اینتھونی جوشوا بمقابلہ اینڈی روئز جونئر دوسرا مقابلہ - احسن سرفراز

کل رات سعودی عرب میں ورلڈ ہیوی ویٹ باکسنگ کے چار میں سے تین ٹائٹلز کے حصول کے لیے انگلینڈ کے نائجیرین نژاد سابق یونیفائیڈ عالمی چیمپئن اینتھونی جوشوا اور امریکہ کے میکسیکن نژاد موجودہ یونیفائڈ چیمپئن اینڈی روئز جونئر کے درمیان تاریخی مقابلہ ہوا۔

روئز نے اسی سال جون میں امریکہ میں ہونے والی ورلڈ ٹائٹل فائٹ میں چیمپئن جوشوا کو ناک آؤٹ کر کے باکسنگ کی تاریخ کا دوسرا بڑا اپ سیٹ کیا تھا۔ اس فائٹ کی اختتامی پریس کانفرنس میں بچپن ہی سے باکسنگ کی ٹریننگ کرنے والے انتیس سالہ روئز نے انتہائی جزباتی انداز میں اپنی ماں کو کہا تھا کہ "اب ہمارے برے دن ختم ہونے والے ہیں، اب ہم امیر ہو چکے ہیں۔"

مقابلہ جیتنے کے بعد گولو مولو سے دکھنے والے نئے عالمی چیمپئن روئز نے اپنی جیت کا خوب جشن منایا، اب وہ میکسیکن نژاد تاریخ کا پہلا ہیوی ویٹ چیمپئن اور قومی ہیرو بن چکا تھا۔ وہ ہر ٹی وی شو کی جان تھا اور نہ ختم ہونے والی پارٹیز کا سلسلہ دراز تر ہوتا جا رہا تھا۔ روئز نے امریکہ میں اپنی فیملی کیلیے ایک بہت بڑا محل نما گھر اور ایک برانڈ نیو رولز رائس کار لاکھوں ڈالر سے خرید ڈالی۔ پہلے ہی کھانے پینے کے شوقین موٹو روئز نے لزیذ میکسیکن کھانوں کو اپنا روز کا معمول بنا لیا اور جوشوا سے دوسرے طے شدہ مقابلے کو ایک آسان فائٹ سمجھ کر ٹریننگ کو ٹالتا رہا۔

دوسری طرف کسی اپالو دیوتا جیسے مسلز کے حامل سابق چیمپئن جوشوا کی تو موٹے روئز کے ہاتھوں ذلت آمیز ناک آؤٹ ہار کے بعد جیسے دن کا چین اور راتوں کی نیند اڑ چکی تھی۔ اسکے ذہن میں ایک ہی دھن سمائی تھی کہ اسے اب روئز سے دوسرا مقابلہ جیتنا ہے۔ جوشوا نے اپنی ہار کا باریک بینی سے جائزہ لیا، اپنی ایک ایک خامی اور روئز کی خوبیوں کا موازنہ کیا، روئز کی خامیوں کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا۔

پانچ فٹ چھ انچ قد کے حامل جوشوا کا سٹائل تھا کہ وہ کسی بلڈوزر کی طرح مخالف کو روندنا پسند کرتا تھا اور اسکے لیے وہ سٹیمنے سے زیادہ اپنی طاقت پر مان کرتا تھا۔ روئز کے ساتھ مقابلے میں بھی اسنے یہی غلطی کی اور اپنے طاقتور مکے سے پچھلے مقابلے کے تیسرے راؤنڈ میں روئز کو گرانے کے بعد تو اسنے سمجھ لیا کہ اب روئز اسکے تابڑ توڑ مکوں کو برداشت نہ کر پائے گا، لیکن چھ فٹ قد کے مالک اور دو سو سٹرسٹھ پاؤنڈ وزنی روئز نے جوشوا کے مکوں کا جواب اپنے مکوں سے ترکی بہ ترکی دیا اور اسی دوران روئز کا ایک مکہ جوشوا کے سر پر ایسا پڑا کہ پھر جوشوا کا دماغ اپنے ٹھکانے پر نہ آ سکا اور ساتویں راؤنڈ تک جوشوا چار بار روئز کے ہاتھوں ناک ڈاؤن ہو کر بالآخر مقابلہ جاری رکھنے کے قابل نہ رہا۔

پچھلے مقابلے سے سبق سیکھتے ہوئے ایک تو جوشوا نے روئز سے دو بدو مکوں کے تبادلے کی جنگ لڑنے کی بجائے اپنے سٹائل کو بدلنے کا فیصلہ کیا کہ وہ روئز کے چھوٹے قد اور پہنچ کے مقابلے میں اپنے چھ انچ لمبے قد اور ریچ کا فائدہ اٹھائے گا۔ اسے پتہ تھا کہ روئز کو طاقت سے نہیں بلکہ ٹیکنیک سے شکست دی جا سکتی ہے۔ اسے روئز سے دور رہتے ہوئے نہ صرف اسکے مکوں سے بچنا ہے بلکہ اپنے لمبے بازؤں سے ہی پھرتیلے وار کرنے ہیں۔ اسکے لیے جوشوا نے اپنے بھاری بھرکم مسلز کی قربانی دینے، اپنا وزن کم کرنے اور ویٹ ٹریننگ کی بجائے اپنے سٹیمنے پر زیادہ توجہ دینے کا فیصلہ کیا اور مقابلے والے دن وہ اپنے پچھلے مقابلے سے تقریباً دس پاؤنڈ سے زیادہ کم وزن کے ساتھ رنگ میں اترا۔

جبکہ دوسری طرف جیت کے جشن میں مشغول روئز نے اپنے پسندیدہ کھانوں پر خوب ہاتھ صاف کیا اور جم میں کم اور پارٹیز میں زیادہ وقت صرف کیا۔ مقابلے کے دن پہلے ہی سے خاصے موٹے روئز پر پندرہ پاؤنڈ مزید چربی کی تہہ چڑھ چکی تھی، جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ روئز کی پھرتی اور سٹیمنا اب پچھلے مقابلے کی نسبت کہیں کم جبکہ جوشوا کا کئی گنا بڑھ چکا تھا۔ جوشوا نے اپنی نئی حکمت عملی کے عین مطابق روئز کو رنگ میں اپنے پیچھے خوب دوڑایا اور جہاں موقع ملا اپنے مکوں سے روئز کے چاروں طبق روشن کرتا رہا۔ نتیجتاً مقابلے کے اختتام پر جوشوا ایکدفعہ پھر واضح پوائنٹس کے مارجن سے دوسری بار یونیفائیڈ ورلڈ چیمپئن بن چکا تھا جبکہ روئز کا تاج چھ ماہ بعد ہی اسکی اپنی کرتوتوں کی وجہ سے اس سے چھن چکا تھا۔

مقابلے کے اختتام پر جوشوا نے اپنی گفتگو کا آغاز باسم اللہ سے کر کے سعودی عرب سمیت پوری دنیا کے مسلمانوں کے دل جیت لیے۔ جوشوا نے کہا کہ اسنے اپنی ہار اور جیت دونوں صورتوں میں منکسر المزاج رہنے کا سبق سیکھا ہے۔ دوسری طرف روئز نے اپنی پریس کانفرنس میں اپنی کمزوریوں کا کھلے دل سے اعتراف کیا کہ اسنے جم میں ٹریننگ کی بجائے پارٹیز اور کھانے پینے میں وقت برباد کیا اور اپنے والد اور کوچز کے متوجہ کرنے کے باجود اپنے دل کی سنتا رہا۔ روئز نے اعتراف کیا کہ اسکی بدترین فٹنس کی وجہ سے اسکے پاس جوشوا کی حکمت عملی کا کوئی جواب نہیں تھا، لیکن اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئی کھیت۔

جوشوا اور روئز کی دونوں فائٹس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہار اور جیت یقیناً زندگی اور کھیل کا حصہ ہیں، لیکن اصل چیمپئن وہی ہے جو ہار اور جیت دونوں صورتوں میں اپنی خوبیوں اور خامیوں کی طرف متوجہ رہے۔ نہ ہار سے ہمت ہارے اور نہ جیت کو اپنے سر پر سوار کرے۔ اگر انسان چیزوں کو اپنا حق سمجھ کر محنت سے منہ موڑ لے گا تو اسکی جیت، ہار میں بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔ کامیابی یا ناکامی مستقل کسی کا حق نہیں بلکہ اسکی محنت ، مستقل مزاجی اور اچھی حکمت عملی کا پھل ہے۔ اللہ کی سنت بھی یہی ہے کہ انسان کو اسکی کوششوں کا ہی نتیجہ ملتا ہے، یقیناً اللہ انکی ہی حالت بدلتا ہے جنہیں اپنی حالت خود بدلنے کی فکر ہوتی ہے۔

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.