الف تک کا سفر - نیلم اسلم

پچھلے دنوں حمزہ علی عباسی نے شوبز چھوڑنے کا اعلان کیا تو بہت سارے کم عقلوں نے بے پناہ مذاق اُڑایا۔ حمزہ پر جملے کسے گئے، طعنے دئیے گئے۔ ایسا پہلے بھی کئی بار آپ دیکھ اور سن چکے ہوں گے۔ پر اس بار یہ ایک مرد کے ساتھ ہورہا تھا اس لیے حیرانی کچھ زیادہ تھی۔ عموماً ایسی باتیں عورتوں کے حصے میں آتی ہیں۔

نو سو چوہے کھاکر حج کو چلی۔ شہرت میں کمی آئی تھی،تو یہ کھیل رچایا گیا۔ عمر ڈھل گئی، بزنس نہیں مل رہا، تو توبہ تائب ہوگئی، وغیرہ وغیرہ۔ رابی پیرزادہ کا واقعہ زیادہ پرانا نہیں۔ انہیں کس طرح آنسوؤں کے ساتھ وضاحتیں دینا پڑیں۔ گویا وہ جواب دہ خدا کے سامنے نہیں، بلکہ مخلوق نے کل قیامت کے دن ان سے حساب لینا ہے۔ خیر میں آج جو بات کرنا چاہ رہی ہوں، اس کے لیے یہ حوالہ دینا بہت ضروری تھا۔ ایک بات تو بتائیے ایک سوال آپ سب سے کہ خدا نے ہمیں اپنی عبادت کے لیے بھیجا۔ انسانیت کی خدمت، انسانیت کی معراج حاصل کرنے کے لیے زمین پر بھیجا ہے۔ اپنے نبی آخری زماں ﷺ کی محبت سے روشناس ہونے زمین پر بھیجا یا لوگوں کی سزا جزا کے فیصلوں کے لیے؟ اپنی قبر کی فکر کرنے کے لیے یا دوسروں کے چھوٹے بڑے گناہوں کے حساب کتاب کے لیے؟ یقینا آپ کہیں گے کہ اپنی فکر کے لیے، نہ کہ دوسروں کا حساب کتاب کرنے۔ تو پھر لوگوں کی سزا جزا ہم نے اپنے ہاتھ میں کیوں لے رکھی ہے؟

ہم سب گناہوں کے رستے پر چلتے ہیں۔ ہم سب ہی بھٹکے ہوئے ہیں۔ ہم میں سے کچھ کو اس بات کا ادراک ہوجاتا ہے، کچھ کو ساری زندگی پتا نہیں چلتا۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں جلدی اپنے دامن کے داغ اور دل پر لگی سیاہی نظر آجائے۔ اور یقین مانیے اس میں بھی انسان کا کوئی رول نہیں۔ شاید کوئی دُعا، اس کا کوئی عمل اس کے کام آیا کہ خدا نے اسے حقیقت سے روشناس کرادیا کہ باقی سب کی برائیاں تلاش کررہے ہو، ذرا ایک لمحے کے لیے رُک کر اپنے اندر بھی تو جھانکو۔ بڑے قسمت والے ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں نو سوچوہے کھاکر بھی حج کا خیال آجاتا ہے۔ سوچنا تو انہیں چاہیے کہ جو نو سوچوہے کھاکر بھی حج کی توفیق سے محروم رہیں۔

اب آگے کی بات کرتے ہیں۔ Realization کا عمل بھی بہت طویل ہوتا ہے۔ ہم جیسے بگڑی روحوں کو راہِ راست پر لانا کوئی آسان مرحلہ نہیں۔ خدا پیار سے، غصے سے، کچھ چھین کر، کچھ نواز کر، کچھ رُلاکر، کسی کو ہنساکر، کسی سے سب چھین کر، کسی کو سب دے کر اپنے ہونے کا احساس دلاتا ہے اور ہمیں بتاتا ہے کہ زمین پر اکڑ کر نہ چلو، یہ میں ہی ہوں جس کی رحمت نے تمہیں اوجِ ثریا تک پہنچادیا ہے، وہ چاہے تو لمحوں میں تمہیں سڑک پر بھی لاسکتا ہے۔ یہ میں ہی ہوں جس نے تمہیں اپنی رحمتوں کے سائے میں سنبھال رکھا ہے، ورنہ دنیا میں سب کچھ ہونے کے باوجود ذلت ورسوائی مقدر ہونا کوئی مشکل نہیں۔

وہ ہر وقت اپنی قدرت سے ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اے انسان! تم ایک قدم بھی میری مرضی کے بغیر نہیں اُٹھاسکتے۔ تم تو اپنی مرضی سے آنسو بھی نہیں بہاسکتے۔ شاید آپ کو یہ بات عجیب لگے، لیکن معلوم ہے کہ جن کی آنکھیں نہیں برستیں، وہ خدا کی کتنی بڑی نعمت سے محروم ہوتے ہیں۔ آنکھوں سے برسنے والے آنسو تو خدا کی نعمت ہوتے ہیں۔

پھر یہ اکڑ، یہ غرور، یہ تکبر، یہ پھوپھاں کیسی؟ یہ بات اُصولاً تو ہمیں بحیثیت مسلمان پہلے دن سے سمجھ آجانی چاہیے۔ پر ہماری روح دنیا میں اتنا مگن ہوجاتی ہے کہ اپنے اصل سے ہم ہٹ جاتے ہیں۔ اور معلوم ہے کہ اپنے اصل تک واپسی کا سفر بعض اوقات کتنا کٹھن، کتنا دشوار اور کس قدر صبر آزما ہوجاتا ہے۔ کبھی کبھی تو واپسی کے سفر میں زندگی بیت جاتی ہے۔ کبھی کسی خوش نصیب کو کوئی دُعا ایسی لگ جاتی ہے کہ اس کی واپسی کا سفر لمحوں میں گزرجاتا ہے۔ اسے کسی بڑے امتحان سے گزرنا نہیں پڑتا۔ پلک جھپکتے میں اس پر سب آشکار ہوجاتا ہے۔ لیکن کبھی اتنا طویل کہ اسے عشرے لگ جاتے ہیں۔

اب آیا دوسرا مرحلہ، ایک شخص کو احساس ہوا کہ مجھے اپنے فرض کو پہچاننا ہے۔ اس نے وضو کیا، خدا کے حضور سجدہ کیا، تو ہم اپنی تلواریں بے نیام کرکے میدان میں آگئے۔ کسی نے کہا کہ سجدہ ٹھیک نہیں کیا۔ کسی نے کہا اس کا تو وضو کا طریقہ ہی ٹھیک نہیں۔ کسی نے کہا فرض پڑھے۔ کسی نے کہا دُعا کا طریقہ ٹھیک نہیں۔ کسی نے سنت پڑھی تو کہا نوافل نہیں پڑھتا۔ کسی نے فرض نماز دفتر میں پڑھی تو آپ نے اسے دکھاوا کہہ دیا۔ کسی کی آنکھ سے آنسو نکلا تو آپ نے کہہ دیا محض پانی ہے، اور وہ بھی شاید مکر کا۔ مگر کیا ہم اس آنسو کا تصور کرسکتے ہیں جس کے بارے میں ہمارے حضور ﷺ نے ہی فرمایا کہ جس کی آنکھوں سے مکھی کے سر کے برابر آنسو صرف خدا کی محبت میں نکلا تو اس پر جہنم کی آگ حرام ہے۔ کیا ہم سوچ سکتے ہیں کہ یہ آنسو کتنا قیمتی ہے؟

میں واپس آتی ہوں۔ آپ کی ساری باتیں سر آنکھوں پر، لیکن کیا الف تک کا سفر ایک دن میں ممکن ہے؟ قطرہ قطرہ کرکے ایمان کا سمندر اگر کسی کا بن رہا ہے تو بننے دیجیے۔ کیا جنید بغدادی اور رابعہ بصری پہلے دن سے ہی معرفت کو پاچکے تھے؟ کیا آغاز ان کا بھی کہیں سے ہوا نہیں تھا؟ خدا چاہے تو ایک دن میں ہی ساری ہدایت دے، لیکن شاید یہ اس کا اصول نہیں۔ وہ جستجو کو پسند کرتا ہے، وہ اپنے لیے تڑپ کو پسند کرتا ہے، وہ اپنی تلاش میں نکلے ہوؤں کی محنت کو پسند کرتا ہے۔ تو پھر بتائیں مجھے اور آپ کو کیوں جلدی ہے؟

یہ سفر اتنا آسان نہیں، کیونکہ یہ ہدایت کا سفر ہے۔ یہ اپنی اصل تک لوٹنے کا سفر ہے۔ بہت سی باتیں ہم سے اوجھل ہیں۔ وہ صرف خدا اور اس کا بندہ ہی جانتا ہے۔ یہ کیفیات ہوتی ہیں جن کا بیان شاید آسان نہ ہو۔ جب کسی کی نماز میں سرور آجائے، جب رابطہ بحال ہوجائے تو یہی اصل تگ ودو ہے۔ جب آپ کا دل دکھے، جب آنکھ بھر آئے۔ جب آپ بے بسی محسوس کریں اور آپ کے دل میں صرف خدا کا خیال آئے۔ آپ کی اُمیدیں، آپ کی توقعات صرف اس سے جڑجاتی ہیں تو وہی آپ کو سکون دیتا ہے۔ وہی آپ کے آنسو پونچھتا ہے۔ وہی آپ کو گری ہوئی حالت سے اٹھاتا ہے۔ انسان گرے پر صرف مٹی ڈال سکتا ہے، صرف خدا ہی جو آپ کے سارے ٹکڑوں کو جوڑسکتا ہے۔ خدا ہی مسیحا ہے۔ خدا ہی خالق ہے۔ وہی طبیب ہے۔ وہی سب کچھ ہے۔ اور آپ کو پتا ہے یہ جو اپنا بہت کچھ چھوڑکر اس راستے کا انتخاب کرلیتے ہیں، انہیں بس خدا مل چکا ہوتا ہے۔

الف تک کا سفر کوئی کررہا ہو، کسی نے شروع کیا ہو، کوئی درمیان میں ہو، کوئی انتہا پر ہو۔ کسی کو کم تر نہ سمجھیے۔ آپ مرد ہیں، آپ کے چہرے پر ڈارھی ہے۔ آپ خاتون ہیں، آپ عبایا لیتی ہیں، آپ پانچ وقت کے نمازی ہیں۔ آپ روزے دار ہیں۔ آپ کی زبان پر درود سلام ہے بہت اچھی بات ہے، لیکن جو مکمل نماز نہیں پڑھ رہا، جو پورے روزے نہیں رکھ پارہا۔ جو ذکرواذکار میں پیچھے ہے، اسے کم تر نہ سمجھیے۔ اس کی مدد کریں۔ اس کی تحقیر نہ کریں۔

مانا آپ بہت نیک ہیں۔ مانا آپ سے بہت پیچھے ہیں، پر انہیں بھی خدا کے بندے سمجھیں جو سفر کا آغاز کرچکے ہیں۔ کچھ لوگ اتنے نیک ہوجاتے ہیں کہ ان کی محفل میں آپ اپنے آپ کو کم تر، حقیر، بھٹکا ہوا اور دنیا کا بدترین انسان سمجھنا شروع ہوجاتے ہیں۔ یاد رکھیں اگر آپ کی محفل میں کسی پر یہ کیفیت طاری ہوجاتی ہے تو سمجھ جائیں کہ آپ کے عمل میں کمی ہے۔ اپنے عمل کو درست کرلیجیے، الف سے آپ آغاز کرلیجیے۔ جب آغاز ہوگا تو حمزہ علی عباسی جیسوں کی واپسی آپ کے لیے مکروفریب اور دھوکا نہیں، بلکہ خوشی وسرور کا باعث بنے گا۔

Chat conversation end
Type a message...

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */