کہتے ہیں لوگ تجھ کو مسیحا مگر یہاں - نسیم الحق زاہدی

دسمبر سانحات سے بھرا پڑا ہے ۔16دسمبر 1971ء کو مشرقی پاکستان کو ہم سے جدا کر دیا گیا اور اسی مہینے میں آج سے پانچ سال قبل سانحہ آرمی پبلک سکول پیش آیا جس میں دہشت گردوں نے سکول کے معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیلی ، وحشت وبربریت کی بدترین مثال قائم کی ۔ابھی تو سقوط ڈھاکہ کا زخم بھی تازہ ہیں۔

اے پی ایس کے بچوں کی چیخیں دل ہلا دیتی ہیں ان ننھے شہیدوں کی مائیں اپنے لختائے جگروں کی سکول سے گھر واپسی کی راہیں تک رہی ہیں کہ پاکستان کے دل لاہور میں کالے کوٹ اور سفید کوٹ کی آپسی جنگ نے انسانیت کو شرما کر رکھ دیا۔انصاف کے دیوتائوں اور زندگی بچانے والے مسیحائوں کی نفرت و عداوات کی بھینٹ دل ہسپتال کے بے گناہ مریض چڑھ گئے ۔ جن کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ میدان جنگ بننے والے سرکاری ہسپتال میں اپنے لئے نئی زندگی لینے آئے تھے اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہو گا کہ اگر وہ امیر ہوتے تو کسی پرائیویٹ ہسپتال میں زیر علاج ہوتے اور اس وکلاء دہشت گردی کی زد میں آکر انہیں اپنی جان نہ گنوانا پڑتی اور ان کی مفلسی ہی ان کی جان لے گئی۔کالے کوٹ والوں نے وکالت جیسے مقدس پیشے کی بے حرمتی کرتے ہوئے ہسپتال پر دھاوا بول دیا تھا ۔ ڈاکٹروں سے اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لئے زندگی اور موت کے درمیان جھولنے والے مریضوں کے منہ سے آکسیجن ماسک اتار کر ان کی ان کی سانسوں کا زندگی سے ناطہ ہی توڑ دیا گیا۔ کیا قانون کی تعلیم نے انہیں تہذیب و تمدن بھی بھلا دی ہے۔ یہ بھی بھول گئے کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہری ہیں اور اسلام ہمیں رواداری ، برداشت و صبر سکھاتا ہے ۔

کیا یہاں جنگل کا قانون رائج ہے ۔ دیکھا جائے تو اس وکلا گردی کے پیچھے ہمارے نظام کی خامیاں اور کم زوریاں ہی کارفرما ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں وکلا سب سے زیادہ تعلیم یافتہ اور اپنے طرزِ عمل میں شائستہ ہوتے ہیں۔ ایک طرح سے وہ اپنے معاشرے کا زرخیز اور روشن چہرہ ہوتے ہیں، مگر ہمارے یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے ۔ انصاف کے متوالوں اور قانون کے پاس دار وں کے جتھے دھمکیاں دیتے اور اپنی ویڈیو بناتے ہوئے دکھائی دئیے وہ اپنے ہی ملک کے اسپتال پر حملہ کرنے کے لیے ایسے بڑھ رہے تھے جیسے کسی دشمن ملک پر حملہ کرنے جا رہے ہوں۔ ۔ وکیل کا تو کام ہی دلیل اور منطق سے اپنا موقف درست ثابت کرنا ہوتا ہے، اگر وکیل ہی قانون اپنے ہاتھ میں لے تو پھر اس میں اور مجرم میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟۔ انصاف دلوانے والے اپنے لیے انصاف مانگنے کا باقاعدہ طریقہ اپنانے کے بجائے لڑنے بھڑنے نکل جائیںاور قانون کی دھجیاں بکھیرے تو اس معاشرے کا اللہ ہی حافظ ہے۔ اگر وکیلوں کی کی عزتِ نفس مجروح ہوئی تو عدالت جا کر انصاف کی اپیل بھی کی جا سکتی تھی اس طرح جاں بلب مریضوں کو نشانہ کیوں بنایا گیا ؟۔کتابوں میں پڑھا ہے کہ حالت جنگ میں بھی، جنگ کے بھی کچھ قانون، قاعدے و ضابطے ہوتے ہیں لیکن یہاں قانون کی جنگ لڑنے والوں نے ہر اصول کو توڑ دیا۔کیا حکومت کو پیدا ہونے والی اس صورتحال کا پہلے سے علم نہیں تھا؟ اگر نہیں تھا توکیوں نہیں تھا؟۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وکلاء برادری اتنی طاقتور ہوگئی ہے اس کے سامنے لاء اینڈ آرڈر کی کوئی اہمیت ہی نہیں کہ عام شہری بھی کے ہاتھوں سرعام ان کے تشدد کا نشانہ بننے لگے ہیں۔ منصف ہی مجرم بن گئے تو انصاف کہاں سے ملے گا؟ جہاں مسیحا بھی اپنی جان کی امان چاہتے ہیں وہ عوام کی جان کیسے بچا پائیں گے؟۔اس طرح کا دلخراش واقعہ کسی سابقہ حکومت میں پیش آیا ہوتا تو آج کے وزیراعظم عمران خان اور ان کے وزراء کی ٹیم نے ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں دیکر حکمرانوں سے مستعفی ہونے کے مطالبے کرنے تھے لیکن چونکہ اب یہ لوگ حاکم ہیں اور اب یہ لوگ اپنے لئے ایسی سزا تجویز کرنا مناسب نہیں سمجھتے اور اپنی کہی ہوئی باتوں سے یو ٹرن لے لینا ان کا پسندیدہ مشغلہ بن چکا ہے تو ایسے میں ریاست مدینہ کے علمبرداروں سے جرات مند اقدام کی توقع نہیں کی جا سکتی تاہم یہ بات روز روش کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ یہ واقعہ سراسر پنجاب حکومت کی غفلت اور لا پرواہی کا نتیجہ ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو خواب غفلت سے جاگنا ہو گا۔برصغیر میں انگریزوں کے تسلط سے نجات کے لئے کالے کوٹ والوں نے طویل لڑائی لڑی اور اس آزادی کی تحریک میں بڑے بڑے نام ہیں جنھوں نے بے مثل کردار ادا کیا۔

محمد علی جناح، ڈاکٹر راجندر پرکاش، حسین شہید سہروردی، جے پرکاش نرائن، جواہر لعل نہرو، سردار عبدالرب نشتر و دیگر۔ کالے کوٹ والے محمد علی جناح نے 11 اگست 1947 ء میں الگ ملک حاصل کر کے اسے اسلامی دنیا کے ماتھے کا جھومر بنا دیا۔پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ جمہوری حقوق کی بحالی کے لیے کالے کوٹ والے آگے آگے نظر آئے۔چند سال پہلے سپریم کورٹ ٓف پاکستان پر شدید ترین حملہ کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ کو زبردستی ہٹا دیا گیا۔ یہ پاکستان کے لیے زندگی اور موت کی جنگ تھی۔ اس جنگ میں لڑنے کے لیے ایک بار پھر کالے کوٹ والے میدان میں نکل آئے۔ مسند عدالت پر جسٹس رانا بھگوان داس نے بے خوف ہوکر قانون کا جھنڈا بلند رکھا اور تحریک بحالی اعلیٰ عدلیہ کے لیے کشمور سے لنڈی کوتل تک فتح کے جھنڈے گاڑ دیے گئے۔ حکمرانوں کے تمام ظالمانہ حربے ناکام ہوگئے بالاخر کالے کوٹ والے بہت بڑی جنگ جیت گئے۔تصور پاکستان اور قیام پاکستان میں کالے کوٹ والے ہی پیش پیش تھے۔

8 اگست 2016 ء کو دہشت گردوں نے پیر کی صبح منوجان روڈ کوئٹہ پر بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی کو ٹارگٹ بناکر مارا، ان کی میت سول اسپتال کوئٹہ لائی گئی۔ بلال انور کاسی کے قتل کی خبر پورے کوئٹہ شہر میں پھیل چکی تھی۔ کالے کوٹ والے اپنے ساتھی کا جسد خاکی وصول کرنے سول اسپتال پہنچے تو پہلے سے موجود دہشت گرد نے خود کو اڑا دیا اور اس کے ساتھیوں نے فائرنگ شروع کردی۔ ایک قیامت برپا تھی۔مرنے والے کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے جان دے رہے تھے۔ بارود کا دھواں چھٹا تو 60 کالے کوٹ والے لاشیں بن چکے تھے، کل 71 شہید زمین پر پڑے تھے۔ وہ جو اپنے صدر کی لاش لینے آئے تھے، خود لاش بن چکے تھے۔پھر آج یہ قاتل کیسے بن گئے کیوں اپنا مقدس فرض بھول گئے اور رہبر بننے کے بجائے رہزن بنتے ہوئے اپنے ہی قافلے کی بربادی کا ساماں پیدا کرنے لگے ۔اگرچہ جسٹس نجفی نے ڈاکٹروں سے گلے ملنے کی بات کرکے ان کے لئے فیس سیونگ کا موقع بنانے کی کوشش کی ہے مگر وکلاء کی بھیانک حرکت کے بارے میں جو جملے اخباروں اور چینلز پر شہ سرخی بنے ہیں، ان کی سیاہی نے وکلاء کے چہروں کو بری طرح داغ دار کردیا ہے۔

یہی شعبہ وکالت ہے۔جو اِنسان کو انسانیت کا درس دینے اورہر زمانوں کی تہذیبوں اورمعاشروں میں بسنے والے جرائم پیشہ افراد کو قانون سے سخت سزائیں دلواکر معاشروں میں امن و آشتی کاسب سے بڑا علمبرداربناپھرتاہے۔خود ڈاکٹرز بھی اس گندے کھیل کا حصہ تھے۔ ایک زمانہ تھا کہ بچے والدین کی عزت بڑھانے کیلئے تعلیم حاصل کیا کرتے تھے مگر اب وہ یہی کام بدمعاشی سے لینے لگے ہیں۔افسوسناک واقعے میں اگرچہ وکلا قصور وار ہیں لیکن اس سے پہلے کئی ایسے واقعات ہوئے جہاں’’ ینگ ڈاکٹرز ‘‘نے بھی مثالی کردار کا مظاہرہ نہیں کیا۔ جبکہ حالیہ برسوں میں وکلا کے ہاتھوں ججوں کی توہین ،پٹائی معمول بن چکا ہے اسی طرح ماتحت عدالتوں میں جج حضرات پر دھونس جمانا اور پولیس اہلکاروں پر وکلا کے تشدد کے واقعات گاہے بگاہے سننے کو ملتے ہیں۔ریاست نے اس معاملے میں مسلسل مصلحت پسندی اور چشم پوشی سے کام لیا ہے جس سے ان کے حوصلے بڑھتے گئے۔

اس کسی حد تک قصور ہمارے ایجوکیشن سسٹم بھی ہے جس نے تعلیم کو بھی تجارت ہی بنا دیا ہے۔ او ر جگہ جگہ لاء اور میڈیکل کالجز ہر چھوٹے بڑے شہر میں کھمبیوں کی طرح اگے ہوئے ہیں۔ وکالت کے مقدس پیشے میں موجود کالی بھیڑوں نے اس کالے کوٹ کی عزت و حرمت کی پامالی کو ہی اپنا مقصد بنا لیا ہے۔دوسری جانب بڑی تعداد میں ’’قانون دان ‘‘ بننے کی بنا پر اب کالا کوٹ کسی خصوصی عظمت کی نشانی نہیں رہا۔لازمی ہے کہ نئے پاکستان اور تبدیلی کی راہ پر گامزن وزیراعظم عمران خان کی حکومت اداروں کی بہتری کی لیے مثبت اقدامات کرے وگرنہ ایسے سانحات رونما ہوتے رہیں گے ۔موجودہ حکومت سے جب بھی قانون اور امن وامان کے حوالے سے ذکر کیا جائے تو تو انہیں سانحہ ماڈل ٹاون یاد آ جاتا ہے۔

لیکن سانحہ قصور سے لے کر ساہیوال کے قریب سی ٹی ڈی کے ہاتھوں نہتی فیملی کا قتل اور پنجاب انسٹی ٹیوٹ کارڈیالوجی کے اس سانحے کو حکومتی نااہلی سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی گڈ گورننس کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ 16ماہ کے دوران پنجاب میں پانچویں آئی جی پولیس شعیب دستگیر نے چارج سنبھال ہے۔تین چیف سیکرٹری تبدیل کئے جا چکے ہیں ، تمام صوبائی سینئر بیوروکریسی کے تقرر و تبادلے بھی کر دئیے گئے ہیں لیکن نتیجہ ’’ چہ معنی ندارد‘‘ ۔

کہتے ہیں لوگ تجھ کو مسیحا مگر یہاں

اک شخص مرگیا تجھے دیکھنے کے بعد

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */