مولانا کا آزادی مارچ میری نظر میں - حبیب الرحمن

اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ نے پاکستان کے ارباب اقتدار و اختیار میں ایک کھلبلی مچا کر رکھ دی تھی۔ جو زلزلے اس آزادی مارچ کے نتیجے پاکستان کے سیاسی حلقوں میں آنا شروع ہوگئے تھے وہ حقیقتاً بہت لرزا دینے والے تھے لیکن اس کا ڈراپ سین ہر عقل و شعور رکھنے والے کی سمجھ سے باہر ثابت ہوا اور آج تک پورا پاکستان اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ عوام کا وہ سیلاب جو سمندر کے طوفان کی طرح اٹھا تھا وہ جھاگ کی طرح کیسے بیٹھ گیا۔

اگر غور کیا جائے تو فضل الرحمن صاحب کے آزادی مارچ کے طوفان کی طرح اٹھنے اور بیٹھ جانے میں بھی ایک ایسا عقدہ ہے جس کی جتنی بھی گرہیں کھولی جاتی رہیں گی اتنی ہی یہ بات سامنے آتی رہی گی کہ اس کے پیچھے ایک منظم منصوبہ بندی شامل تھی جس میں موجودہ حکومت کو مزید طاقت اور استحکام فراہم کرنا مقصود تھا جس میں وہ سارے زمانہ ساز سو فیصد کامیاب ہوئے جو پاکستان میں اس نظام کو، جو پاکستان کا مقصد وجود تھا، برپا کرنے کی راہ میں پاکستان بننے سے پہلے اور پاکستان بن جانے کے بعد سے اب تک سب سے بڑی رکاوٹ رہے ہیں۔

پوری دنیا اس بات سے واقف ہے کہ پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا۔ بر صغیر کے مسلمانوں نے قربانیاں دی ہی اس لئے تھیں کہ پاکستان میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ و علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کو نافذ کیا جائے گا۔ پاکستان بننے سے قبل بھی بہت سارے حلقوں نے پاکستان بنانے کی شدید مخالفت کی تھی اور پاکستان بن جانے کے بعد تو پاکستان بنانے والے ہوں یا اس جغرافیائی پٹی میں پہلے سے مقیم وہ "ہندوستانی" ہو جو 14 اگست 1947 کا سورج طلوع ہونے سے بھی پہلے "پاکستانی" بن گئے تھے، پاکستان کا مقصد وجود ہی بھول گئے تھے اور 14اگست 1947 سے لیکر آج تک جب جب بھی پاکستان میں موجود اسلام پسندوں اور علمائے کرام نے ان کو خواب غفلت سے جگا کر یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ لوگوں شہدائے پاکستان کی قربانیوں کو فراموش نہ کرو اور اس وعدے کی جانب پلٹ آؤ جس کیلئے پاکستان بنایا گیا تھا تو لوگوں کی مخالفت کا ایک ایسا طوفان بر کیا جاتا رہا جس کے شور و شر کے آگے آوازہ حق اور نعرہ اللہ و اکبر دب کر رہ گیا۔

اللہ سے کئے گئے وعدے کے خلاف چلنے کی سب سے بڑی سزا تو 1971 میں ہی سامنے آ گئی تھی، آپس کی خوں ریزی کا نتیجہ یہ نکلا کہ جن کے پنجہ خونی سے 20 لاکھ سے زیادہ مسلمانوں نے قربانی دیکر پاکستان بنایا تھا وہی ایک سوچی سمجھی اور منظم سازش کے تحت کروڑوں بنگالی مسلمانوں کا نجات دہندہ بنے اور اس طرح وہ پاکستان جو خالص اللہ کے نام اور اس کے نظام کے نفاذ کے نعرے پر وجود میں آیا تھا وہ دولخت ہو گیا۔
غلطیاں کس قوم سے نہیں ہوتیں لیکن قومیں اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کرتی ہیں، مگر پاکستانی قوم، ارباب اختیار و اقتدار نے اس سے تا حال کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور اللہ اور اس کے دین سے رجوع کرنے کی بجائے اپنی اسی کافرانہ حرکتوں پر قائم و دائم رہے جس کی وجہ سے آج پاکستان ایک ایسے موڑ پر آ کھڑا ہوا جہاں سے پیچھے کی جانب ریت کا طوفان ہے اور نگاہوں کے سامنے کھلا سمندر ہے۔ یعنی نہ آگے کی جانب کوئی راستہ ہے اور نہ ہی مڑنے میں زندگی کی کوئی ضمانت۔

پیچھے کی جانب مڑنے میں زندگی کی کوئی ضمانت نہیں ہے تو وہ محض اس لئے نہیں ہے کہ پاکستان کے عوام ہر اس تحریک سے بیزار ہو چکے ہیں جس کے سیاسی نعروں کی اساس "مذہب" ہو۔ پاکستان بننے سے پہلے بھی دین و مذہب کے نعروں کا سہارا لیا جاتا رہا تھا اور پاکستان بن جانے کے بعد بھی یہی سلسلہ جاری رہا اور حکومتوں کو ہٹانے کیلئے "مذہبی" دعوے، نعرے اور وعدے کام آتے رہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام میں ان نعروں اور دعوں سے بیزاری پیدا ہوتی چلی گئی۔

پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی بڑی تحریک "خفیہ" طاقتوں کی حکمت عملی کے بغیر چلائی ہی نہیں جاسکتی۔ اسلام آباد تو پھر بھی پاکستان کا دارالحکومت ہے، پاکستان کے گاؤں دیہات میں بھی یہ بات ممکن نہیں کہ کوئی سیاسی پارٹی یا مذہبی جماعت اپنے تئیں بڑا اجتماع کر سکے۔ ان گناہگار آنکھوں نے نہ جانے کتنی بار اسلام آباد کا گھیراؤ ہوتے اور اسلام آباد کو ایسا جزیرہ بنتے دیکھا جس کے چاروں جانب خشکی کے سمندر کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں پایا جاتا تھا۔ پھر ان آنکھوں نے یہ بھی دیکھا کہ وہی طاقتور بن جانے والے گروہ یا پارٹیاں اسلام آباد میں کیا، اپنے اپنے علاقوں میں بھی ریلیاں نکالنے، جلسہ کرنے یا ہڑتال کرانے میں کامیاب نہ ہو سکیں بلکہ یہاں تک بھی دیکھنے میں آیا کہ پاکستان کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی بڑی بڑی سیاسی جماعتیں اس برطانیہ کی طرح جزیرہ نما بن کر رہ گئیں جس کا سورج کبھی غروب نہیں ہوا کرتا تھا۔

پارٹیاں چلانا، ان کو قائم رکھنا، ان کے دفاتر پورے ملک میں کھولنا، ان میں اپنے اپنے نقطہ نظر کے مطابق اہل اور بااثر لوگوں کو مختلف ذمہ داریاں سونپنا، ریلیاں نکالنا، جلسے کرنا، جلوس نکالنا، پورے ملک کو جام کردینا، ہڑتالیں کرانا اور اسلام آباد تک کے گھیراؤ جیسی منصوبہ سازی کرنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں جو بنا کسی اخراجات کے کھیلا جا سکتا ہو۔ ایسے کام کروڑوں اور اربوں مانگتے ہیں۔ کسی ریلی کا پاکستان کے ایک ایک شہر سے نکالنا، پورے پاکستان سے گزرنا، لاکھوں انسانوں کے سیلاب کا رخ اسلام آباد کی جانب موڑ دینا اور اسلام آباد تک پہنچنے پہنچنے تک کسی ایک مقام پر بھی کسی بھی قسم کی کوئی رکاوٹ کا نہ پایا جانا اور وہ بھی پاکستان میں، کیا حیران کن بات نہیں۔ پھر ایک ایسی جماعت جس نے بے شک اسلام باد تک پہنچنے اور پھر وہاں ڈیرہ ڈالنے اور رخصت ہوجانے تک کسی بھی قسم کی کوئی تخریبی کارروائی نہ کی ہو لیکن انداز میں بے پناہ جارحیت ہو، اس کے خلاف کسی بھی کارروائی کا نہ ہونا کیا ایسا عمل نہیں جس پر کسی بھی قسم کے غور و فکر کی ضرورت نہیں؟۔

جس ملک میں عوام سانس بھی کسی سے پوچھ کر لینے پر مجبور ہوں وہاں ایسے معجزے یونہی تو نہیں ہو سکتے۔ اس سارے ڈرامے میں کروڑوں نہیں، کھربوں روپے خرچ ہوئے ہونگے، "کسی" کی مرضی و منشا شامل رہی ہوگی اور "جس" کی مرضی یہاں تک پہچانے کی حکمت عملی کا حصہ رہی ہوگی "وہی" یہاں سے اٹھ جانے کا سبب بنی ہوگی۔مولانا ہر ہر مقام پر اس بات کا شور کرتے پائے گئے ہیں کہ "ہم خالی ہاتھ نہیں آئے بلکہ جھولیاں بھر کر لائے ہیں" تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کی "مٹھیوں" یا "جھولی" کو بھر نے والے کون تھے؟۔

جیسا کہ میں نے کہا کہ "جن" کی مرضی، منشا یا منصوبہ بندی سے ایسا ہوا وہ وہی لوگ ہیں جو قیام پاکستان سے لیکر اب تک اس نظام کے نفاذ کے مخالف رہے ہیں جس کیلئے پاکستان بنایا گیا تھا اور جس کیلئے بر صغیر کے مسلمانوں نے قربانیاں پیش کی تھیں۔ میرے اپنے نقطہ نظر کے مطابق (جو غلط بھی ہو سکتا ہے) مولانا بھی اسی طرح استعمال ہوئے جیسے ماضی میں اسلام پسند، سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو ماضی میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ان کو اسلام آباد میں اس خوفناک صورت میں لانے کا جو مقصد مجھے اب تک سمجھ میں آیا ہے وہ صرف یہ ہے کہ دنیا والوں کو یہ دکھانا تھا کہ اگر دنیا نے ایک بے دین، جاہل، زانی، شرابی، بد کردار اور اسلام مخالف حکومت اور اس کے سربراہ کے پسند نہ کیا تو پاکستان میں اسلام کو پسند کرنے والے حقیقی امن پسند، منظم اور کفر کے خلاف اعلان جنگ جیسے نیک عزائم رکھنے والے مسلط ہوجائیں گے اور پھر اہل کفر کا جینا حرام ہوجائے گا لہٰذا اگر ایسی ناہنجارحکومت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو اس میں آپ (دنیا) ہی کیلئے تباہی ہے۔

یہ بات میں محض بر بنائے بات نہیں کررہا ہوں بلکہ آپ اس آزادی مارچ کی ناکامی کے بعد اسٹاک ایکسچینج کی صورت حال میں بہتری دیکھیں، آئی ایم کی مہربانیاں ملاحظہ کریں، دنیا کے دیگر ممالک کا پاکستان کی جانب جھکاؤ نظر میں رکھیں، وزیر اعظم کی خاطر داریاں ملاحظہ کریں اور زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافے پر غور کریں۔ جب ملک کی معیشت، جو قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھی ہو، مہنگائی کا بھوت سر پر سوار ہو، ترقیاتی کام رکے ہوئے ہوں، بیروزگاری کا طوفان مچا ہوا ہو اور پاکستان اندرونی و بیرونی خطرات میں گھرا ہوا ہو تو وہ کون لوگ ہیں جو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے آرہے ہیں، کون کون اپنے سرمائے کو پاکستان لارہے ہیں اور امریکہ، برطانیہ، ملائیشیا، کنیڈا اور چین کی مہربانیاں پاکستان پر کیوں برسنے لگی ہیں۔

جب دنیا کو اسلام پسند قوت کا ایسا منظم گروہ دکھایا جائے گا جو قائد کے ایک اشارے پر جمع بھی ہو سکتا ہو اور بکھر بھی سکتا ہو تو دنیا کیوں نہ ایسے بے دین بلکہ دشمنِ اسلا م کی پشت پر کھڑی ہوگی۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ "پُراسرار" قوتوں نے دنیا کے سامنے پاکستان کیلئے وہ شکل رکھی جو پاکستان اور پاکستانیوں کے لئے تو حسین و جمیل اور مقصدِ پاکستان کے مطابق ہو سکتی ہے لیکن دنیا کو دہلادینے کیلئے کافی ہے۔ میرے نزدیک یہ ایک مولانا فضل الرحمن کیلئے مکر و فریب کا بچھایا جانے والا نہایت مضبوط اور سنہری جال تھا جس میں مولانا ہی کیا، ہر حکومت مخالف جماعت بری طرح پھنسی اور ایک ایسی حکومت جس کا نہ کوئی دین ہے اور نہ مذہب، اس کی جڑیں مضبوط ہوئیں اور لگتا ہے کہ وہ درخت جس کی جڑیں خود اس کی اپنی ہی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کھوکھلی ہو چکی تھیں، نامعلوم طاقتوں نے اس کو پھر سے اپنے پاؤں جمانے کا ایسا موقع فراہم کیا کہ اب شاید کوئی بھی مذہب کے نعرے پر باہر نکلنے اور اسلام کی احیا کیلئے تیار و آمادہ ہو۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */