ٹیسٹنگ ایجنسیز کا دھندہ - شمس الرحمن تاجک

اُس دور میں جب سب کچھ بکاؤ تھا، ایمان داری کے پیمانے اور تبدیلی کے نعروں کا وجود نہیں ہوا کرتا تھا۔ سرکاری اداروں میں رشوت لینے کے کچھ رائج الوقت اصول ہوا کرتے تھے۔ بے ایمانوں کے اس دور میں کسی پوزیشن کے لئے آپ رشوت کی رقم لے کر ایسے افراد کو ڈھونڈتے ہی رہ جاتے تھے جو رشوت لے کر آپ کو ملازمت دلوادیں۔

رشوت لینا اور رشوت دینا ایک غیر اخلاقی، غیر اسلامی اور غیر انسانی فعل سمجھا جاتا تھا۔ مگر جب سے ایمانداروں کی حکومت آئی ہے تو کچھ ٹیسٹنگ ایجنسیز کے ذریعے رشوت لینے کو باقاعدہ قانونی تحفظ دی گئی ہے۔ رشوت لینے کے اس پروسیس کو فیس کہیں، این ٹی ایس والے ٹیسٹنگ سینٹر کے لئے مختلف علاقوں کو باقاعدہ ایجنٹس کو ٹھیکے پر دے دیں اور پھر ان ایجنٹس کے ذریعے ہر دفعہ پیپر آوٹ کرکے کروڑوں کمائیں کوئی پوچھنے والا موجود نہیں۔ غلطی سے ایجنٹس کے ذریعے وصول کردہ رشوت کی وڈیو بنے یا کوئی اور ثبوت امیدواروں کے ہاتھ آئے تو ٹیسٹ ہی کینسل کرادیں۔ بس۔

حالیہ دنوں اپر چترال میں تین شفٹوں میں ایک ہی پیپر کی تقسیم اور لوئر چترال میں این ٹی ایس کے دو دفعہ منسوخ شدہ ٹیسٹ اس بات کو تقویت دیتے ہیں کہ حکومت ایمانداروں، تبدیلی والوں یا بے ایمانوں اور رشوت خوروں کسی کی بھی ہو عوامی مسائل سے کسی کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جس ادارے نے ایک ہی دن کے تین شفٹوں میں ایک ہی پوزیشن کے لئے ایک ہی امتحانی پرچہ استعمال کیا اس کو اسی دن بلیک لسٹ کرکے آئندہ کے لئے پورے ملک میں کہیں بھی کام کرنے سے مکمل طور پر روک دیاجاتا۔ امیدواروں کے احتجاج اور اخباری رپورٹس کے بعد بھی بجائے متاثرین کی داد رسی کے دھمکی دینا اس بات کا غماز ہے کہ مملکت خداداد میں صرف چہرے بدلے ہیں، نظام کی فرسودگی سے نہ تو کوئی آگاہ ہے اور نہ ہی کسی کو اس نظام کی تبدیلی سے کوئی غرض۔ ورنہ این ٹی ایس کے دو مرتبہ مبینہ رشوت لے کر پرچہ آوٹ کرنے کی وجہ سے منسوخ ہونے والے ٹیسٹ کے بعد حکمرانوں میں انسانیت کی تھوڑی سی بھی رمق باقی ہوتی۔

تو وہ یا تو ایسے ادارے کو کام کرنے سے ہی مکمل طور پر روک دیتے یا پھر خود احتسابی کے عمل کے بعد وہاں سے اتر جاتے جہاں بیٹھنے کے بعد سب کچھ ہرا ہرا نظر آنے لگتا ہے۔ ایسا کچھ نہ ہونا اس بات کا ثبوتہے کہ تبدیل صرف رشوت لینے اور مال بٹورنے کے طریقے ہوئے ہیں۔ کچھ اور کسی کا باپ اس ملک میں تبدیل نہیں کرسکتا۔چترال میں این ٹی ایس کا ٹیسٹ ایک غریب کو کتنے کا پڑتا ہے اس کا اندازہ اسلام آباد کے گرم و سرد محلوں میں رہنے والے نہیں لگاسکتے۔ ہم چترال شہر کے دور دراز علاقوں کو چھوڑ کر سب سے قریب ترین گرم چشمہ کے علاقے سے ٹیسٹ کے لئے آنے والوں کے اخراجات کا حساب لگانے بیٹھ جائیں تو عوامی بے بسی صاف طور پر واضح ہوجائے گی۔

ٹیسٹ شیڈول کے حساب صبح آٹھ بجے پیپر کا ٹائم مقرر ہے گرم چشمہ سے چترال شہر دو گھنٹے میں گاڑی پہنچتی ہے چونکہ تمام ٹیسٹ اتوار والے دن رکھے جاتے ہیں،اتوار والے دن دفاتر کی بندش کی وجہ سے بہت کم لوگ گرم چشمہ یا دوسرے علاقوں سے چترال شہر آتے ہیں اس لئے گاڑیاں اور وہ بھی صبح پانچ ملنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ زیادہ تر لوگ ایک دن پہلے چترال شہر آجاتے ہیں تاکہ صبح سکون سے ٹیسٹ میں شامل ہوسکیں۔گاڑیوں کی دستیابی، ہوٹلوں میں جگہ ملنا اور اخراجات کا بوجھ برداشت کرنا امیدواروں کے لئے ایک شدید مسئلہ بنا ہوتا ہے۔ انتہائی کم تخمیہ لگا کر بھی گرم چشمہ سے آنے والے امیدواروں کو پانچ سے آٹھ ہزار کا خرچہ کرنا پڑتا ہے۔دوسری دفعہ منسوخ ہونے کے بعد تمام امیدوار پندرہ ہزار تک خرچ کرچکے ہیں اور تیسری دفعہ ٹیسٹ دینے اگلے اتوار چترال آرہے ہیں، صرف گرم چشمہ لٹکوہ سے آنے والے امیدوار پی ایس ٹی کی ایک پوزیشن کے لئے بیس ہزار سے زیادہ خرچ کرچکے ہیں۔

اس حساب سے اگر ہم بروغل سے آنے والے امیدواروں کا حساب لگائیں تو فی کس 60 سے 70 ہزار تک خرچ کریں گے۔ اس تمام خرچے سے زیادہ تکلیف دہ کام وہ ٹینشن ہے جو گزشتہ تین مہینوں سے یہ سارے امیدوار برداشت کررہے ہیں۔ یہ سارا ڈرامہ رچانے کے بعد بھی ٹیسٹنگ ایجنسیز کے نمائندے پیسے لے کر پیپر آوٹ کرتے ہیں اس سے وہی نظام اچھا نہیں تھا جس میں رشوت، رسوخ، رشتہ داری کی بنیاد پر ملازمتیں ملا کرتی تھیں۔ ملتی تو اب بھی اسی بنیاد پر ہیں مگر ہاتھی کے دانتوں کی طرح ہمیں دکھایا کچھ اور جارہا ہے اور کرایا اپنا من پسند کام ہی ہے۔

لوگ کہتے ہیں کہ تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے۔ یہی تو کمال ہے کہ تبدیلی والوں کا۔ بے ایمان لوگ صرف ان لوگوں کو لوٹتے تھے جن کو ملازمت دیتے تھے ہمارے ایماندار لیڈرز لوٹ بھی رہے ہیں اور ملازمت بھی نہیں دے رہے ہیں۔ ذہنی ٹارچر الگ سے۔ ٹیسٹنگ کا یہ سسٹم باقاعدہ ایک کاروبار بن چکا ہے اس کاروبار کے ٹھیکہ داروں کا انتخاب قابلیت کے بجائے مالیت دیکھ کر کی جاتی ہے۔ جہاں ”قابلیت“ اور ”مالیت“ مد مقابل آجائیں تو جیت کس کی ہوتی ہے وہ سب کو پتہ ہے۔ ٹیسٹ پھر منسوخ ہوں گے، پیپر پھر سے آوٹ ہوں گے۔

آپ کی بیٹیوں کو پھر سے چترال شہر بلایا جائے گا۔ ان کی پھر سے تذلیل کی جائے گی۔ آپ کی منہ زبان جو موجود نہیں۔لو ایک مزے کی بات سنو! ایک پادری کو ایک فوجی تقریب میں تقریر کے لئے بلایا گیا۔ تقریر کے آغازسے پہلے پادری کہنے لگے کہ میری مثال اس مچھر کی سی ہوگئی ہے جو اتفاقا نیوڈسٹ (ننگے لوگوں) کے کلب میں چلا گیا۔ مچھر کو یاد اور پتہ بھی تھا کہ اسے کیا کرنا ہے مگر یہ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ کہاں سے شروع کرنا ہے۔ اب یہ پڑھنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ”مچھر“ کس کو بناتے ہیں۔ ”ننگے“ کون ہیں۔ اور ملک میں ”صفائی“ شروع کیوں نہیں ہورہی ہے۔