تمام لوگوں کے لئے ہے جو خود کو خدا سمجھ بیٹھے ہیں، یہ زمین اللہ کی ہے اور یہاں سدا بادشاہی بھی بس اسی کی ہوگی، باقی ہر عروج کو زوال ہے ۔