ڈاکٹر اپنی اعلیٰ ظریفی اختیار کریں - لطیف النساء

ڈا کٹر کسی بھی معاشرے کا مسیحا ہے تو اس کو صرف علاج کی حد تک نہیں بلکہ تمام شعبہ زندگی میں ہمدردی اور انسانیت کے علمبردار ہیں جو اپنی جان پر کھیل کر مریضوں کو بچاتے ہیں ۔ اس المناک صورتحال میں مریض مزید تکالیف کا شکار ہیں ۔ جتنی ضرورت اس وقت شعوری طور پر ڈاکٹر حضرات کی ہے اس سے پہلے کبھی نہیں لہٰذا گزارش ہے کہ ڈاکٹر حضرات زیادہ سے زیادہ اپنی خدمات پیش کریں ۔ بے غرض اور بے لوث یہ آپکا اخلاقی ، انسانی اور پیشہ وارانہ حق ہے ۔ انہیں ابھی مزید ہڑتال نہیں کرنی چاہئے ۔

واقعی اپنی ذمہ داری کو بہت ہی خلوص محنت ، محبت اور ہمدردی سے ادا کرکے برائی کو بھلائی سے ایسے کاٹیں کہ مثال قائم ہو جائیں۔ بقول میری امی کے "بدکردار اس کا کردار ہی کافی ہے "۔ بدلہ لینے کی ضرورت نہیں ہمیں یہ زیب نہیں دیتا ۔ دہشت گردی اور غنڈہ گردی کوئی مسئلے کا حل نہیں ۔ خدارا بچوں ، بڑوں ، مریضوں ، لواحقین اور عوام الناس کو مزید دل کے مرض میں مبتلا نہ کریں بلکہ احتجاج کو پس پشت ڈال کر اپنا کام احسن طریقے سے ادا کریں ۔ خانہ پور ی نہیں ، مانا کہ دل ٹوٹا ہوا ہے، زخمی ہے ، رنجیدہ ہیں مگر یاد رکھیں اسی صورت حال میں جو بھی اموات ہونگی اللہ نہ کریں ان کی ہلاکت کی ذمہ دای آپ پر بھی جائے۔ یہ تو کبھی کسی کو قبول نہ ہوگا ۔ اللہ کے واسطے اپنے بڑوں کا حترام کریں۔ اپنے مریضوں کو اہمیت دیں ۔

اپنے کردار کو حسن ظن پر رکھیں اور انتظامیہ سے گزارش ہے مزید حالات کو قابو کریں اور پولیس سے لیکر ہر فرد اپنا انسانیت کا بہترین حق ادا کرے ۔ زندگی بہت ہی مختصر ہے اس مختصر زندگی میں آپ ایسا رول پلے کریں جو آخرت میں آپکا اچھا نتیجہ دے۔ گویا یہاں کا ہر عمل اتنا خیر والا ہو کہ اثر قبر سے حشر تک آپکا بہترین انجام ہو ۔ بلاوجہ بلا ضرورت ہنگامہ کھڑا کرنا ایک بہت بڑا ظلم ہے ۔ بچے اور بڑے ضعیف جتنا ہنگامے سے ڈرتے ہیں کسی اور چیز سے نہیں ڈرتے اس پر آشوب دور میں ، فتنوں کے دور میں ہمیں ہر قدم پر آزمائش مطلوب ہے جسے ہمیں اپنے حسن ظن اور اعلیٰ ظرفی سے قابو پاتا ہے ، یہی ایک حل ہے ۔ مسائل کا حل وسائل کے تحفظ اور قیمتی اشیاء ہسپتال مکان دکان ، ذرا ئع آمدورفت کسی کا بھی نقصان نہ کریں ہمیں تو حکم ہے کہ کسی قسم کا نقصان کبھی نہ کیا جائے ۔

جب انسان صحت مند ذرا سے زخمی ہوجائے تو کتنا حرج ہوتا ہے ۔ مریض ، مشینری اور آلات اتنے مہنگے کیوں ضائع کئے جائیں ۔ برائی اور دکھ پہنچانے والی حرکات بند کردی جا ئیں اور ڈاکٹر صحیح معنوں میں مسیحا کا کردار ادا کریں بلکہ تمام آلات ، مشینری کو بچائے مریضو ں کو بچانے کی سرتوڑ کوشش کریں اور مزید اس طرح کے واقعات نہ ہوں اس کے لئے مخصوص منصوبہ بندی کریں ۔ ڈاکٹر یا وکلاء کسی کو بھی قانون ہاتھ میںنہیں لینا چاہئے ۔ اندر گیس کے شیل پھینک کر مزید صورتحال خراب کرنا آگ لگانا انتہائی افسوس ناک ہے۔ لیکن اب بھی جس نے بھی نقصان سے بچانے کی کوشش کی اللہ اس کو جانتا ہے وہ ضرور آپ کا حا فظ و حامی ہو گا اور ضرور آپکے کام میں ، عمر میں ، روزی روزگار میں برکت ڈالے گا ۔ لوگوں کا رونا دھونا اپنے لواحقین کا ناقابل بیان تھا ۔

اللہ سے دعا ہے کہ اس قسم کا کبھی بھی کہیں بھی نہ ہونے پائے ۔ ہر برا کام اپنا اثر تو برا رکھتا ہے مگر عبرت کے لئے کافی ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر اور وکلا حضرات کے علاوہ ہر ہر بندے سے عرض ہے کہ اپنا انسانی کردار نبھائیں اور شر اور شر پسندی سے دور رہ کر ہمیشہ فلاح اور صلاح کے کام کریں ۔ امن کی بات اور امن کو قائم کریں ۔ مسلمان وہ ہے جو اپنے مسلمان بھائی کی تا حیات بھلائی میں اور خیر خواہی میں لگا رہے ۔ ہم میں سے کسی کو یہ بات نہیں بھولنی چاہئے ۔ کسی کی بد دعا اور آہ نہ لو کہ یہ فلک شگاف ہوتی ہے ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com