متاعِ کارواں جاتا رہا - حبیب الرحمن

میں حیران ہوں کہ پاکستان میں "زیادہ یا کم" نقصان ناپنے کا پیمانہ کب ایجاد ہوا۔ اس پیمانے میں کم از کم کی مقدار کیا رکھی گئی ہے اور زیادہ سے زیادہ کی کیا حد مقرر کی گئی ہے۔ یہ پیمانہ کسی تھرما میٹر کی طرح کا ہے یا پھر بلڈ پریشر کی پیمائش کرنے والے آلے کی شکل کا۔

میں حیران ہوں وزیر اعظم پاکستان کے اس بیان پر جس میں وہ بلوائی وکیلوں کے بھیڑیانہ حملوں کے بعد یہ فرمارہے ہیں کہ "لاہور واقعے میں موثر حکمت عملی کے باعث زیادہ نقصان نہیں ہوا"۔ پھر اپنی نا قابل فہم گفتگو جاری رکھتے ہوئے مزید کہتے ہیں کہ "میں نے وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان کو فون کیا اور کل کے پی آئی سی واقعے کی تفصیلات معلوم کیں۔ ان سے دریافت کیا کہ آپ کو وکلا تشدد کے باعث کوئی چوٹ تو نہیں آئی"۔ آپ اندازہ لگائیں کہ انھیں اگر سب سے زیادہ کسی دکھ کا احساس تھا تو یہ تھا کہ ان کے ایک بد زبان وزیر کو زیادہ چوٹیں تو نہیں آئیں اور وہ ان کے نر غے سے بدقسمتی سے نکلنے میں کیسے کامیاب ہو گئے۔ ملک کے ایک سر براہ کو جو فکر سب سے زیادہ ہونی چاہیے تھی وہ یہ ہونی چاہیے تھے کہ ان درندے وکیلوں کے درمیان جو مریض پھنس گئے تھے، ان کے جو لواحقین گھر گئے تھے، جو مرد و خواتین نرغے میں آگئے تھے اور ڈاکٹروں، نرسوں اور ہسپتال کے عملے سمیت سیکڑوں افراد تشدد کا شکار ہو رہے تھے، ان کا کیا حال ہے اور وہ دل کے مریض جو اس ہنگامہ آرائی کی وجہ سے جان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے تھے ان کے لواحقین پر کیا گزر رہی ہوگی۔ اس کی بجائے انھیں اپنے ایک بدزبان وزیر کی خیرت زیادہ عزیز تھی اور فون کرتے ہی جس فکر کا سب سے پہلے انھوں نے اظہار کیا وہ ان کی خیریت سے متعلق تھا۔

ممکن ہے کہ شاید میں کچھ زیادہ ہی جذباتی انداز میں ایسا سوچ رہا ہوں یا اظہار خیال کررہا ہوں لیکن بات صرف اپنے وزیر کی خیر خیریت دریافت کرنے پر ہی ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک ملک کے سربراہ نے قوم کا دل یہ بات کہہ کر زیادہ زخمی کردیا کہ "لاہور واقعے میں مؤثر حکمت عملی کے باعث زیادہ نقصان نہیں ہوا"۔ یہ بات میری عقل و فہم سے اس لئے بھی بالا تر ہے کہ کہ ان کے اندازے کے مطابق کتنا اور نقصان ہوتا تو وہ اسے زیادہ نقصان میں شمار کرتے۔

ہسپتال کے در و دیوار اینٹیں مار مار کے بد رنگ کردیئے گئے، پورے ہسپتال کے شیشے توڑ دیئے گئے، گاڑیاں جلادی گئیں، ڈاکٹروں کے پوشاکیں تارتار کردی گئیں، جو نظر آیا اس کا سر پھاڑدیا گیا، آئی سی یو ہو یا سی سی یو، سب میں داخل ہوکر مریضوں سے ان کے آکسیجن ماسک تک اتار کر ان کو موت کے گھاٹ بھی اتارا گیا اور موت کے دہانوں تک بھی پہنچادیا گیا، نرسوں کو بے لباس کیا گیا، ان کی عزتوں پر ہاتھ ڈالاگیا، فتح و کامرانی کے نعرے لگائے گئے، پولیس اور میڈیا کے نمائندوں کی زندگی کو عذاب بنا کر رکھ دیا گیا۔ المختصر کوئی ایک مقام بھی ایسا نہیں چھوڑا جہاں درندگی کی حد نہ کردی ہو یہاں تک کہ سر عام ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کرکے اس بات کا اظہار کیا گیا کہ ہمارے آگے نہ تو آئین و قانون کی کوئی اہمیت ہے اور نہ ہی دنیا کا کوئی قانون ہمارا بال بیکا کر سکتا ہے۔ ان سب مظاہروں اور ظلم و تشدد کے نظاروں کو دیکھنے کے باوجود بھی ملک کے وزیر اعظم کا یہ فرمانہ کہ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ "لاہور واقعے میں مؤثر حکمت عملی کے باعث زیادہ نقصان نہیں ہوا"، نہ صرف حیران کن ہے بلکہ اس قسم کی گفتگو میں سنگینیت کے تاثر کی بھرپور جھلک بھی صاف نظر آ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرایا جائے- حبیب الرحمن

وکلا کا ایسا مکروہ طرز عمل سامنے آنا جس کی توقع سفاک ترین دشمن سے بھی نہیں کی جاسکتی ہو، اس پر ان کیلئے سخت سے سخت ترین کارروائی کی بجائے انتظامیہ کی وکالت کرنا اور انتظامیہ کے اس غافلانہ طرز عمل پر سخت سزاؤں کا حکم نامہ جاری کرنے کی بجائے انتظامیہ کی بہترین حکمت عملی کی تعریف کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وزیر اعظم کی ساری طاقت اور قوت کا سر چشمہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بزدار صاحب کی ذات ہے۔
ہم اپنے بچپن میں اپنی باجیوں، امیوں یا نانی دادیوں سے اکثر جنوں کی جو کہانیاں سنا کرتے تھے ان میں اکثر یہی بات کہی جاتی تھی کہ فلاں جن کی جان فلاں پرندے کے انڈے میں ہے اور فلاں فلاں کی جان توتے، مینا یا کبوتر میں ہے اور اگر کوئی شہزادہ انڈے کو پھوڑ دیگا، یا پرندوں کی گردنیں مروڑنے میں کامیاب ہو جائے گا تو جن مر جائے گا۔ وہ تو کہانیاں تھیں لیکن اس دور میں لگتا ہے کہ بہت ساری کرسیوں کی جانیں بھی کسی اور کی طاتقوں میں پھنسی ہوئی ہوتی ہیں بالکل اسی طرح جیسے موجودہ حاکم کی جان پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی جان میں پھنسی ہوئی ہے۔ اندازہ لگائیں کہ لاہور میں ایک نہایت شرمناک واقعہ ہوا، درندگی کی انتہا ہو گئی اور انتظامیہ سو فیصد سے بھی زیادہ ناکام و نامراد ہوئی لیکن ملک کا وزیر اعظم اسے بہترین حکمت عملی قرار دیتے ہوئے یہ کہہ رہا ہے کہ "لاہور واقعے میں مؤثر حکمت عملی کے باعث زیادہ نقصان نہیں ہوا"۔ اس جملے میں کس جانب جھکاؤ نظر آرہا ہے اور اپنی کرسی کا تحفظ کس کی مدح خوانی میں چھلک ہے۔

اس بات سے پورے پاکستان میں ایک بھی سنجیدہ و صاحب عقل فرد یہ کہتا ہوا نظر نہیں آرہا کہ بقول وزیر اعظم "لاہور واقعے میں مؤثر حکمت عملی کے باعث زیادہ نقصان نہیں ہوا"۔ واقعہ کوئی منٹوں یا سیکنڈوں میں تو ظہور پذیر نہیں ہوا تھا۔ اس کے آثار تو کئی دن پہلے ہی ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حادثے نے جو خوفناکیت اختیار کی اس کا اندازہ شاید پہلے سے نہیں لگایا جاسکتا تھا لیکن یہ بات تو طے تھی کہ ایسا کچھ ہونا ضرور ہے۔ یہ ہزاروں وکلا جو یاجوج ماجوج کی طرح پنجاب کے سب سے بڑے دل کے ہسپتال کی جانب فوج ظفر موج کی شکل میں بڑھتے چلے آ رہے تھے، یہ بھی کوئی منٹوں سیکنڈوں میں ہسپتال تک نہیں پہنچ گئے تھے اور نہ ہی ان کی سرگرمیاں کسی آتش فشاں کی طرح یک دم پھٹ پڑیں تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرایا جائے- حبیب الرحمن

یہ کوئی صور اسرافیل بھی نہیں تھا جو ہر وکیل کے کانوں میں اچانک پھونک دیا گیا تھا کہ وہ چیونٹیوں کی طرح اپنے اپنے بلوں سے باہر نکل پڑے تھے۔ مختصر یہ کہ ایسا سب کچھ کئی دنوں کی منصوبہ بندی کے بعد ہی ہوا تھا۔ اس سب صورت حال کو دیکھتے ہوئے بھی جناب وزیر اعظم کا یہ فرمانہ کہ "لاہور واقعے میں مؤثر حکمت عملی کے باعث زیادہ نقصان نہیں ہوا"، ایک ایسا بیان ہے جو کسی بھی سینے میں دل رکھنے والے کو ہضم ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ کوئی لاکھوں کا مجموعہ نہیں تھا، چند ہزار کالے کرتوں والے کالے کوٹوں کی شیطنت بھرا جتھہ تھا جس کو دو تین درجن پولیس والے بھی بھی ناکام بنا سکتے تھے۔ اتنے پولیس والوں کا بھی بر وقت انتظام نہ کئے جانے کو بھی بہترین حکمت عملی کہنا اور وہ بھی ملک کے سب سے بڑے سربراہ کا، ایک افسوسناک بیان تو کہا جاسکتا ہے لیکن ہوشمندانہ فرمان کسی طور بھی نہیں سمجھا جاسکتا۔

وزیر اعظم پاکستان نے اتنے سنگین واقعے کے بعد اپنے جن جذبات کا اظہار کیا ہے اس سے صرف نظر کر بھی لیا جائے اور یہ مان بھی لیا جائے کہ "لاہور واقعے میں مؤثر حکمت عملی کے باعث زیادہ نقصان نہیں ہوا"، تب بھی راقم ان سے یہ ضرور دریافت کرنے کی جرات کریگا کہ ہمارے وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے آخر وہ کونسا آلہ ایجاد کرلیا ہے جس سے کسی بھی واقعے یا حادثے کی شدت کی پیمائش کی جاسکتی ہے۔ اس حیرت انگیز ایجاد کو نہ صرف عوام میں متعارف کرایا جانا چاہیے بلکہ اسے اتنا مشتہراور عام کیا جانا چاہیے کہ دنیا کے ہر ملک میں اس کے اشہار کی گونج پہنچ جائے۔ پاکستان کے ایک ایک فرد تک یہ ایجاد موبائل فونز کی طرح موجود ہو تاکہ وہ ہر سانحہ گزرجانے کے بعد اس کی شدت کا خود ہی اندازہ کر سکے۔

دنیا کو بھی ہر گزرجانے والے حادثہ کے معمولی یا غیر معمولی ہونے کا اندازہ ہو سکے۔ اس کی تعارفی کتاب میں یہ بھی درج ہو کہ اس کا کم سے کم لیول کیا ہونا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ کیا۔ اس سے ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ ہر حاثہ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی زینت بننے سے بچ جائے گا کیونکہ اس میں یہ بھی درج ہوگا کہ اگر یہ کم سے کم لیول سے بھی نیچے ہے تو خواہ کتنا ہی خوفناک کیوں نہ ہو اس کا ذکر کسی بھی میڈیا پر نشر نہیں ہونا چاہیے۔

وزیر اعظم صاحب، آپ کے ملک کے وکلا اس درندگی کے بعد بھی اپنی درندگی پر شرمندہ دکھائی نہیں دے رہے۔ ان کی درندگی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ ملک ہسپتالوں میں روز درجنوں افراد مرتے رہتے ہیں اگر پی آئی سی میں موجود چار چھے اور ہلاک ہو گئے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ کیا اس کے باوجود بھی آپ یہی کہتے نظر آئیں گے کہ "لاہور واقعے میں مؤثر حکمت عملی کے باعث زیادہ نقصان نہیں ہوا"۔ میں تو پورے دردِ دل کے ساتھ وکلا کے اس بیان پر یہی عرض کر سکتا ہوں کہ

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا