بھارت میں مسلمان کیوں احتجاج کر رہے ہیں؟ معظم معین

وہ ایک نہتی باپردہ لڑکی کی تصویر تھی جس نے سوشل میڈیا پر وائرل ہو کر اس معاملے کو اجاگر کر دیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں بھارتی پولیس کے اہلکار چھے چھے فٹ لمبے ڈنڈوں سے وار کر کے نہتے طلبہ و طالبات کو تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے اور وہ لڑکی اپنے ساتھیوں کو بچانے کے لئے ان کے آگے ڈھال بنی ہوئی تھی۔ احتجاج کے دوران یہ طلبہ کسی گھر کے گیراج میں پناہ گزین ہوئے جہاں داخل ہو کر پولیس ان کو تشدد کا نشانہ بنانا چاہتی تھی. ان میں ایک لڑکا اور چند لڑکیاں شامل تھیں. ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح پہلے اس بہادر لڑکی نے پولیس کے جوانوں کو دھکیل کر گیراج سے باہر نکالا مگر پولیس والے ان کے ساتھی لڑکے کو قابو کرنا چاہتے تھے. بالاخر جب وہ اس لڑکے کو قابو کرنے میں کامیاب ہو گئے تو سب لڑکیوں نے مل کر اس نوجوان کو پولیس والوں کے تشدد سے بچایا. وہ یہ احتجاج کیوں کر رہے تھے؟
یہ احتجاج تقریبا ایک ہفتے سے جاری ہے جس میں اب تک پانچ افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں مگر ہمارا میڈیا تاحال اس کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام ہے۔ بھارتی میڈیا پاکستان میں ہونے والے ہر ایسے واقعے کی تشہیر اپنا فرض منصبی جانتا ہے جس سے پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کیا جا سکے اور اس کے خلاف لابنگ کی جا سکے مگر ایسے اہم ایشو پر ہمارا میڈیا کیوں سو رہا ہے یہ امر باعث حیرت ہے۔

یہ احتجاج اس لیے ہو رہا ہے کہ مودی سرکار قانون بنا رہی ہے جس کے بعد بھارت کے مسلم اکثریتی علاقوں میں غیر قانونی طور پر آئے ہوئے غیرمسلم بھارتی شہریت حاصل کر سکیں گے۔ وجہ صاف ظاہر ہے وہ غیر مسلم مودی کے پکے ووٹر ہوں گے اور ان کی شمولیت سے مسلم اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں کا تناسب کم کیا جا سکے گا جس کے بعد مودی کی ہندو نواز جماعت بی جے پی کے لئے مسلمانوں سے نمٹنا آسان ہو جائے گا۔ بھارت کے سرحدی شہروں میں بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان سے غیر قانونُی طور پر آئے لوگوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔ غیر قانونی طور پر آنے کے باعث وہ مودی سرکار کو کوئی "فائدہ" نہیں پہنچا سکتے۔ ان سے "فائدہ" اٹھانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ انہیں قانونی طور پر شہری مان لیا جائے تاکہ کم از کم وہ مودی کو ووٹ تو ڈال سکیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس قانون سے غیر قانونی طور پر بھارت آئے مسلمان فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ یہ قانون صرف اور صرف غیر قانونی طور پر داخل ہوئے غیر مسلموں یعنی ہندو سکھ، بدھ، عیسائی وغیرہ کے لیے ہو گا۔ اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا ابھی بھی بھارت کو سیکولر ملک قرار دیتی ہے اور جہاں واضح طور پر مذہبی امتیاز پر مبنی قانون بن رہا ہے اور دنیا کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ یہ قانون مودی سرکار کی اس پالیسی کا تسلسل ہے جس میں وہ مسلم اکثریتی علاقوں کو کو ٹارگٹ کر کے وہاں ان کی شرح آبادی کو گھٹانا چاہتی ہے تاکہ اپنے مذہبی شدت پر مبنی عزائم کی تکمیل کر سکے۔ اسی پالیسی کے تحت ہی چند ماہ قبل آرٹیکل 370ختم کر کے ریاست کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی تھی۔
اقوام متحدہ کے نمائندے نے بس اتنا بیان دینا کافی سمجھا ہے کہ یہ قانون بنیادی طور پر مذہبی امتیاز پر مبنی یعنی discriminatory ہے۔کانگرس رہنما سونیا گاندھی نے اس قانون کی منظوری کے دن کو یوم سیاہ قرار دیا اور کہا کہ یہ مودی کے تنگ ذہن کی علامت ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ یہ نسلی تعصب پر مبنی قانون ایک طرح سے مجرمانہ فعل ہے۔

بڑے پیمانے پر ہونے والا یہ احتجاج ممبئی، کلکتہ، حیدرآباد، آسام، چنائے، اور دلی میں جاری ہے جو اب پانچویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔ مگر مودی سرکار کی روایتی ہٹ دھرمی ہے کہ احتجاج کرنے والوں سے بات کرنے کے بجائے ان کی ڈنڈوں سے مرمت کی جا رہی ہے۔

Comments

سید معظم معین

سید معظم معین

معظم معین پیشے کے اعتبار سے مہندس کیمیائی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ مشینوں سے باتیں کرتے کرتے انسانوں سے باتیں کرنے کی طرف آئے مگر انسانوں کو بھی مشینوں کی طرح ہی پایا، وفا مگر مشینوں میں کچھ زیادہ ہی نکلی۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.