فیصلہ اہم کیوں؟ محمد عامر خاکوانی

جنرل پرویز مشرف کے خلاف عدالتی فیصلہ آناپاکستانی تاریخ کا ایک غیر معمولی اہم واقعہ ہے۔ بعض فیصلوں پر عملدرآمد اگر نہ بھی ہوسکے، تب بھی ان کی علامتی اور نفسیاتی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے، یہ فیصلہ بھی ان میں سے ایک ہے۔

اس کے قانونی پہلوؤں پر ماہرین قانون ہی زیادہ بہتر بات کر سکتے ہیں۔ پرویز مشرف نے آج سے بارہ سال قبل صرف اپنے اقتدار کو طول دینے کی خاطر ایمرجنسی پلس لگانے کا غلط، ناجائز اور ناروا فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلے کی کوئی تک نہیں تھی۔ دراصل یہ ایمرجنسی نہیں بلکہ ایک طرح کا مارشل لا ہی تھا، جسے دانستہ طور پر ایمرجنسی یا ایمرجنسی پلس کہا گیا، ورنہ اس کا مقصد صرف مشرف کے اقتدار کو طول دینا تھا۔ عدلیہ کو جس طرح اس نے فارغ کیا، وہ شرمناک اور قابل مذمت تھا، آئین توڑنے کا ہی کام کیا تھا اس نے۔ ایمرجنسی لگا کر اپنے خلاف تحریک مزاحمت کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی گئی، میڈیا پر پابندیاں لگا دیں، جج نکال دیے گئے، پھر اپنی مرضی کے پی سی او جج لائے گئے، اپنی مرضی کا سیاسی منظرنامہ بنانے کی کوشش کی۔

قدرت کا فیصلہ البتہ مشرف کے خلاف ہی تھا۔ عدلیہ بحال ہوئی، جن ججوں کو نکالا گیا، وہ زیادہ عزت وشہرت لے کر واپس آئے، تمام پی سی او ججز فارغ ہوئے بلکہ ان کا مستقبل ہی داغدار ہوا، سیاسی مقاصد بھی مشرف حاصل نہ کر سکے اور نئی حکومت بننے کے چند ماہ کے اندر انھیں ذلت کے ساتھ نکلنا پڑا۔ اگرچہ رسمی گارڈ آف آنر تو اسے ملا، مگر اس کے بعد مشرف کا رسوائی، خواری اور ناکامی کا ایسا تاریک سفرشروع ہوا، جو آج تک جاری ہے۔

ہم سب نے مشرف کی ایمرجنسی پر اپنے اپنے انداز میں تنقید کی تھی۔ ایمرجنسی کے دنوں میں اس طرح کھل کر لکھنا ممکن نہیں تھا تو میرے جیسے لوگوں نے علامتی انداز میں لکھا۔ اس کا ایک طریقہ یہ تھا کہ تاریخ میں اس سے ملتے جلتے واقعات کو بیان کر کے کوئی نتیجہ اخذ کیے بغیر ہی قاری پر چھوڑدیا جائے۔ پڑھنے والے اندازہ لگا لیتے تھے کہ آج امریکی یا برطانوی عدالتی تاریخ کا یہ واقعہ کیوں دیا جا رہا ہے۔ ایمرجنسی کے خاتمے کے بعد نسبتاً زیادہ کھل کر لکھا جاتا رہا۔

یہ بھی پڑھیں:   پی ٹی ایم کے ناپاک عزائم مزید بے نقاب - شہزاد حسین بھٹی

پرویز مشرف اپنی ایمرجنسی کو اس لیے طویل نہ کر سکے کہ ان کے پاس زیادہ وقت بچا ہی نہیں تھا۔ مشرف کو جانا ہی تھا۔ وقت کا فیصلہ ان کے خلاف ہو چکا تھا۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ بھی انہیں حاصل نہیں رہی تھی۔ پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ کم و بیش یہی آنا تھا۔ تاہم اگر انھیں سن لیا جاتا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو خصوصی عدالت اہمیت دیتی اور مشرف کا مؤقف لے لیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔ اسی طرح پرویز مشرف کے اس وقت کے ساتھیوں، وزیراعظم، کابینہ کو بھی حصہ دار بنانا چاہیے۔ وہ بھی جرم میں برابر کے شریک تھے۔ نواز شریف حکومت نے ایسا دانستہ نہیں کیا تھا کہ مشرف کے کئی ساتھی ان کی حکومت کا حصہ تھے، مشرف کے کچھ ساتھی وزیراعظم عمران خان کی کابینہ میں بھی ہیں۔ ان سب لوگوں کو مشرف کے ساتھ ملزم ہونا چاہیے تھا۔

بہرحال یہ فیصلہ اب آ چکا، اس کی اپنی اہمیت ہے۔ اس کو سراہنے والے بھی ہیں تو ردعمل بھی عام معمول سے ہٹ کر زیادہ شدید اور بڑی سطح کا آیا ہے۔ آئی ایس پی آر نے جس بلند آہنگ انداز میں ردعمل دیا ہے، وہ نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ وفاقی حکومت بھی اس معاملے میں فوج کے ساتھ ہی کھڑی ہے۔ اٹارنی جنرل واضح الفاظ میں فیصلے پر تنقید کر چکے ہیں۔ عام طور سے ایسا ہوتا نہیں۔

لگ یہ رہا ہے کہ فوج یا کم از کم اس کی اعلیٰ قیادت مشرف کیس کو فوج کے ادارے کے خلاف فیصلہ قرار دے رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل کیانی نے نواز شریف صاحب کو وزیراعظم بننے کے بعد مشورہ دیا تھا کہ پرویز مشرف کے خلاف یہ کیس نہ کریں، پھر یہ بھی مشورہ دیا کہ اگر کرنا ہے تو سنگل آؤٹ کر کے صرف مشرف کو ہدف نہ بنائیں، بلکہ اس وقت کی حکومت، وزیراعظم، وزرا وغیرہ کو بھی اس میں شامل کریں تاکہ فوج اسے صرف اپنے چیف کے خلاف ایکشن نہ سمجھے، اس میں سیاستدان وزرا شامل ہوں گے تو پھر یہ صرف مشرف کے خلاف سویلین حکومت کا اقدام نہیں سمجھا جائے گا۔ میاں صاحب اس وقت تازہ تازہ اقتدار میں آئے تھے، عربی گھوڑے پر وہ سوار تھے، تیزی اور عجلت میں تھے، پرویز رشید جیسے مہان دانشور ان کے مشیر خاص تھے، انھوں نے اس مشورے کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا اور وہی کیا جو آج سب کے سامنے ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ مذاق ہے کیا - مسزجمشیدخاکوانی

اس کیس پراپیل لازمی ہوگی اور سپریم کورٹ ہی معاملے کو حتمی انداز میں طے کرے گی۔ بہرحال یہ فیصلہ اپنی حیثیت میں منفرد اور اہم ہے۔ اس کی اپنی تاریخی اہمیت اور مضمرات ہوں گے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.