دوستوں اور دشمنوں میں تمیز کا یہی وقت ہے- حبیب الرحمن

افغانستان، پاکستان اور بھارت آج کل جن حالات سے گزر رہے ہیں وہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ کسی وقت تو صرف ایک افغانستان ہی ایسا تھا جو قابلِ رحم حالت میں گرفتار تھا۔ پھر پاکستان اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہنگاموں کی لپیٹ میں آگیا۔ پڑوسی ملک بھارت کسی حد تک حالت امن میں نظر آ رہا تھا لیکن اچانک وہ جس بری طرح بے امنی کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید اس کا حال افغانستان اور پاکستان سے بھی کہیں عبرتناک صورت اختیار کر لے۔

افغانستان کے حالات تو کئی دھائیوں سے ہی بہت خراب چل رہے تھے اور پاکستان بھی حالت امن میں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان نے اپنے اندرونی حالات پر بہت حد تک قابو پالیا تھا جس کی سب سے بڑی دلیل پاکستان میں "ون ڈے انٹر نیشنل" کر کٹ کا پلٹ کر آنا اور اب "ٹیسٹ کرکٹ" کے میچوں کا انعقاد ہے۔ حالات اس حد تک بے سکونی کا شکار ہو چکے تھے کہ دنیا کی ٹیمیں پاکستان کا رخ کرنا تک پسند نہیں کرتی تھیں لیکن رات دن مسلسل جد و جہد اور عسکری ادارے کی منظم منصوبہ بندیوں اور بھر پور کارروائیوں کے وجہ سے امن و امان کی صورت حال میں اتنی بہتری آئی کہ پہلے پہل تو بین الاقوامی کھلاڑیوں کا اعتماد بحال ہوا اور پھر کرکٹ کی ٹیمیں بھی پاکستان کی جانب آنے کیلئے پر تولنے لگیں۔

پاکستان کا یہ امن شاید دنیا کو پسند نہیں آرہا جس کی وجہ سے نہ صرف دنیا پاکستان کے حالات کو ماضی کے حالات کی جانب لیجانے کی کوشش کر رہی ہے بلکہ اس خطے میں بھارت میں بھی امن و امان کو ابتر کرنے کی بین الاقوامی سازش تیار کی جارہی ہے۔ ایسا سب کچھ کیوں ہو رہا ہے اور کیوں کیا جارہا ہے، یہ بہت سنجیدہ اور غور طلب معاملہ ہے اس لئے نہایت باریک بینی کے ساتھ اس بات کی گہرائی تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔
ہم چند ماہ پیچھے کی جانب مڑ کر دیکھیں تو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور بھارت کے وزیر اعظم مودی امریکہ کے دورے پر گئے ہوئے تھے۔ اس سے اور چند ماہ قبل امریکہ اور طالبان مذاکرات چل بھی رہے تھے اور دو طرفہ افغان امن کے بڑے بڑے دعوے بھی سامنے آ رہے تھے۔ افغان امن کیلئے پاکستان کا ایک خاص کردار ہمیشہ سے رہا ہے اور اب بھی امریکہ کی خواہش ہے کہ پاکستان طالبان سے مذاکرات کے سلسلے میں امریکہ کی مدد کرے۔ اِدھر پاکستان اور بھارت کے بیچ جو سب سے سلگتا مسئلہ رہا ہے وہ کشمیر کا مسئلہ رہا ہے چنانچہ امریکی صدر سے ملاقات میں پاکستان اور بھارت دونوں نے کشمیر کے سلسلے میں امریکی صدر سے اپنے اپنے تحفظات کا اظہار کیا جس پر امریکہ کی جانب سے ثالثی کی پیشکش بھی کی گئی۔

پاکستان نے تو نیم رضامندی ظاہر کی لیکن مودی سرکار نے کسی بھی قسم کی ثالثی قبول کرنے سے انکار کردیا۔ ٹھیک دونوں ملکوں کے اس دورے کے بعد امن و امان کے لحاظ سے بھارت کے حالات ابتر سے ابتر ہونا شروع ہوئے۔ بھارت نے کشمیر کے مسئلے کو اپنے تئیں حل کرنے اور اس پر اپنا آئینی و قانونی حق جتانے میں جس غلط پالیسی کو اختیار کیا گیا وہ تو مودی سرکار کے منھ میں چھپکلی بن ہی گئی تھی جس کو اب نہ اگلے بن رہی ہے اور نہ نگلے لیکن حماقت در حماقت کی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ پالیسی نے اس وقت پورے ہندوستان میں ایسی آگ بھڑکائی ہوئی ہے جو بجھائے بجھ کر نہیں دے رہی ہے۔ اُدھر افغان اور امریکی مذاکرات کی ناکامی کی وجہ سے افغانستان کے حالات بھی خوفناک صورت اختیار کرچکے ہیں اور اب یہ نوبت آ گئی ہے کہ وہاں افغان حکومت کو یہی اندازہ نہیں ہو پا رہا کہ اس کے اپنے وفاداروں میں اپنے کتنے ہیں اور باغی کتنے۔
پاکستان جو اس وقت بھارت اور پاکستان سے کسی حد تک بہتر حالت میں نظر آ رہا تھا وہاں بے شک خونریزی کے وہ صورت حال تو نہیں ہے جو چند برس پہلے تھی لیکن یہاں جس قسم کے عدالتی، آئینی اور قانونی حالات پیدا ہوگئے ہیں یا کئے جارہے ہیں وہ کسی بھی وقت اتنی خوفناک صورت اختیار کر سکتے ہیں کہ ریاست کی بنیادیں بھی ہل جانے کا خطرہ ہے۔ گویا خطے کے تین بڑے ممالک، افغانستان، پاکستان اور بھارت، اس وقت ایسی صورت حال کا شکار ہیں کہ (ہزاربار خدانخواستہ) خطے کے جغرافیائی حالات بھی بے یقینی سے ہو کر رہ گئے ہیں۔

ماضی قریب میں پاکستان کے اندر خود کش حملوں، بم دھماکوں یا کسی بھی تخریب کاری کی صورت میں شاید اتنی تباہی و بربادی نہیں پھیلی ہو گی جو اس وقت آئینی، قانونی اور عداتی فیصلوں کی صورت میں پھیلتی نظر آ رہی ہے۔ عدالتوں کے تواتر کے ساتھ جس قسم کے فیصلے سامنے آ رہے ہیں وہ ملک کیلئے کوئی نیک شگون نہیں اس لئے کہ اگر ان حالات کا تسلسل بر قرار رہا تو پورا سسٹم ایک مرتبہ پھر سے لپٹ جائے گا یا جیسا ماضی میں لپیٹا جاتا رہا ہے لپیٹ دیا جائے گا جو پاکستان کی بنیادیں ہلانے کے مترادف ہوگا اور کچھ خبر نہیں کہ ریاست ایسے شدید زلزلوں کے جھٹکوں کی متحمل ہو بھی سکے یا نہیں۔

میں جس جانب ہر قاری اور اہل فہم و شعور کی توجہ مبزول کرانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ تیزی سے بگڑتی ہوئی اس صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو یہ سب افغان امن مذاکرات کی ناکامی اور پاکستانی و بھارتی وزرائے اعظموں کے دورہ امریکہ کے فوراً بعد سے سامنے آنا شروع ہوئی ہے۔ کشمیر کا تنازعہ کھڑا کرنا، بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بھر پور صف بندی، افغانستان میں طالبان کی دوبارہ متشددانہ سرگرمیاں اور پاکستان میں عدلیہ کی جانب سے مسلسل یہ بیان آنا کہ "ہواؤں کا رخ بدل چکا ہے" اور پھر اس کے فوراً بعد ایسے ایسے فیصلے آنا جس کے متعلق 72 سال میں بھی کسی نے تصور نہ کیا ہو، یہ سب معاملات خود بخود یا بہت اچانک نہیں ہو گئے ہونگے۔ اگر باریک بینی سے سوچا جائے تو اس کے پیچھے نہ صرف بہت مضبوط منصوبہ بندی شامل ہوگی بلکہ بین الاقوامی ہاتھوں کی شراکت کو بھی نظر انداز کرنا ایک سنگین غفلت ہوگی۔

پاکستان بے شک اپنے آپ کو "سونے کی چڑیا" نہ سمجھتا ہو، اسی طرح بھارت اور افغانستان اپنے "پارس" ہونے سے لا علم ہوں لیکن دنیا اچھی طرح جانتی ہے کہ پاکستان واقعی ایک "سونے کی چڑیا" اور افغانستان و بھارت "پارس" ہی ہیں لیکن بد قسمتی سے اپنی اپنی قدر و قیمت سے غافل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بہت سارے ممالک اس خطے میں بہت گہری دلچسپی رکھتے ہیں ورنہ دیکھا جائے تو ان خطوں میں بظاہر کون سے سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں۔ تیس پینتیس سال قبل روس نے بھی ان خطوں کی حقیقت جان لینے کے بعد اس جانب کا رخ کرنے کا ارادہ کیا تھا جس کو ناکام بنانے میں بھی کچھ بین الاقوامی طاقتوں کا ہاتھ تھا۔ یہ ہاتھ بھی کسی غرض و غایت کے بغیر نہیں تھا۔ جس قسم کی غرض و غایت وہ ممالک رکھتے تھے وہ اب سامنے آ رہی ہے لیکن شاید اس بات کو سمجھنے کیلئے کم از کم پاکستان میں کوئی بھی تیار و آمادہ دکھائی نہیں دیتا۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ جس وقت پاکستان، افغان طالبان اور بھارت امریکہ کے طواف کرنے میں مصروف تھے اسی دوران امریکہ و چین بھی تیزی کے ساتھ ایک دوسرے کے قریب آ رہے تھے۔ ان کی یہ قربت کسی بھی لحاظ سے بے معنیٰ تو نہیں رہی ہوگی۔ یہی وہ نقطہ ہے جس کی جانب میں ارباب اختیار و اقتدار کی توجہ مبزول کرانا چاہتا ہوں۔ اگر اس قربت پر غور کیا جائے تو پھر اس بات کو بھی کسی لحاظ سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ امریکہ کی طرح چین بھی کبھی اس بات کو گوارہ نہیں کرسکتا کہ اس خطے میں پاکستان اور بھارت کوئی بہت مضبوط ایٹمی پاور کے روپ میں ابھر کر سامنے آئیں۔ امریکہ کو جس طرح یہ گوارہ نہیں کہ کوئی بھی ملک جنگی اور دفاعی لحاظ سے اس کی برابری کر سکے اسی طرح چین یہ بات کس طرح گوارہ کر سکتا ہے کہ اس کے اڑوس پڑوس میں کوئی بھی ملک اس کیلئے آسمان سے لٹکی ہوئی تلوار بنا رہے۔

یہ نقطہ بھی ہر وقت نگاہوں میں رکھنا چاہیے کہ ہر طاقتور ملک دوسرے ملک کو اپنے سے کمزور تو دیکھنا چاہتا ہے لیکن وہ ایٹم کی تباہ کاریوں کے خوف سے جنگ چھیڑنا بھی نہیں چاہتا۔ کسی بھی ملک کو کمزور کرنے کا دوسرا اور جنگ سے بھی کہیں زیادہ مؤثر طریقہ یہی رہ جاتا ہے کہ دشمن ملک کو اندرونی خلفشار میں اس بری طرح مبتلا کر دیا جائے کہ وہ اپنی اہمیت اور طاقت کھو بیٹھے۔ یہی کچھ افغانستان، پاکستان اور بھارت میں ہو رہا ہے اور تینوں ممالک کو تین مختلف انداز میں کھوکھلا کرنے کی شازشیں عروج پر نظر آ رہی ہیں۔ افغانستان تو پہلے گرفتارِ بلا و آزمائش تھا، بھارت کو بھی اب قریب قریب اس جیسی ہی آگ میں جھونکا جاچکا ہے۔ اَدھر پاکستان کو بغیر خون خرابہ ایسے عدالتی، آئینی و قانونی بحران میں مبتلا کیا جارہا ہے جس سے نکلنا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جارہا ہے۔

توجہ دلانے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان اپنے دوستوں اور دشمنوں کو پہچاننے کی کوشش کرے۔ جن جن کو وہ اپنا حامی و دوست سمجھ رہا ہے وہ سب اس کے چھپے دشمن ہیں جس کی سب سی بڑی دلیل پاکستان کو دورہ ملائشیا سے باز رکھنا ہے۔ اگر پاکستان جلد اپنی خارجہ پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں لایا تو بین الاقوامی سطح پر بچھائے ہوئے جال میں پاکستان اس بری طرح پھنس جائے گا کہ جال کے تانے بانوں کو کاٹ کر اس سے باہر آنا ناممکن ہو جائے گا لہٰذا ضروی ہے کہ اپنوں اور پرایوں، دوستوں اور دشمنوں کو پہچانا جائے تاکہ ملک کو نہ صرف بحرانوں سے نکالا جا سکے بلکہ اس کو دنیا میں ایک باوقار ملک بنایا جا سکے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com