دوسری مغلیہ سلطنت - محمد عرفان ندیم

ولیم جونز 1783میںایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے کلکتہ کی سپریم کورٹ کا جج بن کر آیا ، یہ علم دوست ، متجسس اور صاحب مطالعہ شخص تھا، اس کی عادت تھی یہ مقامی لوگوں میں گھل مل جاتا تھا اور ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے بارے میں معلومات حاصل کرتا تھا ۔ یہ چند مہینوں میں ہندوستان کے فسوں میں گرفتار ہو گیا ، اس نے ہندوستان کی زبانوں پرتحقیق کی ، تحقیق کے دوران اسے پتا چلا سنسکرت دنیا کی قدیم ترین زبان ہے اور آج کی اکثر زبانیں اسی زبان سے تعلق رکھتی ہیں ،اس نے زبانوں کا ایک نیا خاندان دریافت کیا جسے انڈو یورپین خاندان کہا جاتا ہے ۔

اس نے دریافت کیاانڈو یورپین گروہ زبانوں کا سب سے بڑا خاندان ہے،یہ خاندان ساڑھے چار سو سے زائد زبانوں پر مشتمل ہے،سنسکرت، یونانی اور لاطینی جیسی کلاسیکی زبانیں اسی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں ، اس نے ثابت کیا کہ انگریزی، اردو، ہندی، بنگالی، پنجابی اور فارسی تمام زبانیں اسی گروہ سے تعلق رکھتی ہیںاور جغرافیائی لحاظ سے بھی زبانوں کا یہ خاندان دنیا کے وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے ۔ اس نے بتایا اس خاندان سے زبانوں کے پانچ ذیلی خاندان بھی وجود میں آ ئے جن میں انڈک ، ہیلینک، ا ٹالک ،سیلٹک اور جرمینک خاندان شامل ہیں اور آج یہ تمام زبانیں یورپ کے مختلف علاقوں میں بولی جاتی ہیں۔ولیم جونز کا دوسرا اہم کارنامہ ایشیاٹک سوسائٹی کا قیام تھا ، ایشیاٹک سوسائٹی کا قیام15 جنوری1784کو کلکتہ میں عمل میں آیا۔

ولیم جونز جب بحری جہاز پر لندن سے کلکتہ کے لیے روانہ ہوا تو اس نے ہندوستان کے بارے میں مطالعہ شروع کر دیا ، ان دنوں لندن سے کلکتہ تک کا بحری سفر ایک مہینے پر مشتمل تھا ،اس ایک مہینے میں اس نے فیصلہ کیا وہ ہندوستان جا کر ہندوستان کی تاریخ اور جغرافیے کے بارے میں معلومات حاصل کرے گا ، وہ یہ جانے گا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد کب ہوئی، ہندوستان میں کتنی زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان کے رسم الخط کون کون سے ہیں، یہ خطہ کب قدرتی آفات، زلزلوں اور سیلابوں سے دوچار ہوا، ہندوستان میں کون سے علوم پڑھائے جاتے ہیں ، ہندوستان کے مشہور علوم جن میں علم الاعداد، جیومیٹری اور طب ہیںکس سطح پر ہیں اوریہاں پائی جانے والی جڑی بوٹیاں کونسی ہیں۔ ہندوستانی ادب، شاعری، کہاوتیں، اخلاقیات کیا ہیں، ہندوستانی موسیقی ، فصلیں اورزراعت کیسی ہے، مغلوں نے کون سے قوانین نافذ کیے اور ہندوؤں اورمرہٹوں کے قوانین کون سے ہیں۔ لندن سے کلکتہ پہنچنے تک ولیم جونز اپنے منصوبے کو حتمی شکل دے چکا تھا ۔

اس نے ستمبر1783 کو کلکتہ کی سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا،جنوری 1784 کو اس نے ہندوستان کے سرکردہ افراد کو ایک خط لکھا جس میں کسی سوسائٹی کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ۔ 15 جنوری 1784کو سپریم کورٹ کلکتہ کے ایک بڑے ہال میں چیف جسٹس سررابرٹ چیمبرز کی صدارت میں اجلاس ہوا جس میں30 برطانوی عہدیدار شریک ہوئے، اجلاس میںولیم جونز نے ایشیاٹک سوسائٹی کے قیام کی ضرورت پر ایک مدلل تقریر کی، تمام اراکین نے اس منصوبے کی حمایت کی اور ایشیا ٹک سوسائٹی کے نام سے ادارے کا قیام عمل میں آگیا، ابتدا میں صرف تیس ارکان کو اس کی رکنیت دی گئی۔ چند ہی سالوں میں ایشیاٹک سوسائٹی کے کام کو پوری دنیا میںسراہا گیا، 1805میں گورنمنٹ آف انڈیا نے کلکتہ میں سوسائٹی کو اپنی عمارت قائم کرنے کے لیے ایک قطعہ زمین دیا، 1808میں اس کی عمارت مکمل ہوئی اور اس وقت تک اکٹھا ہونے والا مواد جس میں کتابیں، قلمی مخطوطے اور سوسائٹی کی کاروائی شامل تھی اس کو ریکارڈ کی صورت میں محفوظ کیا گیا ،عمارت مکمل ہونے پر فورٹ ولیم کالج نے سوسائٹی کی لائبریری کو بیش قیمت کتب عطیہ کیںاور1799میں ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعداس کی لائبریری کی تمام قیمتی کتب بھی ایشیاٹک سوسائٹی کو مل گئیں۔

سوسائٹی کے آغاز کے وقت اس کی رکنیت صرف انگریز افسروں تک محدود تھی لیکن1829میں ہندوستانی افراد کو بھی رکنیت ملنی شروع ہو گئی۔انیسویں صدی کے آغاز میں دنیا کے بڑے علمی اداروں میں ایشیا ٹک سوسائٹی کے لٹریچر کی مانگ پیدا ہو چکی تھی۔اس دوران ایشیا ٹک سوسائٹی کا دنیا کے دوسرے بڑے علمی اداروں سے رابطہ ہوا،ان میں امریکن فلاسفیکل سوسائٹی فلاڈلفیا،لینن سوسائٹی آف لندن، رائل سوسائٹی آف ایڈن برگ اور سوسائٹی آف انٹی کیوٹیز انگلینڈ شامل تھے۔

یہ اکیلے ولیم جونز کا کارنامہ تھا ، بعد میں حکومت برطانیہ نے بھی 10اپریل 1802کو وسیع پیمانے پر ہندوستان کا سروے شروع کیا، یہ سروے ساٹھ سال تک جاری رہا جس میں لاکھوں مقامی افراد کو بھرتی کیا گیا ، ہزاروں اسکالرز اور ماہرین نے خدمات سر انجام دیں اور ساٹھ سال بعد پورے ہندوستان کا درست نقشہ تیار کرلیا گیا ۔ اس سروے کی روشنی میں برطانیہ کا اقتدار مزید مضبوط ہوا ، سرحدیں طے کی گئیں ، فاصلے مقرر ہوئے ، مختلف ریاستوں کی سیاسی وعسکری قوت کا جائزہ لیا گیا ، معدنیات کا کھوج لگایا گیا ، پہاڑی چوٹیوں کی پیمائش کی گئی اور پہلی بار کوہ ہمالیہ اور دیگر پہاڑی سلسلوں کی درست بلندی معلوم کی گئی ۔ دریاؤں اور نہروں کا نظام وضع کیا گیا ، سونے اور چاندی کی کانوں کا پتا چلایا گیا ، زرعی اور صنعتی علاقوں کی نشاندی کی گئی ، جڑی بوٹیوں اور قدرتی وسائل کا اندازہ لگایا گیا اور قدیم ہندوستانی زبانوں اور گمشدہ آثار قدیمہ کی نشاندہی کی گئی ۔

1922میں برطانوی آثار قدیمہ کی ایک ٹیم نے موہنجو داڑوکا وزٹ کیا اور آثار قدیمہ کی نشاندہی کی ، ایک دوسرے ٹیم نے یہاں کھدائی کرکے موہنجوداڑوکی پوری تہذیب نکال ڈالی ، موہنجو داڑو جو وادی سندھ کی تہذیب کا اہم شہر تھا اور قبل مسیح تباہ و برباد ہو چکا تھا ، 1922تک کسی حکمران کو اس عظیم شہر کو دریافت کرنے کی ہمت نہیں ہوئی حالانکہ برطانیہ سے قبل یہاں موریہ ، گپتا ، سلاطین اور مغل حکمرانی کر چکے تھے۔ مغلوں نے ہندوستا ن پر تقریبا ایک ہزار سال حکومت کی مگر ایک ہزار سال میں انہوں نے ہندوستان کی تاریخ اور جغرافیے پر کوئی کام کیا نہ ہی ہندوستان کے آثار قدیمہ کے بارے میں کوئی قدم اٹھایا ۔ وہ ماہرین ارضیات کو اپنے ساتھ لے کر آئے جو ہندوستان کی زمینی ساخت کا پتا چلاتے نہ ہی ماہرین بشریات کو ساتھ لائے ، انہوں نے ماہرین حیوانات کو ڈھونڈا جو ہندوستان کے حیوانات کا مطالعہ کرتے نہ ہی ماہرین نباتات کی خدمات حاصل کر سکے ۔

جبکہ برٹش گورنمنٹ نے ہندوستان میں پائی جانے والی نایاب مکڑیوں اور تتلیوں تک کی معلومات جمع کیں اور اس کے لیے باقاعدہ ادارے قائم کیے ۔ یہ وہ فرق تھا جس کی وجہ سے برطانیہ گریٹ ایمپائر بنا اور مغل سلطنت بہادر شاہ ظفر کے ساتھ رنگون کے قید خانے میں دفن ہو گئی ۔قومیں اور ملک ولیم جونز جیسے افراد سے ترقی کرتے ہیںجبکہ آج ہم اور ہمارے حکمران جو کچھ کر رہے ہیں اسے دیکھ کر لگتا ہے ہمارا انجام بھی مغل سلطنت جیسا ہونے والا ہے ، سائنس، علم اور تحقیق تو رہی ایک طرف ہم اپنی پالیسیاں بنانے تک آذاد نہیں ۔

ہم کبھی امریکی کال پر بے بس ہو جاتے ہیں اور کبھی سعودی دھمکی سے مجبور اور لاچار ، ہماری پالیسیاں آئی ایم ایف سے بن کر آتی ہیں ، ہماری یونیورسٹیاں مقتل گاہ ہیں ، سیاستدان لٹیرے ہیں ، عسکری ادارے آئین شکنوں کا دفاع کرتے ہیں ، عوام سست اورکام چور ہیں اور نوجوان عیش و عشرت کے رسیا ، تو اس ملک کو مغل سلطنت بننے سے کون روک سکتا ہے ۔