جب ڈھاکہ سے خبر آئی- مجیب الرحمان شامی

دسمبر کا مہینہ آتے ہی سقوطِ ڈھاکہ کا منظر آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ اس مہینے کی 16 تاریخ ہی کو ہماری وحدت کا سورج مشرق میں ڈوب گیا تھا۔ اڑتالیس سال گزرنے کے باوجود یہ زخم ہرے ہو ہو جاتے ہیں۔ 1971ء کو جب یہ خبر لاہور پہنچی تھی تو اس پر رد عمل کیا تھا؟ 17 دسمبر یعنی اگلے روز ہی میرے زیر ادارت شائع ہونے والے ہفت روزہ 'زندگی ‘ کا جو اداریہ لکھا گیا اور میرے دستخطوں کے ساتھ شائع ہوا، آج آپ کے مطالعے کے لئے پیش ہے۔ اس کا عنوان تھا: 'پورے ٹولے کا استعفیٰ، پورے ٹولے پر مقدمہ‘... یاد رہے کہ جنرل یحییٰ خان اس کے بعد بھی ڈٹ کر کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کا اقتدار چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، یہ تحریر اسی لمحے کی یاد دلاتی ہے۔
............
ہماری آنکھوں میں آنسو ہیں، دل غم سے بوجھل ہے اور قلم لرز رہا ہے۔ 16 دسمبر کو صبح دس بج کر چالیس منٹ پر بھارتی فوجوں کا پہلا دستہ ڈھاکے میں داخل ہوا، عالمِ اسلام کے قلعے میں شگاف پڑا اور برصغیر کے مسلمانوں نے جو وطن لاکھوں جانوں کی قربانیاں دے کر حاصل کیا تھا، وہ دو حصوں میں بٹ گیا۔

اس لمحے کے آثار بہت پہلے سے دیکھے جا رہے تھے، ہم نے اور دوسرے محب وطن اہلِ نظر نے بار بار اربابِ اقتدار کی توجہ اس طرف مبذول کرائی، لیکن وہ مست، بلکہ بدمست رہے۔ ہر روز تباہی قریب آتی گئی، سلامتی کے راستے دھندلاتے گئے، لیکن وہ آنکھیں جنہیں یہ سب کچھ دیکھ لینا چاہیے تھا، بند رہیں۔ 16 دسمبر کو رات کے سوا سات بجے جناب صدر مملکت نے قوم سے خطاب کیا اور مشرقی پاکستان کے چھن جانے کو ''کسی ایک محاذ پر وقتی طور پر پیچھے ہٹنے‘‘ کا نام دے کر آگے بڑھ گئے، جنگ جاری رکھنے کا عزم دہرایا، دستور میں ''مشرقی پاکستان کو‘‘ مکمل سیاسی خود مختاری دینے کا وعدہ کیا اور کلمہ پڑھ کر رخصت ہو گئے، لیکن اگلے روز اندرا گاندھی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جنگ بندی کا مژدہ سنا دیا گیا اور اتنا انتظار بھی نہ ہو سکا کہ سلامتی کونسل ہی اس قسم کی کوئی اپیل کر دے۔ ہم حیران ہیں اس صورتِ حال پر کیا تبصرہ کریں، کیا لکھیں۔ قوم متوقع تھی جناب صدر ذلت آمیز شکست کی ذمہ داری قبول کریں گے اور قوم کے سامنے اپنا سر ندامت سے جھکا دیں گے، لیکن پہلے کی طرح یہ امید بھی دم توڑ بیٹھی۔ ملکوں کا ٹوٹنا اور بننا، قوموں کا ہارنا اور جیتنا ریل کے کسی حادثے کی طرح نہیں ہے کہ چند رسمی کلمات کہہ کر ''سب اچھا ہے‘‘ کی اوٹ لے لی جائے۔

مہذب معاشروں میں تو ریل کے حادثوں پر بھی ذمہ دارانِ حکومت استعفے پیش کر دیا کرتے ہیں، کیا 12 کروڑ عوام کے جیتے جاگتے وطن کا ٹوٹ جانا ریل کے حادثے سے بھی کم اہم ہے؟ درست ہے، ہماری بہادر مسلح افواج نے بہت ڈٹ کر دشمن کا مقابلہ کیا اور اپنے خون سے عزم و ہمت کی عظیم تاریخ لکھی... لیکن اس کے ساتھ یہ بھی تو صحیح ہے کہ جس پالیسی کے تحت سب کارروائیاں ہوتی رہیں، اسے میدانِ جنگ میں خون دینے والوں نے نہیں بنایا۔ بارہ کروڑ عوام نے نہیں بنایا۔ عوام اور افواج تو پالیسی بنانے والوں کے ساتھ تعاون کرتے رہے ہیں اور آج یہ دن دیکھ رہے ہیں کہ ہزاروں جیالے پابجولاں ہندو سامراج کے شکنجے میں کَسے ہوئے ہیں اور ملک کا بڑا حصہ کٹ کر گر چکا ہے۔ ستم بالائے ستم کہ اگلے روز دستور کے بنیادی کوائف نشر کرنے کا اعلان ہو گیا۔ غور کیجئے جو ملک پونے تین سال تک دستور کے بغیر رکھا گیا، یک بیک اسے آئین کی کیسی ضرورت پڑ گئی۔ کیا یہ اعلان کرنے کے لئے ملک کے دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو جانے ہی کا انتظار تھا؟ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ اعلان کیوں کیا گیا اور بعد میں اسے منسوخ کیوں کر دیا گیا؟
اللہ کی رحمت اور نصرت سے مایوس ہونے کی بات نہیں، ترائن کی پہلی جنگ میں محمد غوری کو بھی ناگہانی وجوہ کی بناء پر ہزیمت اٹھانا پڑی تھی، لیکن وہ تھوڑے عرصے بعد عزمِ نو کے ساتھ آیا اور کفرستانِ ہند میں اسلام کا پھریرا لہرا دیا...

ہماری یہ شکست ترائن کی پہلی جنگ ثابت ہو سکتی ہے، لیکن ترائن کی پہلی لڑائی دوسری میں اسی وقت تبدیل ہو سکے گی جب کوئی محمد غوری رہنمائی کو موجود ہو... اور ہمیں آج جناب یحییٰ خان کی صدارت میسر ہے جو ذمہ داری کو قبول کرنا تو کجا جنگ ہی بند کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ جناب یحییٰ خان گزشتہ پونے تین برس سے ہمارے صدر ہیں۔ حالتِ امن میں ان کی کارروائیوں نے ہمارا امن چین تہہ و بالا کیا۔ دستور ساز اسمبلی کا انتخاب کرایا گیا اور پھر قانونی ڈھانچے کے مخالفین کو سیاسی میدان میں اودھم مچانے کی اجازت دی گئی۔ صوبائی خود مختاری کے نام پر علیحدگی پسندگی کی تحریک کو برداشت کیا گیا... اور پھر جب مذکورہ طرزِ عمل کی بناء پر جنم لینے والا جّن قومی اسمبلی پر قابض ہو گیا تو قومی اسمبلی سے باہر معاملات طے کرنے کی کوشش ہوئی، اب وہ 6 نکات جن کے لئے انتخابات سے پیشتر فضا ہموار کرنے کی کھلی چھٹی دے دی گئی تھی، بہت بڑا خطرہ قرار پا گئے۔ نتیجہ فوجی کارروائی تک پہنچا اور اس کے بعد قومی حکومت قائم کرکے معاملے کو سیاسی سطح پر سلجھانے کے بجائے چند افسروں کے سپرد کر دیا گیا۔ ہماری وحدت اور سالمیت کو نوکر شاہی روندتی رہی اور سیاسی رہنما چیخ پکار میں مصروف رہے۔ جب وطن عزیز تباہی کے گڑھے کے بالکل قریب پہنچ گیا تو سیاسی رہنمائوں کو آواز دی گئی، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی، معاملہ میدانِ جنگ میں پہنچ گیا تھا۔ یحییٰ خان سے امید ہوئی کہ وہ سیاست سے ناواقف تھے، اس لئے شاید میدانِ جنگ میں اپنی غلطیوں کا کفارہ ادا کر سکیں، لیکن یہاں ان کا جو رویہ رہا، اس سے ان کی نااہلی ہی ثابت نہیں ہوتی، بلکہ حب الوطنی بھی مشکوک ہو جاتی ہے۔ مشرقی پاکستان میں ہزاروں فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دے کر انہیں قید کرا دینا اور مغربی پاکستان میں کسی محاذ پر گھمسان کے رن کی نوبت ہی نہ آنے دینا، اسی ذاتِ شریف کا کمال ہے۔ اس کے بعد ذمہ داری قبول کرنے سے گریز پوری ملتِ اسلامیہ کا منہ چڑانے کے مترادف ہے۔

پاکستان سے دنیا بھر کے مسلمانوں کی امیدیں اور توقعات وابستہ ہیں، یہ اسلام کی سرزمین ہے اور ہمارے بزرگوں کی مقدس امانت۔ ہم ایک چھوٹے سے قلم کار ہیں، ایسے کئی قلم کار ہر روز پیدا ہوتے اور مر جاتے ہیں۔ پاکستان ڈوب جائے اور ہم گونگے بنے تماشہ دیکھتے رہیں، یہ ہم سے نہیں ہو سکتا۔ اپنے عقیدے اور اپنے وطن کی طرف سے ہم پر جو فرض عائد ہوتا ہے، وہ ہم پورا کر رہے ہیں... اور صاف الفاظ میں قوم کے دل کی یہ آواز بلند کر دینا چاہتے ہیں کہ: یحییٰ خان کسی مزید تاخیر کے بغیر کرسی صدارت سے مستعفی ہو جائیں اور عبوری انتظام کے طور پر اسے پاکستان کے بزرگ ترین رہنما جناب نورالامین کے حوالے کر دیں۔ نورالامین مشرقی پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں اور پوری قوم ان کا احترام کرتی ہے۔

اگر ذہنی اور قانونی طور پر بھی پاکستان کی تقسیم مان لینے کا فیصلہ نہیں کر لیا گیا تو پھر ان کی ذات کو آگے لانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ یہ نورالامین صاحب کی ذمہ داری ہو گی کہ مغربی پاکستان میں عوام کے منتخب نمائندوں کو اقتدار منتقل کرنے کا انتظام کریں اور ان کے ساتھ مل کر مشرقی پاکستان کی بازیابی کے لئے سرگرم ہو جائیں، خواہ جس طرح بھی اور جس طریقے سے بھی ممکن ہو۔
پوری قوم کا مطالبہ یہ بھی ہے کہ صرف یحییٰ خان کا استعفیٰ کافی نہیں ہو گا، ان کے مشیروں اور حواریوں کی سرکوبی بھی ضروری ہے۔ پورے حکمران ٹولے سے پاکستان کو نجات ملنی چاہیے۔ یحییٰ خان کی جگہ ان کی کسی بد روح نے لے لی تو اس سے صورت حال سنورنے کے بجائے بگڑ جائے گی۔ آنے والی حکومت کا یہ بھی فرض ہو گا کہ ان سب حضرات پر ملک کو تباہ کرنے کے الزام میں مقدمہ چلائے اور انہیں ایسی عبرتناک سزا دے کہ آئندہ کوئی فرد یا گروہ ملتِ اسلامیہ کو اس طرح رسوا کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔