کام نہ کرنے والے- جاوید چوہدری

وہ بزنس مین تھا‘ سیلف میڈ بزنس مین‘ نیویارک میں ابلی ہوئی چھلیاں بیچنا شروع کیں‘ چھلیوں سے فوڈ کے کاروبار میں آیا‘ ریستوران بنایا‘ریستوران بہت جلد چین بن گیا‘ اس نے چین فروخت کر دی اور تیار خوراک بیچنے لگا‘ وہ ریستورانوں کے مینوز کے مطابق کھانے تیار کرتا تھا اور پیک کر کے ریستورانوں میں ڈیلیور کر دیتا تھا‘ ریستوران یہ کھانا گرم کر کے اپنے گاہکوں کو پیش کر دیتے تھے‘ یہ ایک نیا آئیڈیا تھا۔

ریستورانوں کے کچن کا خرچ بھی کم ہو گیا اور یہ شیف کی بلیک میلنگ سے بھی نکل گئے‘ اس نے مختلف شہروں میں کارخانے بنائے‘ ریستورانوں کے ساتھ ایگری منٹس کیے اور انھیں خوراک سپلائی کرنا شروع کر دی‘ یہ کام چل نکلا‘ اس نے اس کے بعد خوراک کے مختلف بزنس شروع کر دیے‘ وہ فروٹ اور سبزیوں کا سالاد بنا کر سپلائی کرنے لگا‘ اس نے ہوٹلوں میں ناشتے کا ٹھیکا لے لیا‘ وہ نیویارک کے سو بڑے ہوٹلوں میں ناشتے کا بندوبست کرتا تھا‘ اس کی کمپنی ہوٹلوں میں صبح ناشتہ لگاتی تھی اور گیارہ بجے برتن دھو کر‘ ریستوران صاف کر کے اپنا سامان واپس لے جاتی تھی‘ یہ کام بھی چل نکلا۔

اس نے بیکریوں کا سامان بنا کر بیکریوں کو بھی سپلائی کرنا شروع کر دیا‘ یہ کاروبار بھی چل پڑا‘ یہ پھر کافی شاپس کو کافی بینز سپلائی کرنے لگا‘ یہ بزنس بھی دوڑنے لگا اور یوں وہ ’’فوڈ ٹائیکون‘‘ بنتا چلا گیا‘ وہ مصری اوریجن تھا‘ والد لکسر شہر سے امریکا گیا تھا‘ والدہ مراکو سے تعلق رکھتی تھی‘ والدین غریب تھے‘ وہ دونوں گھر چلانے کے لیے جاب کرتے تھے چناں چہ اس نے حالات سنبھالنے کے لیے بچپن سے کام شروع کر دیا تھا‘ اللہ کا کرم شامل حال تھا‘ وہ محنت کرنا جانتا تھا چناں چہ وہ کام یاب ہو گیا۔
میں 2002میں اس سے ملا تھا‘ آپ شاید یہ جان کر حیران ہوں میں نے وہ میٹنگ باقاعدہ خریدی تھی‘ میرا ایک جاننے والا اس کی کمپنی میں کام کرتا تھا‘ میں نے اسے تیار کیا‘ وہ اس کے پاس گیا اور اسے پیش کش کی میرا ایک پاکستانی دوست آپ سے ’’آن پے منٹ‘‘ ملنا چاہتا ہے‘ اس نے چونک کر پوچھا ’’کیا مطلب‘‘ دوست نے جواب دیا ’’میرے دوست کا کہنا ہے ہم جب ڈاکٹر‘ ڈینٹسٹ‘ وکیل یا ٹیکس ایکسپرٹ کے پاس جاتے ہیں تو یہ ہم سے فیس چارج کرتے ہیں‘ آپ اپنے کام کے ایکسپرٹ ہیں چناں چہ ہم جب مشورے کے لیے آپ سے ملیں تو ہمیں آپ کو باقاعدہ فیس ادا کرنی چاہیے‘‘۔

اس نے یہ سن کر قہقہہ لگایا اور پوچھا ’’تمہارا دوست مجھے کتنی فیس ادا کر سکتا ہے‘‘ میرے دوست نے جواب دیا ’’وہ زیادہ نہیں دے سکتا لیکن دو سو ڈالر ادا کر سکتا ہے‘‘ اس نے ایک اور قہقہہ لگایا اور بولا ’’اوکے‘ دو سو ڈالر کا آدھا گھنٹہ‘ تم اسے کل دو بجے لے آئو‘‘ اور یوں میں اگلے دن اس کے دفتر پہنچ گیا‘ اس نے ملتے ہی میری طرف ہاتھ بڑھایا اور کہا ’’میری فیس‘‘ میں نے جیب سے سو سو ڈالر کے دو نوٹ نکالے اور اس کے حوالے کر دیے‘ اس نے قہقہہ لگایا اور نوٹوں کو لائیٹ کے سامنے رکھ کر دیکھنے لگا‘ وہ بار بار نوٹوں کو دیکھتا تھا اور قہقہہ لگاتا تھا۔

وہ اس کے بعد میری طرف مڑا اور بولا ’’میں نے آج تک کاروبار سے کروڑوں ڈالر کمائے لیکن مجھے میرے وقت کی قیمت پہلی بار ملی‘ یہ دو سو ڈالر میری ساری دولت پر بھاری ہیں چناں چہ میں انھیں دیوار پر لگا رہا ہوں‘‘ اس نے اس کے بعد دونوں نوٹ کامن پن کے ساتھ بورڈ پر لگا دیے‘ یہ ردعمل میرے لیے بھی حیران کن تھا چناں چہ میں نے کام یاب لوگوں سے سیکھنے کے لیے فیس کو تکنیک بنانے کا فیصلہ کر لیا‘ آپ حیران ہوں گے میری یہ تکنیک آج تک کسی جگہ ناکام نہیں ہوئی‘ میں اس تکنیک کے ذریعے بزنس مینوں سے بھی ملا‘ لیڈروں سے بھی اورپروفیسروں سے بھی‘ میں واپس برادرفاتح کی طرف آتا ہوں‘ میں نے اس سے آدھا گھنٹہ لیا تھا‘ میں نے اس سے آدھ گھنٹے میں صرف ایک سوال پوچھا ’’آپ یہ سارے کاروبار چلا کیسے رہے ہیں‘‘۔

اس نے دو جواب دیے‘ اس کا کہنا تھا ’’میں نے اپنا سارا کاروبار بینکوں اور ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کر رکھا ہے‘ امریکی بینک اور ٹیکس ڈیپارٹمنٹ (Internal Revenue Service) دنیا کے بہترین ادارے ہیں‘ میں اگر چار ہزار فنانشل ایکسپرٹ بھی رکھ لوں تو بھی میں ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کا مقابلہ نہیںکر سکوں گا‘ یہ کبھی نہ کبھی مجھے پکڑ لے گا اور یوں میں زیرو ہو جائوں گا‘ دوسرا میں کتنا ہی بڑا سیف بنا لوں یا سیکیورٹی گارڈز رکھ لوں میری دولت بینک کے مقابلے میں میرے پاس محفوظ نہیں رہے گی‘ کوئی نہ کوئی اسے لے اڑے گا چناں چہ میں نے شروع میں فیصلہ کر لیا میں ایک ڈالر بھی بینک کے علاوہ وصول نہیں کروں گا اور میں پورا ٹیکس بھی دوں گا چناں چہ میری دولت بھی محفوظ ہو گئی اور میں ٹیکس ڈیپارٹمنٹ (Internal Revenue Service) کی تلوار سے بھی بچ گیا۔

میں اب اپنا وقت اور اپنی توانائی بھرپور طریقے سے کاروبار پر لگا سکتا تھا‘ یہ میری کام یابی کا پہلا پرنسپل تھا‘ دوسرا پرنسپل میرے ملازمین ہیں‘ میں ہمیشہ تجربہ کار اور اہل لوگ بھرتی کرتا ہوں‘ میں شروع میں ان سے ان کی ریکوائرمنٹس پوچھتا ہوں‘ ان کی ساری شرطیں فوراً مان لیتا ہوں اور پھر ان سے پوچھتا ہوں آپ ان کے عوض مجھے کیا دیں گے اوریہ رزلٹ کتنے وقت میں آئیں گے‘ میں پھر ان کے جواب لکھ لیتا ہوں اور ان جوابوں کی ایک کاپی ان کے حوالے کر دیتا ہوں اور ایک اپنے پاس رکھ لیتا ہوں‘ میں روز شام کے وقت اس ملازم کو بلاتا ہوں‘ اسے 20 سیکنڈز دیتا ہوں اور اس سے صرف یہ پوچھتا ہوں اس نے آج کیا کیا؟

میں اس سے کوئی فالتو بات نہیں کرتا ’’سمپل واٹ یو ڈڈ ٹوڈے‘‘ اس نے اگر کام کیا ہو تو میں اس کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور اگر اس نے وہ دن ضایع کر دیا ہو تو میں اسے کہتا ہوں ’’کوئی بات نہیں تم اپنے پلان سے ایک دن لیٹ ہو‘ تم کوشش کرو تم کل ان شاء اللہ اس لیٹ کو میٹ کر لو گے‘ میں اگلے دن دوبارہ پوچھتا ہوں‘ یہ پرنسپل بھی بڑا پراثر ہے‘ میری کمپنی میں کوئی شخص دو ہفتوں سے زیادہ بے کار یا بے نتیجہ نہیں بیٹھتا‘ یہ بالآخر کام کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے‘‘ میں نے اس سے پوچھا ’’اور اگر آپ دفتر میں موجود نہ ہوں تو!‘‘ وہ ہنس کر بولا ’’میں نے ہر بزنس کے لیے الگ الگ سیکریٹری رکھے ہوئے ہیں‘ میری غیر موجودگی میں یہ پوچھتے ہیں اور شام کو مجھے رپورٹ بھجوا دیتے ہیں اور میں دو منٹوں میں اپنے تمام ملازموں کے کارناموں سے واقف ہو جاتا ہوں‘‘ ہماری میٹنگ کا وقت ختم ہو گیا‘ میں واپس آ گیا۔

محمد فاتح کا سسٹم سادہ ہونے کے باوجود سمجھ نہیں آیا‘ میں بڑی مدت تک سمجھتا رہا یہ نظام صرف امریکا میں کام یاب ہو سکتا ہے‘ یہ پاکستان جیسے معاشروں میں بری طرح پٹ جائے گا لیکن میں نے جب بعد ازاں ’’سیلف ہیلپ‘‘ کا کام شروع کیا تو میں ملک کے مختلف بزنس گروپوں اور تاجروں کو محمد فاتح کا یہ ماڈل بتانے لگا‘میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا جس نے بھی اس ماڈل پر عمل کیا اس کے کاروبار کے مسائل کم ہوتے چلے گئے‘ وہ تیزی سے ترقی کرنے لگا‘ میں نے اس وقت محسوس کیا بزنس میں ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کو دھوکے میں رکھنے کی کوشش ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے‘ آپ جب چوبیس گھنٹے اپنی رقم بچانے اور ٹیکس سے بچنے کی کوشش میں ضایع کر دیں گے تو آپ کام کب کریں گے؟ یہ ٹینشن آپ کی گروتھ روک دے گی‘ دوسرا میں نے محسوس کیا ہم اپنے ورکروں کے ساتھ کام کی بات نہیں کرتے۔

ہم حال احوال‘ بیوی بچوں کا کیا حال ہے‘ کیا دوائی کھائی تھی اور حکومت کیسی چل رہی ہے جیسے فضول سوالوں میں وقت ضایع کر دیتے ہیں چناں چہ ملازم بھی کام کرنے کے بجائے سارا دن اسٹوریاں گھڑتے رہتے ہیں اور یہ جوں ہی ہمیں دیکھتے ہیں یہ کہانیوں کی پوٹلی کھول کر بیٹھ جاتے ہیں اور کام کی بات ان کہانیوں میں دب کر رہ جاتی ہے‘ ہمیں اپنے ملازموں سے صرف اور صرف کام کے بارے میں سوال کرنا چاہیے تا کہ انھیں معلوم ہو ہم سے صرف کام کے بارے میں پوچھا جائے گا اور ہم نے صرف کام ہی کا جواب دینا ہے لہٰذا یہ کام پر فوکس کریں گے‘ ہمارا یہ فارمولا ہر جگہ کام یاب ہوا‘ سیکڑوں کاروباری لوگوں کی زندگیاں بدل گئیں۔

ہمارے حکومتی نظام میں بھی یہ عنصر مسنگ ہے‘ ہماری حکومتیں سرکاری ملازموں سے ان کے کام کے بارے میں نہیں پوچھتیں‘ ان کا سارا فوکس کام کرنے والوں کے احتساب پر رہتا ہے چناں چہ کام نہ کرنے والے موج کر کے ریٹائر ہو جاتے ہیں جب کہ کام کرنے والے کیس اور انکوائریاں بھگتتے ہیں‘ میں کل خبر پڑھ رہا تھا حکومت نے پنجاب کی پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) میں کرپشن کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن بنا دیا‘ یہ بہت اچھی بات ہے۔

احتساب ہونا چاہیے لیکن سوال یہ ہے پنجاب کی ہارٹی کلچر اتھارٹی نے توکچھ نہ کچھ کیا تھا لیکن جن صوبوں میں ان اتھارٹیز نے دس برسوں میں ایک پھول‘ ایک پودا نہیں لگایا کیا ان سے اس ’’پرفارمنس‘‘ پر سوال کیا گیا؟ پاکستان ہر سال انتظامی اخراجات پرہزارارب روپے خرچ کرتا ہے لیکن آپ ماحولیات سے لے کر صاف پانی‘ سیوریج‘ صحت‘ تعلیم‘ بجلی‘ گیس‘ سڑکوں اور ڈیمز کی حالت دیکھ لیجیے‘ محکمے موجود ہیں‘ یہ اربوں روپے تنخواہ بھی لیتے ہیں‘ دفاتر بھی قائم ہیں‘ گاڑیاں بھی چل رہی ہیں اورا سٹیشنری پر بھی کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں مگر نتیجہ کیا نکل رہا ہے؟

پورے ملک میں کوئی ایک بھی ایسا شہر نہیں جس میں ٹونٹی کا پانی پینے کے قابل ہو‘کیا آج تک کسی نے ان محکموں‘ ان اداروں سے پوچھا’’تم نے کیا کیا‘‘ بیورو کریٹس 17گریڈ میں بھرتی ہوتے ہیں‘ 35 سال ملازمت کر کے پینشن اور پلاٹس کے ساتھ ریٹائر ہو جاتے ہیں لیکن ان سے کوئی نہیں پوچھتا تم نے ان 35 برسوں میں کیا کیا؟ تمہاری پرفارمنس کیا تھی لہٰذا یہ کھربوں روپے برباد کر کے گھر چلے جاتے ہیں‘ کوئی ان سے بھی تو پوچھے آخر یہ کس مرض کی دوا ہیں؟ حکومت نے 1953 میں بہبود آبادی کا محکمہ بنایا تھا‘ آبادی اس وقت 34 ملین تھی‘ آج 200 ملین ہے لہٰذا محکمہ بھی موجود ہے اور آبادی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے‘ کیوں؟ ہم نے کبھی پوچھا‘ واسا بھی موجود ہے اور ٹونٹی کا پانی بھی پینے کے قابل نہیں‘ چیئرمین سے چپڑاسی تک منرل واٹر پیتے ہیں‘ کیوں؟ آخر یہ حساب کون لے گا اور کب لے گا؟

وزیراعظم ایک کمیشن اور بنائیں اور یہ کمیشن سرکاری اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لے‘ یہ محکموں سے پوچھے تم نے کیا کیا؟ میرا خیال ہے ہمارا ملک پھر بدلے گا‘ آپ کام نہ کرنے والوں کو پہلے پکڑیں‘ ملک پھر ٹھیک ہو گا۔