یادوں کے جھروکوں سے - ام محمد سلمان

دور اُفق کی گہری چپ میں
ہم اکیلے ڈھونڈ رہے ہیں
بیتے لمحے کھوئے لوگ...!!

جب بھی سردیاں آتی ہیں تو جانے اماں کیوں اتنی یاد آنے لگتی ہیں...!! پتا نہیں جاڑوں کی ان سرد شاموں میں ایسا کیا جادو ہے۔ چاند کی چمکتی چاندنی اتنی دھندلی سی اور اداس کیوں ہو جاتی ہے؟ شاید اماں کی بچپن کی وہ لوری یاد آتی ہے "چندا ماما دور کے....." اور نگاہوں میں وہ سراپا گھوم جاتا ہے : گہرے نیلے رنگ کی گرم شال میں لپٹی، دبلی پتلی لیکن بارعب سی اماں...!!
ہمیں اب تک یاد ہے، سردیوں میں اماں نے نہ کبھی جرابیں پہنیں اور نہ سویٹر۔ ہاں بس انگیٹھی ہر وقت ہر جگہ ساتھ ساتھ ہوتی تھی اور ہم سب وہاں ہوتے جہاں اماں ہوتی تھیں چاہے صحن میں بیٹھی ہوں، کمرے میں یا برآمدے میں۔ کیا کرتے... ماں تو چیز ہی ایسی ہے ناں...!! گھر بھر کی رونق، محبت اور پیار کا سکون بھرا احساس۔ اولاد کے سارے دکھ اپنے آنچل میں سمیٹ لینے والی پیار بھری تسلیاں دینے والی۔ کبھی گرم اور کبھی سرد لہجوں میں زندگی کے نشیب و فراز سمجھانے والی۔ اور جب اس دنیا سے چلی جاتی ہے تو کتنی ہی یادوں کے جگنو راستوں میں جلنے کے لیے چھوڑ جاتی ہے۔ بچپن کی وہ یادیں اب بھی دل کے دریچوں پر دستک دیتی ہیں تو کبھی لبوں پر مسکراہٹ اور کبھی آنسوؤں سے دامن تر ہو جاتا ہے۔ اور سردیوں میں تو خاص طور پر اماں بہت یاد آتی ہیں۔ اماں تھیں بھی تو بہت اچھی... ابا میاں کی تو بہت ہی فرماں بردار، خدمت گزار تھیں۔ ہمارا بھی بہت خیال رکھتی تھیں۔ دکھ بیماری میں تو اولاد کے سامنے بچھ بچھ جاتی تھیں۔ آج بھی بیماری میں اماں اتنی ہی شدت سے یاد آتی ہیں۔

یوں تو سردیوں کی کئی سوغاتیں تھیں، مونگ پھلی، چلغوزے، تل کے لڈو اور سب سے بڑھ کر مالٹے... جن سے لطف اٹھایا جائے۔ مگر اماں اور ابا کو نہ جانے ساگ سے اتنا عشق کیوں تھا۔ اور ساتھ مکئی یا باجرے کی روٹی... خود تو کھاتے ہی تھے، ساتھ ہمیں بھی کھانے پہ مجبور کرتے۔
سچ بتائیں تو بچپن میں کبھی یہ فلسفہ سمجھ میں نہیں آیا کہ اس گھاس پھوس کے کھانے کا مقصد کیا ہے آخر...؟ اگرچہ ابا حضور کئی فائدے گنوایا کرتے، مگر وہ بچپن ہی کیا جس میں ساگ کے فائدے سمجھ آ جائیں! اُس وقت گاؤں میں شہروں کی طرح ساگ بازار میں نہیں بکتا تھا۔ جن کے کھیتوں میں ہوتا، وہ لوگ دوسروں کو بھی تحفتاً دے دیتے تھے۔ ہمیں بھی ہماری پڑوسن "مومنہ بوا" دیا کرتی تھیں۔ ان کے کھیت آبادی سے کچھ دور تھے۔ وہ جب اپنے کھیتوں میں جاتیں تو اماں کے لیے بھی ساگ لے کر آتیں۔ سرسوں اور بتھوا... اور ہم بصد اصرار اس میں پالک بھی ڈلواتے تاکہ ہماری دانست میں وہ کھانے کے قابل بن سکے۔ ایک بار ایسا ہوا: مومنہ بوا اپنے بچوں کی فوج ظفر موج لے کر کھیتوں میں جانے لگیں تو ساتھ ہمیں بھی دعوت دی۔ اماں سے کہا کہ "بچوں کو بھیج دو، واپسی میں ساگ لیتے آئیں گے۔" ہم بھی خوش خوش ساتھ جانے کے لیے تیار ہو گئے، چھوٹے بھیا اور میں۔ چھوٹے بھیا، ہم سے تو بڑے تھے لیکن بڑے بھیا سے چوں کہ چھوٹے تھے اس لیے وہ چھوٹے بھیا کہلاتے تھے۔ ہم سب مزے سے ہنستے کھیلتے نہر کنارے بھاگے چلے جا رہے تھے۔ کبھی پانی میں کنکر پھینکتے کبھی کسی درخت کی شاخ کو جھولا جھلاتے.... کھیت پہ پہنچے تو گنوں کی فصل تیار تھی۔ ایک میدان میں جگہ جگہ بڑے بڑے آگ کے الاؤ روشن تھے جن پر رکھے کڑھاؤ میں گنے کے رس سے شیرہ پک رہا تھا اور تھوڑی ہی دیر میں گڑ تیار ہونے لگا۔ کھیتوں پر ہی مومنہ بوا کے دیور دیورانی کا گھر تھا۔ بہت اچھے مہمان نواز لوگ تھے۔ دوپہر کے کھانے میں چھاچھ، مکھن، اچار اور ساگ کے ساتھ مکئی کی روٹی تھی اور میٹھے میں کھیت سے توڑے گئے تازہ تازہ گنّے۔

یہ بھی پڑھیں:   والدین کے نام ۔ زارا مظہر

یہاں سے فارغ ہوئے تو مومنہ بوا کے ساتھ کھیتوں کی طرف چل دیے۔ پہلے تو درختوں پہ اترنے چڑھنے کا فریضہ بڑے شوق سے سر انجام دیا پھر کھیتوں کے بیچ بنے بنوں پہ بھاگنے دوڑنے کی مہارت دکھائی اور پھر وہ کام بھی کیا جس کے لیے اماں نے بھیجا تھا ۔ مومنہ بوا نے ہمیں کھیت میں لے جا کر دکھایا کہ "دیکھو! یہ بتھوا ہے اور اسے ایسے توڑنا ہے اوپر سے چھوٹی چھوٹی ٹہنیاں توڑنا جڑ سمیت مت اکھاڑنا۔"ہم نے کہا ٹھیک۔ وہ تو آگے چلی گئیں اور ہم اس کام میں مشغول ہو گئے۔ تھوڑی دیر تو میں اور بھیا کوشش کرتے رہے مگر ہرے دھنیے کے کھیت میں کہیں کہیں لگا بتھوا ڈھونڈنے میں کافی مشکل پیش آ رہی تھی... جب کہ ہرا دھنیا خوب پھیلا پڑا تھا چاروں طرف۔ ہم دونوں بہن بھائی ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ۔ بھیا کہنے لگے... "اماں روز بازار سے ہرا دھنیا منگواتی ہیں، کیوں نہ ہم یہاں سے ہرا دھنیا لے چلیں... اماں خوش ہو جائیں گی ۔" دونوں نے اپنے منصوبے پر خوش ہو کر سر دُھنا اور ہرا دھنیا توڑنا شروع کر دیا۔ بلکہ توڑا کیا، جڑ سمیت اکھاڑنا شروع کر دیا۔ خوشی خوشی پوٹلی باندھی اور مومنہ بوا کے ساتھ واپس ہنستے کھیلتے گھر آ گئے۔ اماں اپنی نیلی شال اوڑھے سامنے صحن میں ہی بیٹھی تھیں۔ ہم نے سلام کیا اور بڑے فخر سے پوٹلی ان کے سامنے رکھ دی۔ اماں نے جو کھول کر دیکھی تو غضب ناک نظروں سے ہمیں ایسے گھورا کہ آج تک یاد ہے۔ "افف خدایا! تمہیں ہرا دھنیا لانے کے لیے بھیجا تھا میں نے...؟؟ جانے کس کا کھیت اجاڑ لائے ہو، جڑ سمیت ہرا دھنیا توڑ لیا۔ تمہیں عقل نہیں تھی بے وقوفو!!"

اماں نے اتنے سمجھ دار بچوں کو بے وقوفی کا لقب دیا، بچے تو بلبلا کر ہی رہ گئے ۔ "اماں روزانہ تو منگواتی ہیں آپ بازار سے، ہم اتنا سارا لے آئے تو اچھا کیا ناں!! " بھیا کو اپنی بے توقیری ایک آنکھ نہ بھائی۔ ہم نے تو دیکھ لیا تھا اب اماں کا پارہ اوپر چڑھنے والا ہے اور چپل بھی پاس ہی پڑی تھی، سو کنارے پر ہو لیے۔ مگر بھیا اپنا مقدمہ لڑنے کے لیے میدان میں کھڑے تھے۔ "اماں!! تو دھنیے کا ساگ پکا لو ناں...!! یہ بھی تو ہرا ہے، ساگ جیسا ہی ہے۔" بھیا نے کہا اور ہم بھی بھیا کی عقل مندی پر دل ہی دل میں قائل ہوئے۔ جب کہ اماں نے اس تجویز پر سیخ پا ہوتے ہوئے ہمیں کئی چھوٹے چھوٹے حصے بنا دیے کی جاؤ پڑوس میں سب کے گھروں میں دے آؤ ۔ پھر اماں نے انتہائی شرمندگی کے ساتھ ہمارے اس کارنامے کی وجہ سے مومنہ بوا سے معذرت کی۔ وہ بے چاری الگ شرمندہ ہوئیں کہ بچوں کو دیکھا ہی نہیں کیا توڑ رہے ہیں۔ پھر اپنے گھر سے سرسوں اور بتھوا لا کر اماں کو دیا اور اماں نے ساگ پکایا۔ دیسی گھی کا تڑکا لگایا اور شام کو ہمیں سزا کے طور پہ وہی کھلایا۔
مومنہ بوا کی زرینہ بڑی ہوشیار تھی ویسے... ہم اماں کی کتنی بھی خدمت کر لیتے مگر وہ اپنے ہاتھوں کا پکا ساگ اماں کو کھلا کر ہمیشہ نمبر لے جاتی۔

یہ بھی پڑھیں:   جھوٹے ضمیر کا بوجھ - رقیہ اکبر

بچپن تھا، گزر گیا۔ شادی کے بعد ساسو ماں کی فرمائش پر ہم نے بھی ساگ پکانا سیکھ لیا بلکہ سیکھتے کیا، جیسے اماں کو پکاتے دیکھا تھا ویسے ہی پکا لیا ایک دن...!! سب کو بہت اچھا لگا، خود ہمیں بھی اچھا لگا۔ شادی کے بعد ویسے بھی پسند نا پسند بہت حد تک بدل جاتی ہے۔ مگر اب اماں کہاں تھیں جنھیں ہم شوق سے دکھاتے۔ اب وہ اپنے گھر اور ہم اپنے گھر۔ کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ اماں کو بھی اپنے ہاتھ کا پکا ہوا ساگ لے جا کر کھلائیں۔ یوں ہی پانچ سال بیت گئے اور ایک دن اماں اس دنیا سے چلی گئیں...!! (اللھم اغفرلھا وارحمھا)
اب کبھی دل چاہتا ہے تو ابا میاں کے لیے پکا کر لے جاتے ہیں۔ بہت خوش ہوتے ہیں دعائیں دیتے ہیں اور ساگ کے فائدے بھی گنواتے ہیں۔ "بیٹا جی!! اسے معمولی غذا مت سمجھو! ساگ دل اور جگر کی صحت کے لیے مفید ہے اور خون بناتا ہے، چہرے سے جھریوں، کیل مہاسوں کا خاتمہ کرتا ہے۔ یاد داشت پڑھاتا ہے۔ نظام ہضم بھی ٹھیک کرتا ہے۔" ابا میاں بتاتے رہتے ہیں اور ہم مسکراتے ہوئے سنتے رہتے ہیں۔

اماں تو آج بھی یادوں میں رہتی ہیں، دعاؤں میں اس سے بھی زیادہ۔!! سرما کی دھندلی راتوں میں، اداس چاندنی میں، کبھی صبح کے نرم اجالوں میں کبھی چمکتی کڑکتی دھوپ میں...
کبھی چادر میں لپٹی نماز پڑھتی ہوئی، کبھی محبت اور سوز سے قرآن کی تلاوت کرتی ہوئی کبھی ہنستی مسکراتی کسی پڑوسن سے باتیں کرتی ہوئی کبھی کسی بچے کو سینے سے لگائے لوری دیتی ہوئی اور کبھی ابا میاں کی ڈانٹ پر رنجیدہ سی چپ چاپ گھر کے کاموں میں لگی ہوئی....!!
سرما کی اس اداس سی رات میں چمکتے چاند!! تو نے تو دیکھے ہوں گے میری ماں کے کئی روپ....!! کبھی ہنستے کبھی روتے... تجھ سے ماں کی یادوں کا بھی تو رشتہ ہے۔ اسی لیے کبھی کبھی یوں ہی بس... ہاں بس یوں ہی... تجھے تکتے رہنے کو جی چاہتا ہے ۔
پوچھتا ہے جب کوئی دنیا میں چاہت ہے کہاں
مسکرا دیتی ہوں میں اور یاد آجاتی ہے ماں