ہر قبیلے کا اپنا بُت- محمد اظہارالحق

ناک کی درمیانی ہڈی سے لے کر بالائی ہونٹ تک زخم کا نشان تھا! صاف نظر آ رہا تھا کہ کسی وقت چہرے کے اس حصّے کو چِیرا گیا تھا۔
اُس سیاہ فام کلاس فیلو سے، جو یورپ میں ہم جماعت تھا، پوچھا کہ یہ کیسا نشان ہے؟ اس نے بتایا کہ یہ قبیلے کی علامت ہے۔ اس کے قبیلے میں پیدا ہونے والے ہر بچے کو یہ نشان، بالکل اسی طرح کا، ناک کی درمیانی ہڈی سے لے کر بالائی ہونٹ تک، نشتر سے چیر کر دیا جاتا ہے۔ کبھی کبھی یہ نشان تپتی سلاخ سے بھی بنایا جاتا ہے۔ ہر قبیلے کا اپنا نشان ہے۔ کچھ قبیلے ہونٹ، اوپر والا یا نیچے والا، ایک طرف سے داغ دیتے ہیں۔ کچھ رخسار پر زخم لگا کر نشان بناتے ہیں۔ کچھ ماتھے پر گڑھا بنا کر! یہ سارے نشان چہرے پر اس لیے بنائے جاتے ہیں کہ قبیلے کی شناخت فوراً ہو جائے۔

ہم ایک پکّی پکّی قبائلی سوسائٹی ہیں! قبیلوں میں بٹے ہوئے! اپنا اپنا نشان لیے ہوئے۔ کسی قبیلے کا نشان کالا کوٹ ہے۔ کسی کا سفید کوٹ! کوئی قبیلہ گاڑی کے باہر ''پریس‘‘ لکھواتا ہے، تو کوئی ''ایم این اے‘‘! ایک قبیلہ تاجروں کا ہے! ایک نرسوں کا! ایک اساتذہ کا! باتھ روموں میں فلش سسٹم آنے سے پہلے بھنگیوں کا قبیلہ بہت طاقت ور تھا۔ دو دن ہڑتال کرتے تو پورا شہر ناک پر رومال رکھ لیتا! لکھنئو والے انہیں حلال خور کہتے تھے۔ کیا شائستگی تھی! کانوں کو کھردرا لگنے والا لفظ بولنے سے پرہیز کرتے۔ نوکر بے وفا نکلتا تو نمک حرام کہنے کے بجائے نمک فراموش کہتے!
ہم میں وہ سارے اوصاف بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں جو صدیوں پہلے کے قبائلی معاشرے میں پائے جاتے تھے۔ سب سے بڑا ''وصف‘‘ قبائلی معاشرے کا یہ تھا کہ اپنے قبیلے کے کسی فرد کا کسی دوسرے قبیلے کے رکن سے جھگڑا ہوتا تو ہر حال میں اپنے ہم قبیلے کا دفاع کرنا ہوتا تھا۔ بے شک وہ غلطی پر تھا‘ سارا قصور اس کا تھا مگر اب قبیلے کی عزت کا سوال تھا۔ پورا قبیلہ تلواریں سونت لیتا، نیزے اٹھا لیتا اور مخالف قبیلے پر چڑھ دوڑتا۔ مخالف اس لیے کہ جھگڑا کرنے والا شخص اُس قبیلے کا رکن تھا۔ عورتوں، بچوں، مریضوں سب کو تہہِ تیغ کر دیا جاتا۔

چلن ان کے جتنے تھے سب وحشیانہ/ ہر اک لوٹ اور مار میں تھا یگانہ
فسادوں میں کٹتا تھا ان کا زمانہ/ نہ تھا کوئی قانون کا تازیانہ
وہ تھے قتل و غارت میں چالاک ایسے/ درندے ہوں جنگل میں بے باک جیسے
قبیلوں کی باہمی لڑائی کے دو بڑے اسباب تھے۔ پہلا‘ اپنوں کی طرف داری... دوسرا، کسی سے دشمنی! آخری آسمانی کتاب نے دونوں پر خطِ تنسیخ پھیر دیا۔ پہلے حکم دیا ''انصاف پر قائم رہو۔ اللہ کی طرف گواہی دو اگرچہ تمہارے خلاف ہی کیوں نہ ہو یا تمہارے ماں باپ اور رشتہ داروں کے خلاف!‘‘ پھر دوسرا حکم دیا ''کسی قوم کی دشمنی کے باعث انصاف کو ہرگز نہ چھوڑو‘‘
ان دونوں احکام کا ہمارے ہاں کوئی تصوّر نہیں! ایک تاجر کے خلاف قانون حراکت میں آتا ہے تو پورا بازار بند کر دیا جاتا ہے! مریض کے لواحقین ایک ڈاکٹر سے بد سلوکی کرتے ہیں، تمام مریضوں کو سزا دی جاتی ہے۔ رہی دشمنی، تو آپ اس بدترین قبائلی معاشرے کے رسم و رواج کا اندازہ لگائیے کہ وکیلوں نے لاہور، صفاں والا چوک پر میڈیکل یونیورسٹی کی طالبات کی بس روک لی۔

اسی پر اکتفا نہیں کیا، بس کے اندر گھس گئے۔ کیا گزری ہو گی ان بچیوں کے دلوں پر! ڈرائیور اور کنڈکٹر نے منت زاری کی، گڑگڑائے تب اس بس کو رہائی ملی!
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے جو قرارداد منظور کی اس کی پیشانی پر عرقِ انفعال کا کوئی قطرہ نہ تھا، سوشل میڈیا پر ایک قصبے کے وکلا کا حکم نامہ گردش کر رہا ہے کہ کسی ڈاکٹر کو کرسی نہ پیش کی جائے! کوئی پوچھے کہ اس سے آپ کو کیا حاصل ہو گا؟ دنیا کی کامیابی یا آخرت کی سرخروئی؟
ڈاکٹر اس ایک مقدمہ میں مظلوم سہی، مگر جب بھی موقع ملتا ہے وہ بھی اپنے نامۂ اعمال میں ظلم ضرور درج کراتے ہیں۔ کبھی ہڑتال، کبھی بائیکاٹ، سرکاری ہسپتال مذبح خانے بنے ہوئے ہیں۔ دس بجے تشریف لائیں گے۔ گیارہ بجے چائے کا وقفہ شروع ہو جائے گا۔ خلقِ خدا جس طرح کچہریوں اور عدالتوں میں قیامت کا سامنا کر رہی ہے، اسی طرح ہسپتالوں میں خوار ہو رہی ہے۔ نجی ہسپتال لواحقین کی جیبوں سے آخری پائی تک نکال لیتے ہیں۔

ڈاکٹری کم ہے، ساہوکارہ زیادہ! راولپنڈی، پشاور روڈ کے ایک معروف نجی ہسپتال میں جانا ہوا۔ لفٹ بند تھی کہ صرف مریضوں کے لیے تھی۔ لواحقین میں بوڑھے ماں باپ بھی تھے جو رینگ رینگ کر، سسک سسک کر، سیڑھیاں چڑھ رہے تھے۔ خدا کا خوف بھی کوئی چیز ہے! مریضوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں سے مایوس ہو کر، نجی شفاخانوں کا رُخ کریں۔ بیمار اور اس کے لواحقین بیماری کے ہاتھوں پریشان ہوتے ہیں۔ کچھ زندگی سے مایوس! انہیں بلیک میل کرنا دنیا کی بدترین بلیک میلنگ ہے۔ بچہ بچہ جانتا ہے کہ ڈاکٹروں اور لیبارٹریوں کے درمیان مکروہ مُک مکا ہے۔ سٹنٹ جعلی ڈالے جاتے ہیں! اصلی بھی ہوں تو بلا ضرورت مسلّط کیے جاتے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کے ایک مشہور و معروف اینکر کو کہا گیا کہ سٹنٹ پڑیں گے۔ انہیں معلوم تھا کہ کالم نگار کے عزیز، ایک نہیں دو، ماہرِ امراضِ قلب ہیں۔ رپورٹس دونوں کو بھیجیں۔ دونوں کی ایک ہی رائے تھی کہ کسی سٹنٹ کی ضرورت نہیں۔ تین برس ہونے کو ہیں۔ ماشاء اللہ، بھلے چنگے ہیں! ع

تن ہمہ داغ داغ شد، پنبہ کجا کجا نہم
پورے جسم پر زخم ہیں، پھاہا کہاں کہاں رکھا جائے!
اِن سارے زخموں پر وزیراعظم صاحب کس صدقِ دل سے نمک پاشی کرتے ہیں۔
''پنجاب حکومت کی حکمت عملی سے پی آئی سی واقعہ میں زیادہ نقصان سے بچ گئے ہیں‘‘
یا وحشت! حکمتِ عملی! کون سی حکمت عملی؟ کون سی حکمت اور کون سا عمل!ع
بجا کہتے ہو سچ کہتے ہو پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو
نقصان کی معلوم نہیں، اقتدار کے ایوانوں میں کیا تعریف ہے۔ اوجڑی کیمپ نے بربادی کے ریکارڈ توڑ دیئے۔ صدر جنرل ضیاء الحق ٹیلی ویژن پر نمودار ہوئے تو Play Down کرنے کی پوری کوشش کی! ہنسی بھی آئی لوگوں کو اور رحم بھی آیا۔ حکمرانوں کی بھی کیا کیا مجبوریاں ہوتی ہیں! اقتدار کا عشق تھیّا تھیّا کر کے نچاتا ہے! خوابوں کی دنیا سے زیادہ غیر حقیقی دنیا ہے جس میں ہمارے جیسے ملکوں کے حکمران رہتے ہیں! تین مریض زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ آکسیجن ماسک نوچ پھینکے گئے۔ بستر الٹا دیے گئے۔ کارڈیک مانیٹر، ایکو مشینیں، وینٹی لیٹر، ایمرجنسی ہال، کمروں کے دروازے، فارمیسی کے شیشے، گاڑیاں سب کچھ توڑ دیا گیا، تہس نہس کر دیا گیا۔ پھر بھی فرماتے ہیں نقصان کم ہوا۔ مادی اور جانی نقصان کے علاوہ یہ کیا کم نقصان ہے کہ عوام کے اعتماد کو ریزہ ریزہ کر دیا گیا۔ دنیا بھر میں ہماری ''تہذیب‘‘ کا شہرہ پھیل گیا۔ ثابت ہو گیا کہ وکیل، ڈاکٹر، پولیس، سب قبائلی ہیں! لڑائی قبیلہ وار ہے ؎

لڑ رہا ہوں رساؔ قبیلہ وار
میر و مرزا کے خاندان سے دُور
نشان کھُدوا لو! چہرے گرم سلاخوں سے داغو! ناک اور ہونٹوں کے درمیان، رخساروں پر، پیشانیوں پر، زخموں کی گہری مخصوص علامتیں سجا لو! کسی وقت کالا کوٹ یا سفید کوٹ پہنا ہوا نہ ہو، کسی وقت گاڑی پر ''پریس‘‘ یا ''ایم این اے‘‘ کی پلیٹ آویزاں نہ ہو تو لوگ تمہارا قبیلہ اس نشان سے پہچان لیں، تا کہ تمہارے آگے سے ہٹ جائیں، تا کہ تمہیں دیکھ کر چھُپ جائیں! تا کہ تم سے خدا کی پناہ مانگیں۔ یہ ملک نہیں، تمہاری چراگاہ ہے! تم اس کے مالک ہو! جو چاہو کرو!
جس سمت میں چاہے صفتِ سیلِ رواں چل
وادی یہ ہماری ہے، وہ صحرا بھی ہمارا
ادارے تمہارے حضور سرنگوں ہیں!خلقِ خدا عاجز اور بے بس! دنیا ہنستی ہے تو ہنستی رہے!
دیکھ رہ جائے نہ حسرت کوئی دل میں تیرے
شور کر اور بہت! خاک اڑا اور بہت