کیا قائداعظم محمد علی جناحؒ سیکولر ذہن کے مالک تھے؟ ڈاکٹر ساجد خاکوانی

بانی پاکستان محمد علی جناح کے بارے عام تصور یہ پھیلایا جاتا ہے کہ وہ سیکولر اور لادین ذہن کے مالک تھے،جبکہ انکی زندگی کے متعدد واقعات اس غلط تصوراور فرضی خیال کی مکمل نفی کرتے ہیں۔بہت اوائل اور نوجوان عمری میں جب کہ انسان کی اپنی سوچ ابھی پختہ نہیں ہوئی ہوتی اور گھریلوتربیت کا بہت سا اثر باقی ہوتا ہے جب قائداعظم محمد علی جناح ؒانگلستان پہنچے اور قانون کی تعلیم کے لیے تعلیمی ادارے کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہوا تو دواداروں میں سے اس ادارے کا انتخاب کیا جس کے باہر دنیا کے مشہور قانون دانوں کی فہرست میں سب سے اوپر محسن انسانیت ﷺ کا نام مبارک لکھا تھا۔

قانون کی تعلیم سے فارغ ہوئے لندن کے ایک ڈرامیٹک کلب (سٹیج ڈرامہ)میں شمولیت اختیار کر لی اوران سے ادائگی کا چیک بھی وصول کر لیا۔ایک ڈرامے کی مشق کے دوران قائد اعظم سے کہا گیا کہ ایک لڑکی کے چہرے پر بوسہ لیں،اس وقت ان کی عمر 19برس کی تھی،ہندوستان کے ایک نوجوان کے لیے یہ محض ایک حسین خیالی بات تھی کہ وہ لندن جیسے شہر میں برطانوی لڑکی کا بوسہ لے لیکن قائداعظم نے محض یہ کہ کر ڈرامے کا یہ منظر مشق کرنے سے انکار کر دیا کہ میرے مذہب میں اسکی اجازت نہیں ہے۔

ہندوستان میں اپنے والد بزرگوار محترم پونجا جناح کو خط لکھا کہ میں قانون کی تعلیم میں آگے بڑھنے کی بجائے ڈرامے کے میدان کا انتخاب کیا ہے اور ایک کلب میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔والد نے جوابی خط میں سختی سے اس بات سے منع کیا اور حکم دیا کہ فوراََ کلب سے مستعفی ہو کر تو قانون کی مزیدتعلیم جاری رکھو۔قائد اعظمؒ نے ابھی وہ چیک بھنوایا نہ تھا اور بغیر کسی پس وپیش کے یہ کہ کر کلب والوں کو لوٹا دیا کہ یہ میرے والد کا حکم ہے اور میرے مذہب میں والدین کی نافرمانی کی گنجائش نہیں۔قانون کی تعلیم کے بعد ہندوستان لوٹے اوربمبے میں وکالت کا آغاز کیا۔بمبے آزاد خیالی میں اس زمانے کے دوران بھی لندن اورپیرس سے کسی طور کم نہ تھا،ایک نوجوان اور خوبصورت مجوسی لڑکی قائداعظم پر فریفتہ ہو گئی،ہر طرح سے مایوس ہو چکنے کے بعدجب اس نے شادی کی خواہش کا اظہار کیا تو قائداعظم نے کہا مذہب کا اختلاف اسکی اجازت نہیں دیتا۔وہ مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ ہوئی تو اٹھارہ سال کی قانونی مدت پوری ہونے تک اسے ایک سال کا انتظار کرنا پڑا۔ایک برس بعد وہ عدالت سے مسلمان ہونے کی ڈگری لائی تب قائداعظم نے اس سے نکاح کیا۔

ہندوستان کے حالات سے مایوس ہونے کے بعد وہ ایک بار پھر انگلستان سدھار گئے کہ اب نہ لوٹیں گے۔لیکن آفریں ہو علامہ ڈاکٹر محمداقبال پرجنہوں نے خط لکھ کر انہیں واپس بلایا اور غلامی کے اس پرآشوب دور میں مسلمانوں کی قیادت کرنے کے لیے تیار کیا۔سوال یہ ہے کہ قائداعظم اگر سیکولراور لادین ذہن کے مالک تھے تو علامہ اقبال جیسا درد دل رکھنے والا بنیاد پرست مسلمان کی نظر انتخاب ان پر کیوں پڑی ؟کیا علامہ محمد اقبال جیسا راسخ العقیدہ مسلمان کہ جس کا ہاتھ تاریخ کی نبض پر تھا وہ مسلمانوں کی قیادت کے لیے ایک لادین شخص کا انتخاب کرتا؟ہر گز نہیں گزشتہ مذکورہ واقعات اور ان صفحات میں آئندہ آنے والی تحریری شہادتیں اس امر کی قطعی نفی کرتی ہیں۔

تحریک پاکستان کے دوران قائداعظم کی تقاریر جہاں پاکستان کو نظریاتی اساس فراہم کرتی ہیں وہاں انکے ذہن تک رسائی کا بھی ایک وقیع ذریعہ ہیں،ذیل میں انکی تقاریر سے چند اہم اقتباسات پیش کیے جا رہے ہیں:
’’کوئی شبہ نہیں کہ لوگ ہمارا مدعا پوری طرح نہیں سمجھتے ،جب ہم اسلام کا ذکر کرتے ہیں تو اسلام صرف چند عقیدوں،روایتوں اورروحانی تصورات کا مجموعہ نہیں ۔اسلام ہر مسلمان کے لیے ایک ضابطہ بھی ہے جو اسکی زندگی اور کردار کو سیاست اور معیشیت تک کے معاملات میں انظبات عطا کرتا ہے‘‘قائد اعظم(کرم حیدری،قائداعظم کا اسلامی کردار،صفحات101,102مکتوبات حرمت راولپنڈی1984ء)

’’قرآن مجید کی تعلیمات میں انسانی زندگی کے ہر باب کے متعلق ہدایات موجود ہیں ۔زندگی کا روحانی پہلو ہو یاسیاسی معاشرتی اور معاشی غرض یہ کہ کوئی شعبہ ایسا نہیں جو قرآنی تعلیمات کے احاطے سے باہر ہو۔‘‘قائداعظم(کرم حیدری،قائداعظم کا اسلامی کردار،صفحہ103)

یہ بھی پڑھیں:   قائد بابا - اجمل بھٹی

’’اسلامی حکومت کے تصور کا یہ امتیاز پیش نظر رکھنا چاہیے کہ اس میں اطاعت و وفا کیش کا مرجع خدا کی ذات ہے ۔۔۔۔قرآن مجیدکے احکام ہی سیاست و معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کی حدود متعین کر سکتے ہیں اسلامی حکومت دوسرے الفاظ میںقرآنی اصول و احکام کی حکمرانی ہے۔‘‘قائداعظم(کرم حیدری،قائداعظم کا اسلامی کردار،صفحہ103)
’’وہ کونسا رشتہ ہے جس میں تمام مسلمان منسلک ہو کر جسد واحد کی طرح ہو جاتے ہیں ۔وہ رشتہ خدا کی کتاب قرآن مجید ہے ،ایک خدا ایک رسول ایک امت‘‘قائداعظم(سعیدراشد،قائداعظم گفتاروکردار،صفحہ513،مکتبہ میری لائبریری لاہور1986)

’’ہماری اسلامی تہذیب کو کوئی نہیں مٹا سکتا ،اس اسلامی تہذیب کو جو ہمیں ورثے میں ملی ہے۔ہمارا نور ایمان زندہ ہے ،ہمیشہ زندہ رہے گا۔دشمن بے شک ہمارے اوپر ظلم کرے ،ہمارے ساتھ بدترین سلوک روا رکھے لیکن ہم اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں اور ہم نے یہ سنگین فیصلہ کر لیا ہے اگر مرنا ہی ہے تو لڑتے لڑتے مریں گے‘‘قائداعظم(آغا اشرف ۔مرقع قائد اعظم صفحی41مقبول اکیڈمی لاہور1992)

’’مسلمان ایک جھوٹے احساس سلامتی میں مبتلائے فریب رہے اور اقلیت کی اصطلاح کو تاریخی ،آئینی اور قانونی سمجھا جانے لگا لیکن مسلمان کسی حیثیت سے بھی یورپی ممالک کی اقلیت نہیں ہیں،ایک چیز قطعی ہے اور وہ یہ کہ ہم کسی طرح بھی اقلیت نہیں ہیں بلکہ ہم اپنے نصب العین کے ساتھ بجائے خود ایک علیحدہ اور ممتاز قوم ہیں ‘‘قائداعظم(ڈاکٹر اسعد گیلانی،اقبال،قائداعظم اور مولانا مودودی،صفحہ75)

’’پاکستان اس دن وجود میں آگیا تھا جب ہندوستان کا پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا،مسلمانوں کی قومیت کا بنیادی کلمہ توحید ہے وطن نہیں اور نہ ہی نسل۔آپ نے غور کیا کہ پاکستان کے مطالبے کا جذبہ محرکہ کیا تھا؟ مسلمانوں کی جداگانہ مملکت کی وجہ جواز کیا تھی؟تقسیم ہند کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کی وجہ نہ ہندؤں کی تنگ نظری ہے نہ انگریزوں کی چال بلکہ یہ اسلام کا بنیادی مطالبہ ہے۔‘‘قائداعظم(ڈاکٹر اسعد گیلانی،اقبال،قائداعظم اور مولانا مودودی،صفحہ75)

قائداعظم کے ان فرمودات واضع طور پر یہ پتہ دیتے ہیں کہ وہ کبھی بھی سیکولر نہیں رہے،زمانہ طالب علمی اور پیشہ ورانہ زندگی کے واقعات اور تحریک پاکستان کے دوران تقریروں کے اقتباسات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے ذہن میں اسلامی تعلیمات پوری طرح راسخ تھیں۔ایک بار انہوں نے قرآن مجید کو بھی پوری طرح پڑھ چکنے کا عندیہ دیا تھالیکن اردو ،عربی اور فارسی سے بہت زیادہ واقفیت نہ ہونے کے باعث وہ ہندوستان کی روایتی مذہبیت سے دور ہی رہے۔پھرکیایہ ایک تاریخی شہادت نہیں ہے کہ غازی علم دین شہیدؒکامقدمہ قائداعظم نے اس وقت مفت لڑا تھاجب کہ انکاشمار ہندوستان بھر کے مہنگے ترین وکیلوں میں ہوتاتھا۔

تحریک پاکستان کے دوران ہندو قیادت نے انگریز سے مراعات لینے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا ۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اپنی کتاب میں نہرو کی بیوی سے تعلقات تک کا ذکر بھی کیا ہے،لیکن اس طرح کے ماحول میں رہنے اور طویل جنگ لڑنے کے باوجودمحترمہ فاطمہ جناح کو مردوں سے ہاتھ ملانے تک کی اجازت نہ تھی،حتی کہ کسی نے انہیں ننگے سر بھی نہ دیکھا۔تقسیم ہندمیں اس طرح کے رویے سے مسلمانوں کا نقصان بھی ہوا لیکن قائداعظم نے یہ ثابت کیا کہ ایک سچے مسلمان کے لیے ایمان اورشرم و حیا سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہوتا۔زیارت ریذیڈنسی میںقائداعظم نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے،انکے خدمتگار سے جب ان ایام کا احوال پوچھا گیا تو اس نے بہت ساری باتوں کے ساتھ ساتھ انکی آخری نماز کا بھی تذکرہ کیا،اس کے بقول قائداعظم باقائدگی سے فقہ حنفی کے مطابق نماز ادا کرتے تھے۔

آخری نمازجو انہوں نے ادا کی اس کا حال خدمگار کی زبانی سنئے’’ظہر کی نمازکی ادائگی کے بعد انہوں نے کہا کہ عصر کا وقت ہوتے ہی مجھے بیدار کر دینا میں نے کہا جی اچھا،لیکن آنکھ کھلنے پر انہوں نے استفسار کیا کہ کیا ابھی عصر کا وقت نہیں ہوا؟ میں کہا ہو چکا ہے لیکن آپ ابھی آرام کر لیں ،میں تھوڑی دیر بعد آپ کو نماز پڑھا دوں گا کیونکہ نقاہت بہت زیادہ تھی ،انہوں نے فرمایا کہ نہیں اول وقت میں نماز کی ادائگی پسندیدہ ہے پس تکیہ میری کمر کے نیچے کر دو تو میں نماز پڑھ لوں،وضو کے بعد یہ انکی زندگی کی آخری نماز تھی جس کے بعد وہ قومے میں چلے گئے اور بالآخر اﷲ تعالی سے جا ملے‘‘۔قائداعظمؒ کا یہ خدمگارہنوز زندہ ہے اور جدہ(سعودی عرب) میں اقامت پزیر ہے،اسکی یہ روایت ہمارے استاد محترم مولانا عبدالمجید اخوان کے ذریعے براہ راست ہم تک پہنچی۔

یہ بھی پڑھیں:   محمد علی جناح سے بابائے قوم تک - رانا اعجاز حسین چوہان

قائد اعظم کی اولادچونکہ اسلام سے گریزاں رہی اسی لیے قائد اعظم بھی ان سے گریزاں رہے اور پورا بڑھاپا کنواری بہن کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر گزار دیا۔جب انتقال ہوا تو وصیت میں یہ لکھ کر گئے کہ ایک حدیث نبوی ﷺ کے مطابق چونکہ مسلمان کسی کافر کا اور کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا اس لیے میرے ترکے میں سے ایک پائی بھی میری اولاد کو نہ دی جائے اور اپنی کل جائدارجس کی کثرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس زمانے میں انکے پاس اپنا ذاتی ہوائی جہاز تھا،ساری کی ساری نوزائدہ اسلامی مملکت پاکستا ن میں مدرسۃ الاسلام سندھ اور اسلامیہ کالج پشاور کے نام کر گئے۔قائداعظم اگر سیکولراور لادین خیالات کے مالک ہوتے توعلامہ شبیر احمد عثمانی جیسے جید عالم دین انکی نمازجنازہ کیوں پڑھاتے؟ٹھیک ہے وہ اس طرح سے مذہبی انسان نہ تھے جس کا تصور ہمارے ہاں پایا جاتا ہے لیکن بہرحال وہ ایک راسخ العقیدہ اور پکے مسلمان تھے۔جن فاضل مصنفین نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر انہیں سیکولر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اس سے بھی قائداعظم کے پختہ ایمان کی تصدیق ہوتی ہے کہ اگر کسی زمانے میں ان پر سیکولر خیالات کا سایہ رہا بھی ہے تو وہ اسلام اور قرآن کے مطالعے کے بعد ان فرسودہ خیلالات سے دستکش ہوکرتوشعوری طور پر اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا رہے اور ایک سچے مسلمان اور امت محمدی ﷺ کے فردکی حیثیت سے اپنے رب کے حضور پیش ہوئے۔

اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہواکرتا ہے،اگر قائداعظم کی نیت ایک سیکولر ریاست بنانے کی تھی تو وہ ریاست اسلام کا قلعہ کیسے بن گئی؟حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں تبلیغ و ارشاد کے لیے یہاں سے جماعتیں روانہ ہوتی ہیں،دنیا بھر میں جہاں جہاںجہاد کا میدان سجااس کے لیے اسی مملکت خداداپاکستان نے اپنے سپوت اور عسکری راہنمائی کے ساتھ ساتھ ممکنہ وسائل بھی فراہم کیے،تین سو سال کے بعد امت کو دفاع کے میدان میں ایٹمی قوت کی خوشخبری اسی اسلامی ریاست سے میسر آئی اور مستقبل میں بھی مشرق سے مغرب تک کل مسلمانوں کی امیدیں اسی پاکستان سے وابسطہ ہیں گویا پاکستان،اس حدیث نبوی ﷺ کی عملی تصویر بنا کہ ’’مجھے مشرق سے ٹھنڈی ہوا آتی ہے‘‘ اوراس سب کا سہرا قائداعظم کے سر ہے۔

دراصل تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں پر ملوکیت کا سایہ ہویاغلامی کی اندھیری غار،غداروں کی دغا بازیاں ہوں یا دشمن کے پالتو لوگوں کی حکمرانیاں،سازشوں کے جال ہوں یا تہذیبی و ثقافتی یلغار اس امت کی کوکھ قیادت کے میدان میں ہمیشہ سرسبزو شاداب رہی ہے،یہ آخری نبیﷺ کی دعاؤں کا ثمرہ ہے اقوام عالم کو صدیوں کے بعد کوئی قابل قدر راہنما میسر آتا جسے وہ قرنوں تک یاد رکھتے ہیں اور کتنی ہی قومیں محض اس لیے تاریخ کے صفحات میں دفن ہو گئیں کہ انہیں کوئی راہنما میسر نہ آیا جبکہ امت مسلمہ کا دامن کبھی بھی مخلص دیندار اور جرات مند قیادت سے خالی نہیں رہا۔

اﷲ کرے مدارس اسلامیہ سے قال اﷲ تعالی اور قال قال رسول اﷲ ﷺ کی صدائیں بلند ہوتی رہیں،اﷲ کرے مساجد کے مینار صدائے بلالی کے امین رہیں ،اﷲ کرے ختم نبوت اور علی مولائیت سے اس امت کے نوجوانوں کے سینے سرشار رہیں اور اﷲ کرے اس امت کا اجتماعی ضمیرہمیشہ زندہ و تابندہ رہے کہ یہی عناصر ہیںبانی پاکستان جیسی صاف ستھری قیادت کی فراہمی کے اور یہی امت کے روشن مستقبل کے سنگ ہائے میل ہیںاور میرے اﷲ نے چاہا تو وہ دن دور نہیں جب یہی پاکستا ن شاعر مشرق کے خوابوں کی سچی حسین تعبیر بنے گا اور اس مملکت کی وجہ جواز نظریہ پاکستان کے منکر راندہ درگاہ ہو کرہمیشہ کے لیے لعنت و ملامت کا نشان بن کر عبداﷲ بن ابی،میر جعفر اور میر صادق کی صف میں شامل ہوں گے۔