سائنس،ٹیکنالوجی وایجادات - پروفیسر جمیل چودھری

آخر میں ہم مسلمانوں کے اہم مسٔلہ پر گفتگو کرکے اس سلسلہ مضامین کو ختم کررہے ہیں۔مسلمان تعداد میں اس وقت1.8بلین شمارہوتے ہیں۔یہ کل آبادی کا تقریباً25۔فیصد ہے۔یہ آبادی57۔قومی ریاستوں میں رہائش پذیر ہے۔ان ممالک میں غربت،جنگ،بد انتظامی اور سیاسی عدم استحکام پایاجاتا ہے۔صرف چند ممالک ایسے ہیں جو سیاسی لہاظ سے مستحکم اور جمہوری نظام کو اختیار کئے ہوئے ہیں۔گلف کے ممالک میں مالیاتی وسائل کی کمی نہیں ہے۔لیکن یہاں قدیم طرز کی بادشاہتیں موجود ہیں۔جس مسٔلہ کو شاہی خاندان اہمیت دے۔صرف وہی حل ہوتا ہے۔

جمہوری اور غیر جمہوری تمام مسلم ریاستوں میں سائنس،ٹیکنالوجی اور ایجادات کی صورت حال انتہائی خراب ہے۔ان ممالک میں بہت ہی کمPatentاور اختراعات رجسٹرڈ ہوتے ہیں۔میں اپنی بات کو کچھ اعداد وشمار سے واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔مسلم ممالک میں کل عالمی تحقیقی مقالوں کے مقابلے میں صرف 6۔فیصد تحقیقی مقالے تخلیق ہورہے ہیں۔ان میں بھی کئی مقالے عالمی معیار سے کم تر درجے کے ہوتے ہیں۔ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کام کسی حد تک جاری ہے۔ عالمی سطح پر جتنے Patentرجسٹرڈ ہوتے ہیں۔مسلمان ممالک میں ان کاصرف1.6۔فیصد رجسٹرڈ ہوتے ہیں۔یہاں سے ہماری سائنس اور ٹیکنالوجی میں پسماندگی بہت واضح ہورہی ہے۔ہمPatentکو اردو زبان میں سند حق ایجاد بھی کہہ سکتے ہیں۔اس شعبہ میں یورپ،شمالی امریکہ،چین اورجاپان بہت آگے ہیں۔ہم ان کے بالمقابل کہیں بھی کھڑے نظر نہیں آتے۔اگرہم تحقیق پر خرچ ہونے والے وسائل کاجائزہ لیں تو پوری د نیا میں استعمال ہونے والے وسائل کے بالمقابل مسلم دنیا میں صرف2.4۔فیصد وسائل خرچ ہوتے ہیں۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کی تخلیقات بڑی رقم کا تقاضا کرتے ہیں۔لیکن پوری مسلم دنیا میں حکمرانوں کی توجہ سائنسی تحقیقات کی طرف بالکل نہیں ہے۔جب آبادی کل آبادی کا25فیصد اور ممالک کی تعداد57ہے۔توتحقیق پر خرچ ہونے والے وسائل بھی بڑی مقدار میں ہونا چاہئے۔خاص طورپر ایسے خلیجی ممالک جودولت میںڈوبے ہوئے ہیں۔انہیں اپنے تحقیقی اداروں اور یونیورسٹیوں کے لئے وسائل کے دروازے کھولنے چاہئے۔مسلم نوجوانوں میں پایا جانے والا Talentاور وسائل اکٹھے ہوکر کارنامہ سرانجام دے سکتے ہیں۔اگر خام قومی پیداوار(G.D.P)کے حساب سے دیکھا جائے تو تحقیق وتخلیق پر صرف(.5)فیصد خرچ ہورہے ہیں۔اس اہم شعبہ کے نقطہ نظر سے یہ وسائل مذاق ہی محسوس ہوتے ہیں۔یورپ ،امریکہ ،چین ،جاپان اور دیگر کئی ممالک اپنے تحقیقی اور تخلیقی شعبوں پر مسلمانوں کی نسبت6گنا رقومات خرچ کررہے ہیں۔اس لئے وہ تیزی سے آگے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔اب مسلم ممالک کو آزاد ہوئے بھی کافی عرصہ ہوگیا ہے۔

لیکن اپنی سائنس اور ٹیکنالوجی کی پسماندگی دورکرنے کے لئے کچھ بڑاکام نہیں کرسکے۔ایک رپورٹ میں کئی سائنس دانوں سے رابطہ کیاگیا اور اس پسماندگی کی وجہ پوچھی گئی۔عراق کے ایک سائنس دان نے اس کی وجہ جنگوں اور قتل وغارت گری بتایا۔عراق اور ایران 8سال تک آپس میں 80ء کی دہائی میں لڑتے رہے۔ایسے ہی امریکہ نے عراق جیسے شاندار اور مستحکم ملک پر2۔دفعہ حملہ کیا۔اس میں لائبریریاں اور لیبارٹریاں تباہ کردیں۔ہمیں متعلقہ سائنسدان کی بات سمجھ میں آتی ہے۔عراق کبھی سیاسی لہاظ سے بہت مستحکم تھا۔تب سائنس وٹیکنالوجی کی تحقیقات پر بھی توجہ دی جارہی تھی۔ایسی ہی صورت حال افغانستان کی ہے۔جہاں40۔سال سے صرف جنگ ہی ہو رہی ہے۔شام بھی کبھی مستحکم ملک تھا اور تعلیم وتحقیق کی طرف کافی وسائل مختص کئے ہوئے تھا۔یونیورسٹیاں اورلائبریریاں بھی کافی معیاری تھیں۔لیکن گزشتہ8سال میں آبادی سمیت ہرچیز تباہ ہوچکی ہے۔آذربائیجان سے تعلق رکھنے والے ایک سائنس دان نے بتایا کہ ہمارے ہاں زبان بڑا مسٔلہ ہے۔

تحقیقی بڑی زبان انگریزی ہے۔یہ آذربائیجان میں بہت ہی کم طلباء اور اساتذہ کو آتی ہے۔یوں اعلیٰ کتابوں سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔کراچی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے محمد اقبال چودھری نے 3۔مسائل کی طرف توجہ دلائی ۔1 .۔سیاستدان جو حکمران بھی ہوتے ہیں وہ سائنس وٹیکنالوجی تحقیقات کو کوئی اہمیت ہی نہیں دیتے۔تحقیقی پروجیکٹس کو وسائل نہیں ملتے لہذا تعلیمی اداروں میں سائنسی پسماندگی نظر آتی ہے۔تحقیق کا ماحول سند ھ کی یونیورسٹیوں میں بالکل نہیں ہے۔2۔دوسری وجہ اقبال چودھری نے بتائی کہ ان کے اندرونی جھگڑے اور مسائل طلباء اور اساتذہ کوکسی بڑے کام کی طرف توجہ نہیں دینے دیتے۔3۔اقبال چودھری کے مطابق مسلم ممالک اب تک سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبہ میںاتحاد وتعاون کامظاہرہ نہیں کرسکے۔ہرکوئی اپنے اپنے مسائل میں گھرا ہوا ہے۔اس طرح توجہ بہت ہی کم ہے۔بیروت یونیورسٹی کے پروفیسر منال نے اپنے علاقے کے جنگ وجدل کو پسماندگی کی اصل وجہ قرار دیا۔منصورہ یونیورسٹی مصر کے ایک پروفیسر نے بات کو واضح کردیا۔کہ لوگوں کو سائنسی تحقیقات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

لوگوں کی توجہ صرف اپنے ماہانہ معاوضہ پرہوتی ہے۔ملائیشیاء یونیورسٹی کے پروفیسر داتو ابراہیم نے بتایا کہ طاقتور اور مخلص قیادت ہی مسلمانوں کو سائنس اورٹیکنالوجی کی طرف توجہ دلاسکتی ہے۔ملائیشیاء اور ترکی کی یونیورسٹیاں دوسرے تمام مسلم ممالک کی نسبت تحقیقات میں بہتر کام کررہی ہیں۔ان ممالک کی یونیورسٹیاں عالمی رینکنگ میں بھی اچھے مقام پرنظر آتی ہیں۔آپ نے دیکھا کہ مسلم ممالک اپنے قومی مسائل کی وجہ سے سائنس اور ٹیکنالوجی کی تحقیقات میں کوئی بڑا کام نہیں کرسکے۔ہرملک بنی بنائی مشینیں اور آلات خرید کر وقت گزاررہا ہے۔کوئی دور تھا کہ مسلمانوں کی سائنس وٹیکنالوجی میں حالت بہت اچھی تھی۔ابتدائی دورجوسات صدیوں پر مشتمل تھا۔اس میں بڑے بڑے نامور ریاضی دان اور سائنسدان پیداہوئے ۔انکی بنائی ہوئی مشینیں اورآلات بھی دنیا بھرمیں بہت معروف تھے۔16۔ویں صدی عیسوی تک چینی سائنس ،مسلم سائنس اور یورپی سائنس ایک ہی سطح پرتھے۔پھر زوال نے مسلمانوں کو آگھیرا۔

جواب تک جاری ہے۔گزشتہ 5۔صدیوں میں مسلمانوں نے کوئی سائنسی کارنامہ سرانجام نہیں دیا۔تمام ایجادات یورپ اور امریکہ میں ہورہی ہیں۔ سائنسی شعبوں میں بہت زیادہ محنت کرنے والے لوگ نوبل انعام حاصل کررہے ہیں۔ان میں سے زیادہ تر کاتعلق یورپ اور امریکہ سے ہی ہے۔اب تک صرف3سائنسدان ایسے تھے جن کا تعلق مسلم ممالک سے تھا۔جانکاری کے لئے ان کے نام لکھ رہاہوں۔

1۔ڈاکٹر عبدالسلام۔فزکس۔1979ء پاکستان

2۔ڈاکٹر احمد ذویل۔کیمسٹری۔1999ء مصر

3۔ڈاکٹر عزیز سنکار۔کیمسٹری۔2015ء ترکی

اگر ان تینوں کی تحقیقات کو دیکھا جائے تو ان کاتمام تخلیقی کام یورپین اور امریکی یونیورسٹیوں میں ہوا۔اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مسلم ممالک کے تحقیقی اداروں اور یونیورسٹیوں میں تحقیق کے لئے ماحول سازگار نہیں ہے۔بہت ضروری ہے کہ تمام مسلم ممالک اپنے ہاں سائنسی تحقیقات کے لئے ماحول کو سازگار بنائیں۔اپنے اداروں کے لئے زیادہ سے زیادہ وسائل مختص کریں۔سائنس،ٹیکنالوجی اور ایجادات قوت کاسرچشمہ ہیں۔

اگرمسلمانوں نے اس کرۂ ارض پرعزت سے جینا ہے تو سائنسی تحقیقات وتخلیقات میں ترقی انتہائی ضروری ہے۔کچھ ایجادات کی فہرست میں مسلمانوں کانام آنابھی ضروری ہے۔گزشتہ5۔صدیوں کی ایجادات کی فہرست میں مسلمان کہیں نظر نہیں آتے۔جنگیں اور جھگڑے ختم کریں اور ماحول کو پرامن بنائیں۔تاکہ ذہین طلباء اور اساتذہ اپناکام توجہ سے کرسکیں۔کرۂ ارض پر مسلمانوں کے وجود کے لئے یہ کام انتہائی ضروری ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com