محبت تم اور میں - مدیحہ مدثر

گرمی کا موسم اپنے جوبن پر تھا،چلچلاتی دھوپ میں کھڑے درخت دُہائی دیتے معلوم ہوتے تھے اور ان پہ بیٹھے ننھے پرندے دیکھ کر اُسکی آنکھیں نم ہونے لگتی تھیں وہ بے ساختہ بولی “یا اللہ یہ پرندے کیسے سہہ پا رہے ہوں گے گرمی کا قہر۔۔۔؟؟”۔۔۔۔موسم کی شدت جب اسے نڈھال کرتی تو وہ یونہی بے ساختہ اپنے گردونواح میں موجود ہر ذی روح کے لیے بھی تڑپ اٹھتی،اسکا دل ایسا ہی تھا نرم،ذرا سی بات پہ تڑپ اٹھنے والا،اور حد درجہ حساس۔۔۔۔اماں اسکی حساسیت سے خاصی جُزبُز رہتی تھیں کہ ان کا ماننا تھا دنیا میں جینا ہے تو سخت دل اور کسی حد تک ڈھیٹ بن جاؤ۔

لیکن انکی لاڈلی پہروں کسی بات پہ کُڑھ کر خود تو پریشان رہتی ہی تھی ساتھ میں انکو کو بھی تشویش میں ڈال دیتی۔۔۔۔وہ اکثر فکرمند ہو کر کہتیں “اے نوج ایسے کیسے گزرے گی تیری زندگی ۔۔؟؟تھوڑا خود کو زمانے کے رنگ میں ڈھال بیٹا”اور وہ فقط مسکرا کر رہ جاتی کہ اماں کو کیا بتاتی یہ حساس دل اسے کتنا عزیز تھا۔۔۔۔۔وہ سوچتی کم از کم یہ حساسیت اسے مردہ ضمیر بنا کر سخت دل ہونے سے بچا لیتی ہے اور یہ بڑی نعمت ہے
شام کا دھندلکا چھا رہا تھا پرندوں کا غول شور مچاتا صحن کے اوپر سے گزرا تو اسکی مسکراتی نظروں نے بے ساختہ اوپر دیکھا اور اس غول کا دور تک پیچھا کیا۔۔۔۔اچانک دروازے کی اطلاعی گھنٹی نے اسکی توجہ غول سے ہٹائی اور وہ دروازے کی طرف پلٹ گئی،اماں نماز کی تیاری کر رہی تھیں۔۔۔۔۔سو دروازہ اسے ہی کھولنا تھا۔۔۔۔کون؟دروازے کی اوٹ سے اس نے پوچھا۔۔۔۔محسن رضا۔۔۔۔۔گھمبیر آواز میں جواب آیا اور ایمن کا دل یکبارگی زور سے دھڑکا۔

دروازہ کھولتے ہی وہ پلٹ آئی جبکہ محسن اسکے پیچھے پیچھے دروازہ بند کر کے مسکراتا ہوا آنے لگا۔۔۔۔وہ سیدھی اپنے کمرے میں گھس گئی اور وہ چہرے پہ ہنوز مسکراہٹ لیے برامدے میں بچھے تخت پہ نماز میں مشغول اماں کے پیچھے بیٹھ گیا۔۔۔۔۔اماں نے جونہی سلام پھیرا تو محسن رضا نے آگے بڑھ کر فورًا سلام کیا۔۔۔۔ارے بیٹا تم کب آئے اور یہ ایمن کہاں ہے؟اماں نے خوشدلی سے اسے پیار کرتے ہوئے بیک وقت دو سوال داغ دیے۔۔۔۔اور اس سے پہلے کہ محسن رضا کوئی جواب دیتا ایمن ٹھنڈی ٹھار سکنجبین بنا کر لے آئی۔

ایسے موسم میں یہ مشروب تو میرا ہمیشہ سے پسندیدہ رہا ہے،محسن رضا نے گلاس تھامتے ہوئے کہا تو اماں نے بھی فورًا تائید کی اور بولیں ارے بیٹا یہ نگوڑ مارے نئے نئے لال پیلے شربت تو مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتے،تازہ لیموں کی سکنجبین کا بھلا کیا مقابلہ کریں گے یہ۔۔۔۔اپنی بات کے اختتام پہ اماں نے معصومیت بھرے فخر سے یوں دیکھا جیسے سکنجبین ان کی ایجاد ہو۔۔۔۔۔ایمن اور محسن رضا کی ہنسی بے ساختہ تھی۔ایمن چند ماہ کی تھی جبکہ عمر فقط دو سال کا جب ان کے والد صاحب کا انتقال ہو گیا اور سنجیدہ بیگم بھری جوانی میں بیوہ ہو گئیں۔۔۔۔وہ تو شکر مالک کا کہ چھت اپنی تھی اور شوہر کی پنشن سے گھر کی گاڑی چلنے لگی۔۔۔۔عمر نے اعلی تعلیم کے حصول کے لیے بیرونِ ملک وظیفے پہ پڑھنے کی درخواست دے رکھی تھی جو کہ منظور ہو گئی اور یوں وہ مستقبل کے سہانے سپنے آنکھوں میں سجائے،باہر سدھارا۔

ایمن اپنا ماسٹرز مکمل کر کے آجکل گھر داری میں خود کو کھپائے ہوئے تھی۔۔۔۔۔۔ماموں،خالہ وغیرہ کا گھر قریب ہی تھا سو دونوں ماں بیٹیاں سکون سے زندگی کے روزوشب گزار رہی تھیں۔۔۔۔۔محسن رضا ابا کے قریبی مخلص دوست کا بیٹا تھا اور شکور صاحب اور انکی زوجہ نے عمر کی موجودگی میں ہی بڑے چاو سے ایمن کا ہاتھ مانگا تھا دونوں ماں بیٹے نے آپس میں مشورہ کیا اور سنجیدہ بیگم کے بڑے بھائی نے محسن رضا سے ملاقات کے بعد اپنی رضامندی ظاہر کر دی یوں ایک سہانی شام چھوٹی سی تقریب عمر کی فلائٹ سے قبل منعقد کی گئی اور ایمن کو محسن رضا سے منسوب کر دیا گیا۔محسن رضا نہایت سلجھا ہوا،سجیلا اور بانکا نوجوان تھا،سنجیدگی کے لبادے میں اسے پہلی نظر میں دیکھنے والا کبھی اندازہ نا لگا سکتا تھا کہ وہ بہترین حسِ مزاح بھی رکھتا ہے،ایمن کو وہ پہلی نظر میں اچھا لگا تھا لیکن جانے کیوں وہ اس کا سامنا کرنے سے گھبراتی تھی،محسن رضا اسکی گھبراہٹ اور بوکھلاہٹ سے خوب محظوظ ہوتا،وہ یونہی کبھی کبھی اچانک بن بتائے اماں کو ملنے چلا آتا اور ایمن اچانک اسے سامنے دیکھ کر کسی سہمی ہرنی کی طرح حیران ہوتی ایسے میں محسن کی مسکراہٹ بہت گہری اور شرارت سے بھرپور ہوتی شاید وہ یہی گھبرایا ہوا البیلا روپ دیکھنے کو ہی اچانک آن وارد ہوتا تھا۔

آج بہت دن بعد گرمی کا زور ٹوٹا اور چھاجوں مینہ برسا۔۔۔۔صحن کی سرخ اینٹیں بارش کے پانی سے دھل کر نکھر سی گئی تھیں۔۔۔۔نیم کے درخت پہ پرندوں کی چہچہاہٹ زندگی سے بھرپور تھی۔۔۔۔۔شفاف نیلے آسمان کی طرف تشکر سے دیکھتی اماں تسبیح پہ جانے کیا پڑھ رہی تھیں،ایمن پکوڑے بنا رہی تھی کہ ایسے موسم میں پودینے کی چٹنی کے ساتھ گرما گرم پکوڑوں کا مزہ لطف دوبالا کر دیتا تھا،فون کی بیل نے دونوں نفوس کا ارتکاز توڑا۔۔۔۔۔ایمن نے فون کان سے لگایا ہی تھا کہ دروازے کی اطلاعی گھنٹی بج اٹھی۔۔۔۔۔اماں دروازے کی طرف گئیں اور دروازہ کھولتے ہی مارے خوشی اور حیرت کے زار زار رونے لگیں سامنے انکا لاڈلا بیٹا فون کان سے لگائے کھڑا تھا جس کے دوسری طرف ایمن تھی۔اماں کو مضبوط بانہوں کے حصار میں لیے وہ صحن میں بچھی چارپائی تک پہنچا ہی تھا کہ ایمن بھاگتی ہوئی اس تک پہنچی ۔۔۔۔۔ارے بھائی آپ گھر پہنچ کر فون کر رہے تھے محبت بھرے شکوہ کناں انداز میں گویا ہوتی ایمن کی آنکھیں مکمل بھیگ چکی تھیں،بتایا تھا ناں بہت حساس اور جذباتی لڑکی تھی۔۔۔۔عمر نے ہنستے ہوئے اسے پیار دیا اور بولا بھئی سرپرائز کیسا لگا آپ دونوں کو؟؟؟بہت اچھا لگا دونوں ماں بیٹی بیک وقت بولیں۔۔۔۔۔۔شام کا حسن بلاشبہ دُگنا ہو چکا تھا۔

عمر دو ماہ کی چھٹیاں گزارنے آیا تھا اور شکور صاحب کی فیملی بضد تھی کہ ایمن کو اب ان کے گھر کی رونق بنا دیا جائے کہ محسن رضا بہت اچھی نوکری کر رہے تھے اور اکلوتے ہونے کی وجہ سے انکی والدہ جلد بہو لانا چاہتی تھیں،انکار کی گنجائش نا تھی کہ پھر عمر کی چھٹی جانے کب ہوتی۔۔۔۔۔۔سو شادی کی تیاری شروع کر دی گئی۔اماں آپ اکیلے کیسے رہیں گی؟؟؟ایمن کو اماں بی کی فکر کھائے جا رہی تھی سو وہ رو ہانسی ہو کر بولی۔۔۔۔۔بیٹا تم نے بیاہ کر کون سا دور جانا ہے اسی شہر میں تو ہے تمہارا سسرال۔۔۔۔۔میری فکر مت کرو میں اماں جنتے کو بلا لوں گی اپنے پاس تمہاری شادی کے بعد،وہ بیچاری ویسے بھی اپنی بہووں سے عاجز ہیں آ بھی جائیں گی۔۔۔۔۔اماں نے رسان سے بیٹی کو سمجھاتے ہوئے اپنی دور کی رشتے دار خاتون کا ذکر کرتے ہوئے بات مکمل کی اور ایمن نم آنکھوں سے مسکرا دی۔

یہ بھی پڑھیں:   محبت ان لاء - رقیہ اکبر چودھری

وقت کی رفتار کا بھلا کیا مقابلہ سبک خرابی سے گزرتا وقت بھی جب گزر جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ کتنی تیزی سے گزر گیا،ایمن کی شادی بھی یونہی جھٹ پٹ ہو گئی اور وہ محسن رضا کے پہلو میں جا سمائی۔
عمر دیارِ غیر واپس چلا گیا اس وعدے کے ساتھ کہ وہ جلد ہی واپس پلٹے گا اور اپنے دیس میں مستقل سکونت اختیار کرے گا،اماں جنتے واقعی ایک دفعہ کہنے پہ ہی بھاگی چلی آئیں اور کسی نے انکو روکنے کی زحمت بھی گوارا نا کی،یوں زندگی کی ریل گاڑی اپنے مخصوص ڈھب پہ رواں دواں ہو گئی۔محسن رضا کیونکہ اکلوتے بیٹے تھے سو اپنے اماں،باوا کے بے حد لاڈلے اور راج دُلارے تھے،دوسری طرف ایمن فطرتاً بہت چنچل،جذباتی اور حساس طبع تھی،ساس نے نئی دلہن کے خوب چاؤ اٹھائے،محسن رضا کی گہری نظروں کے حصار میں ایمن سارا دن شرمائی شرمائی گھر میں گھومتی خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کرتی ایسے میں اچانک سے محسن رضا چپکے سے اس کے کان میں کچھ ایسا کہہ جاتا کہ وہ پہروں خود میں سمٹی سی رہتی۔

سردیوں کی آمد آمد تھی دن بتدریج چھوٹے ہوتے جا رہے تھے،خنک ہوا کے باعث فضا میں ٹھنڈ کا احساس بڑھ گیا تھا گہرے سبز رنگ کا ویلوٹ کا سوٹ پہنے جس پہ ننھے ننھے میرون پھول سجے تھے اور میرون دوپٹہ اوڑھے وہ موسم سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔۔۔۔ہاتھوں میں میرون اور سبز کانچ کی چوڑیاں بھر بھر کر پہنی ہوئی تھیں۔۔۔۔گھنگھریالے بال چھوٹی سی پونی ٹیل میں اڑسے ہوئے تھے،اس سادگی میں بھی اس کا متناسب سراپا بے پناہ کشش لیے ہوئے تھا۔وہ جانے کن سوچوں میں گم تھی کہ محسن رضا کی آمد سے یکسر بے خبر رہی،محسن رضا نے اسکی محویت توڑتے ہوئے زوردار سلام کیا جس پہ وہ بے ساختہ چونکی اور پھر دلفریب مسکراہٹ سے جواب دیتے ہوئے انکی طرف پلٹی۔۔۔۔۔مجھے آج امی کی طرف رات رکنا ہے آپ پلیز تازہ دم ہو لیں پھر چلتے ہیں،وہ پروگرام ترتیب دیے بیٹھی تھی اور محسن کو جانے کیوں بہت محسوس ہوا کہ اس سے مشورہ کیے بنا ہی ایمن نے پلان بنا لیا۔۔۔۔۔سو وہ خاموشی سے اندر بڑھ گیا جبکہ مزاج آشنا بیوی پریشانی میں پیچھے ہی لپکی کہ تیور بگڑے بگڑے سے محسوس ہو گئے تھے۔

آپکو برا لگا میرا جانے کا کہنا؟اس نے کمرے میں داخل ہوتے ہی سٹپٹائے ہوئے انداز میں پوچھا۔۔۔۔جوابًا محسن رضا نے فقط ناراض نگاہوں سے اسے دیکھا بولے کچھ نہیں،اس کے لیے اتنا ہی بہت تھا یہ وہ جانتے تھے،اور وہی ہوا اس نے مزید کچھ سوال جواب کئیے بنا ہی اپنا تیار بیگ ان پیک کر دیا اور خاموشی سے کچن کی طرف رخ کر لیا کہ ابھی رات کا کھانا تیار کرنا تھا،اس کے جانے کے بعد ایک پرسکون مسکراہٹ نے محسن رضا کے صبیح چہرے کا احاطہ کر لیا وہ جانتے تھے کہ وہ چپکے سے روٹھ گئی ہے اور اسے منانا کون سا مشکل کام تھا یہ سوچ کر وہ ایک دفعہ پھر کھل کر مسکرائے تھے۔

دوسری طرف وہ خفا خفا سی کچن میں مصروف رہی ساتھ ہی ساتھ خود کلامی جاری تھی،ہونہہ یہ بھی کوئی بات ہے بھلا جب میں رات رکنے کا بولوں یونہی منہ بنا لیتے یوں جیسے اماں کے گھر رات رک گئی تو گناہ ہو گا وہ بڑبڑائی تھی،اوپر سے بڑی بڑی آنکھوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں ایسے دیکھتے ہیں کہ جان نکل جاتی ہے بڑبڑاہٹ میں مزید اضافہ ہوا تھا اور کام کرتے ہاتھوں میں مزید تیزی آئی تھی۔رات وہ سب کام سمیٹ کر کمرے میں آئی اور عشاء کی نماز ادا کر کے خاموشی سے بیڈ کے کنارے چادر اوڑھ کر لیٹ گئی۔۔۔۔محسن خاموشی سے اسے دیکھتے رہے اور جب وہ لیٹ گئی تو بولے ناراض ہو ؟اس نے دل ہی دل میں خشمگیں نگاہوں سے انکو گھورا کہ روبرو وہ کبھی بھی انکی آنکھوں میں نا دیکھ پائی تھی،ہمیشہ شرما جاتی یا وہ غصے میں ہوتے تو گھبرا جاتی،اور بولی نہیں مجھے کیا ضرورت ہے ناراض ہونے کی،محسن نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا اچھا تو پھر آج مجھے کہا کیوں نہیں ہمیشہ کی طرح کہ چلیں واک کرتے ہیںبس میں آپکو تنگ نہیں کرنا چاہتیمیں چاہتا ہوں تنگ کرونہیں بس سو جائیے مجھے نیند آ رہی ہےمجھے نیند کیسے آتی ہے تم جانتی ہو ناں،محسن نے اس کے کان میں سرگوشی کی جی جانتی ہوں لائٹ جلائے رکھیے مجھے کوئی اعتراض نہیں،محسن کو اندھیرے میں نیند نہیں آتی تھی اور ایمن کو ملگجا اندھیرا بھاتا تھا روز سونے سے پہلے دونوں بحث کرتے کہ لائٹ آف ہو گی یا آن اور روز لائٹ آف کر کے زیرو کا بلب جلایا جاتا۔

ایمن تم سمجھتی کیوں نہیں کہ مجھے تمہارے بن رہنے کی عادت نہیں رہی اب،ہر بار سمجھاتا ہوں اور پھر ہر بار بھول جاتی ہو وہ نروٹھے پن سے بولے تو ایمن کا دل بے چین سا ہونے لگامیں شادی کے بعد ایک رات بھی نہیں رہی اماں کے پاس اسکی آواز میں نمی گھلنے لگی ۔اب بے چین ہونے کی باری محسن رضا کی تھی۔یار اب تک ساری زندگی اماں کے پاس ہی رہی ہو اب بس میرے سوا کہیں نہیں رہنا میرا دل نہیں لگتا تمہارے بن اس نے اسکا رخ اپنی طرف موڑتے ہوئے بوجھل انداز میں کہاتم جانتی ہو ناں میرا سب کچھ ہو تم،تمہارے بنا ایک ایک پل مجھے کاٹتا ہے،تم ساتھ ہوتی ہو تو ایک طاقت محسوس ہوتی ہے،میں خوش رہتا ہوں،تم ساتھ نا ہو تو بیمار پڑنے لگتا ہوں،کمزور ہوتا جاتا ہوں،وہ روہانسا ہو چلا تھا اور ایمن جانتی تھی وہ جو کہہ رہے وہ واقعی سچ تھا وہ کچھ دیر محسن کو نظر نا آتی تو وہ بے چین ہو جاتا۔۔۔۔۔اسے اس قدر محبت پہ ناز بھی تھا لیکن وہ کبھی کبھی گھبرا بھی جاتی کہ اپنی محبت اور توجہ کا اتنا عادی کر کے محسن بدل نا جائیں،اس ڈر کا اظہار جب وہ ان سے کرتی تو وہ خوب خفا ہوتے اور انکی خفگی اسے کسی قیمت پہ گوارا نا تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   خواب - محمدمشفق رضا نقوی

میں جانتی ہوں لیکن۔۔۔۔۔بے بسی سے اس نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا کہ اب وہ کہتی بھی تو کیا کہ بہرحال محسن رضا میں اسکی بھی جان قید تھی۔جب جانتی ہو تو کیوں جانے کے لیے تیار ہو جاتی ہو کسی معصوم بچے کی طرح انہوں نے شکوہ کیا اور اب کی بار وہ مسکراہٹ نا روک پائی۔بس اتنی سی انکی ناراضگی ہوتی تھی،محسن کی اداسی،ناراضی،پریشانی،کچھ بھی تو اس سے برداشت نا ہوتا تھا،وہ چھیڑتے کہ خود اتنی محبت اور کئیر دے کر عادی بنایا ہے اب بھگتو ایمن فقط مسکرا کہ رہ جاتی۔میٹھی سی محبت انکے درمیاں یوں گھلی ہوئی تھی کہ اسکی بھینی بھینی خوشبو سے پورا گھر مہکتا رہتا۔۔۔۔۔شکور صاحب اور انکی زوجہ بیٹے اور بہو کا صدقہ اتارتے رہتے اور یوں یہ چھوٹا سا گھرانہ چین کی بنسری بجاتاہوا زندگی گزار رہا تھا۔

پرسکون زندگی میں پہلا پتھر تب پڑا جب عمر پلین کریش میں داعی اجل کی پکار پہ لبیک کہتا ہوا راہِ عدم کا مسافر ہوا۔۔۔۔۔کوئی قیامت سی قیامت تھی جس نے اچانک سبکو ہلا کر رکھ دیا تھا،اماں کو تو جیسے سکتہ ہو گیا تھا ایک چپ لگ گئی تھی،بس خلاؤں میں گھورتی رہتی تھیں نا کھانے کا ہوش نا پینے کا۔۔۔۔۔۔ایسے میں ایمن کو محسن رضا خود میکے چھوڑ آئے،اسے اماں کے پاس گئے ابھی بمشکل ہفتہ ہوا تھا کہ اسکی ساس بیمار پڑ گئیں وہ حقیقی معنوں میں گھن چکر بن گئی،ایک پاؤں اماں کے گھر تو ایک پاؤں سسرال میں،رہی سہی کسر محسن کے چڑچڑے پن نے پوری کر دی کہ بیگم کی بے تحاشہ مصروفیت اور کاموں نے انکو ذہنی طور پہ بہت تھکا دیا تھا،وہ جو ہر وقت کی توجہ اور کئیر کے عادی تھے جب انکی توجہ بٹ گئی اور ایمن فقط کام کی ہو کر رہ گئی تو وہ سہہ نا پائے،بلاوجہ ہی موڈ خراب رہنے لگا حالانکہ وہ بہت سمجھدار تھے پھر بھی جانے کیوں حالات سے تھکنے لگے،وہ ایک سرد شام تھی ایمن اماں کو کھانا کھلا کر دوا دے کر کمرے میں آئی تو محسن رضا کو رضائی میں دیکھ کر ان کے پاس چلی آئی۔

اماں کو کھانا اور دوا دے آئی ہوں آپ بھی کھانا کھا لیجیے۔۔۔۔مصروف سی وہ ان سے مخاطب ہوئی،جواب نا پا کر قریب آئی تو وہ بے سُدھ آنکھیں موندے پڑے تھے،اس نے بے ساختہ ان کے ماتھے پہ ہاتھ رکھا اور پھر تیزی سے ہاتھ پیچھے کھینچا کہ محسن رضا کا ماتھا تپ رہا تھا اسے لگا جیسے اس نے اپنا کسی جلتی چیز پہ رکھ دیا ہو،وہ یکدم بے حد گھبرائے ہوئے انداز میں ان پہ جھکی تھی۔آج تیسرا دن تھا اور ان کا بخار اترنے کا نام نا لے رہا تھا اوپر سے وہ بچوں کی طرح ضد کرتے کہ تم سب کچھ چھوڑ کر بس میرے پاس بیٹھی رہو،ایمن آجکل حقیقتاً سٹپٹائی ہوئی تھی اس ساری صورت حال سے،دونوں ماؤں کی طبعیت بہتر ہو چکی تھی لیکن محسن کی طبعیت سنبھلنے میں وقت لے رہی تھی اور وہ ماؤں سے زیادہ تنگ کرنے والے بچے بنے ہوئے تھے۔میں ٹھیک ہوں،جب مجھے اپنی پروا نہیں تو تم کیوں فکر کر رہی ہو؟؟؟جاؤ چلی جاؤ یہاں سے۔ج ایمن نے مشین لگائی ہوئی تھی سو کام سمیٹتے سمیٹتے اسے دیر ہو گئی اب جو وہ جلدی سے سوپ بنا کر محسن کے پاس لائی تو یہ دل شکن جواب اسکی آنکھیں نم کر گیا۔

آپ ایسے کیوں غصہ کر رہے ہیں؟میں کیسے نا فکر کروں آپکی؟؟وہ بمشکل آنسو روکتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔پھر اس نے سوپ پلائے بنا ہار نا مانی۔۔۔۔۔لیکن آج وہ واقعی بہت ٹوٹی تھی اتنی محبت اور توجہ کے بعد بھی محسن رضا کے مزاج کا کچھ پتہ نا لگتا تھا۔۔۔۔محبت کرتے تو ایسے کرتے کہ اسے اپنا آپ دنیا کا خوش قسمت ترین وجود لگتا۔۔۔۔۔بوجھل آواز میں اپنی ساحر آنکھیں اس پہ جمائے جب وہ اپنی وفا کا یقین دلاتے تو وہ مانو خود کوجنت میں سمجھتی۔۔۔۔۔انکے ہاتھ،انگلیاں،انگلیوں کی پوریں سب اسے حفظ تھیں کہ وہ جب بھی انکے پاس بیٹھتی انکے ہاتھ تھامے رکھتی،لیکن جب وہ اجنبی بنتے تو اسے خود کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا وہ ایسے ہو جاتے جیسے بالکل نہیں جانتے کہ ایمن کون ہے؟سو آج اس نے موقع دیکھ کر بات کر ہی دی کہ آپکا دھوپ،چھاؤں جیسا رویہ مجھے بے حد رُلا جاتا ہے۔

سوری بس زندگی کی پریشانیاں مجھے بدمزاج کر دیتی ہیں تم سے تو کیا ایسے میں خود سے بھی تنگ آنے لگتا ہوں ،وہ شکستگی سے گویا ہوئے تو ایمن نے بھیگا چہرہ اوپر اٹھایا اور بولی محبت جانتے ہیں کیا ہوتی ہے؟؟؟؟؟اپنی میں کو مار دینا اس کے سامنے جس سے محبت ہو جائے۔۔۔۔اور یاد رکھیے گا اپنی “میں” کو ہر کوئی نہیں مار سکتا،محبت کے دعوے دار بہت ملیں گے لیکن عمل اور دعووں کا فرق صرف “میں” کو مارنے میں پوشیدہ ہے۔
سوچیے گا کہ مشکلات کیا آپ پہ اکیلے پر آتی ہیں؟یا میں ساتھ دیتی ہوں آپکا؟اگر ساتھ دیتی ہوں تو پھر کیوں آپکے لیے یہ بات سکون کا باعث نہیں بنتی کہ آپ اکیلے نہیں ہیں آپکا درد بہت محبت سے کوئی بانٹ رہا ہے؟ایک بات کہوں زخمی نگاہوں سے محسن رضا کا چہرہ دیکھتے ہوئے وہ یوں بولی کہ محسن رضا تڑپ گئے

۔آپ محبت کو جب اپنی پریشانی اور الجھاؤ کی نظر کر دیں گے تو پھر واقعی وہ آپ محسوس کر کے بھی سکون نا پائیں گے۔۔۔۔۔پریشانی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں محبت کی آمد ستارے کی مانند ہوتی ہے محسن۔۔۔۔اندھیرے سے مانوس نگاہوں کو تو وہ ستارہ بھی سورج کی مانند روشن دکھائی دیتا ہے وہ رندھی ہوئی آواز میں بولتی چلی گئی،محسن دم سادھے خاموشی سے سنتے رہے۔۔۔۔۔کہ وہ یکدم ان کے ہاتھ تھام کر اور انکے کندھے پہ سر رکھ کر روتے ہوئے مزید گویا ہوئی کہ آپ جس دن میرے وجود کو ستارہ مان لیں گے ۔

اس دن کے بعد آپکو کوئی پریشانی مجھ سے دور اور بیزار نا کرے گی۔۔۔۔۔کہ میری زندگی،میرے وجود،اور اس آنگن کی تمام روشنیاں فقط آپ کی مسکراہٹ سے روشن رہ پاتی ہیں۔۔۔۔۔بات مکمل کر چُکنے کے بعد وہ روتے روتے ہلکا سا مسکرائی اور بولی اب پلیز پھر مت روٹھ جائیے گا۔۔۔۔اب کی بار محسن رضا نے اس کے گرد بازو لپیٹا اور دھیرے سے مسکراتے ہوئے سرگوشی میں بولے۔۔۔۔نہیں اب کبھی نہیں روٹھنا بس محبت تم اور میں مل کر رہیں گے۔۔۔۔۔اور وہ کھل کے مسکرائی۔۔۔کہ اب آنگن میں بہار اتری تھی۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.